صفحہِ اول

اتوار, نومبر 11, 2012

وہ پریوں جیسی لڑکی تھی

                                    

وہ پریوں جیسی لڑکی تھی
پریوں سے وہ  باتیں کرتی
وہ  گڑیوں جیسی لڑکی  تھی
  گُڑیوں سے گھر گھرکھیلتی
وہ  سوچ نگر  کی رانی تھی
لفظوں سے دُکھ سُکھ کہتی
کسی اور نگر کی باسی تھی
اپنی  دُھن  میں  چلتی  رہتی
اپنے ساتھ  وہ  تنہا  رہتی
تنہائی میں رب سے ملتی
وہ چاند نگر کی باسی تھی
خواب نگر  میں  رہتی تھی
وہ جو خوشبُو جیسی لڑکی تھی 
وہ جو جاناں جاناں دِکھتی تھی
وہ لمس کی چاہ میں جیتی تھی
اور ہجر کی آگ میں جلتی تھی 
جو راستوں میں بھٹکتی تھی 
تو دِلوں میں کہیں ملتی تھی
وہ جو اُجلی اُجلی لڑکی تھی
میلے میلے ہاتھوں نےاُسے یوں
جھنجھوڑ دیا کہ سچّا موتی رول دیا 
وہ اپنے رب سے کہتی تھی 
اور اپنے رب کی سُنتی تھی
رب کی تھی اور رب کی ہے
 سچّی  تھی اور سچّی  ہے
2012، 12 نومبر

1 تبصرہ :

  1. Farooq Hayat
    Nov 26, 2013
    So pure and innocent creation. One can see the innosence of heart, through the purity of words. 

    جواب دیںحذف کریں