سوموار, اکتوبر 29, 2012

"سرکاری ملازم"

 زندگی اور کام
کام مکمل کرنے کے لیے زندگی کی دُعا نہ مانگنا بلکہ کام کرنے کے لیے زندگی مانگنا۔ کیونکہ کام اگر شروع کر لیے جائیں تو کبھی ختم نہیں ہوتے۔جوں جوں زندگی کا سفر آگے بڑھتا ہے۔۔۔فائلوں کے انبار جمع ہوتے چلے جاتے ہیں۔ہم کام کے اوقات میں پورا کام کرتے ہیں۔۔۔اوورٹائم بھی لگاتے ہیں لیکن کام ہیں کہ ختم نہیں ہوتے۔پھر یوں ہوتا ہےہم تھکنے لگتے ہیں۔۔۔پریشان رہتے ہیں۔۔۔کیا ہے یہ زندگی؟کبھی آرام بھی ملے گاجب ہم اپنی مرضی سے کچھ وقت گُزارسکیں۔
اسی بھاگ دوڑ میں واپسی کی گھنٹیاں سنائی دینے لگتی ہیں۔بات یہ نہیں کہ اپنی مشقت کی قیمت نہیں ملتی بلکہ ہمیں ہماری اہلیت کےمطابق مراعات ملتی رہتی ہیں۔سب نیت پر ہے کہ اچھی ہو گی تو اچھا پھل ملے گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی چادر سے زیادہ پاؤں پھیلا لیتے ہیں اور پھرگردشِ زمانہ کا گلہ کرنے لگتے ہیں یا پھرصرف اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے کام شروع ہی نہیں کرتے۔اپنی طرف سے جائز بھی ہوتے ہیں کہ کسی کام کی قدر نہیں۔۔۔کسی شے کو دوام نہیں۔۔۔ سب کھیل تماشا ہے تو دل لگانا۔۔۔ محنت کرنا۔۔۔ کیا معنی رکھتا ہے.اپنے آپ کو چھوڑ کر دوسروں کے طرززندگی پرنظر رکھنا ہمارا کام بن جاتا ہے اور یہ کام کبھی مکمل نہیں ہوسکتا اور نہ ہوتا ہے۔عمریں بیت جاتی ہیں کردار بدل جاتے ہیں اور کام ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ منتقل ہوتا جاتا ہے۔ہمیں صرف اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔ کسی دوسرے پر نگاہِ غلط ڈالنے کو حرام جانیں گے تو خود بھی سُکھی رہیں گے اور دوسرے بھی آزاد رہیں گے۔ہم سرکاری ملازم ہیں۔اِس سے آگے ہمیں اور نہیں سوچنا۔ لیکن ہوتا یہ ہےکہ ہم اپنےآپ کوایک عام نظرآنے والے 
سرکاری مُلازم کی طرح سمجھنے لگتے ہیں۔ ایک چھوٹےگریڈ کا کلرک جو'نوسے پانچ' کی نوکری کرتا ہے چھوٹے سے کوارٹرمیں رہتا ہے۔۔۔ مالی پریشانیوں کا شکارہوتا ہے۔۔۔ خرچے پورے کرنے کے لیے آمدنی کے ناجائز ذرائع تلاش کرتا ہے۔۔۔ جواز بھی دیتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں واقعی اُس کی چادراُس کے خیال میں چھوٹی ہوتی ہے۔۔۔سر ڈھانپو تو پیر باہر نکل جاتے ہیں۔ اگر ضمیر کا قیدی ہو تو شام کو پارٹ ٹائم اور رزق ِحلال کے لیے شفٹوں میں کام کرتا ہے،سرکاری نوکری کے اوقات میں ڈنڈی بھی مارتا ہے۔غرض یہ سب کرنے کے باوجود وہ اپنی زندگی کے بوجھ تلےدبا ہی رہتا ہے۔۔۔ہمیشہ ناخوش۔۔۔ گھروالوں کے لیے اپنا آپ مار کے بھی اُن کو پوری طرح مطمئن نہیں کر پاتا۔
اس ساری اذیّت ساری مُشقت میں وہ اُس سرکارکو بھول جاتا ہے جس نے اُسے مُلازم رکھا تھا۔ اُسے کبھی توفیق ہی نہیں ہوئی سرکار کے سامنے اپنے مسائل کے انبار رکھے۔ وہ سوچتا ہےسرکار کا کام فائلیں بھیجنا۔۔۔ اُن کے اُوپر اُس سے کام کرانا اورمہینے کے آخر میں تنخواہ کا ایک چیک بھیجنا ہی سرکار اوراُس کا باہمی تعلق ہے۔آخر وہ ایک چھوٹے دماغ کا سرکاری مُلازم جو ہوا کہ جتنا وہ اپنا دماغ استعمال کرے گا اُتنی ہی کسی بات کو سمجھنے کی صلاحیت پیداکر پائے گا۔
اُسے کبھی پتہ ہی نہیں چلتا سرکار نے اُس کے لیے کیسے کیسے بونس ۔۔۔ کیسے کیسے الاؤنس ۔۔۔ کتنی ترقیّاں سنبھال رکھی ہیں ۔ سرکار کی شرط صرف ایک ہی ہےاپنی ڈیوٹی پوری دیانت داری سے سرانجام دی جائےاُس میں رتی برابر ذہنی یا جسمانی کمزوری نہ دِکھائی جائے۔سرکاربھی تو بےنیاز ہے کام سمجھا کر ہر چیز اختیارمیں دے دی ہے۔کوئی مداخلت نہیں۔۔۔کوئی روک ٹوک نہیں۔۔۔صرف اپنی موجودگی کا احساس ہے۔
حقیقت یہ ہے ہم سب سے اُونچے درجے کے سرکاری مُلازم ہیں۔ بات ماننے کی یہ ہے جتنا بڑا مرتبہ ہوگا اُتنا ہی اہم کام ہوگا۔۔۔ اُتنی ہی بڑی ذمہ داری ہو گی ۔۔۔اُتنے ہی زیادہ کام کے اوقات ہوں گے ۔۔۔اور اُتنی ہی زیادہ نگرانی ہوگی۔ ہماری حیات کا ایک ایک لمحہ نگاہ میں ہے۔ سب ریکارڈ ہو رہا ہے۔ ہمارے لیے ایک پلیٹ فارم سیٹ کر دیا گیا ہے۔ ہمیں اسی پر چلناہے۔ کسی قسم کی غلطی کی کوئی گُنجائش نہیں ۔اپنے ہرعمل، ہر سوچ کا حساب دینا ہے۔اتنی سخت ڈیوٹی سرانجام دینے کے دوران سرکارکی عنایات نہ ہوں تو ہم مرنے سے پہلے مرجائیں ۔ یہ مالک کا کرم ہے کہ وہ ہماری خطاؤں سے درگُذر کرتا ہے۔ اگر ہم خلوصِ نیت سے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔۔۔ اپنی خواہشوں کے گھوڑے کو لگام ڈال دیں۔ تواُس کا وعدہ ہے کہ وہ ہمیں اس سے کئی گُنا بہترعطا کرے گا۔
مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتاہےجب ہم دُنیا کی فانی لذت کی خاطرآخرت کی ابدی عطا کو فراموش کردیتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری پیاس اس دُنیا میں ہی  بُجھ جائے۔غورکرنےکا مقام یہ ہے اگر ہم نے اس دنیا میں ہی سب حاصل کر لیا تو وہاں جا کر کس منہ سے اپنے اللہ سے اپنی من چاہی چیز طلب کریں گے۔
ہم سب سرکاری ملازم ہی تو ہیں اور جو محدود وقت دیا گیا اُسی میں سے اپنے لیے کچھ ڈنڈی مارتے ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ دُنیا کے مالک کچھ نہ جانتے ہوئے بھی بہت بےرحم ہیں تو سب کا مالک جانتے بوجھتے بھی ڈھیل دیئے جاتا ہے۔ یہ سوچ کی دولت بھی اُسی نے دی۔اب اس کو سوچ سمجھ کر خرچ کرنا فرض ہے۔

2 تبصرے:

  1. 13جون 2015
    حسن یاسر نے کہا
    جب تک سختی ناں ہو نگرانی ناں کی جا رہی ہو ہم اپنے کام کی طرف آمادہ ہی نہیں ہوتے۔ آدھی عقل کے لوگ ہیں جانتے ہیں سمجھتے نہیں۔ دیکھ کر بھی نہیں مانتے ۔اگر اس دنیا میں اچھا کام کرنے کے لیے وہ افسران جو خود کائنات کے سب سے اعلیٰ افسر کے ملازم ہیں ہماری ترقی کر سکتے ہیں ہماری محنت کا صلہ دے سکتے ہیں تو وہ جو رگ جاں سے بھی قریب ہے جو دل میں پیدا ہونے والی خواہشات اور ذہنوں سے جھانکتے سوالوں تک کو جان لینے کی قدرت رکھتا ہے اس کے ہاں ہماری سعی کا محنت کا اجر کیا ہو گا۔اور دنیا میں کامیابی کے جو معیار ہم نے طے کر رکھے ہیں وہ تو گویا صحرا کی ریت پر نقش پا کا عکس ہیں ان کا پیچھا کرنے سے راستہ کہاں ملے گا الٹا اپنا وجود تیز جھلسا دینے والی دھوپ کے رحم وکرم پہ آجائے گا۔بس ہم جانتے ہیں سمجھتے نہیں اور آدھا علم خطرناک ہو جاتا ہے ..

    جواب دیںحذف کریں

"معلوماتِ قران"

٭لفظ قرآن، قرآن مجید میں بطور معرفہ پچاس(50) بار اور بطور نکرہ اسی(80) بار آیا ہے ۔یعنی پچاس بار قرآن کا مطلب کلام مجید ہے اور اسی بار ویس...