اتوار, دسمبر 09, 2012

" ادھوری کہانی"

"مرکزِثقل"
سائنس کے مضامین پڑھنے والی لڑکی کو جب یہ احساس ہواکہ وہ خود سینٹر آف گریویٹی ہے تو اُس نے اس معمے کو جاننے کے لیے لائبریری میں پناہ لی۔وہ گھنٹوں انسانی جذبات کے تجزیہ نگاروں کو پڑھتی۔منٹو سےعصمت چُغتائی تک اس نے عجیب وغریب تجربات کیے۔ جو اُس کے لیے یا جن کے نتائج اس کے لیے قابلِ قبول نہ تھے۔ 
 اس کی بُزدلی کہیں یا معاملہ فہمی کہ وہ عملی تجربات سے ہمیشہ دُور رہی۔ زندگی اس کے آس پاس ہردلکش پیراہن میں بکھرتی پر وہ آنکھیں بن کیے اپنی ذات ہی پڑھتی رہی۔
وہ واقعی سینٹرآف گریویٹی تھی اپنی جگہ قائم۔۔۔ سیب اس کے آس پاس گرتے گئےلیکن وہ آگے بڑھ ہی نہ سکتی تھی لیکنً !آخر کب تک۔۔۔اسے نصابی کُتب بھی تو پڑھنا تھیں سو اپنا آپ اندر چھوڑ کرباہر آنا پڑا۔۔۔۔ امتحان بھی دینا تھے۔۔۔پھروہ امتحان شروع ہوئےکہ اُس گوشہ عافیت میں جانےکی مہلت ہی نہ ملی۔ تازہ دم ہونےکے لیےاِس رازکو بھولنا بھی چاہتی لیکن یہ معمہ حل ہی نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ایک ایسا سوال تھا کہ جس نےبرسوں سے اس کی ساری شخصیت کا گھیراؤ کر رکھا تھا۔ یہ احساس شِدّت سے بڑھ رہا تھا کہ اب وقت ختم ہوا چاہتا ہے۔۔۔وہ مہلت جو زندگی کا پرچہ حل کرنے کے لیے ملی ہے اس کا کاؤنٹ ڈاؤن بس شروع ہونے والا ہےاوراصل امتحان کی تیاری تو کی ہی نہیں۔۔۔ یہ تو ایک بڑے امتحان کو سرانجام دینے کے لیے فقط ضمنی امتحان تھے۔۔۔ان کے کُل نمبرملا کر بھی اتنے نہ بن سکیں کہ بس پاسنگ نمبر ہی آجائیں۔اسی بات نے مایوسی کے اندھیرے میں دھکیل دیا۔ وہ ڈوب رہی تھی کہ روشنی نظر آئی۔۔۔ وہ روشنی جس میں اُسے اپنے سالوں پرانے سوال کا جواب مل گیا۔
یہ اُس پیچیدہ سوال کا ایسا جواب تھا جو سوال کے اندر ہی پوشیدہ تھا۔ سوال یہ تھا کہ سوالی اس سے کیوں مانگتے ہیں؟ کیوں روحیں اس کا طواف کرتی ہیں؟ اس میں ایسی کون سی کشش ہے ؟جسے وہ خود بھی نہیں جانتی وہ کچھوے کی طرح ایک مضبوط خول میں بند ہے پھر کیوں باربار دستک ہوتی ہے؟ اس نے تو نو ویکنسی کا بورڈ لگا رکھا ہے پھر کیوں درخواستیں جمع ہوتی ہیں ؟جواب ملا کہ سوالی بن کرتودیکھو، سیب بن کر تودیکھو،جھولی پھیلا کر تو دیکھو،بھیک مانگ کر تو دیکھو۔ یہ ایسا جواب تھا کہ جس نے اسے شانت کر دیا اس کی پُورپُورمیں رچی تشنگی کودور کردیا۔
واقعی وہ اُونچے مقام پر تھی لیکن مکمل نہیں تھی،وہ کسی لمس سے ناآشنا تھی لیکن جب یہ احساس اس کے اندر بیدار ہوا کہ کوئی ہے جسے چھو کر وہ مکمل ہو سکتی ہے تو اس احساس نے اس کی دنیا ہی بدل دی۔ اسے معلوم ہو گیا کہ دینا کیا معنی رکھتا ہے اورمانگنے میں کیا جادو ہے۔
زندگی کے دائرے میں بہت تھےجو اُس کے سہارے کھڑے تھے۔۔۔اُس نے ایک ہاتھ سے تھام رکھا تھا۔۔۔ پراسے بھی کسی سہارے کی ضرورت تھی۔۔۔اس کا دوسرا ہاتھ تو خالی تھا۔ یہی وہ رازتھا جس کی وجہ سے وہ معلق تھی۔ جب ہاتھ تھاما تو دائرہ فوراً مکمل ہوگیا۔ زندگی کا یہ اصول بھی اُسے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں ہم جوحاصل کرتے ہیں وہ یہیں رہ کرلوٹانا بھی ہوتا ہے۔ 
 "ہماری محرومیاں ہماری خوشیاں ہمارے ساتھ پروان چڑھتی ہیں اورہمارے ساتھ ہی فنا ہوجاتی ہیں"۔
ہم سائنس کے طالب علم ہیں،لائبریری کے خواب آور ماحول میں کتابیں پڑھتےہیں۔۔۔ایشو نہیں کرا سکتے۔۔۔کیونکہ اُن کا ہمارے نصاب سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ وقفے وقفے سے گھنٹی بجتی ہےتو ہم چونک جاتے ہیں۔۔۔ بھاگ کر کلاس لیتے ہیں ۔۔۔ شعوربیدار ہو جائےتودل جمعی سے پڑھتے ہیں کہ یہی ہمارا اصل ہے۔۔۔اسی میں سے سوالنامہ تیار ہو گا۔
کامیاب وہی ہوتے ہیں جو اُس ماحول کر یکسر نظرانداز کر دیتے ہیں لیکن جو کوئی کہانی ادھوری چھوڑ آئیں اُن کا دل واپسی کے لیے ہمکنے لگتا ہے۔ مہلت ختم ہونے سے پہلے ادھوری کہانیاں پڑھ لی جائیں تو باقی زندگی کے نصاب میں پاس ہونے کے لیے وقت مل ہی جاتا ہے۔
جنوری 25،  2002

3 تبصرے:

  1. ادھوری کہانیاں مکمل ہونے سے پہلے جاننے کا اپنا رنگ دکھاتی ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. Hajra Rehan
    واہ ۔ ۔ ۔ایک دفعہ پھر سے واہ ۔ ۔ ۔ بہت ہی عمدہ لکھتی ہیں نورین ۔ ۔ ۔ مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ساری زندگی بھی کوشش کریں کبھی بھی سینٹر اور گرویٹی نہیں بن پاتے ۔ ۔ ۔اُن کے اندر گرویٹی ہوتی ہی نہیں ۔ ۔ ۔ اور اُن سے قریب آنے ولا بھی جلد اپنی گرویٹی کھو دیتا ہے ۔ ۔ ۔سب کو معلق ہونا پسند نہیں آتا سو اکثر اُن سے دور دور ہی رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ وہی نہ ۔ ۔ ۔جہاں اکسیجن نہیں وہ جیسا بھی خوبصورت ہو ۔ ۔ ۔ انسان نہیں بسا سکتا ۔ ۔ ۔
    12 hrs

    جواب دیںحذف کریں
  3. Lal Bujahker
    کسی ذات کے دائروی حصار یار اس کے خارجی مدار میں معلق ہو جانا کچھ ایسے ہی جب آپ خارجی قوت کے زیر اثر صرف اس مصلحت کے تحت آ جاتے ہیں کہ زندہ رہ کر مزاحمت کے قابل رہیں. انسانی جبلت کیساتھ ساتھ قدرت بھی ایک خود کار طریقے سے ہمہ وقت مصروف عمل ہے......
    جنہیں ہم محض اتفاقات کا نام دے کر ان پر اپنی شعوری اور غیر شعوری تبدیلی کی بنیاد رکھتے ہیں یہ وہ عوامل ہیں جو ہمارے دائرہ اختیار سے باہر اس قوت کے زیر اثر وقوع پذیر ہوتے ہیں جسے ہم قدرت کہتے ہیں.
    زندگی مختصر ہے اور کہانیاں پڑھنے کا سمے اس بھی مختصر سو کیوں نا وہ کہانیاں پڑھ لی جائیں جن کی اثریت کو دوام ہو.....
    بہت اعلی تحریر اسلوب منطقی مدلل اور جاندار ہے۔
    7 hrs ·

    جواب دیںحذف کریں

"ہم سے پہلے"

۔"ہم سے پہلے"۔۔۔کالم جاویدچودھری۔۔۔جمعرات‬‮ 72 جولائی‬‮  بھارت کے کسی صحافی نے اٹل بہاری واجپائی سے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں ...