بدھ, جنوری 09, 2013

" ادھوری بات "

                              تمہاری آنکھ اگر اب بھی نہ کہہ پاتی
                             میری آنکھ کاآنسو جو تم کو نہ چُھو پاتا
پھر محبت خواب ہی رہتی، سراب ہی رہتی
جذبوں کی یورش سے آزاد ہی رہتی
ایک گُم گُشتہ یاد ہی رہتی
ادھوری بات ہی رہتی
نا آسودہ رات ہی رہتی
لیکن
چاہت کی  خوشبو کبھی کم نہ ہوتی
کوئے یار کی آرزو کبھی کم نہ ہوتی
لذّت ِدید  گر سوال بن جاتی
                          آنکھ کی آبرو کبھی کم نہ ہوتی
کہانی جو بھی لکھتا ہے
وہ انجام پہلے لکھتا ہے
ہماری اپنی کہانی ہے
ہماری اپنی زبانی ہے 
         جو چاہو لکھ بیٹھو
جو چاہو کر بیٹھو
مگر یہ یاد رکھنا
دریا کے دو کنارے
کہیں نہ کہیں مل ہی جاتے ہیں
کہ پانی ایک ہی ہوتا  ہے
دریا ایک ہی بہتا ہے 
پیاسا جو بھی ہوتا ہے
وہ خالی نہیں جاتا
سوالی گر بن جاؤ
داتا دے ہی دیتا ہے
پُل اگر بن جاؤ 
کوئی پار اُتر ہی جاتا ہے

1 تبصرہ:

" ووٹ کس کو دیں "

پانچ سال ایک شاندارجمہوریت کے مزے لُوٹنے کے بعد بالاآخر وہ دن آ ہی گیا جب ہمارے سر پر سہرا سجنے والا ہے وہ کمی کمین جونام نہاد جمہوریت ک...