ہفتہ, فروری 16, 2013

"معرکہ "

"معرکہ "
تمہارا وہ خوش رنگ
روپہلا دوپٹہ
جس پر نایاب آبدار
نگینے جڑے ہیں
جسے تم نے بڑی حفاظت سے
سب سےنیچے رکھا تھا
اوپر قیمتی میچنگ اوڑھنیاں تھیں
ایک سے بڑھ کر ایک
جو دیکھتا اُن کے طلسّم میں کھو جاتا
دیدۂ بینا کے لیے اِک نگاہ کافی تھی
لیکن میں وہ ضدّی لڑکی
جو ہر بار اُس رنگ کو کھوجتی
پھر سوچتی شاید میں کلر بلائنڈ ہوں
دل ملامت کرتا
کہ یہ کچّا رنگ
صرف ناآسودگی کا نشان ہے
کمزوری کی علامت ہے
 مجھے یہاں کبھی  نہیں ملے گا
میں چُپکے سے اپنا مسلا دوپٹہ
آخری تہّوں میں رکھنے کی کوشش کرتی
سب بےسود ہوتا
نہ جانے کب اور کس طرح
میں نے تمہارا وہ دوپٹہ کھوج لیا
اب چاہے تُم اُسے کہیں بھی رکھ دو
میں اور تُم ہمیشہ
ایک ساتھ
اپنے اپنے مدار میں
محو ِرقص رہیں گے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

"یہ جنگل ہمیشہ اداس رہے گا"

یہ جنگل ہمیشہ اداس رہے گا- جاوید چوہدری ۔23 جنوری 2018 میری منو بھائی کے ساتھ پہلی ملاقات 1996ء میں ہوئی‘ میں نے تازہ تازہ کالم لکھنا ...