منگل, اپریل 01, 2014

"مطالعہ"

"انسان اور کتاب"
کلام الٰہی کے بعد زندگی سے بڑی کتاب اورانسان سے بڑھ کر لفظ اورکوئی نہیں۔
لفظ وہی زندہ رہتا ہے جو انسان سے انسان تک سینہ بہ سینہ سفرکرتا ہے اور ہرایک اپنی استطاعت کے مطابق اُسے آنے والی نسلوں کو منتقل کرتا جاتا ہے۔
کتاب حوالہ ہے۔۔۔ وسیلہ ہے علم تک رسائی کا۔۔۔ لیکن علم نہیں۔اصل علم وہی ہے جو انسان اپنی زندگی سے اپنے آپ سے حاصل کرتا ہے۔
کتاب ہو یا انسان کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ یہ پڑھنے والے کی سوچ اوردیکھنے والے کی آنکھ ہے جو سیاق وسباق یا شخصیت کی چمک سے آگے ہی نہیں جاتی، اسی لیے تو نفس ِمضمون سے توجہ ہٹ جاتی ہےیا انسان شخصیت کے پیچ وخم میں اُلجھ کر رہ جاتا ہے۔
انسان سےزیادہ دلچسپ کتاب اورکوئی نہیں شرط یہ ہے کہ ہمیں اُسے پڑھنا آجائے۔
کتاب ہو یا انسان اس کا دسترس میں آجانا خوش نصیبی ہے اور پڑھنے سے پہلے مسترد کردینا بدقسمتی ہے۔

کتاب ہو یا انسان اُس کا ہاتھ میں آ جانا اکثرغیرارادی یا بےاختیاری بھی ہوتا ہے لیکن بعد میں اُس کو پڑھنے یا نا پڑھنے پرہمارا مکمل اختیار ہے۔ اس لیے جو کتاب یا انسان پسند نہ آئے یا سمجھ نہ آئے اُس کو ایک لمحہ ضائع کیے بنا چھوڑ دینا چاہیےبجائے اس کے اس کی نوک پلک کی اغلاط نکالی جائیں یا کردار کے بخیے اُدھیڑے جائیں۔
انسان کی لکھی کوئی بھی کتاب ہرایک کے لیے نہیں ہوتی ۔۔۔ اسی طرح ہرانسان بھی ہر ایک کو سمجھ نہیں آسکتا۔
کتاب پڑھنا۔۔۔ کتاب سمجھنا تو دورکی بات ہم میں سے اکثراپنے اندرکی زبان بھی نہیں سمجھتے۔اور اگر سمجھ جائیں تو پڑھنے سے گریز کرتے ہیں۔
سرورق سے کتاب کا دیباچہ نہیں لکھا جا سکتا۔۔۔ کبھی تو پوری کتاب پڑھ کربھی اس پربحث نہیں کی جا سکتی جب تک اُس کو سمجھا نہ جائے۔۔۔ اس کے معنی کو محسوس نہ کیا جائے۔ یہی حال انسان کا بھی ہے محض ظاہری وضع قطع سے انسان کی شخصیت کا مکمل اندازہ نہیں لگایا  جاسکتا۔
کسی کو جاننے کے لیے خواہ وہ کتاب ہو یا انسان اُس کا حرف بہ حرف حفظ کرلینا قطعاً ضروری نہیں۔ کبھی ایک نکتہ سب راز کھول دیتا ہے یا ایک جھلک ہماری نگاہ کو اُس کے قدموں میں سجدہ ریزکردیتی ہے۔
بسااوقات زیادہ نہ جاننا ہی ہمارے لیے نعمت ہوتا ہے کہ اگرہم کسی کو مکمل جان جائیں۔۔۔اُس کی رگ رگ سے واقف ہو جائیں تو پھرعشق کی اُن منزلوں تک رسائی دُور نہیں ہوتی جو عقل وخرد سے پرے اورجنوں کی وادیوں کے قریب ہوتی ہیں۔

             

2 تبصرے:

  1. اتنی گہرائی کی باتیں
    کمال ہے ۔۔۔ کبھی کبھی جب میں آپ کو پڑھتا ہوں تو یوں دکھائی دیتا ہے جیسے یہ آپ نہیں ہو زمانہ بول رہا ہے
    خوش رہو شاد آباد رہو

    جواب دیںحذف کریں

"معلوماتِ قران"

٭لفظ قرآن، قرآن مجید میں بطور معرفہ پچاس(50) بار اور بطور نکرہ اسی(80) بار آیا ہے ۔یعنی پچاس بار قرآن کا مطلب کلام مجید ہے اور اسی بار ویس...