بدھ, اکتوبر 31, 2012

"آسیب "

"آسیب "
شادی شُدہ مرد یا عورت ایک بیابان میں تنہا تاریک مکان کی طرح ہوتا ہے جس میں اُس کا ساتھی اگراپنے وجود کی روشنی نہ بکھیرے،اپنی سَپُردگی کی اگربتیاں روشن نہ کرے، اپنے آپ کو بُھلا کر اپنے ہونے کا احساس نہ دِلائے تو آسیب زیادہ فاصلے پر نہیں رہتے۔۔۔وہ تو ذرا سی جِھری کی بھی تاک میں ہوتے ہیں ۔ ایک بار راستہ ملِ جائے تو پھر آسیب کی جھنکار اور اُن کی شرابُور موجودگی کے سامنے ساری تپسّیا دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ ساری زندگی روگ کی دھونی دینا پڑتی ہے پھر بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ کب کوئی بھٹکتا ہوا آسیب سب کُچھ اُلٹ پلٹ نہ کر ڈالے۔
2011 ، 10 مارچ

3 تبصرے:

  1. بہت عمدہ، پر تاثر ، دکھتی رگوں کو چھیڑتی اور جذباتی کشمکش کو اجاگر کرتی مختصر لیکن متعلقہ موضوع کا احاطہ کرتی ہوئی تحریر۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. اللہ پاک آپ کو خوش رکھے، دلی جذبات کو حرفوں کا روپ دیتی ہیں آپ

    جواب دیںحذف کریں
  3. by Farooq Hayat
    Nov 30, 2013
    You have got a ruthlessly truthfull pen. Commenting on this subject shall be harmful for many, so I will just narrate it as;
    "Jahan bhonchaal bunyad e faseel o dar main rehty hain"
    "Hamara hosla dekho hum aesay gher main rehtay hain"

    جواب دیںحذف کریں

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...