صفحہِ اول

جمعرات, جنوری 10, 2013

"پہلی بار"

" بےشک ہر نفس نے اس کا ذائقہ چکھنا ہے "
اپنی تخلیق کے پہلے لمحے سے تکمیل کے آخری سانس تک انسان صرف تین مراحل طے کرتا ہےاورتین ہی اس کے ساتھی اوردوست ہوتے ہیں۔۔۔ پہلے اُس کا خالق، پھرانسان اور آخرمیں موت کا فرشتہ۔
ہم اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں لیکن اپنے پورے وجود کے ساتھ یا یوں کہیں بقائمی ہوش وحواس ملنا ایک اورہی احساس ایک الگ سچائی ہے۔اللہ جو ہمارا خالق ہے اُس سے ملتے وقت ہمیں اس قابل ہونا چاہیے کہ اُس کی نعمتوں اس کے احسانات کا احساس شُکرگُزاری کے جذبے سے کر سکیں۔
انسانوں سے ملتے وقت اپنی ذات پر یقین ہونا چاہیے۔ اسی طرح ہم انسانوں کے ہجوم میں اپنی شناخت برقراررکھ سکتے ہیں اور
انسانوں سے ملنےکی لگن ہمیں سوائے مایوسی کے کچھ نہیں دیتی وقتی طورپرچاہے مالامال ہی کیوں نہ ہوجائیں۔ وہ بھی ہمارے جیسے ایک انسان ہی ہوتے ہیں۔۔۔ خوبیوں کے ساتھ خامیوں سے بھی لبریز۔
انسانوں میں سب سے" افضل انسان"سے ملنے کی تڑپ اورجستجو رکھنا فرض ہے۔ جو ہمارے جیسا ہےلیکن اُس کا شرف اور مرتبہ سوائے "اللہ" کے کوئی نہیں جان سکتا۔ اور"وہ"جس پرنگاہِ کرم کردے اس کا بیڑہ پار ہے۔
آخرمیں آتا ہے موت کا فرشتہ جو ہماری تلاش میں زندگی کے پہلے پل سے ہے۔ ہم سے بڑھ کراس کا محبوب اس کا کام اور کوئی نہیں۔ ہمیں پانے کی فکر اس کا مقصدِ حیات ہے۔ وہ صبح شام ہمارے گھر میں جھانکتا ہے کہ شاید کوئی منتظر ہو۔۔۔ شاید آج اس پل ملن لکھا ہو۔۔۔ وقت اس کے ہاتھ میں نہیں۔۔۔وہ اَن جان ہے کہ کام بتا دیا گیا ہے۔۔۔ لگن ڈال دی گئی ہے۔۔۔ لیکن وقت سے بےخبر وہ بھی ہے ہم بھی ہیں۔ ہم خوف کے مارے دور بھاگتے ہیں اور وہ جھجھک کے مارے پرّے رہتا ہے۔ یہ کھیل چلتا رہتا ہےتا وقت کہ وہ لمحہ آجاتا ہے جب سارے ڈر سارے خوف سامنے آجاتے ہیں۔۔۔ اور وہ اپنا اصل چہرہ دکھا ہی دیتا ہے۔۔۔ اور پھر امتحان صرف ہمارا ہی ہے کہ کیسے؟ اُس کا سامنا ہو جو برسوں سے تعاقب میں تھا۔۔۔ کیا ہم اس قابل ہیں؟ کہ اعتماد سے اُس سے نگاہیں ملا سکیں۔ یہ کہنے کی بات نہیں برتنے کی بات ہے اور وقت ہی اس کا فیصلہ کرتا ہے۔۔کوئی ڈگری کوئی تجربہ کام نہیں آتا۔
اللہ ہمیں ہر امتحان میں سُرخرو کرے اور ہمارے لیے ہر جگہ آسانی ہو کہ ہم بہت کمزور اورنادان ہیں۔جانے انجانے میں کیا کچھ کہہ جاتے ہیں۔۔۔کیا کچھ کر جاتے ہیں۔۔۔ہم تقدیرکے چکرمیں بندھے ہیں لیکن ہم صرف ایک کام کر سکتے ہیں کہ اپنی نیت خالص رکھیں اور اپنے رب کو ہمیشہ اپنے ساتھ اپنے سامنے محسوس کریں پھر
" تنگی میں بھی آسانی ہو گی اور آسانی میں بھی راحت ملے گی" ( سورۂ الانشرح 94 )
یہ رُکنے کا مقام ہے۔۔۔غور کرنے کی بات ہے کہ آسانیاں بھی ہمیں خوشی نہیں دیتیں۔۔۔ ہمیں دروازے کُھلے ملتے ہیں۔۔۔ ہم بس گُزر جاتے ہیں بغیر کسی تشکّر کے۔۔۔ اپنا حق جان کر۔۔۔ نئے دروازوں۔۔۔ نئی آسانیوں کی راہ پر۔۔۔ خوشی پیچھے رہ جاتی ہے اور ہم آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یوں سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اگر ہم ذرا رُک کر اپنی نعمت اپنی آسانی کو محسوس ہی کر لیں تو اس خوشی کی لذّت میں آگے کاسفر بہت آسان ہو جائے گا۔۔۔ اور دروازے خود بخود کُھلتے رہیں گے۔
" راز کی بات "
"کسی سے بھی پہلی بارملتے وقت آنکھ میں خوف نہیں۔۔۔دل میں گھبراہٹ نہیں۔۔۔ سوچ میں حسرت نہیں۔۔۔خیال میں نا اُمیدی نہیں صرف خوشی ہونی چاہیے۔اِسی طرح ہم اُس کی محبت کا حق ادا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں ۔ اللہ ہر خیال ہر سوچ میں ہمارے ساتھ ہے تو پھرڈرکس بات کا"

3 تبصرے :

  1. Buhat khoob Aap ne aik Atal haqeeqat ko buhat khoobsorti se byan kia...yeh aik aisi haqeeqat ha k ham jantey bojtey bhi hamesha is se aankhien churatei hain.kabhi khatir mein nahin latey..jab tak k sar pe nahin aa puhnchti..
    Allah ki aalamgeriat or bando k sath us taulaq ko jis khoobsorti se byan kia ha aap ne ..kia kahne buhat khoob..
    Baki thk kaha Aap ne pata nahin kis munh se us zat ka samna karen ge...Hal to hmara yeh ha k....Mere apne khyalat k mutabiq..
    اےمسلماں! اس قدر پستی میں خود کو لا پھینکا
    کہ سجدوں میں بھی کدورت نہیں نکلی دل سے
    (ارسلان)

    جواب دیںحذف کریں
  2. بے شک جو اپنے رب کو اپنے ساتھ محسوس کرتے ہیں۔انہیں ہر طرح سے راحت نصیب ہوتی ہے۔ اللہ کی محبت پانے والے اللہ کی محبت میں رہنے والوں سے مل کر کبھی بھی گھبراہٹ اور خوف محسوس نہیں کرتے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. https://www.facebook.com/muftiadnankakakhail/videos/701439829898772/

    جواب دیںحذف کریں