صفحہِ اول

اتوار, اکتوبر 21, 2012

" لمبی جُدائی "

شادی مرد اورعورت کے زندگی کے آخری سانس تک ساتھ رہنے کا سماجی مُعاہدہ ہے۔عورت مرد کا یہ تعلق دیکھنے میں بہت پُرکشش اور دلفریب دِکھتا ہےلیکن درحقیقت اس میں اتنےپیچ وخم اورایسی گہری کھائیاں ہوتی ہیں کہ انسان ایک گرداب سے بچتا ہے تو دوسرے میں جا نکلتا ہے۔مرد یا عورت کی تخصیص سے قطع نظر کسی بھی انسان کے لیے ایک  کامیاب شادی شدہ زندگی  گذارنا  خصوصاً اپنے  جذبات اور احساسات کے حوالے سے دنیا کی  زندگی میں سب سے بڑی آزمائش ہےتو اس بندھن کو آخری سانس تک نبھاتے رہنا اس سے کہیں گنا زیادہ کڑا امتحان ہے۔اپنی فطری جبلت کی انسان کو بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہےاس رشتے میں بندھنے کے بعد ایک نامعلوم سا حساب کتاب کا کھاتہ کھل جاتا ہے،دن اور رات کا ہر لمحہ دوسرے کے سامنے عیاں کرنا پڑتا ہے۔عورت کی زندگی کا محور اگر  ایک دم نئے بننے والے رشتوں اور ان سے وابستہ مسائل کو سمجھتے ،سلجھاتے اور اپنے اندر  بری طرح الجھتے گذرتا ہے تو دنیا میں بےفکری کی سیٹیاں بجاتے معصوم سے مرد کو گھریلو ذمہ داریوں  اور روٹی روزی کے جھنجھٹ کان پکڑ کر کولہو کا بیل بنا دیتے ہیں۔اس تعلق کی کامیابی یا ناکامی بیرونی سے زیادہ اندرونی عوامل کی مرہونِ منت ہوتی ہےاور یہ فیصلہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک دونوں میں سے کوئی ایک اس دُنیا سے رخصت نہ ہو جائے۔احساس کی پھوار اورسمجھوتے کے گریس سے پنپتی ایک لمبی رفاقت کےبعد جب کوئی فریق جُدا ہوتا ہے تو مرد عورت دونوں کےاحساسات مُختلف ہوتے ہیں۔
شادی شدہ زندگی گزارنے اورماں بننے سے قطع نظر ماں یا مامتا عورت کا ایک ایسا رویہ ہے جس کی جھلک عمر کے ہر دور میں نظر آتی ہے تو زندگی کے ہرکردار میں بحسن وخوبی پورا اترنے کے لیے اس کی فطرت میں لکھ دیا گیا ہے۔عورت کی قربت میں جب تک ممتا کی آغوش کی نرمی نہ ملے وہ بھرپور نہیں ہوتی۔مرد کےاندرکا چھوٹا بچہ کبھی بڑا نہیں ہو پاتا وہ ہر رشتے،ہر تعلق میں پہلے اپنے اندر کے چھوٹےبچے کومطمئن کرتا ہے پھر آگے بڑھتا ہے۔
ایک رشتے کے حصار میں آنے والامرد زندگی کے میلے میں گھومنے والے چھوٹے سے بچے کی مانند ہے جو اپنے بڑوں کا ہاتھ پکڑ کرمیلے میں جاتا ہے،مختلف اقسام کی رنگ برنگی اشیاء اُسے اپنی جانب کھینچتی ہیں،وہ ہاتھ چُھڑا کر بھاگنا چاہتا ہے تاکہ اپنی مرضی سے ہرطرف گھوم پھر سکے،ہر شے کو حسرت بھری نگاہ سےدیکھتا ہے۔لے جانے والے اُسے مطمئن کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، اُس کی خواہشات کا ہر ممکن خیال رکھا جاتا ہے،کسی شے کی کمی نہیں ہونےدی جاتی۔لیکن اُس کا دل بھی اُس کی طرح ضدی ہے، اپنی بات پر اڑا رہتا ہے،خیرخواہ دشمن دِکھتے ہیں جو زندگی کا بھرپور لُطف نہیں اُٹھانے دیتے۔وہ لڑتا جھگڑتا بھی ہےپرکبھی گرفت اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ فرار ناممکن ہو جاتا ہے۔اچانک ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ گرفت کمزور پڑ جائے یا پھر کسی خواہش یا ہوس کی حدّت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ سب راکھ ہو جاتا ہے۔وہ اپنے نفع نقصان کی پرواہ کیے بناء ہاتھ چُھڑا لیتا ہےتوکبھی بغیر کسی خواہش کے بھی ہاتھ چھوٹ جاتا ہے۔ یہ ایک نئی کہانی کا نقطۂ آغاز ہے۔اب وہ اپنی مرضی سے ہر جگہ جانے کے لیے آزاد ہوتا ہے۔جب وہ اپنے طور پر گھومنا چاہتا ہے تو کہیں اونچے دروازے اُس کی راہ میں رُکاوٹ بنتے ہیں کبھی اپنی ضروریات پوری کرنے سے قاصر رہتا ہے کہ اسے ہر قدم پر سہارے کی عادت جو تھی۔وہ مہربان ساتھ جو اُس کی خواہشات کی تکمیل میں ہر گھڑی اس کے ہم قدم تھا اب زندگی کے میلے میں کھو چُکا۔ وہ ننھا سا بچہ ہرشکل میں اُس کو ڈھونڈتا ہے اورکسی کوظاہر بھی نہیں ہونے دیتا مبادا کسی کو اُس کے اکیلے پن کا پتہ نہ چل جائے۔وہ راستے کی بُھول بُھلیوں میں بھٹک کر بھی سر اونچا کر کے چلےجاتا ہے اپنے خول میں بند۔۔۔ لیکن اندر سے غیر محفوظ ۔
عورت پہلے زندگی کی بازی ہارجائے تو وہ مرد کے لیے ایسے دانت کی مانند ہوتی ہے جس کی موجودگی کا اُسے قطعاً کوئی احساس نہیں ہوتا۔۔۔ لذتِ کام ودہن کے لیے اس دانت کووہ ایک اوزار سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ اُسے کبھی خیال نہیں آتا کہ کسی سخت ترین چیز کو توڑنے کے لیے اس دانت کوکتنی اذیّت برداشت کرنا پڑتی ہے؟وہ اپنی زندگی جیتا ہے،اُسےصرف اپنےٹھنڈے گرم سےغرض ہوتی ہے۔۔۔یہ جانے بغیرکہ شدید ٹھنڈا یا تیز گرم اس دانت کے لیے کس قدرنُقصان دہ ہے؟۔ صبح شام بُرش کرکے وہ سمجھتا ہے کہ اُس نے اپنا فرض پورا کر دیا ہے۔۔۔اُس نے کبھی اُسکی رگوں میں اُتر کر نہیں دیکھا کہ وہاں کس چیز کی کمی ہو رہی ہے؟بالاآخرجیسے ہی وہ سخت جان جُدا ہوتا ہےعین اُسی لمحے مرد پرآگہی کے در وا ہو جاتے ہیں۔جس چیزکی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے ایک خالی جگہ اُسے پیچھے دھکیل دیتی ہے۔وہ اپنے آپ کومضبُوط جان کراس کمی پرقابو پانے کے لیےزورلگاتا ہے لیکن وہ مزاوہ لذّت اُسے کبھی نہیں ملتی۔ یہ احساس اُسے کچوکے دیتا رہتا ہے کہ اگرذرا احتیاط کرتاتومیرا ہی فائدہ تھا۔
نوٹ: یہ احساس بھی ہرکسی کا مُقدرنہیں کُچھ نادان یا بےحس پتھروں سے بھی گئے گُزرے ہوتے ہیں۔
اگر مرد پہلے داغِ مفارقت دے جائے تووہ عورت کے لیےایسے آکسیجن سلنڈر کی طرح ہوتا ہےجسے وہ اپنی پیٹھ پراُٹھائےاپنی عمر کے بند کمرے کے دائروں میں سفرکرتی ہے۔۔۔بالکُل کولہو کے بیل کی طرح۔جُدائی کی گھڑی میں جہاں وزن ہٹنے سے ایک ہلکے پن کا احساس ہوتا ہےگویا کششِ ثقل ختم ہو گئی ہو وہیں آکسیجن کے حصول کے لیےکھڑکی بھی کھولنا پڑتی ہے۔۔۔ایسی کھڑکیاں جن پر مُدتوں ہوا دستکیں دیتی رہی لیکن کبھی گُھٹن محسوس ہی نہ ہوئی۔ اب خود آگے بڑھ کرکھڑکی کھولی تو پتہ چلا کہ وہ دستکیں توخواب وخیال ہوئیں۔۔۔ اب تو تازہ ہوا کے جھونکوں کے ساتھ آلودہ فضا اور گرم لُو ہی مُقدر ہے۔
مرد اور عورت دونوں اپنی اپنی دُنیا کے بادشاہ ہیں۔ مرد کی بادشاہی اُس وقت تک ہے جب تک عورت کا وجود اُس کی زندگی میں جی حضوری کی صورت قائم رہےجبکہ عورت کی بادشاہی اُس وقت شروع ہوتی ہے جب مرد کا وجود ہمیشہ کے لیے نگاہوں سے اوجھل ہو جائے۔عورت کی بادشاہی جنگل کے اُس بڈھے شیر کی طرح ہے جو اپنا شکار بھی خود تلاش نہیں کر سکتا اور انا کے خول میں بھوکا پیاسا اندر ہی اندر مر جاتا ہے۔
حرف ِآخر!
دنیا کی ہر چیز ہر رشتہ اور ہرتعلق صرف برتنے اور پھر چھوڑنے کے لیے ہے۔کبھی ہم برتنے کے بعد اسے سمیٹنے کی جستجو میں خوار ہوتے ہیں تو کبھی اپنی گرفت میں سنبھالے رکھنے کی جدوجہد میں اسے کھو دیتے ہیں۔اکثر یوں بھی ہوتا ہے کہ ہم اس کی موجودگی اور اہمیت کے احساس سے ہمیشہ بےخبر رہتے ہیں تاوقت کہ وہ ہماری نظروں سے ہمیشہ کے لیے دور نہ ہو جائے۔وقت کو تھام لو اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے۔
2004 ، 30 جولائی

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں