صفحہِ اول

اتوار, فروری 24, 2013

"محبت سوچ سمندر "

محبت ایسا صحرا ہے
 بارش برس بھی جائے
تشنگی کم نہیں ہوتی
 کہانی ختم نہیں ہوتی 
 زندگی ساتھ چلتی ہے
 روانی ساتھ بہتی ہے 
لامکانی روگ بن جائے
چاہت سوگ بن جائے
 ایسا ہو نہیں سکتا  
کہ محبت ایسا نغمہ ہے
فضاؤں میں جس کی گونج
 سدا کچھ یوں رہتی ہے
 سننا چاہو تو ہر منظر میں سُن لو 
بُھولنا چاہو تو ذات کے مندر میں بُن لو
   محبت ایک  سمندر ہے
کبھی خوشبو کبھی آنسو
 چاہ ہر رنگ میں
آنکھوں کے جزیروں پر اُترتی ہے  
اُسے پانے کے لیے
 خواہشوں کی کشتیاں جلانا پڑتی ہیں
 کہ اس سفر میں
واپسی کا کوئی کنارہ نہیں ہوتا
 پر کنارہ مل بھی جائے  
پلٹنے کا کبھی یارا نہیں ہوتا
 "وہ" ہمارا ہوتا  ہے 
کافی یہ سہارا ہوتا ہے

5 تبصرے :

  1. tu kia zaroori hai k aesy safr pe nikla jaye jahan se wapsi mumkin na ho

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. "چاہ ہر رنگ میں آنکھوں کے جزیروں پر اترتی ہے "
      اس لیے کس رنگ سے کتنا بچ سکتے ہیں یہ ہم پر ہے۔ ویسے یہ شاعری کا فلسفہ سمجھایا نہیں جا سکتا صرف محسوس کیا جا سکتا ہے

      حذف کریں
  2. بوہت خوب نورین صاحبہ اپ کی پوسٹ بوہت زبردست ہوتی ہیں

    جواب دیںحذف کریں