جمعرات, نومبر 06, 2014

" ملالہ اور "نوبل"


ملالہ یوسف زئی کو سال 2014 میں ملنے والا نوبل انعام بحیثیت قوم  ہمارے لیے کتنا "نوبل" ثابت ہوتا ہے؟ یہ تو وقت بتائے گا۔ اورملالہ کی شخصیت سے قطع نظر اس کا "کردار" کتنا متنازعہ اور"نوبل" ہے؟ حقیقت اور فسانہ کیا ہے؟ ہم نہیں جانتے۔اوریہ ایک حقیقت بھی ہے جس سےصرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔
 آنکھیں کھلی رکھنا اہم ہے ۔ہم جذباتی قوم ہیں ۔ بنا سوچے سمجھے کسی کو ہیرو بنا دیتے ہیں اور کسی کو پل میں زیرو ۔ اور "مغربی اقوام" کا تعصب  ہمیں کبھی بھی نہیں بھولنا چاہیے۔ نہ صرف ہماری تاریخ بلکہ  پوری اسلامی تاریخ بھی اس کی گواہ ہے۔ اور ہم مشرق میں رہنے والوں کو سب سے زیادہ نقصان ہمارے اپنوں نے ہی  پہنچایا ہے۔غیروں نے  صرف مواقع سے فائدہ اٹھایا ہے۔۔
ملک کو ملنے والا یہ دوسرا نوبل انعام مغربی دنیا کی صف میں تو یقیناً ہمیں معتبر بناتا ہے لیکن!!! قیام پاکستان کے اولین برسوں سے ایک لباس اور ایک انداز سے انسانیت کی خدمت کرنے والا "چراغ سحری" کم از کم ہمیں اس"خوشی" کو مناتے ہوئے اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور ضرور کرتا ہے۔ جسے ہم نے اس کا جائز مقام نہیں دیا تو بیرونی دنیا سے کیا شکوہ کرنا ۔ حیرانی "بڑے" ممالک کے انسانی حقوق کے علم برداروں کے رویے پر ہے۔
ملالہ کو حق پر سمجھنے والوں کے لیے۔۔۔۔۔ وہ اسے نہ ماننے والوں کو تنگ نظری کے طعنے دیتے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے عالمی اعزاز کی وجہ سے  فخرِپاکستان کہہ رہے ہیں۔ ان سے صرف ایک سوال۔۔۔ اگر کل کو مغرب " وینا ملک یا گلو بٹ" کو  بھی کوئی عالمی ایوارڈ دے دے۔۔۔ اُن کے "ٹیلنٹ" کی وجہ سے جواُن اقوام  کےخیال اوریقین میں جائز بھی ہو۔ اورہم بھی ان لوگوں کی "اخلاقیات" کے پس منظر میں جائز مان لیں۔ تو کیا پھراُنہیں بھی سرآنکھوں پر بٹھائیں گے؟۔
 نوٹ:: وینا ملک اور گلو بٹ کا نام صرف ایک "ٹریڈ مارک" کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ کسی کی شخصی آزادی میں مداخلت ہرگز نہیں۔ اس نام کے حامل احباب سے دلی معذرت کہ دلوں کا حال رب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔شاید ہم میں سے بہت یا ہم خود بھی اندر سے یہی چہرہ رکھتے ہوں۔ اللہ توبہ قبول کرنے والا اور پردے رکھنے والا ہے۔
 کسی نے ملالہ ایشو کی حمایت  کرتے ہوئےکہا"اچھی چیز اگر گندگی کے ڈھیر میں ملے پھر بھی وہ اس لائق ہے کہ اسے اٹھایا جائے اور گندی چیز اگرچہ ہمارے گھرہی میں کیوں نہ ہو پھینکے جانے کے قابل ہے"۔
  میرا کہنا تھا ۔۔۔آپ کا کہنا درست سہی لیکن حرف آخر نہیں۔ بات جان بچانے کی ہو تو مردار بھی جائز ہے اور گھر میں موجود گندی چیز گھر کا حصہ ہویا جسم میں ناسور کی صورت۔۔۔ اسے ممکن حد تک درست کرنے کی گنجائش بہرحال آخری حد تک باقی رہتی ہے۔۔۔اسے دفن کرنا پڑتا ہے۔۔۔باہر پھینکنے سے اپنا ہی تماشہ بنتا ہے۔
 ملالہ کے حق یا تنقید میں کچھ نہیں لکھا جا سکتا کہ جس طرح انصاف کی بات کریں تو کبھی دھرنوں یا انقلابیوں کے طرف دار ہونے کے طعنے ملتے ہیں اورکبھی نواز کی نوازی کا شک کیا جاتا ہے۔ ہم سب اپنی عزت بچانے کے لیے بس خاموش تماشائی کی طرح تماشا دیکھے چلے جاتے ہیں۔ یہ نہیں جانتے کہ ہم تماشائی نہیں تماشا گاہ ہیں ۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...