جمعرات, اکتوبر 25, 2012

''ہماری خوشیاں ہمارے غم"

"خوشیاں بانٹنے سے دُگنی ہوتی ہیں اورغم بانٹنےسےآدھے رہ جاتے ہیں"
یہ بات سوفیصد دُرست ہے پریہ سچائی اتنی کڑواہٹ رکھتی ہے کہ اس کا ذائقہ چکھنا سخت نادانی ہے۔ پہلے آتے ہیں خوشیوں کی جانب،خوشی میں انسان اتنا بےخود ہوتا ہے کہ کسی کو اس رقص میں شامل کرے یا نہ کرے سب خود اس کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض خلوص سے آگے بڑھتے ہیں تو بعض رشک سے یا پھر حسد وبُغض کے مخملی لبادے پہن کرسامنے آتے ہیں۔جوبھی ہے ایک ہجوم ِعاشقاں انسان کومرکزِ نگاہ بنا لیتا ہے۔
غم کے حوالے سے  پہلے تویہ طے ہوکہ غم کیا ہے اورغم کیوں؟ اگرہرچیز مُنجانِبِ اللہ ہے تو آنکھ کے آنسو اوردل کی بےچینی بھی اُسی کی عطا ہے۔ جب ہم خوشی کو سنبھال سنبھال کر نہیں تھکتے توذرا سی تکلیف بلکہ ابدی زندگی کےمقابلےمیں ایک پل کی خلش بھی گراں کیوں گزرتی ہے۔ مان لیا کہ ہم انسان ہیں، اورانسانوں میں رہتےہیں اورمشکل وقت میں اُن کی طرف ہی دوڑتے ہیں لیکن جب ہم بہت سوچ کرصرف اپنےغمگُسار دوستوں کے حلقے میں کوئی بات کریں تو یہ بھی بہت بڑا سراب ہے۔ہمارا پیارا اُس درد کو بالکُل ایسے ہی محسوس کرے گا جیسے اُس پریہ سانحہ گُزرا ہے۔ ہماری آنکھوں سے ٹپکنے والےآنسو اُس کے دل پر اثرانداز ہوں گے۔ ہم خود تو بہت ہلکے پُھلکے ہوجائیں گے لیکن ذرا غورکریں تو ہم نے اپنی محرومی کا ایک حصہ اپنے ہنستے مُسکُراتےدوست کو دے کراُسےاُداس کردیا۔ یہی ہے ہماری محبت،یہی ہے ہمارا خلوص۔ بات بظاہرچھوٹی سی ہےلیکن غور کیا جائے تو بہت بڑی ہےدُنیا میں لوگ ہمیں ڈسٹ بِن کی طرح استعمال کرتے رہے جب ہمارا وجود مایوسی کے کثیف انبار سے بھر گیا تو ہم نے وہی ڈسٹ بِن اپنے دوست کے سر پر اُلٹ دیا۔ یہ ہے ہمارا فہم؟یہ ہے ہمارا شعور؟۔
"ہمیں اپنے دوستوں کوڈسٹ بن کی طرح نہیں بلکہ پھولوں کے گُلدستےکی طرح سنبھال کررکھناچاہیےاوراس میں اپنی چاہت کے خوش رنگ پھولوں کا اضافہ کرتے رہناچاہیے۔ضمنی سی بات ہےکہ پھول کے پاس کانٹےلازمی ہیں تو دوست جب اِن کانٹوں کو بھی دل سے لگائیں گے تو ہمارے وجود میں پیوست نادیدہ سوئیاں خود بخود ہی نکل جائیں گی"۔
اہنے ذاتی مسائل سے نپٹتے ہوئے ہر وہ غم ،پریشانی یا صدمہ جو ناقابلِ برداشت دِکھائی دے اِسے اپنے دماغ کی فائلوں میں محفوظ کر لیں یا دوسرے لفظوں میں ڈاؤن لوڈ کر لیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم خوشی ہو یا غم ہر فائل کو اُسی وقت دیکھنے کی لت کا شکار ہیں۔۔۔غم اگر مجبوری ہے تو خوشی ہوس بن جاتی ہے۔اور کچھ نہیں تو اپنے انٹرنیٹ سے سبق سیکھیں جہاں فیس بک یا گوگل پلس کے ہوم پیج پر آنے والے عکس اور لفظ نظر کے سامنے سےگزرتے رہتے ہیں۔۔۔کسی کے سیاق وسباق میں ذرا دیر کو دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے۔۔۔ زیادہ ہی اچھا لگے اور وقت نہ ہو تو بک مارک لگا کر آئندہ پڑھنے کو محفوظ کر لیتے ہیں۔۔۔جب دل کسی کو اس احساس میں شریک کرنے کی خواہش کرے تو فوراً شئیر کرنا چاہتے ہیں۔۔۔اپنی بات لگے تو اس کے ساتھ اپنا احساس بھی شامل کر دیتے ہیں۔۔۔جب دل کسی صورت اس سے جدا ہونے پر آمادہ نہ ہو تو اپنے پاس رکھنے کے لیے ڈاؤن لوڈ کر کے سنبھال لیتے ہیں۔ ہم یہ سب محض انگلی کے ہلکے سے لمس سے جب چاہیں کر سکتے ہیں۔ بالکل یہی سبق ہماری زندگی کہانی کے لیےبھی ہے کہ محض سوچنے کے انداز میں تبدیلی سے ہم کسی بھی ناقابلِ برداشت یا لاحل مسئلے کو برداشت کرنے اور کسی حد تک سمجھنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔جو ہو چکا یا ہو رہا ہے اِسے بدلنا ہمارے اختیار میں نہیں ۔ 

دُنیا میں ملنے والی ہرآسائش ہرآسانی باعثِ سکون نہیں ہوتی اور دُنیا میں ملنے والی ہر پریشانی،ہر تنگی باعثِ آزار نہیں ہوتی بظاہر وہ کتنی ہی خوشنما یا بدنما نظر آ رہی ہو۔صرف وقت ہی ہے جو ہمیں ہر  احساس،ہر چیز کی اصلیت سے آگاہ کرتا ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ دُنیا میں کسی بھی شے کو دوام نہیں۔عام گاڑی کی طرح زندگی کی گاڑی کو چلانے کے لیے بھی ایندھن درکار ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ خرچ ہوتا رہتا ہے۔ہماری خوشیاں ہماری محرومیاں ایندھن کی طرح ہیں گاڑی چلتی رہے تو اِن کی ضرورت کبھی ختم نہیں ہوتی۔مسئلہ تب پیدا ہوتاہے جب ایندھن نہ ملے پھر گاڑی نے تو رُک ہی جانا ہے، یہ کہیں بھی بند ہو سکتی ہے کسی مصروف سڑک کے درمیان یا کسی سُنسان موڑ پر، اندھیری رات میں کسی خطرناک علاقے میں یا پھر اپنے گھر کے محفوظ قلعے میں۔ اگر بروقت پتہ چل جائے تو انسان حفاظتی اقدامات کر سکتا ہے پر کبھی کبھی آنکھوں پر ایسا پردہ پڑ جاتا ہے کہ یک دم پتہ چلتا ہے کہ اب گاڑی آگے نہیں چل سکتی۔یہ وقت نہایت خطرناک ہوتا ہے۔ ایک صورت یہ بھی ہے کہ گاڑی میں ضرورت سے زیادہ ایندھن ہو یہ بھی مُہلک ہے۔ ہر شے ایک خاص تناسب میں ہو تو فائدہ مند ہوتی ہے۔اس میں کامیابیاں اورناکامیاں یکساں اہمیت رکھتی ہیں جیسے ترقی یافتہ ممالک میں جب انسان سب کچھ حاصل کر لیتا ہے تو اُس کے پاس رونے کو آنسو بھی نہیں بچتے - ہر شے اُس کے قدموں میں ہوتی ہے تو پھر بھی وہ ڈپریشن میں چلا جاتا ہے اور خود کشی کر لیتا ہے۔ اسی طرح کُچلے ہوئے پسے ہوئے لوگوں کے پاس تو لُٹانے اور گنوانے کوکچھ باقی نہیں بچتا تو وہ اپنی زندگی دے کر یہ آخری قرض بھی لوٹا دیتے ہیں۔
ہمارے مسئلے یا پریشانیاں پانی کی لہروں کی طرح ہیں اور اِن کے بیچ ہمارا وجود ایستادہ چٹان کی صورت رہنا چاہیے۔۔۔۔جسے پانی کی بپھرتی ہوئی موجیں ہر آن نم تو کرتی ہیں ۔۔۔مدوجزر سرتاپا شرابور بھی کر دیتے ہیں اور کبھی سونامی ہمیشہ کے لیے نگاہ سے اوجھل بھی کر دیتے ہیں لیکن ہمیشہ کے لیے فنا صرف مالک کا حکم ہے۔۔۔اُس کی مرضی ہے ۔۔اُس کے قائم کردہ وقت کی عدالت میں ہی یہ فیصلہ سنایا جا سکتا ہے۔ ہمیں نہ صرف دوسروں کی زندگی بلکہ اپنی زندگی میں بھی تقدیر کے کسی فیصلے کے خلاف ڈٹے رہنے کا اختیار نہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ آنے والے وقت میں آج کی خوشی کے پیچھے کیا غم پوشیدہ ہیں اور آج کے نہ بھولنے والے صدمات کے پہلو میں خوشیوں کی کون سی گھڑیاں منتظر ہیں۔
کسی بھی شے کے ملنے یا نہ  ملنے کی خوشی یا غم نہ ہونا ہی اصل کامیابی ہے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ ہمیں ملنے والی شے خوشی کا باعث ہو گی یا پھر ملنے والی محرومی واقعی اس قابل ہے کہ اس کا سوگ منایا جائے۔وقتی پسپائی ہمیشہ کی شکست کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں اور جس نے ہار کا ذائقہ نہیں چکھا وہ کبھی جیت کی ابدی لذت نہیں پا سکتا۔
 خوشی وہ جنس وہ دولت ہے جو کسی بھی وقت کہیں سے مفت تو مل سکتی ہے لیکن اُسے لوٹا نہیں جا سکتا۔ یہ بھیک مانگ کر تو مل سکتی ہے لیکن کسی سے چھین کر کبھی حاصل نہیں کی جا سکتی ۔
 خوشی بھرے ہوئے برتن کی طرح ہے حد سے بڑھ جائے تو چھلک جاتی ہے۔غم تو شرابور کر دیتا ہے اندر باہر سے۔۔ اگر اسے سمجھنے کا گر نہ آئے۔ انسان کو اگر معلوم ہو جائے کہ اس کو آئندہ کیا غم ملیں گے تو وہ ایک پل بھی زندہ نہ رہے اور اگر انسان کو یہ معلوم ہو جائے کہ آئندہ اُسے کیا خوشیاں ملنے والی ہیں تو وہ کبھی مرنے کے لیے تیار نہ ہو۔


1 تبصرہ:

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...