صفحہِ اول

بدھ, جنوری 09, 2013

"ماں ، دوسرا رُخ "

" ماں ایک رشتہ ہے شخصیت نہیں " 
ماں ایک عورت بھی ہے وہ عورت جس میں اچھائیاں بھی ہیں اوربُرائیاں بھی۔
اچھی عورت اچھی ماں بھی ہوتی ہے لیکن ضروری نہیں اُس میں اچھی ماں کی تمام ترصفات موجود ہوں۔ اِسی طرح ایک بُری عورت میں اچھی ماں بھی ہوسکتی ہے۔ایک اچھی ماں میں ضروری نہیں ایک انسان کی تمام اعلیٰ وارفع صلاحیتیں پائی جائیں۔۔۔ وہ اپنے بچوں کے لیے ایک اچھی ماں ضرور ہوگی لیکن دوسرے بچوں کے ساتھ اُس کے روّیے میں فرق ہونا ایک قُدرتی امر ہے۔
ماں اوربچے کا تعلق 'خالق اورمخلوق' کی طرح ہے۔ وہ اپنی تخلیق کو سنبھالنے، سنوارنے اورخطرات سے بچانے میں آخری حد تک کوشش کرتی ہے۔اپنی تخلیق کی محبت میں اپنی ذات کو بھی نظرانداز کر دیتی ہے۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے مائیں وہ بھی ہیں جو ایسے بچےپیدا کرتی ہیں جن کا کوئی سہارا نہیں ۔۔۔ کوئی شناخت نہیں۔
ماں وہ بھی ہےجو اپنے بچوں کوجان سےماردیتی ہے۔۔۔ بچوں کوچھوڑ کر چلی جاتی ہے۔۔۔اپنے بچوں پرتوجہ نہیں دیتی۔۔۔بچوں کےسامنے اپنے لہجے،زبان پر قابونہیں رکھ سکتی۔۔۔بچوں کی کمزوریوں کو اُن کی عادت بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔۔۔اُن کی خامیوں کوصرف اپنی جہالت کی وجہ سے نظر اندازکر دیتی ہے۔۔۔ اپنے مفاد کو بچوں کے مفاد پرترجیح دیتی ہے۔یہ سب دنیا ہے ہم بھی اِسی کا حصہ ہیں۔ اسی لیے سوچ کر پریشان ہوتے ہیں کہ ماں کیا ہے؟اورکیوں اس کا رُتبہ ہے۔ کسی سے پوچھنے کی ہمت بھی نہیں کہ پھر ناسمجھی اور کُفریہ کلمات کے طعنے سننا پڑتے ہیں۔۔۔ دین ودُنیا دونوں ہی ہاتھ سے جانے کا اندیشہ ستاتا ہے۔اس لیے چُپ چاپ اپنےخول میں بند اندھی تقلید کے رٹےلگائے جاتے ہیں کہ پاس ہونا مقصد ہے۔ سمجھنا اورجاننا ہمارے بس کا کام نہیں۔
ہم صرف ایک کام کر لیں کہ ہر سوال کا جواب اللہ سے پوچھ لیں تواتنا جلد اور واضح جواب آتا ہےکہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ جواب یہ ہے کہ خالق نے صرف ماں کا حوالہ دیا ہے۔۔۔اُس نےماں کی شخصیت کا ذکرنہیں کیا۔ماں کی صفات اور خامیوں کومدِنظر رکھ کربڑا چھوٹا نہیں بنایا۔کہاتوصرف یہ وہ"مشقت"سے اپنی کوکھ میں پالتی ہے۔۔۔تکلیف سے جنم دیتی ہے۔۔۔محنت سے پرورش کرتی ہے۔لیکن ہم اس کے افعال وکردارکی بھول بھلیّوں میں کھو جاتے ہیں۔ایک" دیوی" کی طرح اس کو پوجنا چاہتے ہیں۔ایک انسان سے زیادہ پتھر کا مقام دے کراپنے تئیں شانت ہو جاتے ہیں۔ اوراُس کی سوچ اس کے محسوسات اس کے مقام کے مدفن میں کہیں دب جاتے ہیں۔
ایک بات یاد رکھیں۔۔۔ماں ایک وسیلہ ہے۔۔۔راستہ ہے۔۔۔منزل نہیں۔ وسیلے کی قدرکرو گے تو خزانہ ملے گا اور راستے پر چلو گے تو منزل قریب آجائے گی۔
حرفِ آخر!
ماں کا روپ عورت کا سب سے طاقتور ترین پہلو ہے جو اُسے نہ صرف مرد پر فوقیت دیتا ہے بلکہ خود اُس کے لیے دُنیاوآخرت میں رہنمائی اور بھلائی کا ذریعہ بھی ہے۔عورت اور ماں کے "کار" اور "کردار" میں وہی فرق ہے جو ان حروف کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے۔یعنی 'ر' اور 'د' کا فرق جس کو باہم ملا کر دیکھا جائے تو "رد" بنتا ہے۔۔۔ یعنی نفی کرنا۔ ماں بننے کے بعد عورت جب تک اپنی ذات کی نفی نہیں کرتی ۔۔۔اپنی انا کو اس رشتے کے سامنے نہیں جھکاتی۔۔۔کبھی بھی اس عظیم رتبے کے اکرام کی اہل نہیں ہو سکتی۔
ایک انسان ہونے کے ناطے"عورت بدکار ہوسکتی ہے لیکن ایک ماں کبھی بدکردار نہیں ہوسکتی"۔ کہ اس کا کردار تو اسی روز لکھ دیا جاتا ہے جب اسے یہ منصب عطا ہوتا ہے۔اب اس میں ردوبدل کی ذرا سی بھی گنجائش کہاں۔عورت جب اپنے مقام کو بھلا کراپنے تئیں اس سےافضل مقام کی خواہش کرتی ہے تو وہ نہ صرف ماں کے مرتبے سے گر جاتی ہے بلکہ پھر اُسے کہیں بھی اس سے برتر مقام نصیب نہیں ہوتا۔

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں