بدھ, نومبر 21, 2012

"آخری جھلک"

تعلیمی ادوار میں ہمیں جتنے بھی امتحانات سے گُزرنا پڑتا ہے اُن سب کا طریقِ کارایک سا ہے۔
پہلا سوال لازمی ہوتا ہے۔۔۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ سبجیکٹیو اوراوبجیکٹیومیں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔۔۔ ایک پرچہ پہلے بیس منٹ میں حل کر کے دینا پڑتا ہے۔۔۔ کمرۂ امتحان میں موجود ممتحن حضرات اگر چاہیں تو اس کو پڑھ کردینے والے کی قابلیت جانچ سکتے ہیں۔ اگرچہ اس کا دینے والے کو کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا۔۔۔ نہ اس بات سے اس کے پرچے پر کوئی اثر پڑتا ہے۔۔۔کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ پرچے کے پہلے  حصے میں  پورے نمبر لینے والا دوسرے حصے میں بھی اوّل آئے گا۔ بےشک جس کی تیاری بھرپورہو یقیناً وہ دونوں میں ٹاپ کر سکتا ہےلیکن یہ انسانی ذہن ہی ہےکہ وہ اُس مختصر وقت میں اُن سوالوں کو کس طرح جانچتا ہے جس میں ایک بار لکھنے کے بعد مٹانے کی بھی اجازت نہیں۔الغرض صرف اندازہ تو لگایا جا سکتا ہے 
لیکن اصل نتیجہ پورا پرچہ حل کر کے ہی سامنے آتا ہے جو کہ صرف لینے والا اور دینے والا ہی جانتا ہے۔ بعض اوقات پہلے پرچے میں کم نمبر لینے والا دوسرے حصے میں اتنے نمبر لے لیتا ہے کہ اچھے طریقے سے پاس ہو جاتا ہے۔
زندگی کے پرچے کو حل کرتے ہوئے بھی ہمیں بالکل اِسی صورتِحال سے گُزرنا پڑتا ہے۔ اس پرچے کے مخصوص سوالات ہوتے ہیں۔۔۔ اُن کے جوابات بھی نوٹس کے ساتھ بتا دیئے جاتے ہیں اورتیاری کا وقت ہماری نظرمیں لامحدود ہوتا ہے۔۔۔ اس لیے ہم ریلیکس کرجاتے ہیں۔۔۔ صرف یہ یاد رکھتے ہیں کہ امتحان ہو گا۔۔۔ یہ سوچتے ہیں کہ یہ تو بُہت آسان ہے۔۔۔ اس لیے اس کی تیاری کی کوئی ضرورت نہیں، بس آخر میں جلدی جلدی سب کُچھ دیکھ لیں گے۔۔۔ ابھی ہم نے اس سے مُشکل امتحان دینے ہیں۔۔۔ اُن کی توتیاری کر لیں۔۔۔ اُس امتحان کا لینے والا غفورالرّحٰیم ہے۔۔۔ لیکن یہاں کے امتحان میں ذرّہ برابر بھی کمی رہ گئی توجینا محال ہو گا۔
ایک جیتے جاگتے انسان کا ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لینا ہمارے اُس آخری امتحان کا ایسا پہلا سوال ہے جو سب کے سامنے عیاں ہو جاتا ہے۔ہمیں ایسا عُنوان مل جاتا ہے کہ ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے نفسِ مضمون بھانپ لیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں جس کا پہلا مرحلہ اچھا طے ہو گیا اس کے آگے کے بھی مراحل آسان ہوجائیں گے۔ دوسرے یہ دُنیا کے سامنے ہماری آخری رونمائی ہوتی ہے۔ہم تمام عمراس جدوجہد میں لگے رہتے ہیں کہ دُنیا ہمیں اچھاسمجھے۔۔۔ اگرہم اس کوشش میں ناکام بھی رہیں پھربھی چاہتے ہیں کہ کم از کم مرتے وقت ہی دُنیا ہمیں اچھا جان لے۔یہ عین حقیقت بھی ہےکہ ہم اللہ سے دُعا میں بھی یہی  مانگتے ہیں کہ ہمیں عزت کی زندگی اورعزت کی موت عطا فرما۔
موت تو وہ عمل ہےجس سے ہر ذی روح نے گُزرنا ہے۔ یہ حیات ِفانی سے حیاتِ ابدی کے سفر کی پہلی منزل ہے۔۔۔ پہلا دروازہ ہے۔ اگر اس میں سے سر اُٹھا کر گُزر گئے تو یقیناً آگے آسانی ہی ہو گی۔ یہ ہمارا گُمان ہے۔ اور اللہ کی طرف اچھا گُمان ہی رکھنا چاہیے۔ اس گُمان کو انسانوں پر اپلائی کرنے سے بچنا ہے۔۔۔ ورنہ ہم شدید قسم کے مغالطے کا شکار ہو جائیں گے۔۔۔ ہمیں کسی کے قدموں کے نشان پر نہیں چلنا۔ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ہم نے کہاں جانا ہے؟ اور ہمارے لیے کون سی منزل کافی ہے؟۔
آخری بات

اصل امتحان وہی ہے جو آخری سانس کی کہانی ہے۔ چراغ جتنے مرضی جلا لیں   لیکن خود اپنے لیے کبھی چراغ تلے اندھیرا    نہیں  ہونا چاہیے۔ وہ روشنی جو جگ کو تومنور کرے لیکن ہمارے اندر کی تاریکی دور نہ کر سکے، ہمارے اپنے راستے کو روشن نہ کر سکے اس سے پناہ مانگنی چاہیے۔ اللہ سب کو ہر امتحان میں ثابت قدم رکھے۔آمین۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...