صفحہِ اول

جمعرات, فروری 21, 2013

" راز ِ زندگی "

" زندگی کچھ دو کچھ لو کا نام ہے "
خوشی چاہتے ہو،خوشی دے دو خوشی مل جائے گی ۔ 
سکون چاہتے ہو سکون دے دو سکون مل جائے گا۔
عزت چاہتے ہوعزت دے دوعزت مل جائے گی۔
سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب اِسی طرح سے ہے اور بہترین زندگی گُزارنے کا فلسفہ اتنا ہی سیدھا اور آسان ہے تو پھر انسان فلاح کے راستے پر کیوں نہیں چل پا رہا ؟ انسانی عقل اس پرعمل کرکے کیوں نہیں ابدی اطمینان حاصل کر سکی؟ ہماری توساری عمر دوسروں کو آسانیاں بہم پہنچاتے گزرجاتی ہے اور ہمیں ایک پل کی خوشی نصیب نہیں ہوتی۔زندگی کی شاہراہ پر بوجھ سے لدے گھوڑے کو سرپٹ دوڑتے کہیں دم لینےکی مہلت نہیں ملتی۔چابک پر چابک پڑتے ہیں اپنے سامان کو دیانت داری سے منزل تک پہنچا دے پھر بھی کوئی صلہ نہیں۔کیا کیا جائے؟ انسان نیکی کرنا چھوڑ دے؟اپنے حصے کا کام دوسروں پر ڈال دے؟خود غرض اور بےحس بن جائے کہ یہی اس دور کا چلن ہے۔کیا یہ ہماری زندگی کا اختتام ہے ؟ یہی وہ سبق ہے جو دنیا داری سکھاتا ہے؟
نہیں!ہمیں ہر چیز کی تہہ تک جانا ہو گا۔۔۔ہر شے سے بالا تر ہو کر جائزہ لینا ہے۔جیسے کہا گیا خوشی چاہتے ہوخوشی دے دو۔۔۔ تو کیا ہے خوشی ؟ ہمیں تو اس کا مفہوم ہی معلوم نہیں ایک گھڑی کی تسکین پانی کے گھونٹ کی طرح ہے کہ جس کے بعد طلب مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر سَیر ہو کر پانی پیا جائے توکچھ دیر بعد پیاس پھر اسی صُورت لگتی ہے۔
سکون چاہتے ہو سکون دے دو۔۔۔ ہم کیا جانیں سکون کس شے میں ہے۔۔۔پیاس میں ہے یا سیراب ہونے میں؟ کیا خبر جسے ہم سکون سمجھ رہے ہوں وہ ہمارا تکبّر ہماری انا ہو؟ہمیں ہمارے اعمال آراستہ کر کے دکھائے جارہے ہوں اور اس دینے دلانے کے چکر میں بجائے پانے کے اپنے پاس جو بچا ہے اُسے بھی ضائع کر بیٹھیں ۔
سکون چاہتے ہو تو اس سے پہلے خود پرسکون ہوجاؤ۔جو انسان اپنے آپ کو سکون نہیں دے سکتا وہ کسی دوسرے سے سکون پانے کی توقع کیسے رکھ سکتا ہے۔
"ہمیں سکون کیوں نہیں ملتا "؟؟؟۔ ہمیں سکون اس لیے نہیں ملتا کہ ہم اپنی زندگی اپنے آپ سے کبھی مطمئن نہیں ہوتے ۔ہم ہر وقت ایک جدوجہد ایک جنگ میں مصروف رہتے ہیں۔ ہمارے نزدیک زندگی سعیءمسلسل کا نام ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ زندگی ہمیں خام حالت میں ملتی ہے بالکل بنجر زمین کی طرح ۔۔۔ہمیں اپنی صلاحیتوں ،اپنے دستیاب وسائل سے ہی اِسے سنوارنا ہوتا ہے۔ہم اس بات پر کڑھتے ہیں کہ صرف ہمارے ساتھ ہی بُرا کیوں ہوتا ہے؟یا بُرا کیوں ہو رہا ہے؟ باقی سب تو ہم سے بہت بہتر ہیں؟ اُن پر اللہ کیوں مہربان ہے؟ہماری مزدوری کے بدلے دوگھڑی کا آرام بھی نہیں ؟۔ ہم خود ہی ٹھوکریں کھاتے ہیں پھر خود ہی سنبھلنا پڑتا ہے۔ زیادہ سمجھ دار ہوں تو اللہ سے شکوہ نہیں کرتے کہ ہماری قسمت ہے۔۔۔جانتے ہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ پھر اللہ سے ڈرتے بھی رہتے ہیں کہ کہیں کوئی بےادبی۔۔۔ ناشکری نہ ہو جائے۔۔کفریہ کلمات نہ نکل جائیں۔۔۔دُنیا میں تو سلگ رہے ہیں اور آخرت میں بھی خالی ہاتھ نہ رہ جائیں۔غرض اسی گرنے پڑنے میں راہیءملکِ عدم ہوتے ہیں۔ یہ ہمارا اجتماعی المیہ ہے کہ ہم گر خوش ہیں،خوشحال ہیں،اللہ والے بھی ہیں کہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ کہیں لاشعور میں اپنی عقل،اپنی صلاحیت اور اپنی قسمت کو بھی اس کا کریڈٹ دیتے نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف اگر زمانے کی ٹھوکروں پر ہوں۔۔۔دُنیا نے بجائے دینے کے ہمارا کچھ چھینا ہی ہو تو ہم سب کچھ اللہ پر چھوڑ کر بظاہر مطمئن اور قناعت پسند بھی ہو جائیں لیکن ایک پھانس ہے جو آخر تک چُبھی رہتی ہے۔ ذرا تصور کریں کہ پھانس کوئی بندوق کی گولی نہیں ہوتی کہ اندر تک سب چھیڑ پھاڑ کر رکھ دے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پھانس انسان کو چین سے رہنے بھی تو نہیں دیتی۔
سکون حاصل کرنے کی کوشش میں رُخ صرف اپنی سوچ کا بدلنا ہے۔اپنی ذات کو زندگی کی پزل کے ہر مشکل یا آسان دور میں اس طرح ایڈجسٹ کرنا ہے کہ وہ اُسی کا حصہ دکھائی دے۔ ہمارے مسائل وہاں سے شروع ہوتے ہیں بلکہ شروع ہو کر بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں جب ہم اپنی ذات کو ساکت وجامد رکھ کر اپنے اطراف کو بدلنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔

عزت چاہتے ہوعزت دے دو۔۔۔عزت خواہش کرنی والی شے ہی نہں ۔ یہ تو ہمارا بنیادی حق ہے۔۔۔زندگی گزارنے کا پہلا 
عمل ہے۔عزت ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔خوف ،ڈر یا حالات کے دباؤ سے کسی کے آگے جُھکا تو جا سکتا ہے پراگرکسی کی عزت دل سے نکل جائے تو دوبارہ کسی قیمت پرواپس نہیں آ سکتی۔ عزت کسی شخص کسی رشتے کے ساتھ مشروط نہیں۔عزت ہر شے کی مقدم ہے چاہے جان دار ہو یا بےجان،انمول ہویا حقیر، آقا ہو یا غلام،باافراط ہو یا بمُشکل میسّر ہو۔ 
اپنی راہ میں آنے والی ہر چیزکی عزت اگر دل سے کریں گے تو ہماری اپنی زندگی ہی پُرسکون رہے گی۔
عزت دینے یا لینے کا نام نہیں بلکہ عزت محسوس کرنے کا نام ہے۔ یہ ہوا میں رچی خوشبو، روح میں اُترنے والی خوشی کا نام ہے۔عزت کسی کو بتائے بغیر،جِتائے بغیراُس کی قدر کرنے کا نام ہے۔عزت وہ نیکی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہےکہ دوسرے ہاتھ کو خبرنہ ہو۔
راہِ عمل یہ ہے کہ ہمیں کسی قسم کی تمنا کیے بغیرصرف اپنے حصے کا کام کرنا ہے اور وہ بھی جتنا ہماری استطاعت ہے۔اور رب کا شُکر ہر حال میں ادا کرنا ہے کہ اس نے ہمت طاقت دی ہے اور دینے والا ہاتھ عطا کیا ہےوگر نہ ہم سے بڑھ کر بےوقوف کون ہو گا جو دینے والے ہاتھ کو بھلا کر لینے والے ہاتھ کی تمنا رکھے۔ ہمیں کیا حق ہے کہ رب سے اپنی مرضی کا رزق طلب کریں۔وہ خالق ومالک،رحمٰن ورحیم کیسے اس ناقدرشناس دنیا میں بےآسرا چھوڑ سکتا ہے۔ہمیں اللہ سے اُس کا ساتھ مانگنا ہے،اُس کا رحم مانگنا ہے،اس کا کرم مانگنا ہے۔اپنی چاہت کو رب کی رضا کے سامنے جھکاناہے۔
"یہ دنیا پانے کی نہیں سہنے کی جاہ ہے،اگر دُنیا میں من چاہی عارضی خوشیاں حاصل کر لیں تو آخرت کےعذاب کو سہنا پڑے گا

5 تبصرے :

  1. آپ نے بہت اچھا لکھا ۔۔۔۔ ساری زندگی تقویَ اختار کرے اورتوکل بخدا رہیے ۔ یہ ہی ایک اچھے مسلمان کی پہچان ہے ۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. خلاصہ کلام یہی ہے کہ رب کی رضا میں راضی ہو جانے میں ہی آسودہ حالی نصیب ہو سسکتی ہے

    جواب دیںحذف کریں
  3. السعی منّا والاتمام من اللہ
    کوشش ہماری طرف سے اور اس کو مکمل کرنا اللہ کی طرف سے

    جواب دیںحذف کریں
  4. اللہ کو عاجزی پسند ہیے، بے شک وہ عزت۔زلؑت دینے والا ہیے۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. نو اکتوبر 2016
    "دلیل" پر شائع ہوا
    http://daleel.pk/2016/10/09/10252

    جواب دیںحذف کریں