سوموار, دسمبر 03, 2012

" رات کے راز"

رات کبھی ہماری مرضی سے ہم سے اجازت لے کرنہیں آتی۔وہ بس آ جاتی ہے کب کوئی چمکیلی صُبح، ایک بھری دوپہر مقدر کے مُہیب بادلوں کی زد میں آکر ایک برستی کالی رات بن جائے ہم نہیں جانتے۔ ہم تو اس سے بھی انجان ہیں کہ آنے والی رات کس کے ساتھ گزرے؟ کہاں گزرے اس پر بھی ہمارا اختیار نہیں۔دن کو ہوش ہوتا ہے، بھاگ  سکتے ہیں،فرار کا حوصلہ  بھی مل  جاتا ہےکچھ نہ بھی ملے اپنی مرضی سےآنکھیں بند توکرسکتے ہیں۔۔۔بھیگنے کے بعد اپنے آپ کوسنبھال  سکتے ہیں۔رات کی بارش تو سب بہا لے جاتی ہے۔رات گزرہی جاتی ہے۔۔۔دبے پاؤں چپ چاپ۔ کبھی درد کی ایسی آخری رات بھی آتی ہے کہ لگتا ہے جس کے بعد تاریکی ہی تاریکی ہے اور یہ رات کاٹے نہیں کٹتی ۔  
زندگی رات دن کے دائروں میں سفر کرتی بالاآخر ختم ہو جاتی ہے،کئی روشن دن اندھیری راتوں کی آغوش میں غروب ہو جاتے   ہیں۔ دن اگر پہچان ہے،شناخت ہے تو رات کی تاریکی بھی اپنے اندر اُجالے سمیٹے ہوئے ہے۔سورج کی روشنی ہماری آنکھیں چُندھیا دیتی ہےجبکہ رات کے اندھیرے میں آنکھیں بند ہونے کے بعد یکایک جب کھلتی ہیں تو ایسی روشنی روح میں اترتی ہےکہ  نئی دنیا، نئے منظر سامنے آجاتے ہیں ۔ 
 انہی  روز وشب کے اُتار چڑھاؤ میں کبھی نہ بھولنے والی راتیں بھی آتی ہیں۔ کچھ راتیں زندگی میں صرف ایک بار اُترتی ہیں اسی لیے وہ ہمیشہ ہمارے پاس رہتی ہیں ۔کردار بدلتے ہیں رشتے بدلتے ہیں لیکن رات ایک ہی ہوتی ہے۔ شب کی تاریکی عرفانِ ذات کی وہ منزلیں طے کراتی ہے جس کے دن کی چمک دمک میں صرف خواب ہی دیکھے جا سکتے ہیں ۔
کبھی شبِ دیجور فراقِ یار میں عشق کی نئی منزلوں سے روشناس کراتی ہے تو کہیں وصال ِ یار کے رمز وآداب سکھاتی ہے۔
کبھی یہ ہجر میں وصال کی لذت سے آشنا کرتی ہے تو کبھی ملن کی انمول گھڑیوں میں جدائی کے نغمے سناتی ہے۔
کبھی بار بار ملنے کی تڑپ پیدا کرتی ہے تو کبھی ایک بار مل کر ساری زندگی پر محیط ہو جاتی ہے۔
کبھی یہ محفل میں کٹتی ہے تو کبھی ذات کی انجمن میں ۔
کبھی عشق ِمجازی کے دھوکے میں تو کبھی عشق ِحقیقی کی چاہ میں ۔
کبھی کسی انجان کے پہلو میں توکبھی کسی نادان کی راہ میں۔
کبھی اپنے آنسوؤں کی حدّت میں توکبھی قہقہوں کی شدّت میں۔
کبھی سفر میں تو کبھی حضر میں۔
کبھی اجنبی راستوں پر نئی منزلوں کی تلاش میں تو کبھی دیکھے بھالے راستوں پر دھوکے کی چاہت میں ۔
کبھی دوست کی قربت میں تو کبھی دشمن کی قدرت میں ۔
کبھی پورے یقین کے ساتھ ہمسفر کے سنگ توکبھی کسی پردیسی کے ساتھ آگہی کے سفر میں ۔
کبھی محرم تو کبھی نا محرم کے تذبذب میں ۔
کبھی مہربان ساعتوں کی نوید لیےکسی کی کائنات کی قربت میں۔ 
تو کبھی ان چاہی منزلوں کے خوف میں اپنے وجود کی چادراوڑھ کرایک عالم ِتنہائی میں ۔
کبھی بے وفائی کی خلش لیے تو کبھی امیدِ صبح نو کی تلاش میں ۔ 
کبھی اپنوں سے دُور اپنے پن کے کھوج میں تو کبھی اپنی محبت کی آزمائش میں ۔
کبھی کسی اندھیرے مدفن میں تو کبھی ابدی عطا کی لذت میں۔
کبھی یہ رات پوری زندگی پر پھیل جاتی ہے توکبھی  ایک پوری زندگی اس رات میں سما جاتی ہے اور پھر وصل ہی وصل، یکجائی ہی یکجائی۔۔۔ نہ دن نہ رات بس وقت ہی وقت اورتصور حقیقت بن کر روح جگمگا دیتا ہے اور وہی رات ہمیشہ خاص ہوتی ہے کہ اس رات کی صبح نہیں ہوتی ۔۔۔ اس رات کی روشنی ہمارا ساتھ نہیں چھوڑتی ۔۔۔ یہ ہمارے دن کی تابانی بن کرہمارے خون میں دوڑتی ہے اور آنے والی  راتوں کی تنہائی کا خوف دورکردیتی ہے۔وہ رات جو  رات کے ختم ہونے کی گواہی ہےتوکبھی ایک نئی صبح کی آمد کی پیش رو بھی ہے۔
ہر رات کا اپنا حُسن اپنی دلکشی اپنی لذت ہوتی ہے ایسی راتیں ہم میں سے ہر شخص کی زندگی میں اترتی ہیں ۔۔۔کوئی بےخبر رہتا ہے اور کوئی اُن کے ایک ایک لمحے کو کشید کر کے اپنے اندر اتار لیتا ہے۔
 جس طرح زندگی میں کوئی رات پہلی بار آتی ہے۔ اسی طرح سفر تمام ہونے یا ایک نیا سفر آغاز ہونے سے پہلے کی آخری راتیں بھی ہوتی ہیں۔ایسی آخری ہر رات بہت خاص ہوتی ہے لیکن ہر آخری رات کا ادراک ہمیں نہیں گرچہ لاشعوری طورپرکسی حد تک جان لیتےہیں۔ وہ رات جو لوح ِمحفوظ پر تو رقم ہے پر جب ہمارے جسم و جاں پر اُترتی ہے تو پھر ہی ہمیں اس کے اسرار ورموز سے آگاہی ہوتی ہے۔
ہماری زندگی میں دستک دینے والی دو آخری راتیں ایسی ہیں کہ جب ہم پر گزرتی ہیں تو صرف ہمارا لاشعور ہی اُن کا راز جان پاتا ہے۔ ان راتوں میں ایک رات تو دُنیا میں سانس لینے سے پہلے کی وہ آخری رات ہے جب بچہ اندھیرے سےروشنی کے سفر کی جستجو میں ہوتا ہے اور دوسری اس آئینۂ رنگ وبو کو برت کر  ہمیشہ کے لیے اندھیروں میں ڈوب جانے سے پہلے کی رات ۔ عجیب سی مماثلت ہے ماں کی کوکھ اور دھرتی ماں کی آغوش میں۔ان اندھیروں میں اگر ذرے سے زندگی کی نمو ہے تو فنا ہوتے ہوئے جسم کی ابدی بقا کا پیغام بھی ہے۔ ہماری عقل کی روشنی کبھی بھی ان اندھیروں کے راز نہیں جان سکی اورنہ ہی اُسے اس کی استعداد عطا ہوئی ہے۔
رات اورساتھ لازم وملزوم ہیں۔ وجود کی تکمیل کی گواہی ایک رات سے بڑھ کر کوئی نہیں دے سکتا۔ ہمارا اوّل وآخر وجود کی شناخت ہے جس کے حصول کے لیے کبھی محبت، کبھی عشق،کبھی ہوس،کبھی ضرورت تو کبھی مجبوری کے لبادے اوڑھ کر ہم دردر بھٹکتے ہیں۔ایک روگ ہے جو جان نہیں چھوڑتا۔کبھی کسی در کےسوالی تو کبھی خود داتا کا بھیس بدل کراپنی خواہش کےبھکاری، کبھی زرق برق ملبوسات اور بیش قیمت بناؤسنگھار میں اپنی تکمیل کے خواہش مند۔جان کر بھی اَن جان بنتے ہوئےکہ یہ نشہ ہے خمار ہے جو وقتیہے۔آنکھ آگہی کے اُس لمحے کُھلتی ہے جب رات گُزر جاتی ہے اورزندگی باقی رہ جاتی ہے۔اورہم حیران پریشان اپنے وجود کے چیتھڑے سمیٹے پھرکسی نئی منزل کی تلاش میں گھسٹتے چلے جاتے ہیں۔ہماری عقل بس یہیں تک ساتھ دیتی ہے کہ ہم اپنے آپ سے باہر نکل کر کبھی نہیں جھانکتے۔
اللہ کے کرم سے خیال کی طاقتِ پرواز بُلند ہو جائے توروشنی کے جھماکے میں آنکھ یوں کُھلتی ہےکہ سب اُلٹ پلٹ ہو کر رہ جاتا ہے۔پھر خیال آتا ہے کہ یہ ساری تلاش تو فقط گنتی کے دن رات پر محیط تھی جسے ہم نےاپنی زندگی کے لامحدود وقت پر ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ طلب بڑھتی گئی اوروقت گھٹتا گیا۔اصل ساتھ تو اس رات کا ہونا چاہیےتھا جس کی تنہائی حشر تک پھیلی ہوئی ہے۔وہ رات جو اپنے اندر اتنے عجائبات رکھتی ہے کہ کسی ہمدم کی قربت کے بناءان سے نبردآزما ہونا محض خسارہ ہی خسارہ ہے۔

اس رات کا انتظار ہماری روح کوشاید تخلیق کے پہلے لمحے سے ہوتا ہے اور تکمیل کے آخری پل تک اس کی چاہ مکمل نہیں ہوتی۔اس کی جُزیات تک جاننے کے باوجود ہم اس کی آمد کے احساس سے بھی بےخبر رہتے ہیں ۔اس لمس کا خوف تو ہماری رگ رگ میں سمایا ہوا ہے اس کی شدّت ہمیں ڈراتی بھی ہے اور اپنی جانب کھینچتی بھی ہے ہم ساری زندگی "ہاں یا ناں" کے بیچ گزار دیتے ہیں۔
کبھی اپنا آپ سنوارتے ہیں ۔ محبوب کی پسند میں ڈھالتے ہیں اپنے آپ کو اُس کے قابل بنانے کی سعی کرتے ہیں ۔ آئینے میں جائزہ لیتے ہیں کہ جب بلاوا آئے تو ناز وادا کا کون سا جلوہ محبوب کو پسند آئے گا۔کبھی تھک ہار کر اپنے آپ کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیتے ہیں جب محبوب بےنیاز ہے،بااختیار ہے تو ہم جوبھی کر لیں وہ راضی ہو یا نہیں یہ اس کی صوابدید ہے۔ کبھی ہم اپنی زندگی آپ جیتے ہیں بے خبر ان جان یوں چلے جاتے ہیں کہ کوئی تکرار نہیں کوئی جھجھک نہیں  اور کبھی روتے پیٹتے لڑتے جھگڑتے زبردستی کا سودا کرتے ہیں۔۔۔ جیسے ناخوش دن گزارے رات بھی ویسی ہی کٹے کون جانے۔
یہ رات راز کی وہ رات ہے جو آشکار تو ہےلیکن اس کیحقیقت صرف اورصرف "میں اور تو" میں پنہاں ہے۔کوئی شراکت نہیں ۔۔۔ کوئی خیانت نہیں ۔ جس وجود پر چھا جاتی ہے وہی اس کا" امین "ہے اور وہی" حق الیقین " ہے۔
اپنی زندگی میں آنے والی ہررات کی قدر کرو اس کو اپنا لوتو تمہیں کئی اندھیری راتوں کےآسیب سے پناہ مل جائے گی۔
"اللہ ایسی ہر اندھیری رات کے بعد ایک روشن صبح طلوع کرے" آمین یا رب العالمین۔
یکم دسمبر ، 2012

10 تبصرے:

  1. بہت ہی زبردست لکھا آپ نے ماشاءاللہ

    جواب دیںحذف کریں
  2. معاف کیجیے گا یہاں میں آپ کے لکھنے کی داد نہیں دے سکتاکیونکہ تخیل کو سمیٹ کر الفاظ کا جو جامہ پہنایا گیا گیا ہے تحریر اس کا احاطہ شائد مکمل طور پر نہ کر سکی ہو۔
    آپ کی تحاریر لا جواب ہیں۔ ہر تحریر کمنٹس کی حقدار ہے مگر ایسا کرنا ممکن نہیں ۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. سوچ جس انگ میں اترتی ہے میں اسے بلا کانٹ چھانٹ کے اسی رو میں لکھتی چلی جاتی ہوں۔ یہ میری تحریر کی کمزوری بھی ہے جانتی ہوں ۔

      حذف کریں
  3. آپ کی تحریر میں قطعی کمزوری نہیں ہے۔شائد میرا جملہ مفہوم واضح نہیں کر پایا۔ تحریر لا جواب ہے ۔ کہنے کا مطلب یہ تھا کہ جب آپ لکھ رہی ہوں گی وہ کیفیت اس تحریر سے بہت طاقتور ہو گی ۔ اور الفاظ ایسی کیفیت کا احاطہ کرنے میں کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. حسن یاسر نے کہا۔۔۔
    ایک رات پوری زندگی پر محیط ہو جائے یا پوری زندگی ایک رات میں سما جائے بہر حال دن کے سورج کا سامنا کرنا پڑتا ہے بسا اوقات یوں بھی ھوتا ہے دن کے اجالے میں کہیں چھپ کر بیٹھنے والی رات جب اپنا آپ ظاھر کرتی ہے تو آنکھیں کچھ دیکھنے کے قابل نہیں ہوتیں ایسے میں کان آوازوں کی طرف دھرنے پڑتے ہیں پھر جب آنکھوں میں رات کا کاجل نور بھرتا ہے تو ان گنت یادیں اور کتنے چاند چہرے سامنے آ موجود ہوتے ہیں ۔۔۔ایک محفل سی سج جاتی ہے پھر ہم تنہا ہوتے ہوئے بھی اکیلے نہیں ہوتے۔ رات کا ایک احسان تو ہمیں بہرحال تسلیم کرنا پڑے گا کہ اپنا آپ جب ایک آئینہ بن کر سامنے آتا ہے سوال پوچھتا ہے احتساب کرتا ہے تب نیند کی نرم آغوش وا ہو جاتی ہے اور سب کچھ دیر کے لیے یوں خاموش ہو جاتے ہیں جیسے کسی بچے کو روتے روتے اچانک اس کا من پسند کھلونا مل جائے اور آنسو جگنو بن جائیں۔۔
    ۔ 5 جون 2015

    جواب دیںحذف کریں
  5. ھ م م ۔ ۔ ۔ بہت ہی عمدہ تحریر ہمیشہ کی طرح ۔ ۔ ۔ آپ جو بھی لکھتی ہیں میں خود میں کہیں پا لیتی ہوں ۔ ۔ ۔ بہت شکریہ کے آپ لکھتی ہیں ۔ ۔ ۔ لکھنے کے لئے بہت سی ہمت چاہیئے اور آپ کی ہمت کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی ۔ ۔ ۔ لکھتی رہیں ہمیشہ !

    جواب دیںحذف کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...