صفحہِ اول

اتوار, جنوری 27, 2013

" کرنیں (1) "

"خاص وعام"

عام سے لوگ بھی خاص ہو سکتے ہیں خاص بننے کے لیے خاص ہونا شرط نہیں۔خاص وہ ہے جو عام ہو کر بھی خاص لگے۔جو خاص دکھتے ہیں وہ خاص نہیں ہوتے۔صرف نظر چاہیے خاص کی پہچان کے لیے اور یہ نظر عام نہیں ہوتی۔خاص کی پہچان بھی خاص ہی جانتا ہے ورنہ عام نظر میں خاص عام ہی دکھتا ہے۔خاص کی چاہ صرف خاص ہی کر سکتا ہے۔ہرانسان ہرایک کے لیے خاص نہیں ہوتا۔خاص وعام کی اِن بھول بھلیوں میں اپنا آپ تلاش کرتےکبھی بہت خاص بھی پل میں نگاہ سے اوجھل ہوجاتے ہیں تو کبھی بہت عام اپنا آپ منوانے کی سعی میں اُس مقام کو چھو جاتے ہیں جہاں کوئی خاص ہی پہنچ پاتا ہے۔
۔۔۔
:: ہر شخص اپنے اندر یہ خدائی چاہتا ہے کہ اُس کا اور صرف اُس کا طواف کیا جائے۔

::کچھ لوگ گھر کی طرح ہوتے ہیں دل بے اختیار اُن کی طرف سمٹنے کو بےچین رہتا ہے۔
::ہر جنس بے مول ہے یہ احساس ہے جو اُسے انمول بناتا ہے۔
 :: ایک لمحے کی دوستی پہلی نظر کا پیار کبھی تو چلتی ٹرین کے منظر کی طرح ہوتا ہے اچھا تو لگا پر گزر گیا اور کبھی تصویر کے کلک کی طرح یادوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ رہ گیا۔
:: ہم خوش فہمیوں کی جنت  میں رہتے ہیں اور غلط فہمی کے دوزخ میں زندگی گزار دیتے ہیں ۔
:: سہارا ضرورت بن جائے تو انسان ڈس ایبل ہو جاتا ہے
:: جان کسی چیز میں نہ ڈالو ور نہ جان نہیں نکلے گی ۔
:: جسے بےخبری کی زندگی عطا نہیں ہوئی اُسے بےخبری کی موت کیونکر آ سکتی ہے۔
::خواہش کو کبھی چاہت نہ بنانا کہ خواہش مل جاتی ہے اور چاہت رہ جاتی ہے.
:: جو اپنی حد نہیں جانتا وہ دوسرے کی حدود کیا پہچانے گا۔نشان منزل۔۔۔ انہی کا نصیب ہے جو اپنی حد پہچانتے ہوئے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

 :: ہم ساری عمرجگہ کی تلاش میں رہتے ہیں حالانکہ جگہ تو ہمیں زندگی کے پہلے سانس سے آخری سانس کے بعد تک دُنیا میں مل ہی جاتی ہے ہماری ضرورت سپیس (کھلی فضا) ہے جسے ہم خود اپنے اندر تلاش کریں تو مل جائے گی ۔
:: انسان جتنی مرضی بلند پرواز کر لے جانا اس نے زمین کے اندر ہی ہے ۔
:: قربانی کے جانور کی قسمت میں قربان ہونا لکھا ہے ۔
::لاعلمی کا احساس علم کی راہ کی پہلی سیڑھی ہےتو خود ساختہ علمیت کا فخر وتکبر بےعلمی کی کھائی کو جاتی ڈھلوان ہے۔
::سردیوں کی دھوپ جسم کے کسی بھی حصے پر پڑے سکون دیتی ہے۔
 :: بہت سے زخم ایسے ہیں یا ایسی جگہ لگتے ہیں کہ انسان مسیحا کو دکھانے کی ہمت پیدا نہیں کر پاتا پھر بھی مسیحا کی تلاش میں در در بھٹکتے ہیں۔۔۔ نہیں جان پاتے کہ ایک مسیحا ہے جو ہمارے بغیربتائے بغیر ہی درد کا درماں ہے۔۔۔ ہمارے ذمے پہلا قدم رکھنا ہے اور بس۔
 :: ہم سب فالٹ لائن پر ہیں۔۔۔ ہمارے اندربھی کئی فالٹ لائنز ہیں۔ ہماری کوئی بھی فالٹ لائن کسی وقت سب تہس نہس کرسکتی ہے۔ اگر ہم اپنے اندر کی فالٹ لائن کو تقدیرکی فالٹ لائن پر آنے سے کسی طور بچانے کی کوشش کر لیں تو شاید وقت ہمیں سکون کی کچھ ساعتیں بخش دے۔
::  ہمیں اپنے اثاثے ہر وقت ساتھ رکھنے چاہیں اب یہ ہم پرہے کہ کہاں تک ان کو ساتھ رکھ سکتے ہیں۔ جب سفر پرنکلو تو اثاثے لے کر سفرکرو،نہ جانے کس مقام پرکس چیز کی ضرورت پڑجائے، اپنی قیمتی چیزیں گاڑی میں نہیں گھر میں نہیں دل میں محفوظ کر لو۔ہاتھ میں جتنا سنبھال سکتے ہو سنبھال لو۔۔۔ کہ گھر سے نکل آئے تو واپسی کا رستہ نہ جانے کب ملے اور گاڑیاں تو چوری ہو جاتی ہیں۔ دل وہ بنک ہے جس کا لاکر صرف تمہاری ذات ہی کھول سکتی ہے۔اپنے دست وبازو پر بھروسہ رکھو اور ان کی حدود جان لو۔
:: اپنے نظریات ،اپنی نیت میں صاف وشفاف رہ کر ہی  ہم دُنیا کے بدبودار جوہڑ میں تازہ ہوا کو محسوس کر سکتےہیں چاہے وہ دُنیا کی نظر میں کتنے ہی آلودہ کیوں نہ ہوں - جس کو بدبو کا احساس ہو گا اُسے ہی تو بدبو آئے گی اور جو اپنے آپ کو پاکیزہ جان کر بدبو کا شور مچائے گا اُسے دُنیا کی ہر شے میں بدبو کا احساس ہو گا سوائے اپنی ذات کے۔

٭ماں گلاب کے پھول کی مانند ہے۔ ان ہاتھوں کو بھی مہکا دیتا ہے جو اسے مسلتے ہیں۔

::ماں کے بغیر گھر قبرستان  ہےاوردھرتی ماں کے بغیر گھر بن توجاتےہیں پرپانی پر بنے ڈانواں ڈول یا پھرفلک بوس سکائی سکریپرزمٹی کے لمس سے ناآشنا۔
 ہر لمحہ ملنے والے اسباقِ زندگی سمندروں کی طرح لامحدود وسعت رکھتے ہیں۔۔۔ظاہری آنکھ سے دیکھنے میں شیریں تو برتنے میں کھارے۔
جتنا بڑا کام ہو گا اُتنا ہی بڑا سبق ملے گا۔ 
۔۔۔ 
زندگی کے کشکول میں کھوٹے سکے بھی نصیب سے ملتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
 زندگی ایک نیلام گھر ہے۔۔۔ جس میں ہمیں قدم قدم پر سوالوں  کےجوابات دینے پڑتے ہیں۔۔۔ دُرست جواب پرانعام ملتے ہیں۔۔۔ غلط جواب سے ہمارے پوائنٹس منفی ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کےایک وقت آتا ہے کہ غلطی کی گُنجائش ختم ہوجاتی ہے۔اِسی وقت ہماری فہم وفراست کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ ہرقدم پھونک پھونک کررکھنا پڑتاہے۔۔اللہ ہرامتحان میں سُرخروکرے اورکچھ نہیں چاہیے۔
۔۔۔
 زندگی کی حقیقت ایک ایسےسیف میں بند ہے جسے کھولنے کے نمبرہم ساری زندگی گھماتے ہی رہتے ہیں لیکن درست 
ہندسے قسمت والوں سے ہی لگتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
دنیاوی کامیابی ۔۔۔ وقتی کامیابی ہے اور اس کا حصول صرف وقت کی نبض تھام کر فیصلے کرنا ہے۔ آخروی کامیابی کا معیار یقیناً دوسرا ہے۔
۔۔۔۔۔
 کائنات کا سب سے بڑا سچ انسان کا اشرف المخلوقات ہونا ہے اور انسان کا سب سے بڑا شرف اپنے اس اعزاز کو پہچاننا ہے۔
۔۔۔۔۔
خاموشی میں عافیت ہے۔
۔۔۔۔۔
 قناعت جو مل جائے اس پر راضی ہونے سے نہیں ۔ جب تک کہ جو نہیں ملا اُس پر راضی نہ ہوا جائے۔
۔۔۔۔۔
 مانگتے رہنے سے ہمیشہ نہیں ملتا ، چپ چاپ بیٹھ جاؤ لیکن مطمئن ہو کر تو جھولی خود بخود بھر جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔
 سمجھنا اور بات ہے اختیار ہونا الگ بات۔ کبھی ہم سب سمجھتے ہیں لیکن عمل کا اختیار نہیں ہوتا۔۔۔اور کبھی اختیار رکھتے ہوئے بھی ہم کچھ سمجھ نہیں پاتے ۔
۔۔۔۔۔
 کسی تعلق سے اگر ہم کچھ حاصل نہ کر سکیں اُس کو رکھنا بےکار ہے۔ جب تک انسان اپنی محبتوں اپنی نفرتوں سے نہیں سیکھتا وہ کسی کو بھی مطمئن نہیں کر سکتا۔
۔۔۔۔۔
کبھی چاہ کی طلب ہوتی ہے اور کبھی طلب چاہ بن جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔
بھوک مٹ جائے تو طلب بڑھ جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔
ہم بے خبر لوگ ہیں نہیں جانتے کہ ایک عارضی دور سے گزر رہے ہیں
۔۔۔۔۔
ہر مرض کی دوا ہے۔ شرط صرف ایک کہ اس سے نجات کی خواہش بھی ہو۔
۔۔۔
جو شے جہاں ہے ہی نہیں وہاں اسے کھوجنا لاحاصل ہے ۔
۔۔۔۔۔
 خوشی نظر کے لمس سے رنگ کی پہچان سے نہیں بلکہ ذات کے یقین سے رنگ کی پرکھ کا نام ہے۔
۔۔۔۔
مایوسی خالی ہاتھ ہونے کا احساس ہی نہیں۔ خالی ہاتھ جانے کی چبھن کا نام ہے۔
۔۔۔۔

2 تبصرے :