اتوار, دسمبر 09, 2012

" قرض "

"آئی ایم ایف" ہم اور
قرض لینا اور قرض ادا کرنا
 صرف معاشیات کا مسئلہ نہیں
 یہ ہماری سرشت ہے
 محبتیں ہمیں 
قرض کی صورت ملتی ہیں
 لوٹانا ہمارا فرض  ٹھہرا
 یہ ہزاروں سال پرانا دستور ہے
 جنس کے بدلے جنس
 کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
 کہ ابھی ادا بھی نہیں کیا ہوتا 
 کہ اور مل جاتا ہے
 بن مانگے بن چاہے
 (یہ جھوٹ ہےکہ چاہ کبھی ختم نہیں ہوتی)
 ادائیگی صرف ایک قسط میں ہے
 کہ تپتے آسمان تلے برگد بن جاؤ
 کاش یہ کڑی شرط نہ ہوتی
 کچھ دیر تو سستانے دو
                " ابھی لمبا سفر ہے"

19 دسمبر , 2003

1 تبصرہ:

"ایک زرداری سب پہ بھاری"

گو ہاتھ کو جُنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے رہنے دو ابھی ساغرومینا مِرے آگے آنکھوں دیکھی حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔8ستمب...