جمعہ, مارچ 05, 2021

یادوں کی تتلیاں،لمحے نے کہا اور منیرہ قریشی

عزیز دوست محترمہ منیرہ قریشی صاحبہ سے تین دہائیوں کا ساتھ ہے ۔کتاب شناسی سے سوچ آشنائی تک دوستی کے اس سلسلے میں کئی خوبصورت پڑاؤ آئے ۔ دریا کو کوزے میں بند کرتے ہوئے برملا کہتی ہوں کہ میری سوچ کو "سنوارنے" میں اگر میری پیاری دوست کا اہم کردار رہا جنہوں نے میری خودکلامی کو اپنے قیمتی وقت کی سوغات دی تو اپنی ذات کی تنہائی میں خود سے سوال جواب کرتی منیرہ قریشی کو دنیائے گوگل کے بتی والے چوک میں پہنچا کر "بگاڑنے" میں سراسر میرا ہی حصہ ہے۔ ستم تو یہ ہے کہ لیپ ٹاپ پر اردو کا پہلا لفظ لکھنے سے بلاگ سپاٹ پر اپنا بلاگ بنانے کی" سہولت کاری" اور پھر "قلم "سے اردو " کی بورڈ "کے "نشے" میں گرفتار کرنے کے جرم میں مجھے ندامت بھی تو نہیں۔ جانتی ہوں تو بس اتنا کہ قلم اور کاغذ سےاُن کا ناطہ اتنا ہی پرانا تھا جتنا کہ کتاب اور لفظ سےجُڑا تھا۔لیکن اپنے محسوسات کو لفظوں میں سمونے کے بعد خود سے بھی چھپاتے ہوئے کسی بوسیدہ ہوتی ڈائری کے سوا کوئی جگہ نہ تھی۔اس بات کا اعتراف محترمہ منیرہ قریشی نے کچھ اس طرح کیا۔۔۔
میرے بلاگ "وظیفہ" سے اقتباس " تم بہت خوش قسمت ہو کہ اپنے احساسات کو صفحے پر الفاظ کی صورت لکھ دیتی ہو،میں نے اس عمر تک یہ کوشش بارہا کی لیکن الفاظ ساتھ دے بھی دیتے ہیں مگر احساس ِجرات ساتھ نہیں دے پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ گول مول طریقوں سے،ڈھکےچھپے الفاظ سے دل ودماغ ہلکا کرلیتی تھی یا ۔۔۔۔۔ ہوں"۔     بارہ جنوری2003۔
 مجھے خوشی ہے کہ آج  اس لمحے تقریباًً اٹھارہ برس بعد  "لمحے نے کہا" کی صورت  اس "احساسِ جئرات"   نے ساتھ دیا۔
 
تعارف مصنف

 منیرہ قریشی   درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ   سماجی اور رفاعی اداروں کے قیام کے حوالے سے  واہ کینٹ کا ایک معتبر نام  ہیں۔علمی اور ادبی ماحول نے ذوقِ مطالعہ کو مہمیز کیا۔کتابوں سے محبت اور لفظ سے  دوستی کے سفر میں اپنے احساسات کو خاموشی   سے سپردِقلم کرتی رہیں۔وقت نے مہلت دی اور بخت نے اجازت دی تو   احباب کے اصرار پر  کتاب کی صورت اپنے خیالات وتجرباتِ زندگی مجتمع کر کے  سامنے لائیں۔ شاعری کی کتاب "لمحے نے کہا" احساس کی   بارش کا پہلاقطرہ ہے۔

 منیرہ قریشی کی آنے والی کتابوں پر ایک نظر 

٭یادوں کی تتلیاں۔۔۔۔ خودنوشت

٭سلسلہ ہائے سفر۔۔۔ سفرِ حج اور  بیرونِ ملک سفر(ملائیشیا،دوبئی ،تھائی لینڈ ،انگلستان  اور ترکی)   کا احوال

٭اِک پرِخیال۔۔۔انشائیے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نظموں کی کتاب" لمحے نے کہا"کےلیے دیباچہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خاص دوست کے خوبصورت آغازِ سفر کے نام ۔۔
"دنیا محض ایک میلہ ہے اور میلہ خانہ بدوشوں کے قبیلے کی طرح ہوتا ہے جو کسی بھی وقت کوچ کر سکتا ہے۔اللہ کے کرم،اس کی نوازشات اوراُس کے"شکر" کا ادراک جس لمحے ہو جائے،اُس لمحے کو اپنا لیں،مٹھی میں قید کر لیں تو بہت سی گرہیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ "لمحے تو تتلی کی طرح ہوتے ہیں یا تو گرفت میں آتے نہیں اور آجائیں توبےجان وجود کی صورت مٹھی سے پھسل پھسل جاتے ہیں"۔
۔ "لمحے نے کہا"  محض نظمیں نہیں بلکہ  خودکلامی کی کیفیت ہے۔ڈھلتی عمر کی بےآواز بارشیں اپنے ساتھ بیت چکے موسموں کے کچے جذبوں اور جگنو خوابوں کوبڑی آہستگی سے بہا لے جاتی ہیں۔لیکن محترمہ منیرہ قریشی نے کاروبارِحیات میں صبح شام کرتے تلاش کے اس سوچ سفر میں اپنے خیال کی تازگی برقرار رکھی۔ خالق کی عظمت سے مہکتے گلاب لفظ اور بارگاہِ رسالت میں محبت وعقیدت چُنتے نادرموتی ہیں تو کہیں  گوشۂ گریہ میں  جانے والوں  کو  پکارتی ایسی دل گداز نظمیں ہیں جو  قلم کی سیاہی سے نہیں یاد کے آنسو سے لکھی  گئی ہیں۔کبھی  معاشرتی مسائل کو محسوس کرتی کیفیت ِاظہار ۔۔ لفظ کے نشتر سے روح کو زخمی کرتی اور قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے تو دوسری طرف بےرحم مرہم کا کام بھی کرتی ہے۔  اور کہیں   دریا کو کوزے میں بند کرتی"ہائیکو"   ہیں جو نظر کے لمس کو چھو کر دل پر دستک دیتی  ہیں تو اپنی محبت میں گرفتارکر لیتی ہیں۔ ہم اُن منظروں کےساتھی بن جاتے ہیں جو سوچ سفر کے موسم میں لفظ کی صورت کاغذ پر بکھرتے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ منظر یہ لہجہ اجنبی نہیں ہمارے دل کی آواز بھی ہے۔ ان کہی کی   گہرائی اور کہنے کی  سلاست چونکا دیتی ہے۔روح و  جسم کی کشمکش اور فنا وبقا  کے "استغراق" میں  اِک "رقصِ درویش"  پڑھنے   والوں  کو دور نہیں جانے دیتا۔
ہر محبت،ہر خدمت اور ہر جذبہ بےکار ہے جب تک وہ کسی مربوط لڑی میں پرویا نہ جائے یا احساس کے گلہائے رنگ رنگ کو اپنی استطاعت کے مطابق کسی گلدستے کی شکل نہ دی جائے اور"لمحے نے کہا" آپ کی بکھری سوچ کے نکھرے رنگوں کو ایک تصویر میں سمیٹنے کی جانب پہلا قدم ہے۔
جناب مجروح سلطان پوری کا شعر خاص آپ کے لیے۔۔۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا    
نورین تبسم
اردو بلاگر "کائناتِ تخیل"
اسلام آباد
یکم نومبر 2020
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"یادوں کی تتلیاں" کے لیے دیباچہ۔۔۔
"یادوں کی تتلیاں" جو یاد کے جھروکوں میں ٹھہری اور سوچ کے پردوں میں سمٹی سمٹائی برسوں سے فقط"کن" کی منتظر ہی تو تھیں۔اذنِ ربی سے " فیکون"کے بعد لفظ کے لباس میں یوں اپنی چھب دکھلاتی اٹھلاتی محوِرقص ہوئیں کہ جہاں فاضل لکھاری ایک جذب کے عالم میں لکھتی چلی گئیں وہیں شخصیات و واقعات کی ہمہ ہمی اور روانیِ خیال قاری کوبھی اپنی گرفت سے نکلنے نہیں دیتا۔قیام ِ پاکستان کی اولین دہائی کے اواخر سے شروع ہوتی عزیز دوست منیرہ قریشی کی زندگی کہانی کے نشیب وفراز کی کتھا جو نئی صدی کے دوعشروں تک محیط ہے صرف ذاتی احساسات وتجربات کی ترجمانی ہی نہیں کرتی بلکہ نصف صدی سے زیادہ کا یہ قصہ اس دور میں ہونے والے اہم قومی واقعات کا ایک مستند رپورتاژ بھی ہے۔
یادوں کی تتلیاں جو برسوں سے مٹھی میں قید تھیں، گرچہ پوری قوت سے سانس تو لیتی تھیں لیکن گذرتے وقت میں اُن کے رنگ مدہم پڑتے جارہے تھے۔آپ نے لفظ کے پیکر میں ڈھال کر انہیں آزاد کر دیا۔اِنہی قیمتی یادوں میں "ڈرائنگ روم" کے عنوان کے تحت اُن ملاقاتوں کا احوال بہت منفرد ہے جو دُنیائے اردو ادب کے چمکتے ستاروں سے اُن کے گھر میں ہوتی رہیں اور منیرہ قریشی کے چشمِ تخیل میں ہمیشہ کے لیے ٹھہر گئیں۔جناب افضل پرویز(پوٹھوہاری زبان کے نامور شاعر) سے شروع ہونے والے اس سلسلے میں جناب  ممتازمفتی،  قدرت اللہ شہاب،اشفاق  احمد،بانو قدسیہ،اے حمید   جیسی نابغۂ روزگار  شخصیات کے ساتھ ساتھ عصرِحاضر  کے   معتبر   صوفی دانشور جناب پرو فیسراحمدرفیق اختر  بطورِ خاص شامل ہیں۔بحیثیتِ مجموعی محبت بھری یادوں کا یہ نادر تحفہ ایسی گلاب تتلیاں ہیں جو سوچ کے لمس کو اقدار اور کردار کی مہک دے جاتی ہیں۔
گرچہ کوئی بھی اپنے والدین کی محبتوں کا قرض کبھی نہیں اُتار سکتا لیکن اللہ جس طور توفیق دے۔ اپنے ماں باپ کی شفقتوں اور یادوں کو بہت خوبی سے لفظ میں پرو کرمحفوظ کرنا گویا اپنی اہلیت کا حق ادا کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔اللہ اس کو قبول فرمائے ۔آمین۔
دعاگو ہوں کہ یادوں کی تتلیوں کا سفر اسی تازگی اور روانی کے ساتھ جاری رہےکہ "قدم رکے تو نہیں زندگی تھمی تو نہیں"
نورین تبسم
اردو بلاگر "کائناتِ تخیل"
اسلام آباد
یکم نومبر 2020
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعرات, دسمبر 03, 2020

"اچھائی،برائی "

سورہ الانعام (6)۔پارہ 7۔ آیت 54۔
تمہارے رب نے اپنے ذمہ رحمت لازم کی ہے، جو تم میں سے ناواقفیت سے برائی کرے پھر اس کے بعد توبہ کرے اور نیک ہو جائے تو بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔
برائی کر کے بھولو نہیں اور اچھائی کر کے بھول جاؤ۔
برائی ہو یا اچھائی دونوں کے بدلےضرور ملتے ہیں اور اسی دنیا میں اپنی آنکھ کے سامنے۔لیکن آنکھ بھی وہ جو محض بصارت ہی نہ ہو بلکہ بصیرت کے نور سے بھی روشن ہو۔آنکھ بصارت سے بڑھ کر بصیرت ہے۔
ہر برائی کی سزا نہیں اور ہر اچھائی کی جزا نہیں ۔کہتے ہیں انسان خطا کا پُتلا ہے۔سوبرائی ہو یا گناہ اگر جان بوجھ کر کسی زیارتی کا مرتکب ہوا ہے یا نادانی میں،اگرتو انسان انسانوں کا مجرم ہے یا اللہ کا گناہگار ۔ ہر دو صورتوں میں برائی کرنے کے بعد انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے۔ اہم یہ ہے کہ انسا ن سے معافی مانگنے کی ہمت نہیں یا مہلت نہیں تو پھر بھی کوئی بات نہیں۔اللہ تو ہر وقت پاس ہے،ساتھ ہے۔اُس سےبات کرے ،اُس سے معافی مانگے۔ہم جب اللہ سے کچھ مانگنے کے لیے اپنے جیسےانسان کو وسیلہ بنا سکتے ہیں تو بندوں سے ندامت کے اظہار کے لیے اللہ کو کیوں نہیں وسیلہ بناتے۔ ہم کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ ہمارے دل کی ندامت اُس انسان کے دل تک پہنچا سکتا ہے۔اور ایسا ضرور ہوتا ہے۔سو عمل اور قول کو تو جانے دیں۔اگر ہمارے دل کے کسی گوشے میں خفیف سا بھی احساسِ ندامت پیدا نہیں ہوتا تو جان لیں کہ ایک ایسا وقت ضرور آتا ہے کہ جب یہ احساس ہمارے دماغ میں پوری شدت سے بیدار ہو گا۔اللہ اُس وقت سے بچائے کہ وہ وقت مکافاتِ عمل کے سوا کچھ بھی نہیں۔

رہی بات اچھائی کی تو اچھائی کی جزا کا تو سنتے آئے ہیں یہ اچھائی کی سزا کے کیا معنی۔ برائی اور اچھائی دو دنیاؤں کی کہانی نہیں بلکہ اِن میں بال برابر فرق ہے۔کسی مجبور پر ہاتھ اُٹھانا ایک لمحۓ کا کام ہے اور وہی ہاتھ اُس کے سر پر رکھ دینا دوسرے لمحۓ کا۔ دیکھا جائے تو پہلا لمحہ سراسر زیارتی ہے اور دوسرا نیکی۔ لیکن اِس نیکی میں اگر بڑائی یا احسان کی رتی برابر بھی ملاوٹ ہو گئی تو یہ اُس زیارتی سے بڑھ کر ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ نیکی اُس شخص کے ساتھ نہیں بلکہ ہم اپنے ساتھ کر رہے ہوتے ہیں۔کیا پتہ وقت کا پہیہ کب ہمیں اس مجبور کی جگہ پر گھڑا کر دے ۔آخر میں انتہائی لرزا دینے والی حقیت یہ ہے کہ برائی کے بعد توبہ کر کے انسان پاک ہو سکتا ہے اور اللہ معاف کر کے اپنے نیک بندوں میں شامل کر دیتا ہے۔لیکن اچھائی کرنے کے بعد برے لوگوں میں شامل ہوجانا ہمیشہ کا خسارا ہے۔

      


 

جمعہ, ستمبر 18, 2020

"اب عمر کی نقدی ختم ہوئی"

پانچ برس اُدھار کے۔۔شرافت ناز

پیر, اگست 31, 2020

"ہنزہ داستان"

ہنزہ داستان۔۔۔مستنصرحسین تارڑ
سفر ۔۔۔1984
1985اشاعت۔۔۔
انتساب۔۔۔امی جان کے لیے











    صفحہ 114۔۔۔گُم وہی چیزیں ہوتی ہیں جو چاہے عارضی طور پر ہی سہی اِنسان  کی گرفت میں ایک مرتبہ تو آتی ہیں- بےشمار لوگ ہوں گے  جِن کے پاس  توگُم کرنے کے لیے بھی کچھ نہیں ہوتا۔
 صفحہ 119۔۔۔ طویل مسافتوں کی تھکاوٹ چند روز میں زائل ہو جاتی ہے ۔لیکن مہہ وسال کے گزرنے سے جو مسافت وجود میں آتی ہے اُس کی تھکاوٹ صرف مٹی میں  پنہاں ہو کر ہی ختم ہوتی ہے۔
 صفحہ 270۔۔۔ انسان فطرت کو مسخر تو کر سکتا ہے لیکن اُس کا دائمی رفیق نہیں  بن سکتا۔وہ سب کچھ رہتا ہے لیکن وہ خود نہیں رہتا۔البتہ اُس کی جگہ رہتی ہے۔

جمعہ, اگست 28, 2020

"اُداسی اور خوشی"

"میری ڈائری سے  میرا انتخاب"
تقریباً چار دہائیاں  پہلے  کے لفظ ۔۔۔نہیں جانتی کہ کس کے لکھے ہیں۔ لیکن  اداسی اور خوشی کی تمثیل  آج بھی  دل کو چھوتی ہے اور آنکھ نم کرتی ہے۔
"اُداسی" 
جیسے۔۔۔ ساون کی گھٹا  ذرا    دیر کے لیے برسے اور پھر دھوپ نکل آئے۔
 جیسے۔۔۔کوئی مہمان چند روز کے لیے آئے اور قہقہے برسا کر واپس چلا جائے۔
جیسے۔۔۔ کوئی میلہ بھر کر خالی ہو جائے۔
جیسے۔۔۔ چُھٹی کا دن آئے اور گُزرجائے۔
جیسے ۔۔۔روزِعید کی شام ہو۔
جیسے۔۔۔ دُلہن کی رُخصتی کے بعد گھر کی حالت۔
جیسے۔۔۔تماشۂ رفتہ کا خالی پنڈال۔
 جیسے۔۔۔ کسی پردیسی کی الوداعی مسکراہٹ۔
جیسے۔۔۔بھولے بسرے خطوط۔
جیسے۔۔۔ مرنے والے کے تہہ در تہہ کپڑے۔
جیسے۔۔۔ گرمیوں کی طویل دوپہر میں باغ کا منظر۔
جیسے۔۔۔  کسی  ویران مسجد میں شام کا چھٹپٹا۔
جیسے۔۔۔ کسی کھنڈر میں چھٹکی چاندنی۔
جیسے۔۔۔ کسی سُنسان پہاڑ پر خزآں کی آمد۔
جیسے۔۔۔جاڑے کی چاندنی۔۔
۔" اےاُداسی۔اے اُداسی تیرا جواب نہیں ،تخلیق کاروں کی اُمنگ،اے شاعروں کی محبوبہ،اے اداسی تو میرے جذبوں کی گھٹا ہےاور تو میرے قلم کی وہ سیاہی بھی جس کے سامنے صفحۂ ہستی کی تمام تر وُسعت بھی ناکافی ہے۔۔۔مگراداس موسم میں اداس ہو جانا ایک عام سی بات ہے کیونکہ اس وقت بھی تو سال  بھر کا اداس اور سوگوار موسمَِ خزاں عروج پر ہے۔لیکن اگر  میں اس اداس موسم میں اداس ہوں تو کئی لوگ ہوں گے جو اس موسم سے لُطف اندوز ہو رہے ہوں گےاور یوں اُن کے چہروں سے شفق پھوٹ رہی ہو گی۔ان کے کھنکتے قہقہے ہر سمت پھیل رہے ہوں گے،اُن کے چہروں سے خوشی و شادمانی ٹپک رہی ہو گی مگر دوسری طرف ایسے بھی لوگ ہوں گے جن کے چہروں پر غم کی گھٹا چھائی ہو گی،آنکھوں  میں افسُردگی کے سائے  ہوں گے اور چہرہ دھواں دھواں ہو گا۔اور ہاں وہ لوگ بھی تو ہوں گے جو اندر سے تو افسردہ ہوں گے مگر ہنستا چہرہ لیے زمانے کے سامنے ہوں گےمگراُن کے چہرے کا کوئی حصہ اس جھوٹ کی چغلی کھا رہا ہو گا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
" خوشی"
 جیسے۔۔۔ ساون کی گھنگھور گھٹا سے پانی کا پہلا قطرہ۔
جیسے۔۔۔ کسی میلے میں ڈھول پر پڑنے والی پہلی تھاپ۔
جیسے۔۔ کسی سُونے آنگن میں بچے کی پہلی چہکار۔
جیسے۔۔۔کسی دور کے نگر میں کسی شناسا چہرے کا دیدار۔
جیسے۔۔۔کسی اُجڑے آنگن میں بہار کی واپسی کا احساس۔
جیسے۔۔۔ کسی خوشخبری سنانے والے کے ہونٹوں کی مخصوص جنبش۔
جیسے۔۔۔کسی  مسکرانے والے کی آنکھ کا نرالا آنسو۔
جیسے۔۔۔کسی لوٹ کر آنے والے کے قدموں کی خوش کن صدا۔
۔"اے خوشی تو  دل کے سمندر کا  سب سے انمول موتی ہے۔تو زندگی کی لہر ہے۔تو کائنات کی روح ہے۔ تو نے شاذ ہی مجھے اپنی زندگی کی  جھلک دکھائی ہے ۔لیکن مجھے تجھ سے کوئی شکوہ نہیں کیونکہ تیری کمیابی ہی توتیرا حُسن ہے"۔




جمعہ, جولائی 10, 2020

"کیا ہے زندگی"

"کیا ہے زندگی"
٭ زندگی  تو بس پکے مکان سے کچی قبر تک فقط آنکھ بند ہونے اور آنکھ کھلنے کے بیچ کی سفرکہانی ہے جو کبھی تو حقوق وفرائض کے محور کے گردسمجھوتے کے کھوپے چڑھائے صبح وشام کرتے گزرتی ہے تو کبھی لایعنی خواہشوں  کی چادر میں اُمیدوں کی گلکاری کرتے،لباس کی  تکمیل کے  خمار میں  ڈولتے تو کبھی ناکافی حسرتوں کے لاشے اُٹھائے دن گن گن کر گزارتے۔ زندگی کے میلے میں اپنی محنت ومشقت کے سکًوں سے  آسودگی خریدتے خریدتے ایک ایسا وقت بھی آتا ہے  کہ  کاروبارِحیات  کا  مرکزی کردار   ایکسٹرا کی جانب بڑھنے لگتا ہے۔
٭زندگی سفردرسفر ہے تو زندگی کہانی تھکن درتھکن۔۔۔ ڈھلتی عمر کی چاپ سنتے  ذمہ داریوں کی چیختی چلاتی تھکن اُترنے لگے تو زندگی کی  تھکن یوں  خاموشی سے  اپنے حصار میں جکڑتی ہے کہ  ہر رنگ بےرنگ اور ہر عکس میں بس ایک ہی نقش نظر آتا ہے۔ساتھ رہنے والے،ساتھ چلنے والے  چلتی گاڑی میں دِکھتے منظروں کی طرح   رُخ بدلتے ہیں تو ہمیشہ کے لیے  رُخصت ہو جانے والے چہرے احساس کی شدت لیے یاد کے دریچوں سے جھانکتے ہیں۔ کبھی ہم رشتوں کو ترستے ہیں تو کبھی خاندان مکمل کرنے کی  جدوجہد میں  سفرِزندگی طے کرتے ہیں۔  رشتے برتتے سمے  جب دنیاوی رشتوں کی حقیقت اور محبتوں کی قلعی اُترتی ہے تو  انسان کچھ کہنے کے قابل رہتا ہے اور نہ ہی کسی سے  بانٹنے کے۔ چاہ سےجوڑے گئے رشتوں کے رویے انسان  کو ذہنی تھکن کی ایسی بندگلی میں پہنچا دیتے ہیں کہ  جسم ہزار کوشش کے باوجود آگے بڑھنے سے انکاری ہو جاتا ہے۔
٭۔۔بس کر اے زندگی کہاں تک ہم  تیرے عذاب جھیلیں۔کبھی کوئی تھک کر سو جاتا ہے اور کوئی اس ڈر سے نہیں سوتا کہ تھک گیا تو مر جائے گا۔
۔"یہ شام پھر نہیں آئے گی"۔ 
زندگی اگر دن کے رات اور رات کے دن میں ڈھلنے سے آگے بڑھتی ہے تو انہی رات اور دن کے بیچ میں ہماری زندگی کی صُبحیں اور شامیں بھی آتی ہیں۔ایک پُرسکون رات کے اختتام پر طلوع ہونے والی صبح  کی مہک اگر  جسم وجاں میں جذب ہو کر اسے تازہ دم کرتی ہےتو دن بھر کی تھکاوٹ کے بعد  چائے کے کپ  کے  ساتھ اپنی ذات کی تنہائی میں سرکنے والی شام کے چند لمحے روح کے بوجھ اتار دیتے ہیں۔ جو وقت  بیت جائے وہ کبھی پلٹ کر نہیں آتا خواہ وہ درد بھرے لمحات ہوں یا خوشیوں کی کہکشاں پر رقص کرتے جگنو لمحے ہوں یا   دکھ اور تکلیف کے آسیب میں جکڑےکیکر لمس۔
 ایک شام زندگی ؎ کی بھی ہوتی ہے  ایسی شام  جو  بیک وقت گونگی بھی ہوتی ہے اور چیختے چلاتے اپنے حصار میں بھی جکڑ لیتی ہے۔


بدھ, اپریل 15, 2020

"قرانِ عظیم اور اعداد"

(انتخاب)
قرآن حکیم کا ایک ایک حرف اتنی زبردست کیلکولیشن اور اتنے حساب و کتاب کے ساتھ اپنی جگہ پر فٹ ہے - اتنی بڑی کتاب میں اتنی باریک کیلکولیشن کا کوئی رائٹر تصور بھی نہیں کرسکتا۔ بریکٹس میں دیے گئے یہ الفاظ بطور نمونہ ہیں ورنہ قرآن کا ہر لفظ جتنی مرتبہ استعمال ہوا ہے وہ تعداد اور اس کا پورا بیک گراؤنڈ اپنی جگہ خود علم و عرفان کا ایک وسیع جہان ہے۔ دنیا کا لفظ اگر 115 مرتبہ استعمال ہوا ہے تو اس کے مقابل آخرت کا لفظ بھی 115 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔
(دنیا وآخرت:115) ۔
(شیاطین وملائکہ:88)
( موت وحیات:145)
(نفع وفساد:50)
(اجر فصل108)
 (کفروایمان :25)
۔(شہر:12)کیونکہ شہر کا مطلب مہینہ اور سال میں 12 مہینے ہی ہوتے ہیں ( اور یوم کا لفظ 360مرتبہ استعمال ہوا ہے) اتنی بڑی کتاب میں اس عددی مناسبت کا خیال رکھنا کسی بھی انسانی مصنف کے بس کی بات نہیں۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔۔۔
جدیدترین ریسرچ کے مطابق قرآن حکیم کے حفاظتی نظام میں 19 کے عدد کا بڑا عمل دخل ہے ،اس حیران کن دریافت کا سہرا ایک مصری ڈاکٹر راشد خلیفہ کے سر ہے جوامریکہ کی ایک یونیورسٹی میں کیمسٹری کے پروفیسر تھے۔1968 ء میں انہوں نے مکمل قرآنِ پاک کمپیوٹر پر چڑھانے کے بعد قرآنِ پاک کی آیات ان کے الفاظ و حروف میں کوئی تعلق تلاش کرنا شروع کردیا رفتہ ،رفتہ اور لوگ بھی اس ریسرچ میں شامل ہوتے گئے حتی کہ 1972ء میں یہ ایک باقاعدہ سکول بن گیا۔ریسرچ کے کاکام جونہی آگے بڑھا ان لوگوں پر قدم قدم پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ، قرآنِ حکیم کے الفاظ و حروف میں انہیں ایک ایسی حسابی ترتیب نظر آئی جس کے مکمل ادراک کیلئے اس وقت تک کے بنے ہوئے کمپیوٹر ناکافی تھے۔
کلام اللہ میں 19 کا ہندسہ صرف سورہ مدثر میں آیاہے جہاں اللہ نے فرمایا:دوزخ پر ہم نے انیس محافظ فرشتوں کو مقرر کر رکھا ہے اس میں کیا حکمت ہے یہ تو رب ہی جانے لیکن اتنا اندازہ ضرور ہوجاتا ہے کہ 19 کے عدد کا تعلق اللہ کے کسی حفاطتی انتظام سے ہے پھر ہر سورت کے آغاز میں قرآنِ مجید کی پہلی آیت بسم اللہ کو رکھا گیا ہے گویا کہ اس کا تعلق بھی قرآن کی حفاظت سے ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں بسم اللہ کے کل حروف بھی 19 ہی ہیں پھر یہ دیکھ کر مزید حیرت میں اضافہ ہوتا ہے کہ بسم اللہ میں ترتیب کے ساتھ چار الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور ان کے بارے میں ریسرچ کی تو ثابت ہوا کہ اسم پورے قرآن میں 19 مرتبہ استعمال ہوا ہے لفظ الرحمن 57 مرتبہ استعمال ہوا ہے جو3×19 کا حاصل ہے اور لفظ الرحیم 114 مرتبہ استعمال ہو ہے جو 6×19 کا حاصل ہے اور لفظ اللہ پورے قرآن میں 2699 مرتبہ استعمال ہوا ہے 142×19 کا حاصل ہے لیکن یہاں بقیہ ایک رہتا ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ اللہ کی ذات پاک کسی حساب کے تابع نہیں ہے وہ یکتا ہے۔ قرآن مجید کی سورتوں کی تعداد بھی 114 ہے جو 6×19 کا حاصل ہے سورہ توبہ کےآغاز میں بسم اللہ نازل نہیں ہوئی لیکن سورہ نمل آیت نمبر 30 میں مکمل بسم اللہ نازل کرکے 19 کے فارمولا کی تصدیق کردی اگر ایسا نہ ہوتا تو حسابی قاعدہ فیل ہوجاتا۔
اب آئیے حضور علیہ السلام پر اترنے والی پہلی وحی کی طرف : یہ سورہ علق کی پہلی 5 آیات ہیں :اور یہیں سے 19 کے اس حسابی فارمولے کا آغاز ہوتا ہے! ان 5 آیات کے کل الفاظ 19 ہیں اور ان 19 الفاظ کے کل حروف 76 ہیں جو ٹھیک 4×19 کا حاصل ہیں لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی جب سورہ علق کے کل حروف کی گنتی کی گئی تو عقل تو ورطہ حیرت میں ڈوب گئی کہ اسکے کل حروف 304 ہیں جو 4×4×19 کا حاصل ہیں۔ اور سامعین کرام ! عقل یہ دیکھ کر حیرت کی اتھاہ گہرائیوںمیں مزید ڈوب جاتی ہے کہ قرآنِ پاک کی موجودہ ترتیب کے مطابق سورہ علق قرآن پاک کی 96 نمبر سورت ہے اب اگر قرآن کی آخری سورت والناس کی طرف سے گنتی کریں تو اخیر کی طرف سے سورہ علق کا نمبر 19 بنتا ہے اور اگر قرآن کی ابتدا سے دیکھیں تو اس 96 نمبر سورت سے پہلے 95 سورتیں ہیں جو ٹھیک 5×19 کا حاصل ضرب ہیں جس سے یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ سورتوں کے آگے پیچھے کی ترتیب بھی انسانی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حسابی نظام کا ہی ایک حصہ ہے۔ قرآنِ پاک کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت سورہ نصر ہے یہ سن کر آپ پر پھرایک مرتبہ خوشگوار حیرت طاری ہوگی کہ اللہ پاک نے یہاں بھی 19 کا نظام برقرار رکھا ہے پہلی وحی کی طرح آخری وحی سورہ نصرٹھیک 19 الفاظ پر مشتمل ہے یوں کلام اللہ کی پہلی اور آخری سورت ایک ہی حسابی قاعدہ سے نازل ہوئیں۔ 
سورہ فاتحہ کے بعد قرآن حکیم کی پہلی سورت سورہ بقرہ کی کل آیات 286 ہیں 2 ہٹادیں تو مکی سورتوں کی تعداد سامنے آتی ہے 6ہٹا دیں تو مدنی سورتوں کی تعداد سامنے آتی ہے۔86 کو 28 کے ساتھ جمع کریں تو کل سورتوں کی تعداد 114 سامنے آتی ہے۔
آج جب کہ عقل وخرد کو سائنسی ترقی پر بڑا ناز ہے یہی قرآن پھر اپنا چیلنج دہراتا ہے حسابدان، سائنسدان، ہر خاص وعام مومن کافر سبھی سوچنے پر مجبور ہیں کہ آج بھی کسی کتاب میں ایسا حسابی نظام ڈالنا انسانی بساط سے باہر ہے طاقتور کمپوٹرز کی مدد سے بھی اس جیسے حسابی نظام کے مطابق ہر طرح کی غلطیوں سے پاک کسی کتاب کی تشکیل ناممکن ہوگی لیکن چودہ سو سال پہلے تو اس کا تصور ہی محال ہے لہذا کوئی بھی صحیح العقل آدمی اس بات کا انکارنہیں کرسکتا کہ قرآنِ کریم کا حسابی نظام اللہ کا ایسا شاہکار معجزہ ہے جس کا جواب قیامت تک کبھی بھی نہیں ہوسکتا۔( منقول)۔

یادوں کی تتلیاں،لمحے نے کہا اور منیرہ قریشی

عزیز دوست محترمہ منیرہ قریشی صاحبہ سے تین دہائیوں کا ساتھ ہے ۔کتاب شناسی سے سوچ آشنائی تک دوستی کے اس سلسلے میں کئی خوبصورت ...