جمعہ, جنوری 18, 2013

" ہم وہ ہرگز نہیں جو نظر آتے ہیں "

انسان اپنے اندرلامتناہی وسعتیں رکھتا ہے،اس کو جاننےکے لیے کسی قسم کے مشکل اسباق پڑھنے کی ضرورت نہیں صرف اپنے اوپرایک نظر ڈال لیں تو حیرت کے درکُھلتے چلے جائیں گے۔زندگی کا پہیہ جیسے جیسے سِرکتا ہے ہرموڑ پر ہماری شخصیت کا ایک نیا منظر دکھائی دیتا ہے اور ہر منظر اتنا جان دار اورمکمل ہوتا ہے کہ یوں لگتا ہے یہی اصل حقیقت ہے۔
زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے۔ وقت کے ساتھ ہماری جہت بدلتی ہے، ہماری روح ایک قالب سے دوسرے میں ڈھلتی ہے اور ہمارا جسم حیران وپریشان  اس کا ساتھ دینے کی سعی کرتا جاتا ہے۔ روح کی کرشمہ سازیاں اسے افسردہ تو کبھی مطمئن کردیتی   ہیں۔ یہی زندگی کا حسن،اصل کمائی اور یہی بقا کا راز بھی ہے۔ جب سانپ جیسی مخلوق جسم کی سلامتی کے لیے ایک نئے لبادے کی تلاش میں ہے تو انسان جو اشرف المخلوقات ہے اس کی تو خوراک ہی اس کی تلاش میں پنہاں ہے۔کائنات کی ہر شے کا رنگ ایک انسان کے اندر موجود ہے۔۔۔۔
وہ پارے کی طرح بےقرار ہے تو پتھر کی طرح جامد بھی ۔۔۔
کہیں پھول ہے تو کہیں خوشبو۔۔۔
کہیں  محبوب ہے تو کہیں عاشق۔۔۔
کہیں دنیا کی حسین ترین شبہیہ ہے تو کہیں پاؤں کی گرد سے بھی زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔۔۔
کہیں اس کی آواز کانوں میں رس گھولتی ہے تو کہیں  آواز  اپنے کان بھی سُن نہیں پاتے۔۔۔
کہیں مسیحا ہے تو کہیں قاتل ۔۔۔
کہیں ساقی ہے تو کہیں خمار۔۔۔
کہیں خود منتظر ہے تو کہیں صدیوں سے کوئی اس کی تلاش میں ہے۔۔۔
کہیں سرِراہ ہے تو کہیں والیءتخت ۔۔۔
کہیں آسودہ ہے تو کہیں ناآسودگی کی تپش اسے کُمہلا رہی ہے۔۔۔
کہیں پاس ہے تو کہیں دُور۔۔۔
کبھی کچے گھڑے پر دُنیا فتح کرنے نکلتا ہے تو کہیں اپنی ذات کی بولی لگاتا ہے اور کوڑیوں کے مول بھی خریدار نہیں ملتا۔۔۔
کبھی اپنے آنسوؤں میں یوں ڈوب جاتا ہے کہ نام ونشان تک باقی نہیں بچتا اور اگلے ہی پل دریا ایسے خشک کہ محبتوں کی جھڑی بھی اس میں شگاف نہیں ڈال سکتی۔۔۔
ایک تلاش ہے جو ختم ہونے میں نہیں آرہی۔۔۔ ایک سفر ہے جو جُہدِمسلسل سے عبارت ہے۔۔۔ ایک خلش ہے جو جان کا روگ ہے۔۔۔ ایک پھانس ہے جو کسی کروٹ چین سے بیٹھنے نہیں دیتی ۔
 اہم  یہ ہے کہ سب زندگی کا کھیل ہے زندگی کے رنگ ہیں۔زندگی کی چاہت ہے تو اپنے ہررنگ کو اپنے اندرسمو لو۔
یاد رکھو ان رنگوں کی  قوسِ قزح بن گئی تووہ تمہیں ایک الوہی رنگ کی جانب ضرور لے جائےگی۔اور!!!قوسِ قزح صرف آسمانوں کی ہمسفر ہوتی ہے۔بکھرے رنگ زمین پر بنی ایک تجریدی تصویر سے زیادہ وقعت نہیں رکھتےجو دل پذیرتو دِکھتی ہے پربنانے والے سےزیادہ دیکھنے والے کے حُسن ِذوق کی مرہون ِمنت ہواکرتی ہے۔

5 تبصرے:

  1. بہت اچھا لکھتے ہیں آپ کئی مضامین پڑھے میں نے اور ہر بار ہی بہت خاص انداز لگا لکھنے کا ۔ بہت عمدہ واہ۔۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. Buhat umdaa itni pyari post ha k mere pas woh alfaz nahin k main tareef krs akoon...Superb effort...Yaqeen karen shuru se la kar end tak aisi mahwiat or jazbiat se parha ha in alfaz ko...k aik sehr tari ho gia dil-o-dimag par....
    Khoob kaha aap ne insaan k andar lamahdood khobian hotin hain bus inki pahchan zarori hoti ha..lakin mere khyal mein koi insaan bhi khud ko ni jan sakta apni khoobion se sahi maano mein waqif nahin ho sakta jab tak use aik mukhlis rafaq-e-safr na mil jae ...jo qadam qadam pe uski dharas bandhae...Larrna sikhaye masael se maseebtoon se...
    or aisa humsafr to kismat walo ko he milta ha...

    Baki khoob kaha zindgi aik buhat khoobsoorat chez ha......Hamen chotey chotey masael ki wajha se iski khoobsorti ko nazr andaz nahin kar dana chahiye..Balke ise parakhna chahiye khojna chahiye...Kiun k khoobsorti dakhne wale ki aankh mein hoti ha ha...
    Koi chez aik he tim pe buri or achi kase ho sakti ha...ye to dakhne wale par ha parakhne wale par ha k kis tarha parakhta ha....

    جواب دیںحذف کریں
  3. mashallah ap k paas elfaazoon ka aak sumandr hy jis man mukhtalif qisaam k motee hoty hen.....
    very nice

    جواب دیںحذف کریں

"ہم سے پہلے"

۔"ہم سے پہلے"۔۔۔کالم جاویدچودھری۔۔۔جمعرات‬‮ 72 جولائی‬‮  بھارت کے کسی صحافی نے اٹل بہاری واجپائی سے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں ...