پیر, ستمبر 13, 2021

"مستنصرحسین تارڑ ۔۔۔اپنی کُتب کے آئینے میں "

٭1)"غار حرا میں ایک رات "۔
سفر ستمبر 2004
اشاعت 2006
٭کئی لوگ پوچھتے ہیں,جاننا چاہتے ہیں کہ کیا میں سفر محض اس لئے اختیار کرتا ہوں کہ واپسی پر سفر نامہ لکھ سکوں......ایسا ہر گز نہیں ہے...... میں نے زندگی کے بیشتر سفر ان زمانوں میں اختیار کئے جب واپسی پر کچھ بھی نہ لکھتا تھا----میں ایک ادیب نہ بھی ہوتا تو بھی اتنے ہی سفر کرتا جتنے کہ میں نے کئے کہ میرے لئے آوارگی جذبہ اول ہے اور اس کی روئیداد قلم بند کرتا ہوں تو لوگوں کو اپنے سفر میں شریک کرنے کے لیے اور......... اس سفر کو پھر سے زندہ کرنے کے لیے......گویا میں ایک اور سفر پر نکل جاتا ہوں اور یہاں ایک سفرنامہ نگار دوسرے مسافروں سے کہیں زیادہ بخت والا ہو جاتا ہے کہ وہ دوبارہ انہی کیفیتوں,مسرتوں,اذیتوں اور مشقتوں اور خوبصورتیوں میں سے گزرتا ہے......کچھ اسی طور میں نے غار حرا میں تو صرف ایک شب بسر کی لیکن اسے بیان کرتے ہوئے سینکڑوں راتیں اس غار میں بسر کیں........جو سرسری دیکھا تھا اس کی تفصیل میں گیا...جو اَن دیکھا تھا وہ بھی سٹڈی کی تنہائی میں نظر آنے لگا......ایک شب کا ہیجان اور کیفیت سینکڑوں شبوں پر محیط ہو گیا.....تو گویا اب بھی اس لمحے....جب کہ اس شب کو گزرے ہوئے ایک برس ہو چکاہے.....میں ہنوز غار حرا کی رات میں ہوں۔
۔۔۔۔
٭2) ’’خانہ بدوش‘‘
(سفر۔سپین، لبنان ،یورپ )
سفر1975
اشاعت اگست 1983
کسی من چاہے کا پرتو کب تک یوں سامنے آتا رہتا ہے کہ جیسے وہ سامنے ہو؟ ۔۔۔۔ صرف چند برسوں کے لئے۔ پہلے بدن کا لمس ساتھ چھوڑتا ہے، پھر آواز معدوم ہوتی چلی جاتی ہے اور کچھ عرصے بعد آنکھیں بھولتی ہیں، مگر مسکراہٹ بہت دیر تک ساتھ دیتی ہے لیکن ایک روز وہ بھی بجھتی ہوئی لو کی طرح تھرتھراتی ہوئی تاریک ہوجاتی ہے۔
۔۔۔۔
٭3)"برفیلی بلندیاں"
۔( تلتر جھیل،پگوڈا ٹریک(سفر 2000)، درۂ گندگورو،لیلیٰ پیک ٹریک (2001)۔
اشاعت2001
٭"کوئی چہرہ یا منظر تبھی باوقار ہوتا ہے جب اسے دیکھنے والے ہوں۔۔۔۔ دیکھنے والے ہی نہ رہیں تو وہ چہرے اور منظر کسی کام کے نہیں رہتے بیکار اور تنہا ہوجاتے ہیں"۔
۔۔۔۔
٭4)"دیوسائی "
سفر1997
اشاعت 2003

٭بوجھ میں اگر محبت نہ ہو تو وہ بےشک ایک تنکےکا ہو۔برداشت نہیں ہوتا۔
‏ہر رشتے کے لئے اور ہر محبت کے لئے ایک خاص وقت مقرر ہوتا ہے وہ وقت گزر جائے تو رشتہ اور محبت ہولے ہولے مٹی ہونے لگتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
٭5)"خس و خاشاک زمانے"
اشاعت 2010
کسی بھی حیات کا کچھ اعتبار نہیں ہوتا، اس کا عمر کی طوالت سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا،،
""موت بےشک اکثر سال خوردہ اور اُن دروازوں پر جنہیں عمر کی گھُن چاٹ چُکی ہوتی ہے دستک دیتی ہے،، اگرچہ یہ کوئی حتمی اصول نہیں ہے،، بعض اوقات وہ ایسے نوجوان وجود پر بھی ہاتھ رکھ دیتی ہے جسے تخلیق کے شجر سے تراشے ہوئے کچھ زیادہ مدت
نہیں گزری ہوتی""
۔۔۔۔
٭6)"اے غزال شب "۔
آخری صفحہ آخری لفظ۔20مارچ 2010 ۔
اشاعت 2013
٭ایک انسان جس کے موجودگی سے اس کی بیوی اور اولاد بےخبر اور بے پروا ہوجائے اس کی قدر نہ کرے وہ ایک ہی چھت تلے حیات کریں اور کوئی اس انسان پر ایک نظر نہ کرے تو وہ بھی دیوار پر آویزاں ایک تصویر ہو جاتا ہے جسے کوئی نہیں دیکھتا۔لیکن جب وہی انسان یکدم منظر سے ہٹ جائے گم ہو جائے تو اس کی تصویر کے چوکھٹے کا نشان دیوار پر نمایاں ہو جاتا ہے وہ بھی اپنے گھر، بیڈروم، واڈروب، اپنی پسندیدہ کرسی پر بلکہ واشروم کے آئینے میں بھی اپنے بدن کے ہیولے کا ایک نشان چھوڑ جاتا ہے۔۔۔ تب وہ سب جو اس کی موجودگی سے غافل ہوا کرتے تھے گھر،بیڈ روم، واڈروب،کرسی اور آئینے کے خا لی پن کو دیکھتے ہیں تو ان کے اندر بھی ایک ہول اٹھتا ہے کہ وہ انسان کیا ہوا ۔
۔۔۔۔۔
٭7)"نیو یارک کے سو رنگ"
سفر 2005
اشاعت2013
تین علوم ایسے ہیں جہاں سے میں جان بوجھ کر سرسری گزرا ہوں' میری محدود سوجھ بوجھ نے محض ان کے
دروازے پر دستک دی ہے... اگر دروازہ کھل گیا ہے تو صرف جھانکا ہے اندر جانے کا حوصلہ نہیں ہوا.. اجتناب کیا ہے کہ ان کی انتہا کوئی نہیں.. آخر حد کا کچھ پتہ نہیں.. ان میں سے ایک علم کائنات اور اس کی لامحدودیت کا ہے.. دوسرا مذہب اور تیسرا موسیقی ہے' خصوصی طور پر مشرقی کلاسیکی موسیقی.. ان تینوں کا کوئی انت نہیں اور میں ایک انتہائی محدود ذہن رکھتا ہوں اور میں اس امر سے آگاہ بھی ہوں اس لئے ان سے اجتناب کیا۔
۔۔۔۔۔۔
٭8)"اور سندھ بہتا ر ہا"۔
سفر 2015
اشاعت جولائی 2016 
ویسے موت سے مجھے شکایت بہت ہے۔۔۔
یونہی بغیر کسی وارننگ کے کسی بھی لمحے آپ خوابیدہ ہیں دوستوں کی محفل میں ہیں، بچّوں سے لاڈ کر رہے ہیں ٹیلی ویژن دیکھ رہے ہیں بلکہ ہو سکتا ہے آپ کموڈ پر بیٹھے ہیں تو وہ کچھ اطلاع نہیں کرتی تو شکایت یہی ہے کہ وہ ذرا دھیرے دھیرے آئے۔۔ اُس کے قدموں کی چاپ تو سُنائی دے۔۔۔ اُس کی آہٹ تو ہو اور وہ کہے کہ میں آگئی ہوں اور تمہیں تیاری کے لیے کچھ مہلت دیتی ہوں تو آپ اُسے تھینک یو کہہ کر اپنے بچّوں کے چہرے دیکھ لیتے ہیں، اپنی بیوی کے خزاں رسیدہ چہرے پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔۔ آپ جو ناول یا سفر نامہ لکھ رہے ہیں اُس کا مسّودہ رائٹنگ ٹیبل پر رکھ دیتے ہیں کہ یہ بعد میں دریافت ہو کر شائع ہو جائے۔۔۔ کچھ تصویریں اور خطوط تلف کر دیتے ہیں غارِ حرا کے ایک پتھر پر اپنے ہونٹ رکھ دیتے ہیں، اور وہ سفید ٹِشو پیپر جس پر کبھی رسول اللہ کی قبر پر بچھی چادر کی مٹی کے کچھ ذرے ہوا کرتے تھے جو اب معدوم ہو گئے ہیں اُس ٹشو پیپر کو ذرا آنکھوں سے تو لگالوں۔۔۔ اور تب۔۔۔ ہاں...اب آجاؤ۔۔۔ مجھے لے جاؤ۔۔
موت سے یہی تو شکایت ہے کہ اتنی سے بھی مُہلت نہیں دیتی۔۔۔!!!
۔۔۔۔

"مستنصرحسین تارڑ ۔۔۔اپنی کُتب کے آئینے میں "

٭1)"غار حرا میں ایک رات "۔ سفر ستمبر  2004 اشاعت 2006 ٭کئی لوگ پوچھتے ہیں,جاننا چاہتے ہیں کہ کیا میں سفر محض اس لئے اختیار کرتا...