منگل, جنوری 01, 2019

""ترجیحَ اول"

آج سے صرف سو سال بعد اس تحریر کو پڑھنے والا ہر شخص زیرِزمین مدفون ہوگا۔الا ماشاء اللہ۔"
ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوکر رزق خاک ہوچکی ہوں گی. تب تک ہماری جنت یا جہنم کا فیصلہ بھی معلوم ہوچکا ہوگا۔
جبکہ اس دوران سطح زمین کے اوپر ہمارے چھوڑے ہوئے گھر کسی اور کے ہوچکے ہوں گے. ہمارے کپڑے کوئی اور پہن رہا ہوگا اور ہماری محنت اور محبت سے حاصل شدہ گاڑیاں کوئی اور چلا رہا ہوگا۔ تب ہم کسی کے حاشیہ خیال میں بھی نہ ہوں گے۔بھلا آپ اپنے پڑدادا یا پڑدادی کے بارے میں کبھی سوچتے ہیں کیا....؟ تو کوئی ہمارے بارے میں کیوں سوچنے لگا ؟ آج زمین کے اوپر ہمارا وجود، جس کی بنیاد پر یہاں ہمارا ہر وقت کا شوروشغب، ہٹو بچو کی صدائیں اور ان گھروں کو آباد کرنے کے لیے ہماری محنت ومشقت، یہ سب کچھ ہم سے پہلے کسی اور کا تھا اور ہمارے بعد یقینی طور پر کسی اور کا ہونے والا ہے۔
کوئی ایسا ہونے سے روک سکتا ہے تو روک کے دکھائے۔
اس دنیا سے گزرنے والی ہر نسل بمشکل اس پر ایک طائرانہ سی محض الوداعی نظر ہی ڈال پاتی ہے۔ خواہشات کی تکمیل کا موقع بھلا کسی کو اس دار الفناء میں کہاں مل سکتا ہے؟ ہماری زندگی درحقیقت ہمارے تصورات وخواہشات کے مقابلے میں بہت ہی مختصر ہے.۔
سال 2119 میں ہم سب پر اپنی اپنی قبر میں اس دنیا اور اپنی خواہشات کی حقیقت آشکار ہوچکی ہوگی۔
ہائے افسوس!!!اس دھوکے کے گھر میں کیسی احمقانہ خواہشات اور کیسے جاہلانہ منصوبے ہم نے بنا رکھے تھے؟؟
تب ہم پر یہ حقیقت بھی عیاں ہوجائے گی کہ اے کاش!ہم نے اپنی ترجیحات میں اللہ اور اس کے رسول کی وفاداری کو سب سے مقدم و راجح رکھا ہوتا تو آج سب کچھ دنیا میں چھوڑ کر آنے کے بجائے قبر کا  زادِراہ   اور اعمال صالحہ کی شکل میں صدقہ جاریہ بھی ساتھ لاسکتے. تب ہمیں یہ بھی معلوم ہوچکا ہوگا کہ دنیا اس لائق ہرگز  نہ تھی کہ اس کے لیے اتنا سب کچھ جان، مال، وقت اور تمام صلاحیتیں داؤ پہ لگا دی جاتیں۔آج 2019 میں یہ مضمون پڑھنے والے بہت سے لوگ 2119 میں یہ تمنا کررہے ہوں گے :۔
"رَبِّ ارْجِعُونِ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ ۚ "
اے میرے پروردگار!مجھے واپس دنیا میں بھیج دے تاکہ میں جو کچھ وہاں چھوڑ آیا ہوں اس میں واپس جاکر نیک اعمال کرسکوں. "۔
لیکن اس درخواست کا جواب بہت سخت ملے گا:۔
"كَلَّا ۚ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا ۖ وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ0"
(المؤمنون:99-100)
۔"ہرگز نہیں! یہ صرف ایک بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے (قابل عمل سنجیدہ بات نہیں ہے). اب تو قیامت تک ان کے پیچھے باڑ لگادی گئی ہے. "۔
۔2119 میں قبر میں وہ یہ تمنا بھی کرے گا:۔
۔"يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي" (الفجر:24)۔ہائے میری ہلاکت وبربادی! میں اپنی زندگی کے لئے کچھ آگے بھیج دیتا. "۔
موت کا فرشتہ میرے اور آپ کے نیک ہونے کے انتظار میں نہیں ہے۔
آئیے!موت کے فرشتہ کے انتظار کے بجائے موت کی تیاری کریں اور اعمال صالحہ والی زندگی اختیار کرلیں"۔

 پسِ انتخاب۔۔۔
 دل ودماغ کو جھنجھوڑنے والے الفاظ۔ لکھاری کا نام معلوم نہیں ہو سکا۔ اللہ پاک لکھنے والے کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین۔

"۔پہلا بچہ"

 اپنے اپنے ماحول میں،اپنے اپنے انداز سے  عمر کے ابتدائی سال طے کرنے والے مرد اور عورت معاہدۂ نکاح کے ذریعے  شادی کی شاہراہ پر قدم رکھتے ہیں۔جذبوں اور خواہشوں کے درِیار پرپلکوں سےدستک دیتے جب آنکھ کھلتی ہے تو  آگہی کا اُجالا ہر احساس کی قلعی  کھول دیتا ہے۔باہمی محبت سمجھوتے کا لباس پہنتے دیر نہیں لگاتی تو  کہیں سمجھوتے کے گلیشئیر محبت کی  تپش سے دھیرے دھیرے پگھلنے لگتے ہیں۔شادی   ہردو افراد کے لیے "زندگی" کا ایسا "ٹرننگ پوائنٹ " ہے جو  نہ صرف جسمانی کیمسٹری یکسر تبدیل  کر دیتا ہے  بلکہ انسان ذہنی اعتبار سے بھی کئی منازل پھلانگ جاتا ہے۔ ایک دوسرے کو سمجھتے سمجھاتے، شادی کے اس بندھن کا ٹر ننگ پوائنٹ" پہلا بچہ" ہے۔ پہلا بچہ وہ سوال وہ کردار ہے جو اگر اپنی موجودگی کے احساس سےکئی  سوالوں کا جواب بنتا ہے تو اس کی غیرموجودگی  بذاتِ خود ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ پہلا بچہ عام حالات میں  اگر ایک نعمت گردانا جاتا ہے تو کئی  مرتبہ ایک ایسی زنجیر یا ہتھکڑی بن جاتا ہے جس سے چاہ کر بھی فرار ممکن نظر نہیں آتا۔ کبھی یہ کمزور پڑتے رشتوں کو جوڑنے میں معاون ثابت ہوتا ہے تو کہیں گلے کا ایسا طوق،جو زندگی کی ساری خوشیوں کے  در بند کر کے بس  اپنے حصار میں جکڑ کر رکھ دیتا ہے۔ جو بھی ہو پہلے بچے کی آمد اگر خوشخبری کے زمرے میں آتی ہے تو اس "خوشخبری" کا نا ملنا   رشتوں اور تعلقات میں ان کہی پیچیدگیوں کا سبب بنتا ہے۔ بسا اوقات ایسی جامد خاموشی روح میں اترتی ہے کہ انسان اپنی ہی پکار سے خوفزدہ ہوجاتا ہے۔یہاں نہ صرف عورت کو  قصوروار کردانا جاتا ہے بلکہ عورت  ہی دوسری عورت کے حق میں زہرِقاتل ثابت ہوتی ہے۔اعتراض کرنے میںعام طور پر وہ خواتین پیش پیش ہوتی ہیں  جن کے اپنی اولاد نہیں ہوئی یا کئی سالوں بعد اللہ نے اس نعمت سے نوازا ہو۔حق تو یہ ہے کہ شادی اگر مرد اور عورت کا نجی معاملہ ہے تو بچے کا ہونا یا نا ہونا بھی ہر دو کا سراسر ذاتی  فیصلہ یا  مسئلہ ہوتا ہے۔اس بارے میں ان دو کے علاوہ کسی تیسرے کو رائے تو کیا سوال پوچھنے کا بھی اختیار ہرگز نہیں ہونا چاہیے خواہ وہ ان کے اپنے ہی کیوں نہ ہوں۔
 خیر پہلے بچے کی "خوشخبری" خواہ شادی کے چند ماہ بعد سنائی دے یا چند سالوں بعد،اصل مرحلہ عافیت کے ساتھ  اس   امید کا پایۂ تکمیل تک   پہنچنا ہے۔بقول  منیرنیازی 
ایک اور دریا کا سامنا تھا  منیرمجھ  کو 
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
بلاگ یقینِ زندگی(1) سے اقتباس۔
پہلا بچہ اپنے رویوں اور احساسات میں بھی اول ہی ہوتا ہے۔گھر میں اس کا وجود محبتوں کی کُل کائنات سمیٹتا ہے جب تک کے اُس کا دوسرا بہن بھائی نہ آ جائے۔پھر اُس کی زندگی یکدم تین سوساٹھ درجے کے زاویے پر مڑ جاتی ہے۔یا تو وہ سمجھوتے کر کے اپنے سب اختیار سب خواہشیں خاموشی سے بانٹ دیتا ہے اور یا پھر ہمیشہ اپنی بڑائی کے حصار سے باہر نہیں آ پاتا۔ اس میں شک نہیں کہ اپنوں کے دل میں اُس کا خاص احساس ہمیشہ ویسا ہی رہتا ہے جو وقت کے ساتھ چاہے گھٹتا بڑھتا رہے لیکن اس سے ملنے والی خوشی اگر منفرد ہوتی ہے تو اس سے ملنے والے غم بھی دل زخمی کر دیتے ہیں۔ پہلے بچے کی سب سے خاص بات جو بسااوقات اس کی کمزوری یا کسک بھی بن جاتی ہے کہ اُسے مانگنا نہیں آتا۔عمر کے پہلے سال کا یہ احساس ایک جینیٹک کوڈ کی مانند اس کے ذہن میں ٹھہر جاتا ہے چاہے اگلے برس ہی اس کا شراکت دار آ جائے۔

یادوں کی تتلیاں،لمحے نے کہا اور منیرہ قریشی

عزیز دوست محترمہ منیرہ قریشی صاحبہ سے تین دہائیوں کا ساتھ ہے ۔کتاب شناسی سے سوچ آشنائی تک دوستی کے اس سلسلے میں کئی خوبصورت ...