منگل, اپریل 22, 2014

"علی پور کا ایلی..اصل کہانی"

                         



















 الکھ نگری از ممتازمفتی۔۔
۔"علی پورکا ایلی میں میں نے جان بوجھ کرادب کا ذکر نہیں کیا تھا۔ مجھے یہ ڈرتھا کہ بھید نہ کھل جائے، قاری کو پتہ نہ چلے کہ یہ ناول نہیں بلکہ خود نوشت ہے۔ علی پور کا ایلی میں میں نے اپنے غلیظ پوتڑے چوک میں بیٹھ کر دھوئے تھے، لیکن مجھ میں اتنی جرات نہ تھی کہ اپنی حماقتوں، غلاظتوں، کمیوں ، کجیوں کو اپناؤں۔ اب جبکہ بات کھل چکی ہے کہ علی پور کا ایلی میری سوانح حیات ہے اور میں اپنی آپ بیتی کا دوسرا حصہ لکھ رہا ہوں، تو مناسب ہے کہ میں ادب کے متعلقہ کوائف کو تحریر میں لے آؤں۔ میرے دل میں کبھی آرزو پیدا نہ ہوئی تھی کہ ادیب بنوں میرے دل میں کبھی یہ خیال پیدا نہیں ہوا تھاکہ میں اردو میں لکھنے کا شغل اپناؤں گا۔ جوانی میں میں ایک نالائق لڑکا تھا۔ میری توجہ کتاب کی جانب نہیں تھی۔ سکول میں چونکہ میں ہیڈماسٹر کا بیٹا تھا، اس لیے اساتذہ پاس کردیا کرتے تھے۔کالج میں شدید احساس کمتری کی وجہ سے میرے لیے جماعت میں بیٹھنا مشکل تھا۔ 1928-29ء میں جب میں بی۔ اے میں تھا اور اسلامیہ کالج لاہور کے کریسنٹ ہوسٹل میں رہتا تھا، تواتفاق سے جوکمرہ مجھے ملا، وہ فیاض محمود کے کمرے سے ملحق تھا۔ فیاض محمود ان دنوں کمبائنڈ آنر سکول میں پڑھتا تھا۔ فیاض کو کریسنٹ ہائوس میں رہنے کی خصوصی اجازت ملی تھی۔ اس پر مطالعہ کا جنون طاری تھا اور اس کے مطالعہ میں بڑی وسعت تھی۔ مطالعہ کے سوا اس کا اور کوئی شغل نہ تھا۔ اس کے ذرائع بہت محدود تھے، لیکن جو پیسہ اس کے ہاتھ آتا، اس کی کتابیں یا رسائل خرید لیتا تھا۔ اس کے کمرے میں فرش پر یہاں وہاں کتابوں اور میگزین کی ڈھیریاں لگی رہتی تھیں، انگریزی ادب، پینٹنگ ، فلسفہ، فلم سازی، پامسٹری، سائنس۔ مطالعہ : فیاض اور اس کا بھائی ضیا دونوں کریسنٹ میں مقیم تھے۔ وہ بٹالہ کے ایک معروف خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ فیاض نے کبھی مجھے پڑھنے کی ترغیب نہ دی تھی۔ الٹا میرے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر وہ طنزاً کہتا، اچھا تو آپ کتاب دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اس کتاب میں تو کوئی تصویر نہیں ہے، جسے آپ دیکھنا چاہیں گے۔ یہ کہتے ہوئے اس کی بات میں بڑی کاٹ ہوتی اور انداز میں تحقیر۔ شاید اس تحقیر کی وجہ سے میں چوری چوری فیاض کی کتابوں کی ورق گردانی کرتا رہتا۔ بہرحال کتاب کی عظمت کا احساس مجھے فیاض نے دلایا۔ پھر محبت کا ایک بلبلہ پھوٹا۔ محترمہ نے مجھے کرسی سے اٹھا کر دھم سے فرش پر پھینک دیا۔ اتنی تذلیل ہوئی کہ میں تنکا تنکا ہوگیا۔ اس شاک کے بعد ہوش آیا تو حسن اتفاق سے میرے سامنے کتاب آگئی۔ ڈوبتے کے ہاتھ تنکا آگیا۔ پنجاب پبلک لائبریری نے مجھے پناہ دی۔ یہ مثبت مطالعہ نہ تھا بلکہ فرارتھا، ان دنوں میں گوجرہ ڈسٹرکٹ بورڈ ہائی سکول میں استاد تھا۔ ہمارے ہیڈماسٹر مبارک اسمٰعیل میں اتنی جان تھی، اتنی بے چینی تھی کہ وہ جن بنا ہوا تھا۔ ایک دن بیٹھے بٹھائے اسے سوجھی کہ سکول کا ایک جریدہ شائع کرنا چاہیے۔ وہ اتنا بڑا آمر تھا کہ کسی استاد میں روبرو کھڑے ہوکر ، بات کرنے کی ہمت نہ تھی۔ جب مضامین کی بانٹ ہورہی تھی کہ جریدے کے لیے کون، کیا لکھے گا، وہ بولا، ممتاز صاحب آپ اردو سیکشن کے لئے کوئی مزاحیہ چیز لکھیں گے۔ میں نے عرض کی، عالی جاہ! میں انگلش ٹیچرہوں۔ ہائی کلاسز کو انگریزی پڑھاتا ہوں۔ اردو سے ناواقف ہوں۔ انگریزی پڑھتاہوں، پنجابی بولتا ہوں۔ ہیڈماسٹر بولے، سنیے! مسٹر میں اپنی بات دہراتا ہوں۔ ممتاز صاحب! آپ اردو میں ایک مضمون لکھیں گے۔ میں نے کہا، جناب والا! میں اپنی بات دہراتا ہوں۔میرے یہ الفاظ دیئے کی رگڑ ثابت ہوئے۔جن باہر نکل آیا۔ مجبوری میں،رو دھو کرمیں نے ایک نفسیاتی مضمون لکھ دیا۔ جو گھر کے موضوع پر تھا"۔
٭٭٭
(الکھ نگری۔۔۔ ممتاز مفتی)۔




5 تبصرے:

  1. ممتاز مفتی ایک بہت بڑا ادیب تھا نہایت سادہ اور عوامی اسلوب کا مالک ۔ جس بے رحمی اور سفاکی سے اس نے اپنی ذات کے متعلق سچ لکھا ہے اسکی ہمت کوئی بھی نہیں کر پاتا ہے۔ جو شدت اسکے یہاں ہے وہ کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. مفتی صاحب نے "الکھ نگری" میں لکھا تھا "چھوٹا منہ بڑی بات" اور میں مفتی صاحب کے بارے میں بس اتنا کہوں گی کہ "جتنے منہ اتنی بات "۔ان کے افعال وکردار کی بحث سے قطع نظر میرے نزدیک وہ ایک ایسے گلاس کی طرح تھے جو آدھا بھرا ہوا ہوتا ہے اب یہ دیکھنے والی آنکھ پر ہے کہ کسی کو وہ آدھا خالی دکھتا ہے تو کسی کو آدھا بھرا ہوا۔ ہر کوئی اپنے ظرف سے فیصلہ کرتا ہے۔کوئی اسے نامکمل دیکھ کر لوٹ جاتا ہے اور کسی کو جتنا بھی ملتا ہے وہ اس میں سے اصل کشید کرنے کی سعی کرتا ہے۔

      حذف کریں
  2. مفتی صاحب میری طرح ایک لوز کریکٹر آدمی تھے۔ اور اپنے الفاظ میں بڑھاپے تک لوز کریکٹر ہی رہے۔
    لوز کریکٹر ھونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ
    عوام کی اکثریت لوز کریکٹر افراد کے بڑھاپے میں اچانک ولی اللہ بننے سے بڑی متاثر ھو جاتی ہے۔
    میں بھی اب بڑھاپا آنے پر آجکل ھوا میں مصلہ بچھا کر نماز پڑھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
    کامیابی نہیں ھوئی۔ کئی نمازیں اسی مصلہ بچھانے کے چکر میں قضا ھوئیں تو پھر اب سمجھ آیا کہ پیر خود نہیں اڑتا، اس کو مرید اُڑاتے ہیں۔
    جب تک آپ جیسے مرید موجود ہیں، مفتی صاحب ھوا میں مصلہ بچھا کر نمازیں پڑھتے رہیں گے۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. فتوٰی لگانے میں ہمارا جواب نہیں۔ بعض اوقات جو شخص خود مجرم ہونے کا اقرار کرے وہ بھی مجرم نہیں ہوتا۔ آپ ہوں یا مفتی صاحب چاہے ببانگ دہل جیسا چاہیں اعتراف کریں۔ دلوں کا حال رب کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ میرا مسئلہ ہی یہ ہے کہ میں عقیدت اور پیری مریدی کو نہیں مانتی ۔

      حذف کریں

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...