صفحہِ اول

سوموار, فروری 18, 2013

"محبت کہانی "


کہانی تم نے پوچھی ہے
 کہانی کیا سناؤں میں
 وہ جو خواب سی صورت
حقیقت بن کر نظروں میں جب اُتری
 پلٹنا بھول گیا میں
  دیکھنا بھول گیا میں
 اور
 چُھونا بھول گیا میں
 آنکھیں مِری خواب کی عادی تھیں
 خواب صرف پلکوں میں اُترتے ہیں
لبوں سے دُور ہی رہتے ہیں
 تم کو کیا بتاؤں میں
 تمہیں یاد تو ہو گا  
 تمہارا ہاتھ تھا ہاتھوں میں
 تمہارا ساتھ تھا باتوں میں
تمہیں کیسے  میں سمجھاؤں
 مِرے پاؤں کہاں پر تھے
  میں خود تو آسماں پر تھا
 کاش وقت تھم جاتا
 کاش وقت تھم جائے
 اچھا ہوا جو ہوا
 حقیقت کب خواب بن جائے
 خواب کب سراب بن جائے
  ہم نہیں جانتے
  پر نہیں مانتے
کہ آج اِک خواب سی صورت
حقیقت بن کر نظروں میں جو اُتری 



2 تبصرے :

  1. مِرے پاؤں کہاں پر تھے
    میں خود تو آسماں پر تھا

    واہ

    جواب دیںحذف کریں
  2. خواب صرف پلکوں میں اُترتے ہیں
    لبوں سے دُور ہی رہتے ہیں

    عمدہ

    جواب دیںحذف کریں