صفحہِ اول

منگل, دسمبر 04, 2012

" کن فیکون "


" سورہ یٰسؔ (36) ۔۔۔۔ آیت۔۔ 82 "
ترجمہ !
"اُس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اُس سے فرما دیتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔"
لفظ اوّل ہے اور لفظ ہی آخر ہے۔ رب کا  لفظ "کُن"ہےاور انسان کے لیے پہلا لفظ "اقرا"ہے۔ رب کا لفظ کائنات کے لیے اورزمان ومکاں کی ہر شے کے لیے تھا اس کا ثمرفیکُون ہے۔ اور انسان کا لفظ انسان کے لیے تھا اُس پرعمل نہ صرف انسان کا پہلا اور بنیادی فرض ہے بلکہ یہ وہ الف ہے جو سارے اعمال سارے نظریات کی بنیاد ہے۔ اقرا پہچان کا نام ہے،پڑھنے کے بعد ایمان کا نام ہے۔ہم لفظ نہیں دیکھتے،معنی نہیں دیکھتے، اُس کے اندر نہیں اُترتے، ہم اُس پر بغیر دیکھے ایمان لاتے ہیں۔۔ ایک بیش قیمت جُزدان میں لپیٹ کر اُونچے مقام پررکھ دیتے ہیں،آنکھیں بند کر کے اُس کا طواف کرتے ہیں اپنے ہاتھوں سے چُھونا تو درکنار اس بارے میں سوچنے کا بھی وقت مشکل سے نکالتے ہیں۔اگر دل میں اُتر جانا ہی اپنی لگن ،اپنی توجہ کا سب سے بڑا راستہ ہوتا تو پھر کتاب کی کیا ضرورت تھی۔کتاب اس لیے ہےکہ ہم بار بار پڑھیں ہر بار نئے معنی تلاش کریں پھر ہمیں اس میں نئے معنی اور بروقت راہنمائی نصیب ہو گی۔لفظ کی حُرمت یہ ہے کہ جو پڑھے یہ جانے کہ یہ وحی اُس کے لیے اُسی وقت اُس کے دل پر نازل ہوئی ہے۔اللہکے ہر حرف میں ایک جہان ِمعنی آباد ہے جس کا ہماری سوچ احاطہ بھی نہیں کرسکتی۔ ہم صرف اپنی صلاحیت کے مطابق اس میں سے معنی اخذ کرتے ہیں تو پھرانسان جو اللہ کے نور کا پرتو ہے اُس کے حرف کے اندر بھی کئی معنی پوشیدہ ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں یہ اس کا شرف ہے لیکن لکھنے سے پہلے وہ ان معنی کو خود بھی نہیں جان پاتا یہ اس کی"حد" ہے۔اللہکی کتاب پڑھنے والے اُس میں جہانِ معنی تلاش کرتے ہیں،یوں تو ہر حرف عبادت ہے، سعادت ہے لیکن ہم جلد باز کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کی جُستجو میں رہتے ہیں ،ہم وہ با نصیب بد نصیب ہوتے ہیں جو مہلتِ زندگی کو کم جانتے اور کاروبارِ زندگی کو سمیٹنا اوّلین ترجیح گردانتے ہیں۔یہ دنیا اگر کھیل تماشا ہے تو اس سے جان چھڑانے سے پہلے اپنی تلاش میں   رہتے ہیں۔ہم ربِ کائنات کے ہر حرف پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں،اسی لیے بھٹکتے پھرتے ہیں،اسمِ اعظم کے کھوج میں، اس پارس کی چاہ میں جو کُندن بنا دے، اپنی قیمت لگانے کے خواہشمندنہیں جانتے یہ اللہ کی دین ہے، اصل حقدار وہی ہے جو اپنے آپ کو اس بارِ گراں کا اہل ثابت کرے۔
 محبت کی کتاب کا بھی اسمِ اعظم ہوتا ہے وہ جو در در بھٹکتی روح کو تسکین  دیتا ہے تو خیال کی لَو کو یوں مہمیز کر دیتا ہے کہ درد کی مدہم تپش جلتے وجود میں بھڑکتی آگ کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔یہ آگ جھلساتی ضرور ہے پر روح کو کُندن بنا دیتی ہے۔لفظ میں وہ طاقت ہے جو کبھی کم نہیں ہوتی۔یہ وہ مقناطیس ہے کہ جس کی کشش ہمیشہ سے ہے چاہے وہ کلامِ الٰہی ہو یا پکارِ آدمیت ،سچا ہے دل سے نکلا ہے تواُس کی خوبصورتی اورمعنویت کبھی ماند نہیں پڑتی ۔ وہ ہردل کی صدا بن جاتا ہے۔ کہنے والا خدا نہیں عام انسان ہوتا ہے لیکن یہ شرف بھی ہر انسان کو حاصل نہیں کہ اس کا کہا صدیوں سے ہو اوراس کی گونج ہواؤں میں رہے اور ایسا پاک ایسا آسمانی صحیفہ لگے جیسے ابھی اسی وقت پڑھنے والے کے لیے ہی اتارا گیا ہے۔
 محض لفظ کی خوبصورتی،اُس کی گہرائی اہم نہیں بلکہ اس کا وقت،اس کا مقام اور وہ منبع زیادہ اہم ہے جہاں سے سوچ کے دھارے پھوٹتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ لفظ کہنا لفظ لکھنا رب کی وہ انمول عطا ہے جو بہت کم کسی کا نصیب ہے۔ انسانوں کے اس ہجوم میں زبان وبیان کی فصاحت وبلاغت اور لفظ کی مہک اپنی جگہ خود بنا لیتی ہے۔دوام صرف اس لفظ،اس بیان کا خاصہ ہے جو وقت کی پکار بن جائے اور جس کی جگمگاہٹ ہر زمانے میں روشنی پھیلاتی رہے۔لفظ کو زوال نہیں یہ وہ وحی ہے جو سچے دل سے پڑھنے والے کی روح پر الہام ہوتی ہے اور اُس کے لیے خاص ہے جو پورے اعتماد سے اس کے اندر اُتر کر اپنا آپ تلاش کرے۔جسم کو فنا کیا جاسکتا ہے، لُوٹا کھسوٹا جا سکتا ہے، سوچ پرپہرے بٹھائے جا سکتے ہیں لیکن لفظ کی حُرمت اس کی سلامتی مستحکم ہے۔ جو کہہ دیا سو کہہ دیا۔ اورجو لکھا گیا وہ جس قابل ہوا اسی طور تاریخ میں زندہ رہتا ہے۔
جس طرح اس دُنیا سے پرے ایک اور دنیا ہے، اس کائنات سے ماورا اورکائنات, اس جہان سے الگ ایک اورجہان یہاں تک  کے انسان بھی وہ نہیں جو دکھائی دیتا ہے،ہم خود اپنے آپ کو نہیں جانتےکس وقت کس قسم کا رویہ اختیار کرسکتے ہیں- اس طرح لفظ بھی وہ نہیں جو پڑھے جاتے ہیں حتٰی کہ اُن کے معنی بھی وہ نہیں جو نظرآتے ہیں-الفاظ کے معنی کا بھی ایک اورجہان ہے جس میں بظاہر سیدھے سادھے عام سے لفظ اگر کسی اور نظر سے دیکھے جائیں تو بات کہاں سے کہاں جا پہنچتی ہے۔یہ صرف ہمارے سوچنے کا، محسوس کرنے کا رویہ ہے۔یہ وسعتِ نظر ہے جو اگر ہمیں فرش سے عرش تک پہنچا دیتی ہے تو تنگ نظری ہمیں اپنے ہی خول میں بند کر کے ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کر لیتی ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی طالبِ علم کتاب کا ایک ایک لفظ خوب اچھی طرح رٹا لگا کریاد کر لے اور امتحان میں کامیاب بھی ہوجائے لیکن اگر اُسے ان الفاظ کا سمجھانا پڑ جائے تو وہ کبھی بھی دوسروں کو مطمئن نہیں کر پائے گا کیونکہ وہ ان کی حقیقت سے واقف ہی نہیں ہو گا۔ اب یہ ہم پر منحصرہے کہ کامیابی کا معیار کیا ہے ؟ عام امتحانوں میں پاس ہونا یا کسی بڑے امتحان کے داخلے میں پاس ہونا - اس میں کوئی شک نہیں کہ سب سے پہلے سامنے جو دریا دکھائی دے رہا ہے اسے عبور کرنا ضروری ہے کہ اس کے بغیر آگے کا سفر طےکرنا نہیں کر سکیں گے۔ یہ سرابِ نظر بھی تو ہو سکتا ہے جوصرف دکھائی دیتا ہے،قریب جانے اور قدم رکھنے کے بعد حقیقت کُھلتی جاتی ہے۔ اللہ ہمیں چیزوں کی اصل کا علم عطا فرمائے آمین۔ 
آخری بات
اللہ یقین کے ساتھ لفظ اُتارتا ہے اورہم لفظ لکھ کراُس پر یقین کرتے ہیں۔لفظ لکھنے کے بعد ہمارے اندر اُترتا ہے اورہم اُس   میں ڈوب جاتے ہیں جبکہ اللہ کے اُتارے ہوئے لفظ جب ہمارے اندر اُترتے ہیں تو ہمیں ڈوبنے نہیں دیتے بلکہ پار لگا دیتے ہیں ۔

2 تبصرے :