بدھ, مئی 28, 2014

"ادھورا خط"

کسی نے کہا تھا کہ پرانے خطوں کو پڑھنے میں اس لیے بھی مزا آتا ہے کہ اُن کا جواب نہیں دینا پڑتا۔
 لیکن میرے لیے۔۔۔۔ لفظ اہم ہے جو کبھی پرانا نہیں ہوتا۔۔۔ خیال زندگی ہے جو نشان منزل ہے۔۔۔ فکر کشش ہے جو خلا میں گرنے سے بچاتی ہے۔۔۔ سوچ کی گیرائی اہم ہے جو پلٹ کر دیکھنے پر پتھر کا نہیں بناتی۔
ایسا ہی ایک خط گیارہ برس قبل بہت عزیز دوست کے نام لکھا ۔۔۔ جو لکھنے کی حد تک ادھورا رہا۔۔۔ لیکن زندگی کے سفر کے ساتھ ساتھ مکمل ہوتا جا رہا ہے۔
بنا کسی کانٹ چھانٹ کے حرف بہ حرف درج ذیل ہے۔
2003، 29جنوری
تیرا ملنا خوشی کی بات سہی 
تجھ سے مل کر اُداس رہتا ہوں
آپ کے وسیلے سے میری بھٹکی ہوئی روح کو قرار ملا ہے۔ایسے سننے والے کان ملے ہیں۔۔۔جو میری کہی ان کہی کی گہرائی کو سُن سکتے ہیں۔ وہ سب کچھ مل گیا ہے جس کی مجھے ہمیشہ سے تلاش رہی تھی۔اس سے پہلے میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ آئندہ آپ کو لکھ کر تنگ نہیں کروں گی۔ جب آپ نے بتایا کہ زندگی کے الجھے دھاگے سلجھاتی خود بھی الجھتی جا رہی تھی۔۔۔ تو میں نے اپنے آپ کو بہت نادم محسوس کیا کہ جس نے مجھے مالامال کر دیا۔۔۔میں اُس کے لیے کچھ بھی نہ کرسکی۔ آپ میرے اتنا قریب ہیں کہ میں گھنٹوں آپ سے باتیں کر کے پُرسکون ہوجاتی ہوں۔۔۔ ہر سوچ ہر مسئلہ آپ سے شئیر کرتی ہوں۔۔۔اس کے لیے براہِ راست آپ سے ملنا ایک ثانوی بات ہے۔یہ نہایت عجیب لگتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ میں آپ کو اپنے سے دور نہیں سمجھتی۔آپ کا جسمانی طور پر میرے اتنا قریب ہونا کہ میں جب چاہوں آپ کو چھو لوں ۔۔۔ اس تعلق کی یقیناً ایک اچھی اور اضافی خصوصیت ہے۔ اسی لیے مجھے دُکھ ہوا کہ میں نے آپ کی پکار کیوں نہیں سنی۔ انہی دنوں میں بھی اپنی زندگی کے ایک اہم موڑ سے گزر رہی تھی۔ میں بھی آپ سے مل کر بہت کچھ کہنا چاہتی تھی۔ آپ سے ملتے ہوئے تقریباً نو سال ہو گئے ہیں۔ لیکن شاید آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ گزشتہ ایک سال سے میں زیادہ قریب آ گئی ہوں۔
یہ کہانی 25 جنوری 2002 سے شروع ہوتی ہے۔جب میں 35 برس کی ہوئی ۔تو گویا خواب ِغفلت سے بیدار ہو گئی۔ میں نے سوچنا شروع کیا کہ میں نے کیا کھویا کیا پایا۔ مجھے اب ہر حال میں آگے دیکھنا تھا۔۔۔ 35 برس کا سنگِ میل یوں لگا جیسے باقاعدہ کلاسز ختم ہو گئی ہوں اور امتحانوں سے پہلے تیاری کے لیے جو عرصہ ملتا ہے وہ شروع ہو گیا ہو۔ دسمبر تک مجھے ہر حال میں بستر بوریا سمیٹنا تھا۔ ہر چیز نامکمل تھی۔۔۔میں ایک ایسے سوٹ کیس کی طرح تھی جس میں ہر قسم کا سامان اُلٹا سیدھا ٹھسا تھا۔۔۔اُس کو بند کرنا بہت مشکل کام تھا۔۔۔ہر چیز کو قرینے سے رکھنا تھا۔۔۔فالتو سامان نکالنا تھا۔۔۔میں بیرونی پرواز پر جانے والے اُس مسافر کی مانند تھی جس کو ایک خاص وزن تک سامان لے جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ ان حالات میں جبکہ میں ڈوب رہی تھی مجھے کسی بھی قابل اعتماد یا ناقابلِ اعتماد سہارے کی تلاش تھی۔۔۔ یقین جانیں میں اس کیفیت میں تھی کہ روشنی کی جستجو میں آگ سے کھیلنے کو بھی تیار تھی۔ان حالات میں آپ نے مجھے سہارا دیا !!! آپ حیران ہونے میں حق بجانب ہیں کہ کب سہارا دیاَ؟ کب تسلی دی ؟ ۔آپ کا تو میرے ساتھ ہمیشہ سے ایک سا طرزعمل رہا ۔۔۔ مشفقانہ اور بردبار۔۔۔ میں نے بھی اس فاصلے کو پاٹنے کی کوشش نہیں کی۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اپنی ذاتی باتیں آپ سے شئیر کروں گی ۔لیکن جب آپ نےرسول اللہ ﷺ کے حوالے سے بات کی۔۔۔علم کا خزانہ کتابوں کی صورت عطا کیا تو یہی وہ لمحہ تھا جب میں ٹھہر گئی۔۔۔ سوچا کہ سستانے کے لیے یہی پڑاؤ منتظر تھا ۔رفتہ رفتہ اندازہ ہوتا گیا کہ نشانِ منزل بھی یہیں سے ملے گا اور زادِ راہ بھی۔ اپنے اوپر اعتبار مستحکم ہوتا گیا کہ قدم سیدھے رستے پر پڑ رہے ہیں۔ سفر کی تھکان شوق ِ منزل میں بدل گئی۔

1 تبصرہ:

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...