صفحہِ اول

جمعہ, دسمبر 21, 2012

" نشہ "

کچھ لوگ۔۔۔ کچھ رشتے۔۔۔ کچھ تعلق۔۔۔ نشے کی طرح ہوتے ہیں۔ایک باراُن کا ذائقہ چکھ لیا جائے توجان چُھڑانا مشکل ہے۔مگر نشہ جب روگ بن جائےتو۔۔۔ زہربن جاتا ہے بُرا پھر بھی نہیں لگتا۔۔۔ پھر اس کی عادت پڑ جاتی ہے۔ نشے کا علاج نشہ ہی ہے کہ زہر کو زہر ہی ختم کر سکتا ہے۔
کچھ رشتے گھونٹ گھونٹ چکھتے جاؤ خمار چڑھتا جاتاہے۔۔۔جتنے پُرانے ہوتے جاتے ہیں۔۔۔ اُتنے ہی قریب آجاتے ہیں۔۔۔ پُرانی شراب کی طرح۔ شراب دُنیا کی نظرسے دیکھی جائے تو حرام ہے،ممنوع ہے۔ لیکن اس کا ذکریہ لفظ قُرآن میں بھی ہے کہ شراب تو جنّت میں بھی ملے گی۔۔۔ جس کے ذائقے جس کی لذّت کی تعریف لفظ کے اختیار میں نہیں۔اس لیے جو رزق لکھ دیا گیا۔۔۔ جہاں لکھ دیا گیا۔۔۔ چُپ کرکے اپنا حصہ لیتے جاؤ۔۔۔ سوال نہ کرو۔۔۔ جواز نہ دو۔ مل جائے تو لے لو ورنہ آگے بڑھ جاؤ کہ"دُنیا بہت بڑی ہے اور وقت بہت کم ہے"۔
آخری بات!
زندگی کی شراب کا ذائقہ کتنا ہی تلخ کتنا ہی بدمزہ کیوں نہ ہو بس آخری گھونٹ ۔۔۔اگلا جام اور کا خمار اس مےخانے کا اسیر رکھتا ہے۔

 عورت وہ نشہ ہے جو بنا پیے بنا چھوئے ہی مخمور کر سکتا ہے اور کتاب کا نشہ جس کو ایک بار مل جائے وہ پھر کبھی اس کے اثر سے باہر نہیں آ پاتا۔

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں