صفحہِ اول

منگل, فروری 19, 2013

"خاموشی"

خاموشی
لفظ کی صورت 
کاغذ پر اترتی ہے
خاموشی 
گیت کی صورت
لبوں پر مچلتی ہے
خاموشی
سانس کی مانند
روح میں اترتی ہے
خاموشی دل میں رہتی ہے
خاموشی درد میں بہتی ہے

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں