جمعرات, فروری 14, 2013

" محبوب اور خواب "

 محبوب کی حقیقت جاننا چاہتے ہوتوسنو۔ وہ ایک خواب ہے۔۔۔ سچّا خواب۔۔۔ جو لمس سے پرے اور سوچ کے قریب ہوتا ہے۔ جسم پر اُترتا ہےاور روح کو سرشار کردیتا ہے۔ جسم وجاں کی تِشنگی خُمارمیں بدل دیتا ہے۔ایک میٹھی سی کسک بن کررگ وپےمیں سما جاتا ہے۔آنکھ کُھل بھی جائے تو اُس کی لذت آنکھوں میں بسی ملتی ہے۔پرلاکھ اُس کو اپنے آس پاس ٹٹولو وہ کبھی نہیں ملتا۔اُس کا احساس ذہن میں لگی کئی گرہیں کھولتا جاتا ہے۔۔۔اُس کی خوشبو کا لمس بکھری زُلفوں کو دھیرے دھیرے یوں سنوارتا ہے کہ زندگی کا قرینہ بدل جاتا ہے۔
 دیکھنا چاہو تو آئینے میں اپنی صورت دیکھ لو جس پر تبسّم کی مہک تصویر کے رنگوں کی طرح سجی ملتی ہے۔۔۔ دیکھنے والے لاکھ کھوجیں پر کبھی نہیں جان پاتے کہ یہ نقش کس کا تخلیق کردہ ہے۔
 یہ صرف 'میں اور تو' کی کہانی ہے۔۔۔پھول اور خوشبو کا سفر ہے۔پھول نہ ہو تو خوشبو کہاں بسیرا کرے اور خوشبو نہ ہو تو پھول فقط رنگ اور وہ بھی بےجان بےقیمت۔
محبوب خواب کہانی ہے وہ خواب جو حقیقت سے دُور تو کرتا ہے پر حقیقت کے آئینے میں اصل چہرہ دِکھا دیتا ہے۔ہمارے وجود کی پرتوں میں سے ہمارا اپنا پن نکال کر سامنے رکھ دیتا ہے۔محبوب سچا ہو تو خواب بھی سچا۔۔۔عاشق سچا ہو تو خواب بھی انمول۔
 سچے خواب کبھی اپنا ساتھ نہیں چھوڑتے اُن کی تعبیریں سچی ہوتی ہیں۔بس یہ ہےکہ کبھی اُس انگ میں سامنے نہیں آتے جس میں ہماری آنکھوں میں اُترتے ہیں۔ اُن کو اپنا لو تو ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں۔ گرنے کے بعد سنبھلنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔زخم کا وہ مرہم بن جاتے ہیں جو درد کی شدّت میں مسکُرانے کا ہنر دیتا ہے۔نابینا کی بینائی تو نہیں بن سکتے پر اُس کی لاٹھی ضرور بن جاتے ہیں جو سدا ساتھ رہتی ہے۔
آخری بات !
"سچے خوابوں کو جتنا جلد پہچان لو اتنا جلد حقیقت کا سامنا کرنے کی اہلیت پیدا ہوجاتی ہے"

3 تبصرے:

  1. "سچے خواب کبھی اپنا ساتھ نہیں چھوڑتے اُن کی تعبیریں سچی ہوتی ہیں بس یہ ہےکہ کبھی اُس انگ میں سامنے نہیں آتے جس میں ہماری آنکھوں میں اُترتے ہیں اُن کو اپنا لو تو ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں،گرنے کے بعد سنبھلنے کا حوصلہ دیتے ہیں , زخم کا وہ مرہم بن جاتے ہیں جو درد کی شدّت میں مسکُرانے کا ہنر دیتا ہے ،نابینا کی بینائی تو نہیں بن سکتے پر اُس کی لاٹھی ضرور بن جاتے ہیں جو سدا ساتھ رہتی ہے-"
    واھ کیا خوبصورت بات ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. Farooq Hayat
    Dec 3, 2013
    You have gone too good in using similes. Nonetheless your old readers, while knowing your pensive dynamism, reach out to explore the real diamond out of coal mine. The beautiful narration of dream viz-a-vis reality took me to 80's when Nayyara Noor sung the blank verse (probably written by Akhtar Sherani) "Khuwaab Martay Nahin" for a PTV play.
    One thing which you probably skipped purposely, was "Desire".
    Dreams - Desire - Reality. The equation has been left incomplete, to let the readers ponder into and draw their own conclusions.
    It was a treat to go through.

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. U know my treat ,,,,,it is.... feeling your words ,U have tremendous ability to feel in between the lines, b blessed always

      حذف کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...