اتوار, دسمبر 02, 2012

"ماں تجھے سلام"

نورجہاں۔۔۔
پیدائش۔۔10جنوری 1945
وفات۔۔۔4 مارچ 2012
قبرنمبر 236
پلاٹ نمبر 20
جائے مدفن:: ایچ الیون قبرستان اسلام آباد۔پاکستان
" ماں تھی یا ہے میں ابھی اسی کشمکش میں ہوں"
ماں ایک بھرپُور احساس۔۔۔ اُس کے لیے جونہ صرف اُنہیں اُن کےسامنے بلکہ اُن کے بعد بھی اپنے ہر ساتھ، ہر رشتے،ہر تعلق میں ہرقدم پر  محسوس کررہا ہے۔وہ ہستی جو نہ صرف زندگی جیسی سب سے عظیم دولت کا وسیلہ بنی بلکہ زندگی کی روح،اصل فلسفےکو اِس طور سمجھایاکہ کُچھ کہے سُنے اور پڑھے بغیر سیدھے راستے کی نشاندہی ہوتی چلی گئی۔
ماں ایک پھولدار رنگ برنگا قالین تھی جو اپنے اُوپر پڑنے والی لعنت ملامت اورطعنوں کی گرد جذب کرکے اپنے آپ کو ممکن حد تک سنوارکرخوشنما نظر آتی تھی۔
گاہے بگاہے آس پاس بکھرے ہوئے تکلیف دہ لمحوں کو اپنے نیچے چُھپا کر "سب اچھا ہے"کی نوید دیتی، زندگی کے پتھریلے راستوں پر اپنا آپ نچھاورکر کے روندنے والے قدموں کے لیے وہ غیرمحسوس انداز میں  باعث ِراحت وسکون تھی۔ برتنے والوں نے اُسے ہراندازمیں برتا، کیسے کیسے داغ ،کیسے کیسے نقش اُس پر ثبت کیے لیکن اُس نے آخری سانس تک اپنی انّا اورخودداری کے رنگ پھیکے نہ پڑنے دیے۔فرش پر رہ کر عرش کا سفر یوں طے کر گئی کہ معراجِ آدمیّت پر یقینِ کامل ہو گیا۔
اپنے ظاہری وجود سے اُنھوں نے اللہ کے قریب کیا تو روحانی وجود سے لوگوں کی اصل حقیقت،رشتوں کےفریب اور انسانی سوچ کی بد سے بد ترین شکل تک رسائی دے رہی ہیں۔غورکرنے کی بات یہ ہے جہاں اللہ کی قُربت کےاحساس سے اطمینانِ قلب نصیب تھا وہیں اب لوگوں کی دُہری شخصیت اورسطحی باتیں آزُردہ نہیں کرتیں۔ہر شخص اپنے مقام، اپنی اہلیت سے حالات کا تجزیہ کرتا ہے۔دُکھ اور تکلیف کی شدّت سے چیخ اُس وقت نکلتی ہے جب خود ساختہ نگران ہمیں اپنے راستے چلنے پرمجبُورکرتے ہیں۔یہ وہ دوراہا ہوتا ہے کہ ایک طرف تو دل بے اختیار کسی مہربان کے گوشۂ عافیت میں پناہ لینے کا طالب ہوتا ہےکہ اُس سے دل کا بوجھ ہلکا کیا جائے۔ایک راستہ کسی کو درمیان میں لائے بغیر آنکھیں بن کر کے اپنے مالک سے سب کہہ دینا ہے۔۔۔ سارے طعنےسب ملامتیں اپنے اوپر سے بہتے پانی کی طرح گُزار کر اپنے رب سے رہنمائی چاہنی ہے۔
ہمارا مالک اپنے بندے کوکبھی مایوس نہیں کرتا۔اُس کی رفاقت کی تمنّا رکھنے والا اُس سے مدد مانگنے والا جب سر اُٹھاتا ہے تودکھائی دینے والی بند گلی حدِّنظر تک کُشادہ اور روشن ہو جاتی ہے۔ وہ راستے جن پر چلتے چلتے پاؤں لہولہان اور جسم تھکن سے چُورتھا اچانک یوں لگا جیسےروش روش بہار آگئی ہو اورجسم روح کے ساتھ محو ِپروازہوگیا۔ میرے رب کا فضل ہر حال میں جاری ہے۔۔۔ اس نے نعمت دے کر اس کی عظمت کا احساس اس طوربُلند کیا کہ سیڑھیاں چڑھنا یا صرف پہلی سیڑھی پرقدم رکھنا معراجِ آدمیت نہیں ۔ ہمیں کسی کو سیڑھی نہیں بنانا۔ اپنا راستہ آپ طے کرنا ہے۔ سیڑھی سوائے رب کے کوئی عطا نہیں کرتا۔اس کو تھامنے والا ہاتھ بھی رب کا کرم ہے اس کا فضل ہے۔اس لیے سیڑھیاں چڑھتے جاؤ نظارے دیکھتے جاؤ۔ لیکن دھیان رکھنا اونچائی پر جانے سے گرنے کے خطرات بڑھ بہت جاتے ہیں جتنا بلند ہو گے گرنے سے اتنی زیادہ چوٹ لگے گی اس لیے سر جھکا کر نظر جما کر بس پاتے جاؤ اوربڑھتے جاؤ ۔ سیڑھی پر قدم رکھنے کے لیے اس کے ڈنڈے مضبوط اور اپنی جگہ ہونے چاہیں ورنہ خلا میں بھٹک کر گرنے کے بعد نام ونشان تک باقی نہیں رہتا۔ اپنے اثاثے اپنے خزانے ساتھ رکھو۔۔۔ ان پراعتماد کرو اور یقین کےساتھ سفر طے کرو۔ رب کی عطا کی کانچ کےنازک برتن کی طرح حفاظت کرنی ہے۔ اللہ سے ہر حال میں مدد مانگنی ہے ۔کسی انّا کسی برتری کے بغیرچراغ سے چراغ جلانا ہے پیچھے آنے والوں کو بھی راستہ دکھانے کی سعی کرتے رہنا ہے اور اپنے چراغ کوبھی روشن رکھنا ہے۔

10 مارچ 2012
اسلام آباد
پاکستان

1 تبصرہ:

  1. اللہ سے ہر حال میں مدد مانگنی ہے کسی انّا کسی برتری کے بغیر، چراغ سے چراغ جلانا ہے پیچھے آنے والوں کو بھی راستہ دکھانے کی سعی کرتے رہنا ہے اور اپنے چراغ کو بھی روشن رکھنا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اللہ کی عطا میں کسی کو شریک کرنا بھی رضا ہے۔
    بہت خوب اچھا لکھا ہے

    جواب دیںحذف کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...