جمعہ, فروری 22, 2013

"چھتری "

چھتری ایک عورت کی ذات کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔اس کا بنیادی جزو اس کا دستہ ہوتا ہے اور اس کی تمام تر صلاحیت کا دار ومدار اُس کے دستے پر ہے - دستے سے چھتری کو کھولا جا سکتا ہے اور اُس کو گرفت میں لینے سے ہی چھتری کی افادیت سامنے آتی ہے۔اگر دستے کو عورت کے حقوق اُس کی خواہشات کے مماثل قرار دیا جائے تو چھتری کے شیڈ کا تعلق عورت کے فرائض اور اُس کی ذمہ داریوں سےہے۔ہر شے کو اس کے مقام پر عزت دی جائے تو پھر ہی اُس سے بھرپور اُٹھایا جاسکتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

"ایک زرداری سب پہ بھاری"

گو ہاتھ کو جُنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے رہنے دو ابھی ساغرومینا مِرے آگے آنکھوں دیکھی حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔8ستمب...