جمعرات, جنوری 31, 2013

" کرنیں (1)۔۔۔ محبت "

٭محبتوں کے نام نہیں ہوتے۔محبتوں کے"مقام" ہوتے ہیں۔
٭عشق کا راستہ کتنا ہی دیکھا بھالا کیوں نہ ہو۔۔۔اس پر چلنے والا اپنے قدموں کے نشان سے اپنا راستہ چنتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ایسے نئے رنگ اور نئے انگ بھی تلاش کرلیتا ہے جو اُس کی آنکھ کے لیے خاص اس کے سامنے اترتے ہیں۔ ٭زندگی میں کامیابی یا خوشی کی پہچان یوں ہوتی ہے کہ جب احساس ہونے لگے کہ یہ دُنیا صرف آپ کے لیے تخلیق کی گئی ہے ۔۔۔اس کا ہر منظر صرف آپ کی آنکھ کے لیے ہے۔ محبت کی پہچان بھی یہی ہے کہ محبوب خالص توجہ چاہتا ہے۔اس کی چاہت ہے کہ اس کے سوا کسی کو  دیکھا جائے اور نہ سوچا  جائے۔
*زندگی سمجھ آ جائے تو محبت کا راز کھل جاتا ہے اور محبت کا راز جان جاؤ تو زندگی سہل ہو جاتی ہے۔
٭بےاعتباری محبت کی روح ہے۔۔۔اعتبار آ جائے تو روح نکل نکل جاتی ہے فقط یقین کاجسم رہ جاتاہے'بےجان بت'۔۔۔ اب اُسےلاکھ سنوارو۔۔۔ پجاری کی طرح پرستش کرو۔۔۔ وہ ایک ذمہ داری بن جاتا ہے۔۔۔ چھوڑنا چاہو چھوڑنہیں سکتےکہ پھرتلاش کاسفر رُک جاتا ہے۔۔۔جُستجو قرارپا جاتی ہے۔
٭جس نے محبت کے پھل کا ذائقہ نہیں چکھا وہ کیونکر اُس کی تلاش کا حق ادا کر سکتا ہے۔۔۔
٭نابینا کے لیے زندگی فقط اپنی پیاس ہے۔۔۔ ہوس ہے اور بینا کے لیے اپنی پیاس قربان کر کے دوسرے کی پیاس بجھانے کا نام ہے۔ منزل پر دونوں ہی پہنچ جاتے ہیں کوئی پہلے کوئی بعد میں۔
٭محبت صرف سفر ہے۔۔۔خوشی سے کرو گے۔۔۔ مان کر کرو گے تو آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائے گا۔ بوجھ جان کرعقل وخِرد سے بیگانہ ہوکر کرنا چاہا تو آنکھوں میں جلتی سلائیاں پھیرکر راہ سے بھٹکا بھی دے گا۔
٭بنجر زمین بھی بہت ہے قدم جمانےکو۔۔اگراپنی ہو۔۔۔محبت کا بیج اپنی نشوونما کے لیے ظاہری وسائل سے زیادہ اندرونی کیمیاگری کا طلب گار ہوتا ہے۔
٭محبت فاضل پہیہ نہیں کہ جب ٹائر پنکچر ہوا استعمال کر لیا۔۔۔محبت گاڑی کے پہئیوں پر لگا وہ وہیل کپ ہے جو نہ بھی ہو تو گاڑی کی رفتارپرکوئی فرق نہیں پڑتالیکن گاڑی مکمل ہو کر بھی ادھوری دکھائی دیتی ہے۔
٭محبت کمبخت نہیں ہوتی۔۔۔"کمبخت"وہ ہوتا ہے جس کا بخت اسے محبت کے اسرارورموز سے آشنا نہ کرے۔
٭محبت کوئی اختیار نہ رکھتے ہوئے اپنا اختیار چھوڑ دینے کا نام نہیں۔ بلکہ اختیار کی طاقت مل جانے کے بعد اپنی رضا سے سب کچھ بانٹ دینے کا نام ہے۔محبت بانٹنا بغیر کسی غرض کےہرایک کا ظرف نہیں۔
٭محبت ساتھ نہیں حوصلہ دیتی ہے۔ ہرانسان اکیلا آتا ہےاور اکیلا ہی چلا جاتا ہے۔
"محبت صرف دینے کا نام ہے۔۔۔ہم نہیں جانتے پانا کیا ہے"
وصال ِیاروہ لمحہ ہے جس کا صدیوں سے انتظارہوتا ہے پرجب آ جائےتوگرفت کا ایک پل صدیوں کا قرض چکا دیتا ہے۔
٭محبت زندگی کے پلیٹ فارم پر آنے والی وہ گاڑی ہے جس کے آنے کا ذرا برابر پتہ نہیں چلتا۔ یہ خوشبو کی طرح دھیرے دھیرے مشام ِجاں پر اترتی ہے۔۔۔ذہن وجسم پر برسوں سے جمی دھند صاف کر کے 'طوفان میل' کی طرح زن سے گزر جاتی ہے۔
٭محبت زندگی کے ساحل پر بنایا جانے والا وہ ریت کا گھروندا ہے کہ قدم جس کی نرماہٹ اور ٹھنڈک میں دھنسے جاتے ہیں۔۔۔ روح میں سکون اترتا چلا جاتا ہے۔۔۔ کہ یکدم کسی بھی لمحے آگہی کے سورج کی تپش بڑھ جاتی ہے یا وقت کی ظالم لہر ایک پل میں سب تہس نہس کر دیتی ہے۔ لیکن طمانیت اور لذت کا احساس ہر خلش ہر کسک پر ہمیشہ کے لیے حاوی رہتا ہے۔
٭محبت چاہے روح کی ہو یا جسم کی ہمیشہ سے لمس کی طلب گار رہی ہے۔جسم کی محبت جسم کا لمس چاہتی ہے اور روح کی محبت آنکھ کے لمس کا یقین۔ آنکھ جسم انسانی کا وہ خاص جزو ہے جو ہر احساس کو لمحوں میں جذب کر کے رہتی عمر تک یاد کی صورت آنکھ کے پردے پرمحفوظ کر لیتا ہے۔
٭ محبت وہ ہے جو محبوب کو چھونے سے زیادہ محسوس کرنے سے محبوب کو اپنی نگاہ میں معتبر بنا دیتی ہے۔چھونے کی خواہش سے انکار نہیں کہ یہ انسان کی فطرت اور جبلت میں شامل ہے اور خانہ کعبہ رب کی طرف سے اس کی کھلی دلیل اور واضح ثبوت ہے۔اب سوال یہ کہ اہم کیا ہے"چھونا یا دیکھنا تو آنکھ کا لمس اہم ہے یقین کے لیے اور "چھونے کی خواہش پھر ہمیشہ کے لیے ساتھ رکھنے ساتھ رہنے کی ہوس میں بدلتے دیر نہیں لگاتی۔
جسم کی بھوک مٹانے والے شانت تو کردیتے ہیں لیکن طلب بڑھا بھی دیتے ہیں ۔ ساتھ دے نہیں سکتےاورساتھ رہتے بھی نہیں ۔ سارا رس نچوڑ لیتے ہیں اورسیری کی کیفیت بھی پیدا نہیں ہونے دیتے۔جسم کی پیاس رُک جائے تو جان لو قرارآگیا لیکن اگر بھٹکتی رہے تو ہوس بن جاتی ہے۔ خیال کی بھوک اس جسم کی روح کی طرح ہوتی ہے جو ٹھہر جائے تو انسان اس روح کےجسم کا بھی تمنائی ہو جاتا ہے۔ اگر جسم مل بھی جائے تو روح کبھی نہیں ملتی ۔ روح کی زندگی بےقراری میں ہے، سفر میں ہے۔ جو اپنے مالک سے مل کر ہی قرار پاتی ہے۔
بھوک اور محبت ایک دوسرے کی ضد ہیں۔بھوک محبت کو کھا جاتی ہے بظاہر انسان بھوک مٹا کر بڑا شانت دکھتا ہے درحقیقت اُس کی ہوس اور پیاس مزید بڑھ چُکی ہوتی ہے۔بھوک محبوب کو پا لینے کے بعد اُس کو اپنی ملکیت اپنی بڑائی سمجھنے کا نام ہےجبکہ محبت بھوک کو برداشت سکھاتی ہے۔۔۔ محبت اپنی پیاس بُجھانے سے پہلے دوسرے کی پیاس بُجھاتی ہے۔
محبت خود بھوکا رہنے اور دوسرے کو سَیر کر دینے کا نام ہے۔
٭محبت ایک عمل ہے جو وصال سے شروع ہو کروصال پرختم ہوتاہے۔۔۔"روح کا جسم سے ملاپ پھر جسم کا روح سے اور پھر روح کا روح سے"لیکن ہم وصال کے بعد فراق چاہتے ہیں تو پھر محبت کی تکمیل کیونکرہو سکتی ہے۔" محبت کی تکمیل صرف لمس کی گواہی چاہتی ہے"۔خیال کی بھوک خوشبو کی طرح سفر میں رہتی ہے پر یہ وہ سفر ہے جو لاحاصل کبھی نہیں ہوتا اس سفر میں لذتیں ہی لذتیں ہیں۔ہر گاہ پرہمسفر ذرا دیر کو ملتے ہیں،ٹھنڈی چھاؤں کی طرح تازہ دم کرتے ہیں اور پھر نئی منزلوں کو روانہ کر دیتےہیں۔ ۔خیال کی بھوک لمس کی چاہ میں بےقرار رہتی ہے۔اس کو ذرا سی بھی جھری مل جائےتو اپنا راستہ آپ تلاش کر لیتی ہے۔یہ نہ لینے والے پر بوجھ بنتی ہے اورنہ دینے والا بےسروسامان رہ جاتا ہے۔

     

2 تبصرے:

  1. خیالات کی روانی تسلسل اور پھر ان کو ایک لڑی میں پرو کر دنیا کے سامنے پیش کرنا آپ پہ ختم ہے جناب۔ بظاہر ایک دقیق فلسفہ لگتا ہے مگر ذرا سا رک کے جذب کرنے سے یمجھ آتی ہے کہ لفظ کیا کہہ رہے ہیں

    جواب دیںحذف کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...