صفحہِ اول

جمعرات, نومبر 01, 2012

"بھول جانے کی عادت"

بھول جانے کی عادت ہماری سرشت میں ہے لیکن ہم جان کر بھی انجان بنے رہتے ہیں کہ ہم خود ترسی کا شکار ہیں۔اتنی سی بات مان لو۔۔۔اگر بھول جانے کی عادت ہماری فطرت نہ ہوتی تو آج ہم اپنے پیاروں کے ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے کے بعد زندہ نہ رہتے۔ ہم صرف اسی کو نہیں بھولنا چاہتے جس کے ملنے کی کوئی نہ کوئی آس باقی ہو۔
بھول جانا اللہ کی طرف سے اتنی بڑی نعمت۔۔۔اتنی بڑی عطا ہے کہ یہ نہ ہو تو ہم ایک قدم بھی آگے نہ بڑھ سکیں۔ 
رویوں ۔۔۔ لہجوں کے گھاؤ بھولنا یا بھلا دینا خودفراموشی کے پیرہن میں تو ممکن ہے لیکن ہمیشہ کے لیے ذہن سے مٹا دینا آسان نہیں۔زندگی گزارنے کی بھی ایک حد ہے لیکن لفظ بولنے والوں کی حد کبھی ختم نہیں ہوتی۔ جب زندگی گزارنے کی حد ختم ہو جاتی ہے توصرف زندہ لاش بن کر جینے کی حد شروع ہو جاتی ہے جو محبت نفرت کے ہر لفظ ہر لمس سے بےنیاز کر دیتی ہے

2 تبصرے :


  1. کچھ چیزیں بھلائے نہیں بھولتی۔ اگر بھولنا اتنا ہی آسان ہوتا تو شاعر ایسا کیوں کہتا "چھین لے مجھ سے حافظہ میرا"‌ (مسکراہٹ)

    جواب دیںحذف کریں
  2. حسن یاسر نے کہا۔۔۔
    یاد کا تعلق دل سے ہوتا ہے دماغ سے نہیں۔ جھلمل کرتے ستارے کچھ دیر کے لیے بادلوں کی ردا اوڑھ لیں تو ان کے وجود سے انکار ممکن نہیں ہو سکتا۔ تاریک شب میں جب ریل گاڑی کے سفر میں آنکھیں اندھیرے کے باعث کسی آبادی کے نشان دیکھنے سے قاصر ہوں تب بھی کوئی شہر اس اندھیرے کی چادر سے ضرور نمودار ہوتا ہے۔بھولتے صرف ان باتوں چیزوں اور لوگوں کو ہیں جنہیں کبھی یاد رکھنا ہی نہیں تھا جو ہمیشہ کے لیے بچھڑ جاتے ہیں اگر ہم ان پیاروں کو دیکھ نہیں پاتے ان سے بات نہیں کر پاتے تو اس کا یہ مطلب کب نکلتا ہے کہ وہ ہمیں یاد نہیں رہتے اگر ایسا ہوتا تو ہر کامیابی ہر تہوار بنا کسی وجہ کے آنکھیں کیوں بھیگ جاتی ہیں جنہیں ہم خوشی کے آنسؤوں کا نام دے کر خود کو اور سب کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں درحقیقت یہ اس یاد سے محبت کے ثبوت میں نکلتے ہیں جو نہ صرف ہمارے دل بلکہ ذہن کے ہر ہر گوشے میں آباد ہوتی ہے۔۔۔
    تصویریں الٹا کر رکھ دینے سے دل نہیں الٹ جاتے ..
    24 جون 2015

    جواب دیںحذف کریں