بدھ, نومبر 23, 2016

"خاتونِ خانہ،کھانا اور اہلِ خانہ"

اس "دشت کی سیاحی" میں ایک طویل سفرِ لاحاصل گذار کر  بھی عورت گھر کے کارخانے میں ایک مشین سے زیادہ کچھ وقعت نہیں رکھتی۔جسے اپنی رفتار اُس مشین کو چلانے والوں کے حساب سے ایڈجسٹ کرنا پڑتی ہے۔لیکن چاہے کوئی مانے یا نہ مانے عورت گھر کے نظام کی سب سے طاقتور اکائی ہے، وہ غیرمحسوس طریقے سے افرادِ خانہ کی پسند ناپسند اپنی اہلیت اور سوچ کے مطابق موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
سب سے پہلے بچوں سےشروع کیا جائے تو بحیثیت ماں بچوں کے رویے بنانا مکمل طور پر اس کے ذمے ہے۔گرچہ بچے کے مزاج اور خواہشات پر گھر کے ماحول اور خصوصاً باپ کے خصائل وعادات بھی اثرانداز ہوتے ہیں لیکن ماں بچے کی پہلی درس گاہ یا انسپریشن ضرور ہے۔معذرت کے ساتھ کہوں کہ اگر ماں چٹوری اور کھانے پینے کی شوقین ہوگی تو کیسے وہ اپنے بچے کی عادات میں سادگی کی امید رکھ سکتی ہے۔عمر کے پہلے سال سے ہی گھر کی بنی چیزوں اور سب کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھ کر عام کھانا کھانے والے بچوں میں یہ فرق نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
بچوں کو شروع سے ناشتے میں خالص گھی سے چپڑی ہوئی سادہ روٹی یاپراٹھوں کی عادت باآسانی ڈالی جا سکتی ہے،بچپن کی یہ عادت ہمیشہ کے لیے راسخ ہو جاتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بچی ہوئی یا سوکھی روٹی پانی لگا کر تلنا اور کسی بھی سبزی میں آٹا گوندھ کر اس کے پراٹھے بنا کر بچوں کو کھلائے جا سکتے ہیں۔چھوٹے بچے مکمل طور پر ماں باپ کی عادتوں پر انحصار کرتے ہیں۔ جیسے جیسے بڑے ہوتے جائیں ان کے رویے تو بدلتے ہیں لیکن بنیادی عادات اپنی جڑیں گہری کر لیتی ہیں۔بڑھتے بچوں کے ساتھ ماں کا رویہ قدرے بدل جاتا ہے کہ بچوں کے پاس صرف ایک ماں ہی تو ہوتی ہے جس سے وہ جھگڑتے اور نخرہ کرتے ہیں اور زندگی کی بھاگ دوڑ میں صرف یہی وقت ہی اُن کے سکون کا ہوتا ہے۔ آنے والی زندگی میں معاشی اور معاشرتی مسائل انہیں سر کھجانے کی فرصت نہیں دیتے۔ اب یہاں بیٹوں اور بیٹیوں کے حوالے سے ماں کے رویے میں فرق بظاہر بہت نامناسب بلکہ سخت قابلِ اعتراض دِکھتا ہے خاص طور پر جب بیٹی بھی کہے کہ آپ کے شہزادے ہیں کہ نہ تو چھٹی والے روز جلدی اٹھنے کا کہتی ہیں اور نہ ہی کسی خاص کھانے پر اصرار کرتی ہیں۔ ماں بغیر بحث کیےسنی ان سنی کر جاتی ہے۔ اب کیا کہے کہ بیٹیوں نے گھر سنبھالنا ہوتا ہے اُن کی عادات سنوارنے کے لیے ان پر جبر کرنا پڑتا ہے جبکہ بیٹوں کو کسی اور انداز سےاپنے ڈھب پر لایا جاتاہے۔مردوں کا ایک خاص جملہ جو عورتیں بھی بڑے فخر سے کہتی ہیں کہ وہ تو پانی بھی اٹھ کر نہیں پیتے،کھانا پکانا یا کچن میں جانا تو دور کی بات ہے۔ دیکھنے میں تو یہ مرد کی خوبی ہے لیکن دراصل مرد کی کمزوری ہے کہ وہ اپنی بھوک پیاس مٹانے کے لیے دوسروں کا محتاج ہے اور وہ بھی کسی عورت کا۔ مانا کہ مرد کے ذمے کمانا اور گھر کے کام کرنا عورت کے فرائض ہیں۔ لیکن رشتوں کی قیمت پر گھر کی عورت خانساماں اور ماسی نہیں۔اور کیا ہم اپنی زندگی میں کسی کی بیٹی کو اس لیے بھی شامل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے مؤدب غلام کی طرح کھانے کی ٹرے سجا کر پیش کرے۔ دیکھا گیا ہے کہ جب بچے اپنے باپ کا ایسا طرزِ عمل دیکھتے ہیں تو وہ پہلے پہل اپنی بہنوں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کرتے ہیں، اپنی زندگی میں توبعد کی بات ہے۔بیٹیوں کی طرح بیٹوں کو بھی کچھ نہ کچھ کھانا بنانا ضرور آنا چاہیے کہ جب ضرورت پڑے تو وہ اپنے لیے تو کچھ بنا سکیں۔۔ ہلکے پھلکے انداز میں بچوں کے حوالے سے بات کو سمیٹوں تو بڑے بلکہ بہت بڑے ہو کر یہی بچے اپنی ماؤں کو زیادہ تر کھانے کےحوالے سے ہی تو یاد کرتے ہیں۔۔۔۔وہی کھانا جسے بچپن میں بنا کسی خاص لگاؤ یا ترغیب کے بس کھا لیا جاتا تھا۔
دوسری طرف ایک وہ کلاس ہے جہاں خاندان کےساتھ چھٹی کے روز یا شام کی سب سے بڑی تفریح نت نئے ریستوران میں کھانا کھانے جانا ہوتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ مست پھرتے ماں باپ نہیں جانتے کہ وہ اپنے بچوں کی عادات میں کس زہر کی آمیزش کر رہے ہیں۔ باہر کے چٹخارہ دار کھانوں کی مشکوک غذائی نوعیت اور ان کے اصراف سے ہٹ کر ایک اہم خرابی تو یہ ہے کہ بچوں میں  والدین کے محنت سے کمائے گئے روپے پیسے کا درد ختم ہوجاتا ہے۔ دوسرےمعاشرے میں عام لوگوں کی تکالیف اور ان کی بھوک پیاس سے بےحسی طاری ہوجاتی ہے۔گھر سے باہر اپنے خاندان کے ساتھ سیروتفریح کرنا اور کبھی کبھار باہر کے کھانے کھانا بری بات نہیں لیکن اسے عام سمجھ کر معمول بنا لینا نہایت غلط رویہ ہے۔ایسے  رویے آگے چل کرایسی پُختہ عادتوں میں بدل جاتے ہیں جو  نسلوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے بگاڑ کا سبب بنتی ہیں۔
اب بات کروں گھر کے کرتادھرتا، گھرکے مرد کی ۔۔۔جس کی عمر کے اس دور تک آتے آتے عادات پکی اور ذہنیت پختہ ہو چکی ہوتی ہے اسے اپنے سانچے میں ڈھالنا تقریباً ناممکن ہی ہوتا ہے۔رہی بات سادہ کھانے پکانے اور بنانے کی تو اس کے لیےغیرمحسوس طریقے سے راہ ہموار کرنا پڑتی ہے۔ وہ عورت ہی کیا جو ایک مرد کو نہ بدل سکے، مرد بھی وہ جو صرف چند گھنٹوں کے لیے گھر کی دنیا میں داخل ہوتا ہے۔مرد کی پہلی ترجیح گھر کا سکون ہے تو دوسری گھر میں پکا ہوا کھانا۔ اور یہ دونوں عورت کے اختیار میں ہیں بس اس کے لیے صرف اپنی انا،اپنی خواہشات اور اپنی زندگی میں اپنے وقت کی قربانی دینا پڑتی ہے۔عورت تو وہ ہستی ہے جسے صرف چاہ کی نظر بھی نہیں بلکہ اس کا احساس ہی کافی ہوتا ہے جس کے عوض وہ اپنی ساری زندگی بڑی خاموشی سے دان کر دیتی ہے۔اور اسی عورت کو جب ناقدری کا گہن لگ جائے یا ناسمجھی کی دیمک اس کے وجود میں گھر کر لے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی تباہ کر بیٹھتی ہے بلکہ خود سے وابستہ رشتوں کی پہچان بھلا دیتی ہے،بقول شاعر "گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے"۔
ایک گھر ایک خاندان کا آغاز کرتے ہوئے جب اپنا آپ کسی کے حوالے کر دیا تو اپنی عادتیں بھی کسی کے ساتھ شئیر کرنا پڑتی ہیں اور اسی طرح دوسرے کی عادات اپنانا ہوتی ہیں، یعنی ایک دوسرے کے رنگ میں رنگنے والی بات ہے۔ اب یہی اصل امتحان ہے کہ مرد وعورت کس طرح دوسرے کی بری عادتیں برداشت کرتے ہوئے اپنی اچھی عادتیں اس میں منتقل کریں۔مسئلہ یہ ہے کہ ہر چیز وقت مانگتی ہے اور عمر کا خراج چاہتی ہے۔اور انسان جلدباز واقع ہوا ہے یہ جلدبازی اس کی فطرت اور جبلت کا خاصہ ہے۔ زندگی کے سبق اکثر ہمیں زندگی گزار کر ہی سمجھ آتے ہیں اور اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

ہفتہ, نومبر 12, 2016

"ابنِ انشاء کی بزمِ انشاء "

"احوالِ محفل"
  اس سال 2016 میں ستمبر سے اکتوبر کے دوران  فیس  بک  کے ادبی گروپ" بزم یارانِ اُردو ادب "میں جناب ابنِ انشاء کو بطور مزاح نگار  خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے"بزم انشاء"سجائی گئی۔
وہ ابنِ انشاء جن کا نام ذہن میں آتے ہی شہرِدل میں"چاند نگر" کی چاندنی اُترتی ہے تو احساس"دلِ وحشی" کی طرح کچی اور پکی عمر کا تفاوت بھول کر"اس بستی کے اِک کوچےمیں"رقص کرنے کو مچلتا ہے۔وہ جو کہتے ہیں نا کہ پہلی نظر اور پہلا احساس رگِ جاں میں یوں رچ بس جاتا ہے کہ بعد میں ہزار کوشش کر لیں وہ کبھی اپنی جگہ نہیں چھوڑتا۔ سو ابنِ انشاء کے لفظ کی خوشبو سے ربط ان برسوں کی کہانی ہے جسے کچی عمر کہا جاتا ہے لیکن!یہ سچ ہے کہ کچی عمر کی بارشیں روح وجسم پر لگنے والے پکے رنگ تاعمر نہیں مٹا پاتیں چاہےوہ محبتوں کی حدت کے ہوں یا نفرتوں کی شدت کے۔
ابنِ انشاء کی شاعری جہاں قاری کوخواب،اداسی اورنغمگی کے چاندنگر میں لے جاتی ہے وہیں اُن کی مزاح نگاری،سفرنامہ نگاری،بچوں کے لیے لکھی نظمیں،کالم اور تراجم ہمیں عجب جہانِ حیرت کی سیرکراتے ہیں۔
محض اکیاون سال (1927.1978)کی عمرِفانی میں وہ پڑھنے والوں کے لیے زندہ ادب تخلیق کر گئے۔ابنِ انشاء کی ہمہ گیر شخصیت کی طرح اُن کی تحاریر کی بھی کئی جہت ہیں۔ شاعری کے نقشِ اول سے شروع ہونے والا سفر سفرناموں،مزاحِ،ذاتی خطوط اور پھر اخباری کالمز کی سمت جا نکلتا ہے۔جناب ابنِ  انشاء نے اپنے دردِدل کو اگر "چاندنگر"،"اس بستی کے اِک کوچے میں" اور  "دلَ ِوحشی" کا جامہ پہنایا  تو آنکھ میں اترنے والی نمی کو خوبی سے کیموفلاج کرتے ہوئے  "آپ سے کیا پردہ"(اخباری کالم )،"خمارِگندم" (مضامین) اور"اُردو کی آخری کتاب"(طنزیہ مضامین)  میں معاشرے کی کمیوں  کجیوں کو شستہ طنز ومزاح  کے قالب میں پیش کیا۔ابنِ انشاء کا مزاح ہر دورمیں اسی دور کی کہانی کہتا محسوس ہوتا ہے،اُن کے مزاح اور اس سے بڑھ کر لطیف طنز کی ایک اور خاص بات اُس کی گہرائی اور کم سے کم الفاظ میں کاری وار کرنا ہے۔شاعری اور مزاح نگاری  کے ساتھ ساتھ آپ کے تحریر کردہ  منفردسفرنامے "چلتے ہو تو چین کو چلیے،دُنیا گول ہے،نگری نگری پھرا مسافر، آوارہ گرد کی ڈائری اورابنِ بطوطہ کے تعاقب میں" پڑھنے والوں کو نئی دنیاؤں کی سیر کراتے ہیں تو  دوستوں اور احباب کو لکھے گئےخطوط "خط انشاء جی کے" خوبصورت نثرنگاری اورنامور ادیبوں کے ساتھ خاص ربط کی کہانی کہتے ہیں۔
محترمہ بانوقدسیہ "راہِ رواں"  میں لکھتی ہیں " وہ مثبت شیشوں کی عینک" لگائے رکھتے تھے"۔۔۔۔ یہ بات سوفیصد درست ہے تو اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ابنِ انشاء کے  قریب رہنے والےعینک کے بغیر  دیکھتے تو ایک اُداس، دل گرفتہ  اورناکام شخص دکھائی دیتے جس کی خانگی زندگی گرپےدرپے ناکامیوں سے عبارت تھی تو ادبی زندگی میں خوب سے خوب تر کی جستجونے چین سے بیٹھنے نہ دیا۔ اور"عشقِِ انشاء" کے کیا کہنے،ناکامیءعشق تو ان کے  کلام میں سوز وگداز  کی بنیاد ٹھہری۔ زندگی کے بچاس برسوں میں ایک بھرپور ادبی زندگی جینے والے اپنے عزیز دوست سے کہا کرتے کہ مجھے کسی نے نہیں پہچانا اور میرے بعد بھی  کون مجھے جانے گا۔۔۔
"بزم ِانشاء میں طرزِانشاء"۔۔۔
اپنے محبوب شاعر اور منفرد مزاح نگار کی یاد نگاری کرتے ہوئے بزم کے ساتھیوں کو"طرزِانشاء"میں طنزیہ یا مزاحیہ لکھنے کی دعوت دی گئی۔لکھنے والوں نےمعاشرے پر طنز کرتے ہوئے دل کھول کر لکھا اور سراہنے والوں نے بھی کُھل کر داد دی ۔
بزم انشاء طرز انشاء سے ہوتے ہوئے بزمِ مزاح نگاری" تک جا پہنچی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے رنگ سچے تھے کہ یہ ان احباب کی نوکِ قلم بلکہ کی پیڈ پر تھرکتی انگلیوں کی جُنبش سے وجود میں آئے تھے جو نہ تو مستند لکھاری ہونے کے دعوےدار تھے اور نہ ہی کسی غرض کے تحت اپنا احساس لکھتے تھے۔ وہ ایک پلیٹ فارم پر لکھاری ہونے کی عزت محسوس کرتے ہوئے معاشرتی رویوں کے گرداب اور سیاست کے حمام کی غلاظتوں کے بارے میں بلاجھجکے لکھتے چلے گئے۔ بس ایک ذرا سی کسک یہ رہی کہ جب ابنِ انشاء کی  مزاحیہ تحاریر یا طرزِتحریر کا حوالہ تھا تو جو بات انشاء جی نے سو سے بھی کم الفاظ میں کہی اسے کہنے میں یارانِ ادب نے "ہزار"الفاظ خرچ کر ڈالے۔بزم انشاء کے حوالے سے جہاں نہ صرف ابنِ انشاء کی تحاریر بلکہ ابنِ انشاء کے بارے میں  کئی خوبصورت  تحاریر پڑھنے کو ملیں وہیں  بہت سے لکھنے والوں کے لفظ سے شناسائی ہوئی اور  اردو زبان وادب کی محبت نے اپنا رنگ خوب جمایا۔
بزمِ انشاء میں ہم ایسے کچھ بےنام مبصر بھی تھے جو نامِِ انشاء کی کشش میں کشاں کشاں چلے آئے تو پہلے مرحلے میں اپنا تعارف اپنے انداز اور اپنے الفاظ میں سپردِقلم  کرنے کی گزارش کی گئی۔۔۔
بزمِ انشاء میں تعارف۔۔۔
"گرملنا چاہیں تو مجھ سے ملیے"
یہ دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ مجھے اپنے تعارف کا مرحلہ درپیش ہے۔تین برس پہلےکی بات ہے کہ اردو بلاگر ہونے کے ناطے ایک سوال نامہ "نورین تبسم سے شناسائی" ارسال کیا گیا جس کے جواب  پڑھنے والوں سے میرا پہلا تعارف ٹھہرے۔
"میں اور میں"
اس شہرِ خرد میں کہاں ملتے ہیں دِوانے
پیدا تو کرو اس سے ملاقات عزیزو
نام:نورین تبسم
سکونت:اسلام آباد
مقام: ماں
اہلیت:اہلیہ
مصروفیات:وہ تمام مصروفیات جو عام عورت کی ساری توانائی نچوڑ لیتی ہیں پھر بھی اسے کہا جاتا ہے کہ اس نے دنیا میں کچھ نہیں کیا۔
میں ایک بہت عام عورت ہوں ویسی ہی جیسے ہم اپنے آس پاس چلتے پھرتے دیکھتے ہیں۔میرا نہ کوئی ادبی پس منظر، کوئی ادبی حوالہ اور نہ ہی ادب کے حوالے سے "ڈگری" ہے،میں مستند لکھاری بھی نہیں۔ بس اپنی سوچ کو لفظ کا لباس پہنانے کی سعی کرتی ہوں۔جب سےانٹرنیٹ پر بلاگ کی جدید "سلائی مشین تک رسائی ہوئی تو تراش خراش پر ذرا سی توجہ ہے ورنہ بچوں کی استعمال شدہ کاپیوں کے دستیاب خالی صفحوں سے لے کر ان کے امتحانی پرچوں کے پچھلے سادہ اوراق سے "آمد" کی بےخودی میں لفظ کے" گڑیا پٹولے" کاٹنے اور "چُھپانے" کا سفر شروع ہوا۔ سامنے صرف اور صرف میری اپنی ذات تھی اور اب بھی ہے،کیوں نہ ہو۔۔۔پہلے ہم اپنے تن ڈھانپنے کا سامان تو کر لیں پھر کسی اور جانب نگاہ کریں۔
ہاں!!!عام کہنا لکھنا کسرِنفسی ہرگز نہیں کسی کاعام یا خاص دِکھنا صرف ہماری نگاہ کا ہیرپھیر ہے۔کبھی ہمارے ساتھ،ہمارے پاس اور ہمارے سامنے رہنے والے بھی ہمیں جان نہیں پاتے،سرسری گذر جاتے ہیں تو کبھی کہیں کوئی پل دو پل کو ملتے ہیں اور ان کہی بھی سن لیتے ہیں۔
اظہارِ ممنونیت۔۔۔
بزمِ انشاء کے میزبان جناب خرم بقا  نے  اس بزم میں "مہمانِ اعزازی" کی جگہ دی اور مجھ سے  میرا  ہلکا پھلکا تعارف بھی  لکھنے کو کہا  گیا اور میں جانے کیا کیا لکھتی چلی گی۔اورجو خرم بقا لکھتے ہیں!!!بس کیا بتائیں کیا نہ بتائیں کہ پڑھتے ہوئے کانوں سے دھواں نکلنے لگتا ہے اور انسان گھبرا کر آس پاس دیکھنے لگتا ہے کہ کسی کو دکھائی تو نہیں دے رہا۔ان سے شکوہ کرو تو کہتے ہیں "بہت ملفوف لکھتا ہوں ۔۔۔۔۔۔مزاح میں ایسا کرنا پڑتا ہے"۔ پھر پوچھتے ہیں یوسفی (مشتاق احمدیوسفی) کو آپ نے مکمل پڑھا ہے؟ اگر پڑھتیں تو مجھ سے یہ شکایت نہ کرتیں۔ شفیق الرحمٰن کی بات کرو تو کہتے ہیں،شفیق الرحمان کا مزاح یوسفی کے مقابلے  میں "نرسری رائم" ہے۔
"اب کیا کیا جائے کچھ لوگ پکی عمر میں بھی کچے ہی رہتے ہیں اور یا پھر کندذہن کہ نرسری رائم پر ہی ان کی سوئی اٹک جاتی ہے"
 ابنِ انشاء کی نظم سے اختتام کرتی ہوں
"کچھ رنگ ہیں "( دلِ وحشی ۔۔۔ابنِ انشاء)
کچھ لوگ کہ اودے ،نیلے پیلے ، کالے ہیں
دھرتی پہ دھنک کے رنگ بکھیرنے والے ہیں
کچھ رنگ چرا کے لائیں گے یہ بادل سے
کچھ چوڑیوں سے کچھ مہندی سے کچھ کاجل سے
کچھ رنگ بسنت کے رنگ ہیں رنگ پتنگوں کے
کچھ رنگ ہیں جو سردار ہیں سارے رنگوں میں
کچھ یورپ سے کچھ پچھم سے کچھ دکھن سے
کچھ اتر کے اس اونچے کوہ کے دامن سے
اک گہرا رنگ ہے اکھڑ مست جوانی کا
اک ہلکا رنگ ہے بچپن کی نادانی کا
کچھ رنگ ہیں جیسے پھول کھلے ہوں پھاگن کے
کچھ رنگ ہیں جیسے جھپنٹے بھادوں ساوں کے
اک رنگ ہے برکھا رت میں کھلتے سیئسو کا
اک رنگ ہے بر ہات میں ٹپکے آنسو کا
یہ رنگ ملاپ کے رنگ یہ رنگ جدائی کے
کچھ رنگ ہیں ان میں وحشت کے تنہائی کے
ان خون جگر کا رنگ ہے گلگوں پیارا بھی
اک وہی رنگ ہمارا بھی ہے تمہارا بھی
۔۔۔۔۔۔
ابنِ انشاء کی شاعری کے حوالے سے میرے احساس کے رنگوں کی جھلکیاں
  بلاگز "پھروہی دشت"اور"کیوں نام ہم اُس کا بتلائیں" میں ملتی ہیں۔

جمعرات, نومبر 03, 2016

"سندھی شاعر شیخ ایاز کے کچھ اقوال"

شیخ ایاز کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ 
 ٭1) شاعر فرشتہ نہیں ہے لیکن فرشتہ بھی تو شاعر نہیں ۔
٭2) اگر عورت اور شراب میں سے مجھے کسی ایک کو چننا پڑے تو میں شراب کو چنوں گا اور اگر شراب اور کتاب میں سے کسی ایک کو چننا ہو تو میں کتاب چنوں گا۔
 ٭3)اگر چکور چاند تک پہنچ گیا تو چاند چاند نہیں رہےگا اور چکور چکور نہیں رہے گا۔
 ٭4)پانی میں چاند کا عکس دیکھ کر مچھلی نے سوچا کہ میں چکور سے زیادہ خوش نصیب ہوں۔
٭5) کون زیادہ حسین ہے؟ شہکار یا اس کا فنکار؟
 ٭6)جس کی روح میں راگ نہیں اس کے راگ میں روح نہیں۔
 ٭7)فنکار کی شکست فن کی فتح ہے
٭8) شاعر نے فلسفی سے کہا، اگر تم فلسفی نہ ہوتے تو خدا کو مانتے۔ فلسفی نے شاعر کو کہا، اگر تم شاعر نہ ہوتے تو خدا کو نہیں مانتے۔
٭9)میں ماضی کے ماضی اور مستقبل کے مستقبل کا شاعر ہوں۔
٭10)شاعر کا مذہب فقط شاعری ہے۔
٭11)اے کاش! میں گمنامی میں جیوں اور گمنامی میں مروں۔ بدنامی اور اس سے بھی زیادہ نیک نامی شاعر کی تخلیقی انفرادیت کے لیے مہلک ہے۔
٭12)ہر شاعرِمحبت شاعرِانقلاب ہے۔ ہر شاعرِانقلاب شاعرِمحبت نہیں ہے۔
٭13)اگر میں تمہیں کہوں کہ میں نے خدا کو دیکھا ہے اور نہیں بھی دیکھا تو تم مجھے پاگل سمجھو گے۔ لیکن میں بھی تمہیں عقلمند نہیں سمجھوں گا۔
٭14) گلاب کے پھول پر اگر زیادہ بھنورے آجائیں گے تو گلاب کی خوشبو کم نہیں ہوگی۔
٭15) غالب کا گناہ اس کی شراب نوشی نہیں بلکہ قصیدہ نویسی تھا۔
٭16)چکور کی نظر سے دیکھو تو تمہیں چاند میں داغ نہیں نظر آئیں گے۔
اس پوسٹ کو شئیر کرتے ہوئے عثمان غازی  کا کہنا تھا ۔۔۔"نوٹ: اتفاق یا اختلاف ضروری نہیں ہے، خیال اور کیفیت شاید سوچ کے مختلف زاویوں کی طرح ہوتے ہیں، یہ بھی سوچ کا ایک خوب صورت زاویہ ہے"۔
جس کا جواب میں نے کچھ یوں دیا۔۔۔
۔"کسی خوبصورت سوچ کا زاویہ اگر ہماری سوچ سے مل جائے پھر احساس کی جگمگاتی کہکشاں تک رسائی خواب نہیں ہوتی، اس
پوسٹ کا ہر جملہ مکمل زندگی کہانی ہے اور ہر خیال کا لفظ لفظ دل میں اترتا محسوس ہو رہا ہے۔عورت,کتاب اور شراب کے حوالے سے جملے  پر یہ کہوں گی کہ عورت وہ نشہ ہے جو بنا پیے بنا چھوئے ہی مخمور کر سکتا ہے اور کتاب کا نشہ جس کو ایک بار مل جائے وہ پھر کبھی اس کے اثر سے باہر نہیں آ پاتا" ۔
۔۔۔۔۔
شیخ مبارک علی ایاز المعروف شیخ ایاز  کا مختصر تعارف
شیخ مبارک علی ایاز المعروف شیخ ایاز (پیدئش: 23 مارچ، 1923ء - وفات: 28 دسمبر، 1997ء) سندھی زبان کے بہت بڑے شاعر ہیں۔ آپ کو شاہ عبدالطیف بھٹائی کے بعد سندھ کا عظیم شاعر مانا جاتا ہے۔ اگر آپ کو جدید سندھی ادب کے بانیوں میں شمار کیا جائے تو بےجا نہ ہو گا۔ آپ مزاحمتی اور ترقی پسند شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ کی پیدائش 23 مارچ، 1923ء کو شکارپور میں ہوئی۔ آپ نے درجنوں کتابیں لکھیں اور سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ آپ نے "شاہ جو رسالو" کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا جو اردو ادب میں سندھی ادب کا نیا قدم سمجھا جاتا ہے۔ 23 مارچ، 1994ء کو آپ کو ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہلال امتیاز 16 اکتوبر، 1994ء کو فیض احمدفیض ایوارڈ ملا۔ شیخ ایاز کا انتقال حرکت قلب بند ہونے سے 28 دسمبر، 1997ء کو کراچی میں ہوا۔ 
۔(بشکریہ وکی پیڈیا)۔

منگل, نومبر 01, 2016

"انقلاب اور اندھی عقیدت"

انقلاب باہر کی نہیں اندر کی کیفیت کانام ہے۔
اپنی ذات کے کونوں کھدروں تک رسائی حاصل کرنے۔۔۔اپنی صلاحیتیں جانچنے۔۔۔مقصدِحیات کو جاننے پہچاننے کے بعد انسان اور انسانیت کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دینا عظیم انقلاب کی راہ کا پہلا قدم ہے تو اپنی کتابِ زندگی کا ہر ورق کھلی کتاب  کی طرح سب کے سامنے عیاں ہونا اس راستے کی شرط اولین ہے۔
قائدِانقلاب کی ذات کا ہر نقش اگر واضح ہوتا ہے تونہ صر ف دوست بلکہ دُشمن بھی اس کے افعال وکردارکی سچائی کی گواہی دیتے ہیں۔دوستپہچان کرجان کی بازی لگاتے ہیں تو دُشمن محض انا اور خودغرضی کے ہاتھوںمجبور ہوکر ہٹ دھرمی سےباز نہیں آتا۔
معاشرتی سطح پر انقلاب کے لیے سب سے پہلے ایک رہنما کی ضرورت ہوتی ہے۔بجا کہ انقلاب ایک فرد سے کبھی نہیں آتا لیکن حق یہ بھی ہے کہ بارش کےپہلے قطرے کے بغیر بارش کا تصور ہی ناممکن ہے۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
اخلاص۔۔۔ فردِ واحدکا اخلاص بارش کا وہ پہلا قطرہ ہے جس پر کامل یقین سے رہِ انقلاب کی رم جھم موسلادھار بارش بنتے دیر نہیں لگاتی۔ اسلامی تاریخ کی زریں مثالوں اور قلب وروح میں اترے واقعات کے ساتھ ساتھ رواںصدی میں دیکھیں تو ایک غیرمسلم کی ستائیس برس کی چکی کی مشقت ہو(نیلسن منڈیلا۔۔۔جنوبی افریقہ)۔شریعت کے تابع مردِقلندر کی سولہ برس کی جلاوطنی ہو(آیت اللہ خمینی۔۔۔ایران)۔یا پھر دُشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر۔۔۔دلیل کے زور پر  ،اُس کے رنگ میں رنگ کر قائل کرنے اوراپنا آپ منوانے سے لے کر اپنا آپ "فنا" کر دینےتک کی  ہمارےقائد جناب "قائدِاعظم محمدعلی جناح" کی شاندار اور بامراد جدوجہد ہو،ہمارے لیے
 نشانِ راہ  اور راہِ عمل متعین کرتے ہیں۔ 
انقلاب افراد کے لیے آتا ہے۔۔۔افرادی قوت کی بیساکھی پر چل کر نہیں۔اندھا انقلاب اندھی عقیدت کا وہ ناجائز اور معذور بچہ ہے جو لاکھ عزت وتکریم کے مینار کھڑے کر دے ،اپنے حسب نسب کی شہادت دینے سے قاصر رہتا ہے۔۔۔ہمیشہ دوسروں کے کاندھوں کی ہوس میں ،لایعنی خواہشوں کے اُڑن کھٹولے  پر سفر کرتا ہے اور مادی آسائشوں کی  آغوش میں منہ چھپا کر سو جاتا ہے۔ دوسری طرف  اندھی عقیدت کی عینک پہننے والا نہ صرف اپنے آپ کو بھلابیٹھتا ہے بلکہ اپنے محبوب کو بھی فراموش کر کے عالمِ بےخودی میں رقص کیے جاتا ہے۔۔۔ہاتھ کسی کے کچھ نہیں آتا  نہ طالب کے اور نہ مطلوب کے۔عقیدت کا چمتکار دنوں، مہینوں  یا سالوں مریدین اور زائرین کا جمگھٹا لگا سکتا ہے۔۔۔فصلی  بٹیروں کا مجمع اکٹھا کر سکتا ہے جو مفت کے لنگر کے لیے کہیں بھی ڈیرہ لگانے سے نہیں ہچکچاتے۔ عقیدت مند اپنی  غرض  کے ساتھ آتے ہیں۔ مراد بر نہ آئے تو آستانے اُجڑ جاتے ہیں۔۔۔ڈیرے ویران ہو جاتے ہیں،  اگر کچھ باقی بچتا ہے تو جعلی عاملوں کا برے وقت کے لیے بچا سرمایہ  یا پھر غلط مشیروں  پر اعتماد کرنے کا پچھتاوا۔ پیر کا  کمال اُس کا لبادہ ہوا کرتا ہے۔ ذرا قربت ملے تو   پیازکے چھلکوں کی طرح شخصیت کے لبادے اترنےلگتےہیں۔۔ہمارےسیاستدانوں اور پیروں سےہم عوام کی  سراسر جہالت پر مبنی عقیدت ناقابلِ معافی ہےکہ یہ نسلیں کھا جاتی ہے دوسری طرف  علم سے نسبت اور علم والوں سےعقیدت نسلیں سنوار دیتی ہے۔
اصل کہانی عقیدت سے محبت تک کا سفر ہے جو بہت کم کسی کا نصیب ہےکہ عقیدت مند  اپنی منتیں پوری نہ ہوتے دیکھ کر
بہت جلد مایوس ہو کر راستہ بدل لیتے ہیں یا کہیں اور کوئی  اُن کی عقیدت خرید لیتا ہے۔ جبکہ محبت کرنے والا بےغرض آتا ہے۔۔۔خود مالامال ہوتا ہے اور لینے والے کوبھی سرشار کر دیتا ہے۔محبتوں کے ڈیرے سدا آباد رہتے ہیں،عقیدت سے محبت تک کا سفر محبوب کو زمانوں کے لیے امر کر دیتا ہے۔آنے والی نسلیں اُس کی گواہی دیتی ہیں۔عظیم صوفیائےکرام کے آستانے ہوں یا پھر ایک نظریے،ایک مقصد کے حصول کے لیے دیوانہ وار محنت کرنے والے  عالمی  رہنما اور مفکرین جو اپنے افعال وکردار کی بدولت تاریخ کے صفحات میں  اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔
بحیثیت قوم ہماری  بدقسمتی رہی ہے کہ ہمیں دیوتا سمان پیرومرشد تو بہت ملےجن کے کارگر تعویز بلاؤں اور وباؤں سےوقتی طور پر بچاتے رہے،یوں اُنکی گُڈی چڑھی رہی لیکن  اُن کی محنت کی  ہمیں بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ قوم کو آج تک اُس رہنما کی تلاش ہےجو اپنے قول وفعل سے ہمیں ایک کر سکے۔۔۔دنیائے عالم میں سر اُٹھا کر چلنے کا  فخر عطا کرے۔ قوم(جسے اب ہجوم کہا جانے لگا ہے )ہر چہرے میں اُس نجات دہندہ کو ڈھونڈتی ہے،کچھ دیر ٹھہرتی ہے اور پھر مایوس ہو کر آگے بڑھ جاتی ہے۔ 
ہمیں بیرونی طاقتوں سے زیادہ  خود ہماری ہی  منتخب کردہ یا ہم پر مسلط کردہ قیادت نے نقصان پہنچایا ہے اور اغیار نے صرف موقع سے فائدہ اُٹھایا ہے۔جب تک ہماری صفوں سے رہنما نہیں اُٹھے گا حالات نہیں بدلیں گے۔  انصاف کی بات یہ ہے کہ ہماری ملکی سیاست  میں ایوانِ اقتدار کا طواف کرنے والے  آج کےقومی رہنما خواہ اُن کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہے سب کی کڑیاں بیرونِ ملک جا ملتی ہیں ۔ سات عشرے گزرنے کے باوجود  عام عوام کا کوئی فرد  محض اپنی قابلیت ولیاقت  اورخلوسِ نیت کے بل بوتے پر  کسی اہم منصب  کے قریب بھی نہیں پھٹک سکا۔ اس میں شک نہیں  کہ باکردار چہرے سامنےآتے رہے لیکن بہت جلد وہ ناانصافی  کی دھول  کی نذر ہو گئےیاپھراُن کے اپنوں نے پیٹھ میں چُھرےگھونپ دیئے۔ تاریکی میں روشنی کا روزن اس وقت کھلے گا جب عوام کو عقل آئے گی،اس کے لیےدعا ہی کی جاسکتی ہے۔ یاد رہے دعا بھی پورے یقین اور خلوص کے ساتھ مانگی جائے پھر ہی اثر رکھتی ہے۔
خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو خیال جس کو آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
 آخری بات
انقلاب ان دلوں پر دستک دیتا ہے جن کی آنکھیں کھلی ہوں، عقل کے اندھے کبھی انقلاب کے ساتھی  نہیں بن سکتے۔ اندھاانقلاب صرف  فتنہ  ہے اور کچھ بھی نہیں جتنا سمیٹتے جاؤ اُتنا  ہی پھیلتا جاتا ہے۔

"ابنِ انشا کچھ یادیں "


کچھ یادیں انشا جی کی
(ناجی عرف نجمہ خان صاحبہ کی ڈائری سے۔۔۔۔8ستمبر ،2016)
انشا جی کو دنیا تو بہت عرصے سے جانتی ہے۔
میں انہیں اس وقت سے جانتی ہوں جب کراچی میں ہم لڑکیوں کا ایک گروپ پیدل پاپوش نگر کے علاقے سے ہوتا ہوا اپنے اسکول جاتا تھا۔ وہ ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر رہا کرتے تھے۔ میں انشا جی سے روزانہ صبح اسکول جاتے وقت ملتی تھی اور انہیں سلام کیا کرتی۔ ان سے بات کرنے کے شوق میں، میں اپنے گروپ سے الگ ہوجاتی۔ اسکول بھی دیر سے آتی۔ روزانہ مجھے انشا جی کی وجہ سے ڈانٹ پڑتی۔
ابنِ انشا  ہر روز جب صبح پاپوش نگر کے بازار سے انڈا خرید رہے ہوتے۔ انڈے کو سورج کی روشنی میں، اپنی ہلکے نیلے رنگ کےچشمے سے غور سے دیکھتے اور میں اسکول میں سوچتی کہ آج انشا جی ضرور انڈے پر کچھ لکھیں گے۔
ایک دن میں نے ان سے کہا کہ انشا جی آپ روزانہ ڈبل روٹی، انڈا خریدتے ہیں اور ایک، ایک انڈے کو روشنی میں ایسے غور سے دیکھتے ہو  اور میں ہر روز انتظار کرتی ہوں کہ آج آپ ضرور انڈے پر کچھ لکھو گے۔
انشا جی بہت ہنسے  بولے، "لمبو تو مجھے اتنا چیک کرتی ہے،.وہ بھوک لگی تھی دیکھ رہا تھا کہ اندر سے گندا نہ ہو۔ فرائی پین میں جا کر چوزہ نہ نکل جائے"۔
وہ مجھے لمبو کہا کرتے تھے اور کہتے کہ تم کو لکھنے کا شوق ہے، تم لکھا کرو بس۔
ابنِ انشا زیادہ تر سادہ سے سفید پاجامہ اور سفید کرتے میں ملبوس ہوتے اور آنکھوں پر ہلکے نیلے رنگ کا چشمہ پہنتے۔ ایک دن انشا جی نے پینٹ اور شرٹ پہنی تھی، کہیں سے واپس آئے تھے۔ میں نے کہا کہ انشا جی سچ آپ پیارے لگ رہے ہو۔ ہنستے ہوئے کہنے لگے تو مجھے مار بھی پڑوائے گی۔
مجھے یاد آرہا ہےکہ کبھی کبھار ان کے ساتھ کراچی ریڈیو کی ایک پُربہار شخصیت جناب ایس ۔ایم ۔سلیم بھی نظر آتے تھے ۔ ایس ۔ایم ۔سلیم کی بیوی ثریا سلیم اب ریڈیو ہیوسٹن سے کام کرتی ہیں ان کی وہی شان  ہے، آج بھی چنا ہوا دوپٹہ اور غرارہ پہنتی ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ میں روزانہ گھر آ کر ابا جی سے کہتی کہ مجھے ابنِ انشا سے بہت سی باتیں کرنی ہیں میرا دل چاہتا کہ اسکول نہ جاؤں اور انکی باتیں سنوں، ان سے باتیں کیا کروں۔
ابا کہتے "تو لڑکی ذات ہے اس طرح بازار میں کھڑے ہو کر بات کرے گی شرم نہ آئے گی۔ لوگ کیا کہیں گے کہ قریشی صاحب کی بیٹی اسکول کے بہانے انشا جی سے باتیں کرتی ہے"۔
بھائی کی شادی کے بعد اس نے اقبال ٹاؤن کراچی میں جہاں گھر لیا وہ انشا جی کے محلے ہی میں تھا۔جب امی نے بھابی سے زردہ بنوایا تو میں ایک پلیٹ میں لے کر انکے پاس گئی۔ میرے ہاتھ میں زردے کی پلیٹ دیکھ کر وہ ایک دم بول اٹھے، "بھئ زردہ ہم کو بہت پسند ہے، مگر یہ ہمارے  ہی لیے لائی ہو نا ؟"
پھر پوچھا، "تم نے بنایا ہے"۔
میں نے کہا کہ نہیں ماں نے بھابی سے شگن بنوایا ہے۔پھر وہ گھر کے اندر گئے، ایک چمچ لے کر آئے اور اپنے ہاتھ سے ایک نوالہ پہلے مجھے دیا اور کہنے لگے اب تم مجھے دو، اس طرح ہماری دوستی پکی ہو جائےگی۔
میں بھائی کے گھر ابنِ انشا سے ملنے کے بہانے آتی۔ جب انشا جی نظر آتے میں ان سے جلدی جلدی ایک ہی سانس میں کہتی کہ انشا جی میں نے آج جنگ اخبار میں آپ کی یہ نظم پڑھی ہے اور اپنی طرف سے بھی بہت سی باتیں کرکے انکی تعریف کرتی مگر وہ کچھ نہ بولتے۔
اک دن ابنِ انشا نے کہا کہ تم رات کو ہمارے گھر آنا جوش آ رہے ہیں۔میں جوش سے ملی۔ اس روز ان کا سانس کافی خراب تھا ۔
انشاء جی اپنے پڑوسیوں کا بھی بہت خیال رکھا کرتے تھے۔
ایک بار یہ ہوا کہ پڑوس کے گھر میں ایک فیملی نے موروں کی جوڑی پال رکھی تھی۔ اتفاق سے اس میں سے مورنی گم ہوگئی۔
انشا جی اپنے پڑوسی سے زیادہ پریشان دِکھ رہے تھے۔ انشا جی نے ہر گھر کے دروازے پر جا کر مورنی کے حوالے سے پوچھا اور یقین کریں کہ جتنا مور اداس تھا انشا جی اس سے بھی زیادہ اداس تھے۔
پھر چار دن کے بعد وہ مورنی ملی۔
مورنی کا مالک بولا، "اس نے چار دن سے کچھ کھایا نہیں"۔
انشا جی بولے، "چار دن سے میں نے بھی نہ ٹھیک سے کھانا کھایا اور نہ کچھ لکھ پایا"۔
مشرقی معاشروں میں جیسا رواج ہوتا ہے کہ جس گھر میں لڑکیاں ہوں وہاں محلے کی کوئی رشتے کروانے والی اس حوالے سے اپنی خدمات پیش کرتی ہیں۔میری بڑی بہن پروین، جنہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا ہوا تھا، کے لیے ہماری محلے کی ایک خاتون جاویدہ  ایک رشتہ لے کر آئیں۔
اماں ابا کا حکم تھا کہ رشتہ دیکھنے لڑکے والے آرہے ہیں اس لیے کوئی اور بہن انکے سامنے نہ آئے۔ میں نے جو چور دروازے سے ان صاحب کو دیکھا تو میری حیرت اور خوشی کی انتہا نہ رہی کہ وہ صاحب کوئی اور نہیں بلکہ ابنِ انشا تھے۔ میں خوشی سے پاگل ہو گئی اور کچھ پرواہ نہ کرتے ہوئے چھلانگ لگا کر ایک دم ڈرائنگ روم میں آگئی اور انشا جی کو کہا کہ پروین میری بڑی بہن ہیں جن کی وجہ سے آج آپ ہمارے گھر آئے ہیں۔
انشا جی بھی ایک دو منٹ مجھے دیکھ کر گھبرا گئے اور بولے ۔۔لمبو یہ تمہارا گھر ہے۔
میرے گھر والے اور سب مجھے حیرت اور غصے سے دیکھ رہے تھے کہ یہ ابنِ انشاء سے ایسے فری ہو کر بات کر رہی ہے اور وہ بھی لڑکی ہوکر، ستم یہ کہ سب کے سامنے۔
میں اپنی زندگی کی وہ رات کبھی نہیں بھول سکتی۔ رات بھر سو ہی نہ پائی کہ صبح اسکول جا کر سب کو بتاؤں گی کہ ابنِ انشا ہمارے گھر آئے تھے۔
انشا جی کو میری بہن بہت پسند آئیں مگر انشا جی کے ساتھ تفاوت عمر اور اس زمانے میں ان کی معمولی نوکری کی وجہ سے یہ رشتہ نہ ہو سکا۔
افسوس ایک فنکار کی قیمت نہ لگ سکی۔
جس رات ابا نے ان کی بہن اور بھائی کو رشتے سے انکار کیا، اس رات میں بہت روئی۔ مجھے بھی بہت ڈانٹ پڑی کہ تم آئندہ کسی شاعر سے نہیں ملوگی۔ میں خود بھی اس انکار پر شرمندہ تھی کہ کس منہ سے ان کے سامنے جاؤں؟ سچ جانو اس دن مجھے احساس ہوا تھا کہ سب مایا ہے سب مایا ہے۔۔۔یہ امیری اور غریبی کے کھیل
اس انکار کے کچھ روز کے بعد ان کی یہ  نظم اخبار میں چھپی
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشاء جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
ہیں لاکھوں روگ زمانے میں ، کیوں عشق ہے رسوا بیچارا
ہیں اور بھی وجہیں وحشت کی ، انسان کو رکھتیں دکھیارا
ہاں بےکل بےکل رہتا ہے ، ہو پیت میں جس نے جی ہارا
پر شام سے لے کر صبح تلک یوں کون پھرے گا آوارہ
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
یہ بات عجیب سناتے ہو ، وہ دنیا سے بےآس ہوئے
اک نام سنا اور غش کھایا ، اک ذکر پہ آپ اداس ہوئے
وہ علم میں افلاطون سنے، وہ شعر میں تلسی داس ہوئے
وہ تیس برس کے ہوتے ہیں ، وہ بی-اے،ایم-اے پاس ہوئے
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
گر عشق کیا ہے تب کیا ہے، کیوں شاد نہیں آباد نہیں
جو جان لیے بن ٹل نہ سکے ، یہ ایسی بھی افتاد نہیں
یہ بات تو تم بھی مانو گے، وہ قیس نہیں فرہاد نہیں
کیا ہجر کا دارو مشکل ہے؟ کیا وصل کے نسخے یاد نہیں؟
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
وہ لڑکی اچھی لڑکی ہے، تم نام نہ لو ہم جان گئے
وہ جس کے لانبے گیسو ہیں، پہچان گئے پہچان گئے
ہاں ساتھ ہمارے انشا بھی اس گھر میں تھے مہمان گئے
پر اس سے تو کچھ بات نہ کی، انجان رہے، انجان گئے
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
جو ہم سے کہو ہم کرتے ہیں، کیا انشا کو سمجھانا ہے؟
اس لڑکی سے بھی کہہ لیں گے ، گو اب کچھ اور زمانہ ہے
یا چھوڑیں یا تکمیل کریں ، یہ عشق ہے یا افسانہ ہے؟
یہ کیسا گورکھ دھندا ہے، یہ کیسا تانا بانا ہے ؟
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
کاش میں آزادی سے ابنِ انشا سے ملتی اور وقت کو فوٹو میں قید کرتی۔
پھر ہم لوگ لندن آگئے۔ ان دنوں خبروں کے اتنے ذرائع تو تھے نہیں اور نہ ہی لندن میں اردو اخبارات کا سلسلہ ایسا تھا کہ ہر خبر آسانی سے پتہ چل جائے۔ بس یہ علم تھا کہ انشاء جی کی طبیعت اچھی نہیں۔
پھر جب میں لندن سے امریکہ آرہی تھی تو لندن کے ہیتھرو ائیر پورٹ پر بہت سے پاکستانیوں کو دیکھا۔ میری عادت ہے کہ جہاں کوئی اپنے دیس کا نظر آجائے تو میں سلام دعا ضرور ہی کرتی ہوں۔ جا کر پوچھا کہ خیر تو ہے آپ سب لوگ اس جگہ اکٹھے کیوں ہیں۔ کسی صاحب نے جواب دیا کہ ابن انشا کا لندن میں انتقال ہو گیا ہے اور ہم ان کا جسدِخاکی ملک لے کر جارہے ہیں۔
ادھر ابن انشا کا جنازہ ملک گیا اور ادھر میں اپنے دوست کو، اپنے انشاء کو روتی امریکہ آئی۔
!!!وہ انشاء جو واقعی سودائی تھا
بشکریہ جناب خرم بقا۔۔۔بزمِ یارانِ اُردو  ادب
 حرفِ آخر
یادوں کے رنگ میں گندھی محترمہ نجمہ خان صاحبہ کی  یہ تحریر  ابنِ انشاءکے چاہنے والوں  کے لیے تحفہ تو ہے ہی لیکن اصل میں یہ جناب ابن انشاء کی محبت کا برسوں پہلے کا قرض تھا جسے  لفظ کے پیرہن میں ڈال کر انہوں نے اپنے محبوب لکھاری کی خواہش کی کتنی خوبصورت تکمیل کی ۔۔۔"وہ مجھے لمبو کہا کرتے تھے اور کہتے کہ تم کو لکھنے کا شوق ھے، تم لکھا کرو بس"۔
ایک بڑے  لکھاری کے اس جملے پر اہلِ علم غور فرمائیں۔۔۔ ابنِ انشاء نے  اسکول کی اس طالبہ کو ادب پڑھنے کی نہیں لکھنے کی تلقین کی۔۔۔۔۔"مطالعہ بےشک علم حاصل کرنے کا راستہ ہے لیکن لکھنا ایک الگ صلاحیت ہے جو آمد کی مرہونِ منت ہے آورد  کی نہیں"۔ 

"مستنصرحسین تارڑ ۔۔۔اپنی کُتب کے آئینے میں "

٭1)"غار حرا میں ایک رات "۔ سفر ستمبر  2004 اشاعت 2006 ٭کئی لوگ پوچھتے ہیں,جاننا چاہتے ہیں کہ کیا میں سفر محض اس لئے اختیار کرتا...