"اخبار میں چھپنے والی تحاریر"

٭"میرے خوابوں کا پاکستان"۔
اشاعت۔۔۔9 دسمبر 2014
روزنامہ جنگ کراچی میں نوجوانوں کے صفحے پر شائع ہوا۔۔۔ جوزندگی میں پہلی بار کسی "پرنٹ" صفحے پر میری زندگی کی پہلی تحریر بھی تھی۔یہ مضمون اگست 2013 میں"میرے خوابوں کا پاکستان" نام کے ایک تحریری مقابلے کے لیے لکھا۔" میرے خوابوں کا پاکستان" دل سے لکھا تھا اور دل کی آواز تھی۔اخبار میں اشاعت کے بعد میرا فوری احساس۔۔۔
"وقت کی زنبیل میں میرے لیے ابھی کچھ خواب باقی ہیں"َ

٭ " ماں کا دُکھ"۔
اشاعت۔۔۔ بدھ 4 فروری 2015
روزنامہ جنگ کے 4 فروری 2015 کے مڈویک میگزین میں شائع ہوا )۔ )
"بچوں کے دنیا سے چلےجانے کے بعد آنے والی رات کی تنہائی اور اگلی صبح کی خاموشی "
۔16 دسمبر 2016کےخون آشام دن کی کرب آلود ڈھلتی شام اور بےخواب رات کی سرگوشیاں ۔
آرمی پبلک اسکول میں بدترین دہشت گردی ۔۔۔۔سانحہ پشاور (16دسمبر2015 )کے پسِ منظر میں۔۔۔اور اسی شام لکھی گئی تحریر۔
٭ "پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا"۔
2014 اشاعت۔۔۔ 14جنوری
روزنامہ دُنیا میں میرے بلاگ کے نام " نورین نور " سےشائع ہوا۔

http://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2015-01-14/11803#.VQV0yXzF8qM ٭
۔۔۔۔۔
http://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2015-01-14&edition=LHR&id=1493307_68251338٭
۔۔۔۔۔۔۔۔
٭ " ضبط لازم ہے"۔
(روزنامہ جنگ کے 4 فروری 2015 کے مڈویک میگزین میں شائع ہوا)
"پیروں تلے زمین چھن جانے کا خوف عورت کو سراٹھانے سے روکتا ہے"

 http://magazine.jang.com.pk/arc_detail_article.asp?id=26424


٭ عکس سے نقش تک"۔
اشاعت۔۔۔۔ 2 اکتوبر 2016
مستنصرحسین تارڑ کو خراجِ تحسین"
نارتھ سٹار سنڈے میگزین ( ڈیلی اخبارِ خیبر)۔
۔
 http://www.akhbarekhyber.com/uploads/epaper/2016-09/57ee65d2c4593.jpg
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

1 تبصرہ:

  1. بہت ہی خوب۔
    لکھتی رہیں، لکھتی رہیں اور بس لکھتی رہیں۔

    بہت اچھا لگا آپ کا بلاگ۔
    http://mpaarissohail.blogspot.com

    جواب دیںحذف کریں

"مستنصرحسین تارڑ ۔۔۔اپنی کُتب کے آئینے میں "

٭1)"غار حرا میں ایک رات "۔ سفر ستمبر  2004 اشاعت 2006 ٭کئی لوگ پوچھتے ہیں,جاننا چاہتے ہیں کہ کیا میں سفر محض اس لئے اختیار کرتا...