صفحہِ اول

سوموار, فروری 04, 2013

"خواہش کا کاسہ"

انسان اپنی خواہشات کو حاصل کرسکتا ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی خواہشیں جو بعض اوقات حسرت بن جاتی ہیں۔۔۔ جن پر  صبر کا لبادہ چڑھا دیا جاتا ہے تو کبھی اللہ کی رضا،رب کی حکمت کہہ کر اپنے آپ کو تسلّی دے دی جاتی ہے۔یہ سوچا جاتا ہے ہماری تو اتنی اوقات ہی نہیں کہ من چاہا مل سکتا۔۔۔کبھی یہ خیال آتا ہے شاید یہ چیز ہمارے حق میں بہتر نہیں تھی۔
انسان اپنےآپ کو لعن طعن کر کے  بھی بہلا لیتا ہےکہ یہ شیطانی خیال اوروسوسےہیں،اللہ کی ناشکری ہے،ہمیں اُس نےبےپناہ نعمتوں سے نوازا ہے۔۔۔ساری عمرشُکر گُزاری کے سجدے کرتےرہیں پھربھی اپنے رب کا حق ادا نہیں کرسکتے۔غرض کہ مایوسی کےاحساس کےساتھ ساری زندگی اپنی عقل کے سہارے اپنےآپ کو قائل کرتےگزر جاتی ہے۔ہمیں یہ تسلی بھی ہوتی ہے کہ اللہ سب جانتا ہے۔۔۔ وہ آخرت میں اس کا اجر عطا کرے گا۔۔۔جس چیز سےمحروم رہے۔۔۔ جس کواللہ کی رضا کے لیے ترک کیا وہ ہمیں ابدی زندگی میں ضرور ملے گی۔ اس گورکھ دھندے کو ایک نئے زاویے سے دیکھا کہ ساری عمر ہم اس اہم سوال کا غلط جواب تحریر کرتے رہتے ہیں۔
اللہ کے بارے میں ہم جو جانتے ہیں اس کو اپنی ذات پر اپلائی نہیں کرتے۔اللہ سے مدد مانگو تو وہ ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا میں جس چیز کی بھی خواہش کرو۔۔۔جو بھی خیال ذہن میں آئے۔۔۔اُس کو آنے دو، اپنی علمیّت یا قابلیّت سے تجزیہ نہ کرو۔
یہ جیسے سمندر کی لہریں ہیں۔۔۔ان کو ہم روک نہیں سکتے،بند نہیں بنا سکتے۔یہ آنے جانے کے لیے ہوتی ہیں۔اپنے آپ کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائےتو ان میں جو نایاب موتی ہیں وہ ضرور ملیں گے۔ اگر ان سے ڈر کر دور بھاگیں تو یہ ہمارا پیچھا کرتی رہیں گی۔
اللہ تو وہ ہے جو انسان کی  ادنیٰ سے ادنیٰ خواہش بھی پوری کرتا ہے۔ ہم نادان ہیں کہ ہمیں اپنے ادنیٰ اور اعلیٰ کا فرق ہی معلوم نہیں-اللہ نے کائنات انسان کے لیے پیدا کی ہے تو اس کی خواہشات بھی اس کی غلام ہیں لیکن ہم اپنی خواہشوں کے غلام بن گئے ہیں۔ ہماری آنکھ آگہی کے اس لمحے کُھلتی ہے جب خواہش ہماری دسترس میں ہوتی ہے۔ ہماری وہ آرزوئیں جو ہم بہت سوچ سمجھ کریا بےسوچے سمجھے بڑے ارمانوں سے پروان چڑھاتے ہیں، جب ان کا پھل چکھتےہیں تو بہت ہی کڑوا ہوتا ہے پھر ہمارے پاس ندامت اورتاسّف کےسوا کچھ باقی نہیں بچتا-
"خواہشوں کو بکھرے ہوئے کاغذ پر ہی رہنا چاہیے تا کہ جب دل چاہے اُن میں ردّوبدل کر سکیں۔اُن کو سمیٹ کر کبھی بھی ایک کتاب کی شکل نہیں دینا چاہیے۔۔۔مبادا ایک بوجھ کی طرح ساری زندگی ساتھ رکھنا پڑتا ہے۔اور کسی بھی قسم کی کانٹ چھانٹ اُسےکمزور اور بدہئیت بنا دیتی ہے"۔

 جناب اشفاق احمد فرماتے تھے کہ" خوش قسمتی طلب کے واسطے سے پیدا ہوتی ہے۔طلب نہ ہو تو خوش قسمتی خود گھر نہیں آتی"۔اس بات کو آگے بڑھایا جائے تو خوش قسمتی بد قسمتی میں اس وقت بدلتی ہےجب ہم اپنی طلب کوسمجھنے سے قاصر رہتے ہیں اور اس سے بھی بڑی محرومی یا مایوسی وہ ہے جب ہم منگتے کے آگےدست طلب دراز کر دیتے ہیں۔
ہم بارہا پڑھتے،سمجھتے اوراکثر لکھتے بھی ہیں کہ ہم بھکاری ہیں ،رب کی چوکھٹ پر دُعائیں مانگتے ہوئے منگتے ہیں۔ذرا غور کریں کہ جو منگتا ہو  اُس کی خواہشات کا کاسہ کسی دوسرے منگتے کے دستِ قدرت سے  کیسے بھر سکتا ہے۔ جب سب ایک ہی قطار میں کھڑے ہیں  تو پھر کسی سے کیا طلب کرنا۔ ہم قطار سے نکلنا بھی نہیں چاہتے اور نہ ہی نکل سکتے ہیں لیکن پھر بھی کاسہ بھر جانے کی طلب رکھتے ہیں۔ یہ راز و نیاز کی باتیں ہیں جو داتا اور گدا ہی جانتا ہے اورکون داتا ہے کون گدا، یہ مالک کا کرم ہے جس پر آشکار کر دے۔ بس یہ یاد رہے ہم سب گدا ہیں اپنے رب کے حضورسب منگتے ہیں ۔ مانگتے جاؤ اور بانٹتے جاؤ کہ جھولی خالی ہوگی تو پھیلائی جا سکے گی۔ اپنے مالک کی عطا کو کسی ناعاقبت اندیش کی طرح گھٹڑی میں چُھپا کر نہ رکھو۔دے دو، پہنچا دو۔ پھر دیکھوکہ دینے والا کہاں کہاں کس انداز سے کیا کیا دیتا ہے۔
 آخری بات
"خبردار"۔۔۔دُنیا میں خالی ہاتھ آئے توخالی ہاتھ ہی جانا۔ کبھی اپنی حسرت کوئی خواہش لے کرنہ جانا۔ یہاں سے جو حاصل کیا اُسے یہیں چھوڑجاؤ۔اللہ کا ساتھ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ یہ احساس گر بیدار ہوجائے تویہی کافی ہے۔ انسان کا دل بُہت وسیع ہے۔۔۔ اس میں پُوری دُنیا کی چاہت سمو دی جائے تو جگہ پھر بھی بچ جاتی ہے۔ لیکن اگراللہ کی چاہت ہے تو پھر کسی اور چیز کی جگہ کہاں۔ جو مانگنا ہے اللہ سے مانگو مگراپنی چاہت کو اللہ کے نام پر کبھی قربان نہ کرنا۔
اللہ سے کہو!اے میرے رب یہ میری چاہت ہے مجھے بتا دے۔۔۔مجھے عطا کر۔۔۔اس کی اصل حقیقت سے آگاہ کر۔۔۔وہ دے جو میرے حق میں بہتر ہو۔اللہ سے یہ کبھی نہ کہنا تِری چاہت کی خاطر اپنی چاہت مِٹا دی۔۔۔ اپنا آپ فنا کر دیا۔۔۔ اپنے نفس کی قُربانی دی ۔ یاد رکھو اللہ کو اس قُربانی کی ضرورت نہیں۔ اللہ کے ساتھ کاروبار نہ کرنا کہ دُنیا کے بازارمیں اپنی خواہشوں اورآرزوؤں کو نیلام کردیا جائے اور بڑے فخر سے بہترقیمت ملنے کی خاطر آخرت کا انتظار کیا جائے۔ گھاٹے کے سودے سے لرزہ براندام رہو کہ جب اپنی ساری کمائی معبودِحقیقی کےحضور رکھی جائے گی تو اس کے بدلےمالک کیا عطا کرے۔اس مُشقت کا کیا صلہ ملے۔ جب یہ چاہت بھی اللہ کی عطا ہے،یہ دربدری بھی مالک کا فضل ہے،یہ بےقراری بھی اُسی کی دی ہوئی ہے تو پھر جھگڑا کس بات کا۔اُسی کی چیزہے اس سے ہی سنبھالنےکا حوصلہ مانگو۔۔۔اُس کو برتنے کا قرینہ سیکھو۔اللہ نے مُکمل پیدا کیا ہے تو مُکمل ہی جانا۔۔۔"کسی معذوری کے ساتھ نہ جانا"۔
" ہمیں اپنی چاہت کو اللہ کی چاہت کے سامنے جھکانا ہے۔اس کے بعد ہمیں جو بھی  ملے گا وہ ہماری چاہت سے بڑھ کر  ہمارے حق میں  بہتر ہو گا"۔

1 تبصرہ :

  1. " ہمیں اپنی چاہت کو اللہ کی چاہت کے سامنے جھکانا ہے۔ اس کے بعد ہمیں جو بھی ملے گا وہ ہماری چاہت سے بڑھ کر ہمارے حق میں بہتر ہو گا"

    اللہ اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنےوالا ہے مگر بندہ خواہشوں کی اندھی تقلید کی وجہ سے سچ تک پہنچنے سے قاصر رہتا ہے۔

    کس بات کی ہے تسکین طمع زندگی
    ہر رات تو بجھتی ہے شمع زندگی
    بڑھتی متاع دنیا کس کام کی
    ہر پل گھٹتی ہے اجمع زندگی


    جواب دیںحذف کریں