صفحہِ اول

جمعہ, فروری 22, 2013

" خواب اور زندگی "

"زندگی خواب کہانی ہے اور خواب زندگی کہانی "
ہم زندگی بھر خواب دیکھتے رہتے ہیں یہ تو کہیں بعد میں پتہ چلتا ہے کہ زندگی خود ایک خواب تھی اور یوں گزر گئی جیسے ایک خواب۔
 خواب وہی دیکھنے چاہیں جن کی تعبیر پر اختیار ہوکہ خوابوں پر ہی تو اختیار ہے،زندگی پر کہاں۔
خواب دیکھنے کی عمر نہیں ہوتی لیکن ہر خواب کا ایک وقت ضرور ہوتا ہے۔آگہی کے سورج کی نرم روپہلی کرنیں حقیقت
 اور  خواب کا فرق پل میں واضح کر دیتی ہیں۔ لیکن کچھ ذہنوں کے خواب وقت کی جھلساتی دھوپ میں پگھلتے ہیں تو پھر ہی ان  پر حقیقت آشکار ہوتی ہے۔ زندگی خواب کی آغوش میں منہ چھپا کر نہیں بلکہ حقیقت کے سامنے سجدہ ریز ہو کر گزرتی ہے چاہے ان سجدوں میں ہمارے خوابوں کی کرچیاں روح زخمی کردیں۔لیکن پھر بھی ہم خواب دیکھتے ہیں کبھی کھلی آنکھ سے تو کبھی بنا کسی خلش یا کوشش کے بند آنکھ میں روشن خواب اترتے ہیں۔اللہ ہمیں ہمارے خوابوں کی حقیقت بتاتا رہتا ہے ہم اگر سنی ان سنی کر دیں تو اور بات ہے۔
خواب وہی قابلِ ِاعتبار ہوتے ہیں جو اپنی آنکھوں سے دیکھے جائیں۔ سنےسنائے خواب اور اُن کی تعبیریں اکثراوقات چودہ طبق روشن بھی کر دیتی ہیں ۔
خواب کی حد کہاں ختم ہوتی ہے اور حقیقت کب شروع ہوتی ہے یہ بھی ایک خواب ہی ہے۔
 وہ بےخوابی کی کیفیت بھی عجیب ہے جس میں لفظ سچے خواب کی تعبیر کی صورت سامنے آتے جا ئیں۔
جو آنکھیں خواب کی عادی ہو جائیں انہیں حقیقت بھی خواب لگتی ہے۔
خواب ہمیشہ خواب ہی رہتا ہے فرق یہ ہے کہ کچے ذہنوں پر یہ لوح ِمحفوظ کی صورت رقم ہو جاتا ہے اور بیدار اذہان پر زندگی کا ایک قیمتی سبق، ہمیشہ کا سرمایہ بن کر رُخصت ہوتا ہے۔
خواب بند آنکھوں میں اُترتے ہیں اور کھلی آنکھوں میں ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔
بند آنکھوں سے صرف خواب ہی دیکھے جا سکتے ہیں آنکھ کُھل جائے تو حقیقت پر یقین رکھنا فرض ہے۔
 جیت ہمیشہ اُن خوابوں کی ہوتی ہے جو ایک الارم کی صورت بند آنکھوں پر اُترتے ہیں۔
کھلی آنکھوں سےدیکھے جانے والے خواب نشے کی مانند ہوتے ہیں جو وقتی طور پر سب بھلا کر ایک خیالی دُنیا کی لذت کے
 حصار میں قید کر دیتے ہیں۔
جو خواب کھلی آنکھوں سے دیکھے جائیں آنکھیں ان کی لذت محسوس کر لیتی ہیں۔لیکن رہتے وہ خواب ہی ہیں حقیقت کچھ اور ہوتی ہے جو کبھی نہیں بدلتی۔
خواب نابینا کی سفید چھڑی کی طرح ہوتے ہیں جو زندگی کے اُلجھے راستوں پر چند قدم ہی سہی کسی سمت کی نشاندہی تو کر 
دیتے ہیں۔
 ہم سوتے میں خواب دیکھتے ہیں۔ کبھی خواب یاد رہ جاتے ہیں اور کبھی صرف یاد ہی رہ جاتا ہے کہ ہم نے کوئی خواب بھی دیکھا تھا۔
سچے خوابوں کی تعبیریں بھی سچی ہوتی ہیں۔
خواب سچے ہوتے ہیں تو کبھی اُن کی تعبیر وہی ہوتی ہے جیساکہ نظر آتے ہیں کبھی بالکل اُلٹ ظاہرہوجاتی ہے۔
کبھی ہم خود تجزیہ کرتے ہیں توکبھی اُنہیں سمجھنے کے لیے کسی کی مدد درکار ہوتی ہے۔
تعبیر دنوں میں سامنے آتی ہے یاکبھی مہینوں اورسالوں میں۔
کبھی ہم دوسروں کے حوالے سےبھی خواب دیکھتے ہیں۔
ہمیں خواب میں اشارے ملتے ہیں تومحتاط بھی ہوجاتے ہیں اور کبھی جان کر بھی انجان بنے رہتے ہیں۔
کبھی خواب میں اتنی خوشی ملتی ہے کہ آنکھ کھلنے پرعجیب سی فرحت محسوس ہوتی ہے اورکبھی خواب میں اتنی مشقت اتنی بھاگ دوڑ کرتے ہیں کہ آنکھ کھل جائے تو تھکن سے جسم ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔
کبھی خواب میں پیٹ بھر کر اتنا من پسند کھا لیا ہوتا ہے کہ اُٹھنے پر بھوک پیاس کا شائبہ نہیں ہوتا۔
الغرض خوابوں کی جتنی بھی توجیہات ہیں وہی ہماری"زندگی کہانی"  بھی ہے۔

خواب بند آنکھ کے کینوس پر  ماضی کی یادوں،حال کی سوچوں اور مستقبل کے اندیشوں سے اُبھرتی ہوئی ایک تجریدی تصویرکی مانند ہوتے ہیں۔ کوئی ماہرِفن ہی انہیں بہتر جان سکتاہے۔لیکن اپنےخواب کی پہچان ہی اصل فنکاری ہےجو حقیقت سے آگہی کے سفر میں معاون ثابت ہوتی ہے۔کُچھ سفر خواب سے شروع ہو کر ایک خواب کی صورت طے ہو تے ہیںاور کچھ سفر یقین کی پہلی منزل سے شُروع ہوکر ایک خواب کی تعبیر بن کر زندگی کو ایک نیا رنگ ،ایک نیا رُخ عطا کرتے ہیں۔اپنے خوابوں سے دوستی کر لیں ،اُن کو پہچان لیں توحقیقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سفر کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
"خواب زندگی کے ساتھ ہوتے ہیں اور زندگی سرکتی جاتی ہےحقیقت صرف اور صرف موت ہے۔۔۔اور یہی راز زندگی ہے"۔



2 تبصرے :

  1. خواب میں کتنے زمانے گزرے...خواب کے لحظے میں اک عمر گزاری میں نے.....زندگی جی لی ہے ساری میں نے

    جواب دیںحذف کریں