صفحہِ اول

سوموار, فروری 04, 2013

"نفس کہانی "


"نفس کہانی "
ہمارے راستے میں آنے والی ہر اِک چیز،ہر ایک تجربے میں ہماری اپنی ہی ذات کا ادراک پوشیدہ ہے۔
انسان ساری عمر نفس سے حالتِ جنگ میں رہتا ہے- نفس کو جھٹلانا ،اُس کے مخالف چلنا ،اُس کو مارنا ،یہ وہ اسباق ہیں جن کو سمجھنا اور عمل کرنا اُس کا مقصدِ حیات بن جاتا ہے۔رٹّا لگا کر یہ اسباق حفظ ہو جائیں تو اپنے تئیں اتھارٹی بن کر دوسروں کو ازبر کرانا اگلا قدم ہوتا ہے۔ایسے لوگ ہیں  زندگی کے امتحان کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔پرچہ حل کرتے وقت نہ صرف نفسِ مضمون بلکہ اُس کی خوبصورتی کا بھی دھیان رکھتے ہیں۔ پوری توجہ کے ساتھ اہم سوالات پڑھتے ہیں۔۔۔مقرّرہ وقت میں پرچہ حل کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔۔۔ایک ایک پل کا حساب رکھتے ہیں۔اللہ کے ہاں یقیناً اُن کا بڑا اجر ہو گا۔
اللہ سے ہمیشہ اچھا گمان رکھنا چاہیے۔
لیکن کیا کیا جائے کہ ایک اور قسم کے لوگ بھی ہیں جو پرچے میں آنے والے ہر سوال پر نظر ڈالنا چاہتے ہیں چاہے وہ اہم ہو یا غیر اہم - اُن کی نظر میں پرچہ بنانے والا اہم ہوتا ہے پرچہ نہیں - وہ سوچتے ہیں کہ پرچہ بنانے کا مقصد حل کرنے والے کا امتحان لینا ہے کہ اُس نے کتنی گہرائی میں جا کر مطالعہ کیا ہے۔
ہم لوگ بعض اوقات وہ بچے بن جاتے ہیں جو پرچہ آؤٹ آف کورس آنے کا شور مچاتے ہیں یہ نہیں دیکھتے کہ جو سوال بھی ہے وہ ہمارے نصاب میں کسی نہ کسی حد تک تو شامل ہے۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ انگریزی کے پرچے میں اُردو کا سوال آجائے یا حساب کے پرچے میں سائنس کا سوال۔ شور مچانے والے پرچہ  منسوخ کرانا چاہتے ہیں۔یہ جلدباز کند ذہن نہیں جانتے کہ ایک تو دوبارہ تیاری کرناپڑے گی دوسرا وقت اور پیسہ الگ ضائع ہو گا۔یہاں  وہ طالبِ علم بھی ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ اسی وقت پرچہ حل کر لیں جیسا بھی ہے جتنا بھی آتا ہے پاسنگ نمبر آجائیں کافی ہے کہ باقی پرچوں کی تیاری اچھے طریقے سے ہو سکے۔ ایسے لوگ قلیل تعداد میں ہوتے ہیں اور اکثریت کے سامنے اُن کی ایک نہیں چلتی ۔وہ اپنے حق کے لیے آواز بھی نہیں اُٹھا سکتے کہ پھرعالم فاضل اور نرالے ہونے کے طعنے سننا پڑتے ہیں ۔
یہ تمہید اس سوال کے بارے میں تھی جو کہ ایک ناپسندیدہ اور غیر اہم سوال ہے ،اس کا جواب صرف اور صرف اس کو کاٹ دینے میں ہی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس کو مسترد کرنے سے پورے نمبر مل جائیں گے تو بلا وجہ باریکیوں میں جا کر وقت ضائع کیا جائے۔ہم جان کر بھی نہیں جان پاتے کہ یہ تو ہمارے پرچے کا سب سے اہم سوال تھا،اس کو حل کرنا شروع کرتے تو خود بخود ہی دوسرے سوالوں کے جواب مل جاتے۔ پرچے میں یوں روانی آتی کہ سیاہی ختم ہو جاتی پر الفاظ ختم نہ ہوتے۔ اس سوال کے جواب کا سب سے بڑا'اشارہ' جب مل چکا ہے تو کسوٹی کھیلنے کے لیے ہمیں اور کیا درکار ہے سوائے اپنی عقل پر ماتم کرنے کے۔ 
" جس نے اپنے نفس کو پہچانا اُس نے اللہ کو پہچانا "
ہم ساری زندگی اپنے نفس سے خوف زدہ رہتے ہیں ۔ اپنے اندر اس خوف سے نہیں جھانکتے کہ نفس دِکھتا ہے جو ایسا بد بو دار جوہڑ نظر آتا ہے جس میں ہماری ذات ڈبکیاں کھا رہی ہوتی ہے۔ اُس کو ڈوبنے کے لیے تنہا بھی نہیں چھوڑنا چاہتے اور نکالنے کی سعی بھی نہیں کرتے کہ کسی کو پتہ نہ چل جائے۔ ہاتھ بڑھا کر اُس کی مدد کی کوشش بھی کریں تو بیش قیمت خوشبواور بناؤ سنگھار سے اپنی بدبو اور بد نمائی چھپاتے ہیں۔
"نفس سے فرار اس کی طلب میں مزید اضافہ کر دیتا ہے ۔ یقین نہ ہو تو کبھی ایک عورت کی آنکھ سے ان جبہ ودستار پہنے "اللہ والوں " کو دیکھیں ان کی نظر میں وہ کچھ ہوتا ہے جو کسی دنیا دار اور نفس سے جھگڑتے عام انسان میں بھی نہیں ملتا"۔
" نفس کیا ہے "
ہماری کہانی کا ایک کردار۔۔۔ ہماری کتاب ِزیست کا فقط ایک باب۔۔۔ جس کو پڑھنا،سمجھنا اوراُس پرعمل درآمد کرنا ہماری زندگی کا ایک حصہ (پوری زندگی نہیں) ہونا چاہیے۔
نفس بھی اللہ کی عطا ہے دوسری نعمتوں کی طرح۔اہم یہ ہے کہ ہم اپنی عقل کس طرح استعمال کرتے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے۔یہ کوئی عُذر نہیں کہ اللہ کے ہاں جا کر کہہ دیں " باری تعالٰی یہ سبق وہاں ناپسندیدہ تھا اس لیے اس پر کراس لگا دیا یا اس وقت اس کو جاننا وقت ضائع کرنا تھا ، اب سمجھایا جائے "۔ 
جب ہر چیزکھول کھول کر بیان کر دی گئی ہےکہ عمل کا وقت صرف اسی دنیا میں ہے، جس طرح چاہو کرو،جو چاہو آگے بھیجو۔ تو پھر صرف ہمارے غوروفکرکا فقدان ہے اور کچھ بھی نہیں ۔" ہمیں جو سبق جس وقت مل جائے اُسی وقت اُس کو سمجھا جائے، اور پرکھا جائے۔مہلتِ زندگی ختم ہونے سے پہلے ادھوری کہانیاں پڑھ لی جائیں تو اُن میں پوشیدہ جوابات خود ہی سامنے آجاتے ہیں۔"

3 تبصرے :

  1. " ہمیں جو سبق جس وقت مل جائے اُسی وقت اُس کو سمجھا جائے، اور پرکھا جائے۔
    مہلتِ زندگی ختم ہونے سے پہلے ادھوری کہانیاں پڑھ لی جائیں تو اُن میں پوشیدہ جوابات خود ہی سامنے آجاتے ہیں۔"
    -------------------------------------------------------
    بہت جاندار تحریر ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. لفظ اور سب سے بڑھ کر خیال محسوس کرنے کا بےحد شکریہ۔

      حذف کریں
  2. ایک روز میں نے قدرت للہ سے پوچھا “یہ جو الله والے لوگ ہوتے ہیں‘ یہ عورت سے کیوں گھبراتے ہیں۔”
    “زیادہ تر بزرگ تو عورتوں سے ملتے ہی نہیں۔ ان کے دربار میں عورتوں کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے.”
    “یہ تو ہے.” وہ بولے.
    “سرراہ چلتے ہوئے کوئی عورت نظر آجائے تو گھبرا کر سر جھکا لیتے ہیں. ان کی اس گھبراہٹ میں خوف کا عنصر نمایاں ہوتا ہے. وہ عورت سے کیوں ڈرتے ہیں؟”
    “شاید وہ اپنے آپ سے ڈرتے ہیں.” قدرت نے کہا۔
    “لیکن وہ تو اپنے آپ پر قابو پا چکے ہوتے ہیں‘ اپنی میں کو فنا کر چکے ہوتے ہیں.”
    “اپنے آپ پر جتنا زیادہ قابو پا لو اتنا ہی بے قابو ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے.”
    “آپ کا مطلب ہے شر کا عنصر کبھی پورے طور پر فنا نہیں ہوتا؟”
    “شر کا عنصر پورے طور پر فنا ہو جائے تو نیکی کا وجود ہی نہ رہے۔ چراغ کے جلنے کے لئے پس منظر میں اندھیرا ضروری ہے۔”
    “میں نہیں سمجھا. مجھے ان جملوں سے کتاب اور دانشوری کی بو آتی ہے۔”
    “انسان میں جوں جوں نیکی کی صلاحیت بڑھتی ہے توں توں ساتھ ساتھ شر کی ترغیب بڑھتی ہے. شر کی ترغیب نہ بڑھے تو نیکی کی صلاحیت بڑھ نہیں سکتی.”
    “سیدھی بات کیوں نہیں کرتے آپ۔”
    قدرت میری طرف دیکھنے لگے.
    “کہ تمام قوت کا منبع شر ہے. نیکی میں قوت کا عنصر نہیں۔ الله کے بندوں کا کام ٹرانسفارمر جیسا ہے. شر کی قوت کا رخ نیکی کی طرف موڑ دو .”
    اقتباس ممتاز مفتی کی کتاب “لبیک” کے صفحہ نمبر 285، 286

    جواب دیںحذف کریں