صفحہِ اول

منگل, نومبر 20, 2012

'ہماری اوقات "

"ہماری اوقات ہماری صلاحیت"
کوئی جاننا چاہے کہ اس کی اوقات کیا ہےتو وہ آس پاس دیکھ لے۔۔۔ اپنے ارد گرد ماحول کا جائزہ لے۔۔۔اپنی اوقات پتہ چل جائے گی۔اللہ نے ہر ایک کو اُس کی صحیح جگہ پر پیدا کیا ہے۔ ہم اپنے آپ کو دُنیا کی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں۔اپنی بولی خود نہیں لگاتے۔۔۔اپنے اندر نہیں جھانکتے۔۔۔اپنا پوسٹ مارٹم نہیں کرتے۔ اپنے ساتھ گُزارنےکے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا۔اپنی قابلیت جانچنے کے بعد اصل مرحلہ ہے اپنی عقل، فہم اور اپنے شرف کا جاننا۔۔۔اس کو پہچاننا اور پھر عمل کرنا۔یہاں آکر بہت ذہین لوگ بھی مار کھا جاتے ہیں کہ اگر وہ خود کو کسی لائق سمجھتے ہیں ۔۔۔ مادیت پرستی سےماورا۔۔۔ ایک عظیم مقصد کی راہ پر۔۔۔ چھوٹی چھوٹی لذّتوں کو نظرانداز کر کےابدی سکون پانےمیں سرگرم۔ تو اُن کے پاس دو راستے ہوتے ہیں۔۔۔ یا تواپنی ذات کے اندر قید ہو کر خودفراموشی کے اندھیروں میں گُم ہو جاتے ہیں۔۔۔ اپنی روشنی اپنے تک محدود رکھتے ہیں کہ اس بےمہر دنیا میں ہیروں کی قدر نہیں،کبھی تقدیر سے شاکی تو کبھی بندوں سے دست وگریباں۔ مایوسی کو صبر کے لبادوں میں ڈھانپتے ہیں۔۔۔ناآسودگی کو توکل اور قناعت کی پالش سے چمکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں اپنےتئیں تیار ہو کر دنیا کو اس کے حال پر چھوڑتے ہیں۔ اصل بات یہ ہےکہ وہ گھاٹے کے سوداگرہیں۔جس کے پاس کچھ ہے نہیں اوراسےمعلوم بھی نہیں۔۔۔ وہ تو پھر فائدے میں ہے۔ کہ اس کے پاس توسوچنے کا بھی وقت نہیں۔ جس کے پاس بہت کچھ ہے اور اسے احساس بھی ہےکہ اس کا خزانہ ضا ئع ہو رہاہے۔۔۔وہ نقصان میں یوں ہے کہ ناقدری کا احساس اسے رب کی رضا پر شاکر نہیں ہونے دیتا۔
دیکھنا یہ ہے کہ جو علم جو سوچ ہمارے پاس ہے، اس پرہم کس حد تک عمل پیرا ہیں؟ اورہماری اپنی ذات میں اس سے کیا تبدیلی آئی ہے؟۔ آیا وہ خیال ہمیں نئی منزلوں سے روشناس کرا رہا ہے۔۔۔ گرنے کے بعد اٹھنے ٹھوکر کھانے کے بعد سنبھلنے کا حوصلہ دے رہا ہے۔۔۔ دروازے بند ہونے کے بعد نئے دروازے کُھلنے کے اشارے مل رہے ہیں۔۔۔ ہماری روح تکمیل کے مراحل طے کر رہی ہے۔۔۔ ہم چھوٹے چھوٹےراستوں، پگڈنڈیوں کو چھوڑکر ایک سیدھے اورسچّے راستے پر قدم جما رہے ہیں۔۔۔ ہم کُھلے ذہن،روشن دماغ کے ساتھ راضی بارضا ہیں۔ اگر یہ سب ہو رہا ہے تو پھر فنا میں بھی بقا کا پیغام ہے۔ ہر گُزرتی شب ایک چمکدار صبح کی نوید ہے۔ یہ احساس ابدی جنت کی لذّت کا اشارہ ہے۔
آخری بات!
ہم کبھی بھی نہیں جان سکتے کہ ہماری اوقات کیا ہے؟۔ اپنی اوقات ہمیشہ دوسروں کی آنکھوں میں ملتی ہے۔۔۔اگر ہمیں اُنہیں پڑھنا آجائے۔ دوسروں کے لہجوں میں۔۔۔ اگر ہم اُنہیں سمجھ سکیں۔ دوسروں کے لمس میں۔۔۔ اگر ہم محسوس کر سکیں ۔ دوسروں کے لفظوں میں۔۔۔ اگر وہ خالص ہمارے لیے ہوں ۔ لیکن اہم یہ ہے کہ ہمیں کبھی بھی کسی انسان کی کہی یا ان کہی کو حرف ِآخر نہیں جاننا چاہیے۔ ہمارا مالک بہتر جانتا ہے کہ کون کس مقام پر ہے۔

1 تبصرہ :

  1. اپنی اوقات ہمیشہ دوسروں کی آنکھوں میں ملتی ہے۔۔۔اگر ہمیں اُنہیں پڑھنا آجائے۔ دوسروں کے لہجوں میں۔۔۔ اگر ہم اُنہیں سمجھ سکیں۔ دوسروں کے لمس میں۔۔۔ اگر ہم محسوس کر سکیں ۔ دوسروں کے لفظوں میں۔۔۔ اگر وہ خالص ہمارے لیے ہوں
    بلکل ٹھیک کہا مگر کبھی یہ ضروری ہوتا ہے کہ کہا جائے اور محسوس کرایا جائے کیونکہ آنکھ کو پڑھنا، لہجے سمجھنا، لمس محسوس کرنا اور الفاظ سمجھنا.. سب رائیگاں چلا جاتا ہے اگر کوئی یہ سب ان کہی سننا چاہے ہماری زبان سے ...

    جواب دیںحذف کریں