صفحہِ اول

بدھ, اپریل 30, 2014

" اسلام آباد ادبی میلہ 2014"

"ادبی میلہ۔۔۔2014"
مارگلہ کی پہاڑیوں کے سائے میں اوراُس کی خوشبو میں لپٹی یہ پوش قیام گاہ اُس روزاپنائیت اور بےنیازی کا عجیب امتزاج لیے ہوئے تھی.ایک ادبی میلے کا اہتمام تھا۔جس میں انگریزی کے ساتھ اردوزبان کو ہم پلہ دیکھ کرخوشگوار حیرت ہوتی تھی کہ اردو کوبول چال میں نہ سہی اردو ادب میں تو مانا گیا ہے۔ یہاں اسے فخر سے پیش کرنے کا اہتمام بھی تھا۔ مارگلہ ہوٹل کی راہ داریوں کی طرح دل کے دروازے بھی ہرایک کے لیے کھلے تھے۔۔۔چاہو توعلم لفظ کی صورت کتاب میں سے جتنا جذب کرسکتے ہوکرلو۔۔۔چاہو تو لفظ لکھنےوالوں کو آوازاورتصویر کے پردے پربنفسِ نفیس سن کراوردیکھ کرشوق کی تسکین کرو۔۔۔ چاہو تو ایک ٹھنڈے کمرے میں آرام دہ نشست پر بیٹھ کر پاس سے گزرتے مانوس چہروں کو آنکھوں سے چھو لو۔۔۔اُن کے ساتھ کے احساس کو محفوظ کرنا چاہو تو بلاجھجھک ایک کلک سے اپنی اس یاد کو محفوظ کر لو۔۔۔اُن سے بات کر کےیا ان کے دستخط لے کر اپنی عقیدت کا اظہار کرنا چاہوتو اس کے بھی مواقع تھے۔
لفظ  بولنے،لفظ کہنے، لفظ لکھنےاورلفظ برتنے والے لوگوں کی قربت اُن کے قد کی گواہی دیتی تھی۔ انسانوں کے اس وسیع جنگل میں نظریات ،خیالات اوراقدارکو مجسم دیکھ کر جہاں خوشی کا پہلا احساس جنم لیتا تھا۔۔۔ وہیں دل کے مندر میں سجے بڑے بڑے قدآور بُت جاتی بہار کی مہربان دھوپ میں مومی مجسموں کی طرح پگھلتے تھے۔ لمس کی پہلی بارش میں اُن کے دلفریب رنگوں کو اترتے دیکھ کرکچھ افسردہ بھی ہوتی تھی۔پردے کے سامنے اور پردے کے پیچھے نظر آنے والے چہرے آج بےپردہ تھے۔اوراُن کی اصل اُن کے جسموں،اُن کے لہجوں اوراُن کی آنکھوں سے چھلکی پڑتی تھی۔۔۔ رنگوں،خوشبوؤں اورجھرنوں کی باتیں کرنے والے کتنے بےرنگ،بےبو اوربےذائقہ تھے۔
تہذیب اوراخلاقی اقدارکے مبلغوں کی اپنی ذات اُن کے اقوال کی قلعی کھولتی تھی۔ ملک وقوم کےغم میں صبح وشام دھاڑنے والوں کی پوستین خرگوش کی طرح نرم لیکن ان کےلبادے مارخورکی طرح قیمتی تھے۔خاص بات یہ تھی کہ وہ بھرے پیٹ کے لوگ تھے۔ جن کی خواہش اورطلب عمل کی سیڑھی پر چڑھ کر قرار پا چکی تھی۔اب یہ اپنی منزل پر پہنچ کر اُس کو برقراررکھنے کی تگ ودومیں تھے۔اچھی بات یہ تھی کہ بےنیاز تھےاُن چھوٹے چھوٹے جذبوں،چھوٹی چھوٹی خواہشوں اور چھوٹے چھوٹے لوگوں سے جن کو کہیں پیچھے چھوڑ آئے تھےاور اب اپنے جیسوں کے ساتھ خوش گپیاں کرتے تھے۔ نہیں جانتےتھے کہ انہی چھوٹے لوگوں کے کاندھوں پر بیٹھ کر تو انہوں نے دنیاوی معراج کا سفر طے کیا ہے۔اپنی دُنیا میں مگن تھے۔بےفکری،خوش لباسی اور خوش مزاجی کا غازہ لگائے اپنی ذاتی زندگی اوراس کی تلخیوں کوخوبصورتی سے چھپائے پھرتے تھے۔
 لفظوں کے ان جادوگروں تک رسائی نئی بات نہ تھی۔ لیکن برسوں  پہلے ایک قاری کی نگاہ سےاورلفظ کےعقیدت مند کےطورپردُور دُور سے شناسائی تھی۔اب ایک محترم لکھاری نے یہ شرف بخشا تھا کہ اس کے ہم قدم ادب  کے بڑے ناموں سے رابطہ ممکن ہوا۔۔۔
وہ جو آوازکی دُنیا کا جانا پہچانا نام تھا۔ لفظ جس کی آوازکا جامہ پہن کرعام دلوں تک رسائی حاصل کرتے تھے۔۔۔بڑے چھوٹے، بچے بوڑھے،بینا نابینا،علم والے لاعلم۔۔۔غرض یہ کہ مردوعورت کی تخصیص سےبالاتردیارِغیر سے جہاں تک آواز کا دائرہ محیط تھا وہاں تک اُس کا نام۔۔۔ آواز،اندازاورتحقیقی کام کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا۔اور جب انہوں نے آواز کو لفظ کے سانچے میں ڈھال کر کاغذ کی قید میں محفوظ کیا تو گویا عوام سے خواص تک کا دائرہ مکمل ہو گیا۔
ہوا کے دوش پربکھرتی آوازنے بلاشبہ دلوں کو فتح کیا تھا۔وقت کی تیزرفتاری رفتہ رفتہ اس یاد کومٹاتی جا رہی تھی۔اگر یہ محض آواز سے سماعت تک کا سفر ہی رہتا تو شاید جلد قصہ پارینہ بن جاتا اورآنے والی نسل نہ صرف اس علم اور تحقیق سے بےخبر رہتی بلکہ اپنےاس عظیم تہذیبی ورثے سے بھی ہمیشہ محروم ہو جاتی۔ اُس شخصیت کی وضع داری قول وفعل کےیکجا ہونے کا ثبوت دیتی تھی۔ جناب رضا علی عابدی کی منکسرالمزاجی اوراپنائیت ذہن میں آنے والا ہر سوال پوچھنے پراُُکساتی۔۔۔ میں بھی کتاب اوراُس کےلکھاری کی سنگت کے خمار میں بےدھڑک سب کہہ دیتی ۔
بدیس میں اردوکا پرچم بلند کرنے والے۔۔۔اردولکھنے،اردو بولنے سےعشق کرنے والے اوراردونظم ونثر کا تاریخی ورثہ  منظم انداز میں عام لوگوں کے حوالے کرنے والے اس سادہ انسان کی عاجزی کمال تھی۔ اُن سے پہلی بار مل کر ایسا لگا جیسے پہلی بار سے پہلے بھی مل چکی ہوں۔
اب ایک جھلک اس ادب میلے کی۔۔۔
پہلے روز کی افتتاحی تقریب کے بعد اگلے دو روز میں چار بڑے ہالوں اور مرکزی لان میں 70 سیشن ہونا تھےاور 150 سے زیادہ مقررمدعو کیے گئے تھے۔14 کتابوں کی تقریبِِ رونمائی بھی تھی۔  افتتاحی تقریب میں شیما کرمانی کا کلاسیکل رقص جاری تھا۔۔۔ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔۔۔اسلام آباد کی'کریم' اس رنگانگی سے خوب لطف اندوز ہو رہی تھی۔۔۔میں سوچتی تھی کہ یہ پڑھے لکھے لوگ کتنے ہی لبرل کیوں نہ ہو جائیں کیا یہ اپنی بیوی یا بیٹی کو اس طرح سب کے سامنے ناچتے دیکھنا تو درکنار کیا اس لباس میں ہی لوگوں کے درمیان دیکھ سکیں گے یا نہیں؟۔میرے جواب نے مجھے ان منافق لوگوں سے بدظن کر دیا اور میں خاموشی سے باہر آگئی۔یہ تو محض آغاز تھا۔۔۔باہر میری دقیانوسی سوچ کے لیے کچھ اور مناظر بھی آراستہ تھے جو بحیثیت عورت مجھے اپنی نظروں میں شرمندہ کیے دے رہے تھے۔مجھے آج معلوم ہوا تھا کہ عورت جتنی برہنہ اورجتنی بےپردہ ہو گی اتنا ہی اس کا علمی قد بلند مانا جائے گا اور یہ بھی کہ اپنی ذہنی صلاحیت منوانے کے ساتھ ساتھ اپنی جسمانی کشش پر بھی مہر لگوانا اہم ہے۔
لفظ سے معاشرے اورتہذیب کو سدھارنے والیوں کے ننگے جسموں سے ابکائی آنے لگی ۔اگلے روز کے سیشن چاہتے ہوئے بھی اٹینڈ نہ کر سکی۔۔۔شاید میرا احساسِ کمتری میری چادرکی طرح مجھ پرحاوی ہو گیا تھااورمجھے کوئی اعتراض بھی نہ تھا۔
اتوار کے روزصبح دس بجے ہی پہنچ گئی۔"زبان وادب بدلتی ہوئی صورتِ حال میں" کے عنوان سے پہلا سیشن دیکھا اور سنا۔ خوب باتیں ہوئیں۔۔۔ بلکہ باتیں ہی تھیں صرف۔۔۔ معاشرے کی بگڑتی اقدار پر۔۔۔عورت کے استحصال پر۔۔۔اردو زبان کی تنزلی پر۔۔۔ خیال آیا کہ ان بڑے بڑے لوگوں کے گھروں میں کس اقدار پرعمل ہوتا ہو گا؟ان کے بچے کون سی زبان بولتے ہوں گے؟ اور جن ماؤں کے سر ننگے تھے وہ کیونکر اپنی بیٹیوں کو سرڈھانپنے یا بیٹوں کوعورت کے احترام کا درس دیتی ہوں گی؟
یہ ان کا مسئلہ تھا میرا نہیں۔۔۔ لیکن! پھربھی میرا بن گیا اورمیں "پروین شاکر" کا نام پڑھ کراگلے ہال میں جا پہنچی۔ اس بڑی شاعرہ کا انتخابِ کلام ایک کتابچے کی صورت شائع کیا گیا تھا اس بارے میں تقریب تھی۔پروین شاکر کی شاعری اور اس کی ذاتی زندگی کی باتیں سننا اچھا لگا لیکن سُونا ہال دکھی کرگیا۔ایک گھنٹے کے اس سیشن میں تین اور کتابوں کی بھی تقریب رونمائی تھی۔۔۔غلام عباس ،سعادت حسن منٹو اور حسن منظر کی تصانیف سے انتخاب کے کتابچے تھے۔اسی دوران "غالب"پر ہونے والا سیشن سننا تھا جومرکزی لان میں تھا۔ وہاں پہنچی تو ایک خوشگوار حیرت منتظر تھی۔  "مرزا غالب" کے سیشن سے پہلے"ارض شمال" کے نام سے گلگت بلتستان کے شاعروں کا سیشن تھا۔ 'رواداری' میں بیٹھ گئی تو اچانک پچھلی نشستوں پر بیٹھے" مستنصر حسین تارڑ" صاحب پر نظر پڑی۔بہت اچھا لگا۔ آپ نےبلتی شاعروں کی دل کھول کر دل سے داد دی اور مجھے دل ہی دل میں شرمندگی ہوئی کہ  ہمارے دیس کے دوردراز خطوں کے یہ باسی کتنے سادہ اور تنہا ہیں اپنے اظہارمیں۔۔۔اورکتنے اداس ہیں ہم شہر میں رہنے والوں کی ناقدری کے باعث ۔ خیر سوال جواب کے سیشن میں جناب کو سننے کا موقع ملا توچند لفظ ذہن میں رہ گئے( مفہوم بیان کرنے کی کوشش کرتی ہوں)۔ آپ نے کہا " کہ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ کیوں بار بار اور اس عمر میں ان علاقوں کو جاتے ہیں۔ تو میں کہتا ہوں کہ "شمال سے ہوائیں اور دعائیں مجھے بلاتی ہیں"۔
ٹھنڈے ہال میں لوگ برائےنام تھےاوریہاں دھوپ کی تپش میں۔۔۔ پیڈسٹل پنکھوں کی ناکافی ہوا بھی غالب کے پرستاروں کو آنے سے نہ روک سکی تھی۔ دو سو سال قبل  پیدا ہونے والےغالب کی شاعری اوراس کا تخیل آج کے سائنسی دور میں بھی جادو اثر رکھتا تھا۔ نوجوان طلبہ کی تعداد زیادہ تھی۔ اس شاعرانہ ماحول میں  ذرا دیر سےآنے پرتشنگی سی محسوس ہوئی۔بعد میں سوال جواب کا سیشن مزا دے گیا۔اسٹیج پر مقررین میں سکالر ڈاکٹر نعمان الحق اورراحت کاظمی تھے۔ دیر سے جانے کی وجہ سے کلامِ غالب پرراحت کاظمی کا اسلوب ِبیاں نہ سن سکی۔
شام  کے آخری سیشن بہت اہم تھے۔ ایک تو مستنصرحسین تارڑ کی "تارڑ نامہ" کی تقریب تھی اوردوسری طرف"رضا علی عابدی " کی"اخبار سے ریڈیو تک " کے عنوان سے ایک گھنٹے کی گفتگو تھی۔ شام کو گھر بھی واپس جانا تھا۔ اس لیے کتاب میلے کو یہیں خداحافظ کہا اورگھر جانے کو فوقیت دی۔
 بحیثیت مجموعی یہ کتاب میلہ اسلام آباد کی ثقافت اوراس کے شہریوں کے طرزِبودوباش کی نمائندگی کرتا تھا۔ میلے اسلام آباد کی شناخت بنتے جا رہے ہیں جہاں لوگ اپنے خاندان کے ساتھ آ کر پرسکون ماحول میں کچھ وقت گزارتے ہیں۔
!آخری بات
اس کتاب میلے میں بڑے بڑے ادیبوں کے قریب رہ کرجانا کہ عورت ہونے کے ناطے لفظ سے زیادہ لفاظی اہم ہے۔اور کچھ  پانے کے لیے بہت کچھ کھونا بھی پڑتا ہے۔نام کے لیے مقام کی قربانی بہرحال دینا لازمی ہے۔ یوں اس کتاب میلے میں ایک "خود ساختہ" لکھاری اپنی موت آپ مر گیا اورکوئی دکھ بھی نہ ہواکہ اُس نے اپنا مقام پہچان لیا اوربچا بھی لیا۔


    

4 تبصرے :

  1. ( ٹھنڈے ہال میں لوگ برائے نام تھے اوریہاں دھوپ کی تپش میں پیڈسٹل پنکھوں کی ناکافی ہوا بھی غالب کے پرستاروں کو آنے سے نہ روک سکی تھی۔دو سو سال قبل پیدا ہونے والےغالب کی شاعری اور اس کے تخیل کا جادو آج کے سائنسی دور میں بھی سرچڑھ کر بولتا تھا۔ نوجوان طلبہ کی تعداد زیادہ تھی۔ اس شاعرانہ ماحول میں ذرا دیر سےآنے پرتشنگی سی محسوس ہوئی۔)
    آپ کے مضمون کا لب لباب اس پیرے سے عیاں ہے۔ وہ ادب کبھی پرانا نہیں ہوتا جسے ادیب دل سے لکھتا ہے۔ مومن آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ کا خاص مصاحب تھا ۔ جو پالکی میں بیٹھ کر گلیوں سے گزرتا تھا۔ مگر وقت نے کسے یاد رکھا ، کس کی قدر کی۔ جس کا دیوان چھاپنے کے لئے کوئی تیار نہیں تھا۔ سر عام ٹی وی پروگرام میں کچھ عرصہ پہلے بڑی ہستیوں کی قبور پر پروگرام تھا۔ پروگرام کا اختتام ساغر صدیقی پر کیا گیا۔ جو زندگی میں ایک فقیر کی حالت میں رہا۔ مگر مرنے پر قبر دربار بن گیا۔
    http://www.youtube.com/watch?v=bC185-ZYQ8U

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. بجا ارشاد فرمایا۔ ادب بے شک دل سے لکھا جائے تو جاوداں ہے لیکن دکھ ادیب کی ناقدری کا ہے جو دوسرں سے پہلے وہ خود اپنی کرتا ہے،بھلا بیٹھتا ہے کہ ادب لازوال ہے تو وہ کیونکر اس دور کے گنتی کے چند اذہان کو سمجھ آ سکتا ہے۔ ہمارے بیشتر ادیب زمانے کی بےحسی کا گلہ کرتے گزر گئےاور اپنے کڑے وقت کے لیے پس انداز نہ کر سکے۔ایک لمبی فہرست ہے جس میں سے چند نام جن کو آج کل بڑے زوروشور سے یاد کیا جارہا ہے ۔جیسے مصطفٰٰٰی زیدی، مجید امجد اور حبیب جالب۔ان کے آخری ایام کی تاریخ گواہ ہے کہ کس کرب اور تنہائی میں گزرے۔غصہ مجھے ان لوگوں پر بھی آتا ہے جو اب ان کی یاد میں بڑے بڑے سیمینار کراتے ہیں ، اصل بات زندگی میں قدر کرنے کی ہے جیسے"جمیل الدین عالی " صاحب حیات ہیں۔ نہ صرف شاعری بلکہ پاکستانیت کے حوالے سے بھی ہمارا فخر ہیں ، لیکن ہم ان کو بھلا بیٹھے ہیں۔ "سرعام" کا وہ پروگرام واقعی ہماری قوم کے نام ایک نوحہ تھا۔

      حذف کریں
  2. آپ نے لٹریری فیسٹیول کی تصویر ایک نئے زاویے سے ہمارے سامنے پیش کی ہے۔۔۔ اس بارے میں اور بھی لکھئے۔۔

    جواب دیںحذف کریں