منگل, جنوری 01, 2019

"۔پہلا بچہ"

 اپنے اپنے ماحول میں،اپنے اپنے انداز سے  عمر کے ابتدائی سال طے کرنے والے مرد اور عورت معاہدۂ نکاح کے ذریعے  شادی کی شاہراہ پر قدم رکھتے ہیں۔جذبوں اور خواہشوں کے درِیار پرپلکوں سےدستک دیتے جب آنکھ کھلتی ہے تو  آگہی کا اُجالا ہر احساس کی قلعی  کھول دیتا ہے۔باہمی محبت سمجھوتے کا لباس پہنتے دیر نہیں لگاتی تو  کہیں سمجھوتے کے گلیشئیر محبت کی  تپش سے دھیرے دھیرے پگھلنے لگتے ہیں۔شادی   ہردو افراد کے لیے "زندگی" کا ایسا "ٹرننگ پوائنٹ " ہے جو  نہ صرف جسمانی کیمسٹری یکسر تبدیل  کر دیتا ہے  بلکہ انسان ذہنی اعتبار سے بھی کئی منازل پھلانگ جاتا ہے۔ ایک دوسرے کو سمجھتے سمجھاتے، شادی کے اس بندھن کا ٹر ننگ پوائنٹ" پہلا بچہ" ہے۔ پہلا بچہ وہ سوال وہ کردار ہے جو اگر اپنی موجودگی کے احساس سےکئی  سوالوں کا جواب بنتا ہے تو اس کی غیرموجودگی  بذاتِ خود ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ پہلا بچہ عام حالات میں  اگر ایک نعمت گردانا جاتا ہے تو کئی  مرتبہ ایک ایسی زنجیر یا ہتھکڑی بن جاتا ہے جس سے چاہ کر بھی فرار ممکن نظر نہیں آتا۔ کبھی یہ کمزور پڑتے رشتوں کو جوڑنے میں معاون ثابت ہوتا ہے تو کہیں گلے کا ایسا طوق،جو زندگی کی ساری خوشیوں کے  در بند کر کے بس  اپنے حصار میں جکڑ کر رکھ دیتا ہے۔ جو بھی ہو پہلے بچے کی آمد اگر خوشخبری کے زمرے میں آتی ہے تو اس "خوشخبری" کا نا ملنا   رشتوں اور تعلقات میں ان کہی پیچیدگیوں کا سبب بنتا ہے۔ بسا اوقات ایسی جامد خاموشی روح میں اترتی ہے کہ انسان اپنی ہی پکار سے خوفزدہ ہوجاتا ہے۔یہاں نہ صرف عورت کو  قصوروار کردانا جاتا ہے بلکہ عورت  ہی دوسری عورت کے حق میں زہرِقاتل ثابت ہوتی ہے۔اعتراض کرنے میںعام طور پر وہ خواتین پیش پیش ہوتی ہیں  جن کے اپنی اولاد نہیں ہوئی یا کئی سالوں بعد اللہ نے اس نعمت سے نوازا ہو۔حق تو یہ ہے کہ شادی اگر مرد اور عورت کا نجی معاملہ ہے تو بچے کا ہونا یا نا ہونا بھی ہر دو کا سراسر ذاتی  فیصلہ یا  مسئلہ ہوتا ہے۔اس بارے میں ان دو کے علاوہ کسی تیسرے کو رائے تو کیا سوال پوچھنے کا بھی اختیار ہرگز نہیں ہونا چاہیے خواہ وہ ان کے اپنے ہی کیوں نہ ہوں۔
 خیر پہلے بچے کی "خوشخبری" خواہ شادی کے چند ماہ بعد سنائی دے یا چند سالوں بعد،اصل مرحلہ عافیت کے ساتھ  اس   امید کا پایۂ تکمیل تک   پہنچنا ہے۔بقول  منیرنیازی 
ایک اور دریا کا سامنا تھا  منیرمجھ  کو 
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
بلاگ یقینِ زندگی(1) سے اقتباس۔
پہلا بچہ اپنے رویوں اور احساسات میں بھی اول ہی ہوتا ہے۔گھر میں اس کا وجود محبتوں کی کُل کائنات سمیٹتا ہے جب تک کے اُس کا دوسرا بہن بھائی نہ آ جائے۔پھر اُس کی زندگی یکدم تین سوساٹھ درجے کے زاویے پر مڑ جاتی ہے۔یا تو وہ سمجھوتے کر کے اپنے سب اختیار سب خواہشیں خاموشی سے بانٹ دیتا ہے اور یا پھر ہمیشہ اپنی بڑائی کے حصار سے باہر نہیں آ پاتا۔ اس میں شک نہیں کہ اپنوں کے دل میں اُس کا خاص احساس ہمیشہ ویسا ہی رہتا ہے جو وقت کے ساتھ چاہے گھٹتا بڑھتا رہے لیکن اس سے ملنے والی خوشی اگر منفرد ہوتی ہے تو اس سے ملنے والے غم بھی دل زخمی کر دیتے ہیں۔ پہلے بچے کی سب سے خاص بات جو بسااوقات اس کی کمزوری یا کسک بھی بن جاتی ہے کہ اُسے مانگنا نہیں آتا۔عمر کے پہلے سال کا یہ احساس ایک جینیٹک کوڈ کی مانند اس کے ذہن میں ٹھہر جاتا ہے چاہے اگلے برس ہی اس کا شراکت دار آ جائے۔

اتوار, دسمبر 23, 2018

"دلیل پر 100 تحاریر"

"سامان سو برس کا "
۔  100 کا ہندسہ زندگی کے کلینڈر میں جس موڑ پر بھی آئے  اپنے اندر  ایک عجیب سی کشش  اور خوشی رکھتا ہے جیسے ایک سنگِ میل چھو لیا ہو۔۔۔یوں کہ جیسے  بہت کچھ مکمل ہو گیا ہو۔
انسانی عمر میں 100 برس اگر ناممکنات میں سے ہیں تو  ذہنی وجسمانی قوا کی مجبور ی اور لاچاری کی علامت بھی ہیں۔۔رب کی بنائی انسانی جان کی مشینری کا سو برس تک  پہنچنا محال ہے۔اس میں شک نہیں کہ   سو تو بہت دور کی بات ہےہم انسان تو اسی سے  نوے برس بھی اپنے مکمل ہوش وحواس ،جسمانی اور ذہنی  طاقت کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتے۔پچاس کا ہندسہ پھلانگتے ہی انسانی عمر میں تنزلی کا سفر شروع ہو جاتا ہے اور یہاں تک آتے آتے انسان   رب کی طرف سے عطا کردہ  محدود مہلتِ عمر میں بد سے بدترین اور بہتر سے بہترین نشیب وفراز سے گزر چکا ہوتا ہے۔آسمانِ دنیا پر نئی کہکشاؤں  کو  دریافت کرنے اور ذہن کے زور پر  ساری دنیا پر حکومت کرنے والے   اپنی زندگی اور صحت   کے حوالے سے   یہاں آ کراپنے ہی جسم   سے شکست کھا جاتے ہیں۔
 جو بھی ہو سب جانتے بوجھتے اور سمجھتے ہوئے بھی ہم اپنی زندگی کے معاملات اور مشاغل میں  اعدادوشمار کو بہت  اہمیت دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر کرکٹ کے کھیل میں "نروس 99" کی اصطلاح بہت عام ہے۔اور سو رنز پورے ہوتے ہیں کھلاڑی اگلی ہی گیند  پر آؤٹ بھی ہوجائے تو  نہ صرف دیکھنے والے بلکہ وہ خود  بھی اطمینان کا سانس لے کر واپس لوٹتا ہے۔
 اب بات   دلیل پر میری سو تحاریر کے سنگِ میل کی۔۔۔ دلیل ویب سائیٹ کا آغاز جولائی 2016 ہوا۔ اپنی کسی  بھی تحریر کی اشاعت سے بےپروا  دو ماہ کے عرصے میں   بحیثیت قاری دلیل سے تعلق  جڑا رہا ۔دلیل انتظامیہ کی جانب   سے اگست  2016 کو میری پہلی تحریر" گود کی گور" شائع ہوئی۔ اپنا نام اور تحریر اچانک سے دلیل ویب سائیٹ پر دیکھ کرخوشگوار حیرت  ہوئی۔بس اُس کے بعد سے جو سلسلہ شروع ہوا وہ تادمِ تحریر رُکا نہیں۔ دلیل انتظامیہ کی مشکور ہوں کہ  آج تک میری  طرف سے بھیجی گئی کسی  ایک تحریر کو بھی رد نہیں کیا گیا اور نا ہی کسی ایک لفظ کی  کانٹ چھانٹ کی  نوبت آئی۔ دو سال کی مدت میں سو تحاریر کی مسلسل اشاعت کے اس سفر میں   گر  ایک ماہ میں دس سے زیادہ تحاریر شائع ہوئیں تو   دلیل کی طرف سے کسی تکنیکی مسئلے کی وجہ سے   ایک یا دو ماہ   کے وقفے بھی ہوئے۔ دلیل پر شائع شدہ 100 تحاریر کے اس گلدستے میں    جہاں میرے احساس کے کینوس پر  رنگ بکھیرنے  والے مختلف النوع موضوعات  کی  جھلک  ملتی ہے   وہیں  رب کی طرف سے   دی  گئی  صلاحیت  اور اہلیت  کو بروئے کار لاتے ہوئے   یہ تحاریر   ایک قاری ہونے کے ناطے اپنے لکھاریوں کی  محبت کا احسان  چکانے کی ادنیٰ سی کوشش بھی ہیں۔ میرے نزدیک لفظ کا قرض لفظ سے ہی ادا کیا جا سکتا ہے۔سوشل میڈیا کی بدولت  آج کل "سب کہہ دو" کا زمانہ ہے۔ جس کے مثبت کے ساتھ منفی پہلو بھی ہیں کہ ہم اپنی عمر اور دوسرے کے تجربےکے ساتھ مسابقت بازی سے لے کر اپنی انا کی سربلندی تک پیچھے نہیں ہٹتے۔
میری تحاریر  تو بلاگ یا کتاب  کے معیار اور اصول وضوابط کے ایک فیصد پر بھی پورا نہیں اترتیں  کہ نہ  تومیں نے ڈھیر ساری کتب پڑھی ہیں اور نہ ہی بلاگ پڑھنے کا دعٰوی کر سکتی ہوں۔ میں نے تو شاید اتنے بلاگ بھی نہیں پڑھے جتنے لکھ چکی ہوں۔میری کم علمی سے صرفِ نظر رکھتے ہوئے اپنے بلاگز پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آپ کے قیمتی وقت کی خواہش رکھتی ہوں۔۔۔"شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات"۔
 دلیل ویب سائیٹ   اور اس کی انتظامیہ  کے اعتماد کے لیے تہہ دل سے ممنون  ہوں کہ دلیل پر اشاعت سے میری تحاریر   کی ایک منظم  فہرست مرتب ہوئی۔زندگی نے ساتھ دیا  اوردلیل ویب سائیٹ نے   آئندہ موقع دیا  تو اس کے پلیٹ فارم سے  اپنی اب تک کی بہترین تحاریر  ضرور سامنے لاؤں گی۔ ان شااللہ ۔
ویب سائیٹ "دلیل" پر2016 سے شائع ہونے والی تحاریر۔۔۔۔
٭۔2016 (34)۔۔۔۔اگست (1) ۔۔ستمبر(10)۔۔اکتوبر(11)۔۔ نومبر(6)۔۔دسمبر(6)۔
٭۔ 2017(55)۔۔جنوری (7)۔۔۔فروری(7)۔۔۔مارچ(7) ۔۔۔اپریل (4)۔۔۔مئی (3)۔۔۔ جون(4)۔۔۔جولائی(2)۔۔اگست(5)۔۔۔ستمبر(2)۔۔۔اکتوبر(6)۔۔۔نومبر(6)۔دسمبر (2)۔
٭۔ 2018(11)۔.مارچ (2)۔۔اپریل (1)۔ مئی (3)۔ جولائی (1)۔ستمبر(1)۔اکتوبر(3)۔دسمبر (1)۔
۔۔۔۔
٭1)گود کی گور۔۔۔31 اگست 2016
۔۔۔۔
٭2)عورت ۔پیر کی جوتی۔۔یکم ستمبر2016
۔۔۔۔
٭3)لفظ اور کتاب سے دوستی۔۔3 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭4)آہ ہم عوام،واہ ہم عوام۔۔5 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭5)مستنصرحسین تارڑ۔۔عکس سے نقش تک۔7 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭6) تین لفظ۔۔8 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭7زندگی کا زیرو پوائنٹ۔9ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭8)اشفاق احمد اور 7 ستمبر کی رات۔۔بانو قدسیہ۔۔15 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭9)ماں کا دُکھ۔۔19 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭10) بیٹی اور اُس کا دُکھ۔25 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭11) پچیس برس کا سفرِزندگی مکمل ہونے پر ماں کا احساس بیٹے کے نام۔29 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭12)چاند اور زندگی کی چاندنی۔یکم اکتوبر 2016
۔۔۔
٭13)سوکن۔۔2 اکتوبر2016
۔۔۔۔۔
٭14)سرقہ۔6اکتوبر 2016
۔۔۔
٭15)آفتِ ارضی۔8 اکتوبر 2016
۔۔۔
٭16) رازِ زندگی 9 اکتوبر 2016
۔۔۔۔
٭17) کتے،کتاپن اور ہماری خواہشات۔ 18 اکتوبر 2016
۔۔۔۔
٭18)سال گرہ۔19 اکتوبر 2016
۔۔۔۔
٭19)اکرامِ میت۔23 اکتوبر 2016
۔۔۔۔
٭20)منتظمِ اعلیٰ اور استعفٰی۔25 اکتوبر 2016
۔۔۔۔۔۔
٭21)دھرنے اور آج کا اسلام آباد۔۔29اکتوبر2016۔
۔۔۔۔۔۔
٭22)کٹڑ پنجابی،کٹر پاکستانی اورکٹر اُردو ادیب۔۔ 31اکتوبر2016۔
۔۔۔۔۔۔
٭23)تبدیلی کی لہر کی واپسی اور جوان خون۔2 نومبر 2016۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
٭24)خودغرضی کی بھوک۔15نومبر2016۔
۔۔۔۔۔
٭25) نکاح۔۔کاغذ کہانی۔۔18 نومبر۔2016۔
۔۔۔۔۔۔
٭26) سیاسی حمام اور لولی پاپ کی سیاست 19۔نومبر۔2016۔
۔۔۔۔۔۔
٭27) ساتھ اور لباس کہانی ۔،20 نومبر 2016
۔۔۔۔۔
۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔
٭97) سرکاری ملازم۔۔30 ستمبر2018
۔۔۔
٭98) ماں کی ڈائری سے۔13 اکتوبر 2018
۔۔۔
٭99) آٹوگراف۔۔17 اکتوبر 2018

جمعہ, اکتوبر 19, 2018

ترکہ

 دُنیا بدبودار کیچڑ کی ایک دلدل ہے۔۔۔جس کے چھینٹے پاس سے گزرنے والےکو بھی آلودہ کر سکتے ہیں۔۔۔اس کا تعفن دورسے ہی قدم روک لیتا ہے۔اگر یہ آنکھوں دیکھی حقیقت ہے تو یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمیں اسی دُنیا میں رہنا ہے۔۔۔ ایک مقررہ وقت تک ۔۔۔ اس کی تمام ترغلاظت اورہولناکی جانتے ہوئےبھی۔ اصل بات۔۔۔ اس سے بچ کر دور بھاگنا یا اس میں قدم رکھ کر اپنے آپ کو آلودہ ہونے سے بچانا نہیں بلکہ اس کو پرکھ کر اس میں ڈوبنے سے خود کو بچانا ہے۔ توبہ کا 'آب ِزم زم' ہروقت پاس ہے لیکن آب ِزم زم کی وافر دستیابی کو جواز بنا کر دُنیا کے اندر ہی اندر جانے کی خواہش سراسر حماقت ہے۔ یہ دُنیا جو دور سے کتنا ہی خوفناک منظر کیوں نہ پیش کر رہی ہو۔اس میں قدم رکھ کر آنکھ یوں بند ہوتی ہے کہ ہرطرف رنگوں اور خوشبوؤں کی برسات ایک لمحے میں سب اسباق بھلا دیتی ہے۔ دُنیا انسان کو خطرناک حد تک نابینا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اگر نابینا انسان کے دوسرے حواس بھی ساتھ چھوڑ دیں تو پھرڈوبنا مقدر ہے۔ دُنیا میں ڈوبنے والا نجات پھربھی نہیں پا سکتا کہ اس کا کھارا پانی جینے دیتا ہے اور نہ مرنےسے نجات کی صورت دکھائی دیتی ہے۔
انسان ساری زندگی محنت کرتا ہے۔۔۔ روپیہ پیسہ جمع کرتا ہے۔۔۔جائیداد بناتا ہے۔۔۔ برے وقت کے لیے پس اندازکرتا ہے۔۔۔ نہ صرف اپنے سکون کے لیے بلکہ اپنے اہل وعیال کے آرام وآسائش کے لیے جان توڑ کوشش کرتا ہے۔ زندگی اور معاملاتِ زندگی ایسا کنواں ہیں کہ جتنا پانی نکالتے جاؤ پیاس بڑھتی جاتی ہے۔۔۔  طلب کم ہوتی ہے اور نہ ہی رسد میں کمی آتی ہے۔۔۔یوں حاصل جمع ہمیشہ صفر آتا ہے۔۔۔ بظاہرکتنا ہی مال ومتاع دکھائی کیوں نہ دے رہا ہو سب خرچ ہو جاتا ہے۔ ایک وقت مقرر کے بعد جب واپسی کا نقارہ سنائی دیتا ہے۔۔۔ صرف وہی ساتھ جاتا ہے جو دل کی "خفیہ" تجوری میں محفوظ کررکھا تھا۔۔۔ اور جس کے بارے میں کوشش تھی کہ دوسرے ہاتھ کو خبر تک نہ ہو۔ ایسا بھی ہوتا ہے بلکہ ہمیشہ ایسا ہی  ہوتا ہے کہ وہ دولت یا وراثت جو کسی کے لیے جمع کی تھی آخری وقت میں کسی اور کے کام آتی ہے۔احساس کا جوار بھاٹا سفر زیست کے ساتھ رنگ بدلتاجاتا ہے۔زندگی کے لیے جسم سے زیادہ ذہن کی زندہ رہنے کی خواہش اہم ہے۔ دنیا کی چاہت ختم ہو رہی ہو لیکن ذہن کی تازگی برقرار رہے تو ذہن زندگی کا ساتھ چھوڑنے پر کبھی آمادہ نہیں ہوتا ۔ اُس لمحے جسم کو ایک نادان بچے کی طرح اُس کی بات ماننا پڑتی ہے اس کا ساتھ دینا پڑتا ہے،اس سمے خواہشوں کے دیے ٹمٹمانے بھی لگیں لیکن امیدوں کے چراغ ضرور روشن رہنا چاہیں۔ جیسےکبھی نہ کبھی مہیب کالے بادلوں سے ڈھکے آسمان پر کہیں نہ کہیں روشنی کی ایک کرن جھلک دکھلا دے یا ایک خوفناک گڑگڑاہٹ کے ساتھ لمحہ بھر کوبجلی سی کوند جائے،بس وہ ایک لمحہ اور اُس کے بعد اتنی جل تھل ہو کہ پیاسی مٹی سیراب ہو کر دوسروں کے لیے آبِ حیات بن جائے۔بےشک انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی اس نے کوشش کی ۔ لیکن ایک کوشش عمل سے پہلے نیت کی بھی ہے۔نیت کتنا کھری ہے؟ اور اس میں لالچ، خودغرضی اور انا کی کھوٹ کتنی ہے؟ وقتی چمک دمک کی ہوس ہے یا ابدی روشنی کی تمنا؟۔
لمحۂ فکر یہ ہے کہ کرنے کا وقت ہماری اسی مادی زندگی تک ہی محدود ہے۔ہمیں اپنی اسی زندگی میں اپنے آپ کو بھی مطمئن کرنا ہے اوراپنے دینی ودنیاوی حقوق بھی احسن طریقے سے ادا کرنا ہیں۔اپنے اندر کی اواز پر دھیان دینا سب سے اہم ہے اور یہی سب سے مشکل ہے۔ہم سب اپنےآپ کو جاننے کے دعوے تو کرتے ہیں لیکن اکثراوقات ہماری طلب کی بازگشت ہماری ذات کے اندھے کنوئیں میں ٹکرا کر رہ جاتی ہے۔ہم کبھی توسب فانی کہتے ہوئے مایوسی کو ضبط وبرداشت کے پردے میں چھپا جاتے ہیں تو کبھی برداشت کی آخری حد سے گذر کر سب سودوزیاں سے آزاد ہو جاتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں  اپنے ساتھ وقت گزارنے کا وقت کبھی نہیں ملتا۔ہماری زندگی پر ہماری ذات کا اتنا ہی حق باقی رہتا ہے جتنا کہ ہمارا نام۔اہم یہ ہے کہ اپنے قریب آنے میں بھی حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہے، اپنے خول میں سمٹنے والوں کو کبھی تو خود پسندی کی آگ جھلسا دیتی ہے تو کبھی خودترسی اور ناقدری کا گہن دیمک کی طرح اندر ہی اندر سرایت کر کے  احساس کھوکھلا کر دیتا ہے۔ہم ساری زندگی اپنا وقت اپنے لیے چوری کر کے حاصل کرتے ہیں اور اس بچی کچی خیرات میں سے آگہی کی کرنیں تلاش کر لینا ہی زندگی کمائی ہے۔
زندگی میں کامیابی کا فقظ ایک ہی راز ہے۔۔۔ اپنی اہلیت کو پہچاننا۔۔۔جانچنا اور پھر اس کے مطابق سمجھوتہ کرنا۔ وقت کی پکار پردھیان رکھنا۔ وقت وہ قیمتی اثاثہ ہے جس کی موجودگی کا ہمیں قطعاً احساس نہیں ہوتا۔وہ خاموشی سےایک تابعدارخدمتگارکی طرح ہمارے ساتھ چلتا چلا جاتا ہے۔ یہ آخری سانس تک ہمارا ہوتا ہےاوراس کے بعد بھی۔۔ وقت کبھی ہاتھ سے نہیں نکلتا لیکن ہم خود ہی اس کی قید سے نکل جاتے ہیں۔

پیر, جولائی 16, 2018

" ووٹ کس کو دیں "

پانچ سال ایک شاندارجمہوریت کے مزے لُوٹنے کے بعد بالاآخر وہ دن آ ہی گیا جب ہمارے سر پر سہرا سجنے والا ہے وہ کمی کمین جونام نہاد جمہوریت کے دور میں فُٹبال کی طرح ادھر اُدھر لُڑھکتا رہا اب محفل کا دُلہا بننے جا رہا ہے۔۔۔ خواہ ایک روز کا کیوں نہ ہو۔ سب بڑے اس کوشش میں ہیں  کہ   لفاظی کی لیپا پوتی کر کے کسی  طرح اُس  کوسنواردیں،کوئی ایسا جادوئی سنگھارمل جائے جو وقتی طوراُس کے جسم پر لگے انمنٹ داغ چُھپا ڈالے اور وہ کچھ پل کے لیے سب بُھلا کراُن کی من پسند دُلہن بیاہ لے جائے۔ اب یہ تو بعد کی بات ہے کہ اس کمی کمین کو دُلہن کا دیدار نصیب ہوتا ہے یا ہمیشہ کی طرح اُسے منہ دکھائی میں آئینہ ملتا ہے اور راہزن خوابوں کی شہزادی لے کر چمپت ہوتے ہیں۔ وقت بہت کم ہے اور جو ہونا ہے وہ تو ہونا ہی ہے اُس سے فرار ممکن نہیں۔اب فیصلہ ہمارا ہے کہ کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کرآنکھیں موند لیں یا اپنے آپ کو   مومن جان کر بےتیغ میدان میں کود پڑیں کہ مرنا مقدر ہے تو کیوں نا کسی کو مار کر مرا جائے،شہادت تو مل ہی جائے گی۔دونوں باتیں غورطلب ہیں کہ ہم نہ  توکبوتر ہیں اورنہ مومن۔ ایک عام انسان،عام عوام ہیں، معمولی پڑھے لکھے یا پھر اُن اسباق کے پڑھے ہوئے جو زندگی نے روح وجسم پر ثبت کیے،بڑے لوگوں کی نظر میں جاہل کہ ہمارے پاس تعلیم نہیں جو شعور عطا کرے ،دُنیا کی عظیم قوموں کے سامنے تہذیب واخلاق کی اعلیٰ قدروں سے ماورا بےترتیب لوگوں کا ہجوم۔ان باتوں کو دل پر لے لیا تو واقعی ہم خس وخاشاک ہیں۔لیکن ہم زندہ ہیں سانس لے رہے ہیں،سوچتے ہیں یہی ہماری بقا کا راز ہے۔ بات صرف اپنے آپ کو پہچاننے کی ہے سب سے پہلے عقیدت کی عینک اُتار کر کھلی آنکھوں سے حالات کا جائزہ لیا جائے ،تاریخ پر نظر دوڑائی جائے کیونکہ حال میں رہنمائی ماضی سے ہی مل سکتی ہے اور ماضی یہ بتاتا ہے کہ قیامِ پاکستان سے دو طبقات چلے آرہے ہیں حاکم اور محکوم۔حاکم اپنی بات منواتا آیا ہے اور محکوم کبھی اتنی جرات نہیں کر سکا کہ انکار کرے،حاکم نے ہمیشہ دھوکا ہی دیا ہے۔ اس لیے اگر آئندہ بھی ایسا ہی ہونا ہے تو کم از کم ایک فیصلہ ہم کر سکتے ہیں کہ اگر جال پرانا ہے تو نئے شکاری کو آزمایا جائے شاید اُس کے پاس مارنے کے نئے سامان ہوں یا اُمید کی موہوم سی کرن کہ وہ شکاری نہ ہو۔تاریخ میں ہمارے قائد 'قائدِ اعظم محمد علی جناح کی ذات تقویت دیتی ہےکہ قائد وہ ہے جو اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرے۔
 بحیثیت پاکستانی ہم  ایک جان لیوا مرض میں مبتلا ہیں۔ سب سے پہلے شناخت خطرے میں ہے کہ قوم ہیں یا ہجوم ،نہ صرف معاشی بلکہ اخلاقی طور پربھی دیوالیہ پن کی طرف گامزن۔ جس مسیحا کی طرف رجوع کیا اُس کی دوا نے بہتری کی بجائے ابتری کا سامان ہی پیدا کیا۔اب پھر دوا کی ایک خوراک ملنے والی ہے۔۔۔شاید فیصلہ ہمارا ہے یا پھرایک خوش فہمی ہمیشہ کی طرح۔ جو بھی ہے اب یہ دیکھنا ہے کہ اپنے آپ کو پُراُمید رکھتے ہوئے نئے عزم سے پھر وہی خوش رنگ دوا استعمال کی جائے جس کی پیکنگ مضبوط اور کمپنی مستند ہے۔۔۔ شاید اس بار وہ کوئی جادو دکھا دے یا پھر مایوسی کا شکار ہو کر اپنے آپ کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیں۔۔۔ کہ جب فنا ہی مقدر ہے تو کیا علاج کیا بھروسہ۔ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ اپنی قوت ِارادی کے بل بوتے پر اپنی دوا خود تجویز کریں کہ اب تو ہم بھی اپنا علاج کرنے کے قابل ہو چکے ہیں اور بخوبی جانتے ہیں کہ دوا کی تبدیلی ہی بہترین حل ہے۔بظاہر ان میں سے ہر فیصلہ درست اور منطقی ہے۔
لیکن ہم ایک بات بھول رہے ہیں کہ شفا اللہ کے پاس ہے۔ ہم تو شفا کےمعنی سے ہی واقف نہیں تو علاج کیا کریں گے۔ اور جب اللہ نے واضح کہہ دیا کہ جان بچانا افضل ہےچاہے جو بھی طریق ہو تو اللہ کے حُکم کے مطابق وہ دوا کیوں نہ استعمال کی جائے جس کی پیکنگ مستند نہیں جس کے خواص سے بھی ہم ناواقف ہیں اور جو اس سے پہلے استعمال بھی نہیں کی ۔یہ نہ سوچیں کہ یہ ہمارے دُکھوں کا مداوا ہے۔ بس یہ ذہن میں رہے کہ ہم نہیں جانتے شفا کیا ہے۔ شفا صرف ایک بیماری کے ختم  ہو جانے  میں ہے یا تمام بیماریوں سے نجات پا کر ہمیشہ کے سکون میں  ہے۔تو نئی دوا بھی یہ سوچ کر استعمال کریں کہ سابقہ دواؤں کے برعکس شاید آرام دے سکے۔ باقی رب کی رضا ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے؟ اوراس دوا کا کیا ردِعمل ہو؟۔راز کی بات یہ ہے کہ ابھی حالات اُس نہج پر نہیں پہنچے کہ مردار کھانے کی نوبت آ جائے اس لیے بہتری کی اُمید رکھتے ہوئے یہ آخری بازی دل سے کھیلیں کہ ہارے بھی تو بازی مات نہیں۔نئی دوا جُگنو کی چمک کی مانند ہوتی ہے جو منزل کا پتہ تو نہیں دیتی پر ایک پل کو راستہ ضرور روشن کر دیتی ہے۔
" ووٹ کس کو دیں "
ووٹ یہ سوچ کر کبھی نہ دینا کہ شاید اس بارتبدیلی کی یہ لہر تمہیں بہا کر تخت تک لے جائے گی۔۔۔اونچے محلوں کے دروازے تمہارے لیے کُھل جائیں گے۔۔۔کلف لگے کپڑے پہنے، اکڑی گردنوں والے بڑے لوگ تمہیں ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائیں گے۔۔۔ اپنی لمبی لمبی گاڑیوں میں ذرا سا سفر طے کرا دیں گے۔۔۔ تمہارے بچے اُن کے بچوں کےساتھ تعلیمی اداروں میں پڑھ سکیں گے۔۔۔ کبھی کوئی بڑا تمہارے گھر آ کر ایک وقت کی چٹنی روٹی کھائے گا ۔ یہ تبدیلی تمہارے دفتروں کے دھکے یا برسوں پرانے مقدمے  ختم  کرنے کے لیے نہیں۔ یہ نہ سوچنا کہ بوڑھے اب عزت سے پنشن وصول کریں گے۔۔۔ہسپتالوں میں وی آئی پیز کی طرح آؤبھگت ہو گی۔۔۔زندگی میں ایک بار   ہی کبھی  کسی عام شہری کو 
ہوائی جہازوں میں سفر نصیب ہو گا۔۔۔ایک فلاحی ریاست کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو گا۔
ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔ پھر جب مایوسی ہی ہے تو کیا کریں چُپ کر کے اپنا تماشا دیکھیں۔۔۔اشرافیہ کو لعن طعن کر کے دل کا غبار نکالیں۔ نہیں ! اگر تبدیلی کا نعرہ ہے تو اُس پر یہ سوچ کر یقین کرلو کہ واقعی ہمیں تبدیلی چاہیے۔۔۔ نجات چاہیے ایک فرسودہ نظام سے۔ کسی نے تبدیلی کا نام تو لیا ہے۔۔۔نام کی حد تک انصاف کو اوّلیت تو ملی ہے۔۔اپنے وطن کے نام کو سربلند رکھنے کے عزم کا اظہار تو ہے۔
دھرتی ماں جس کی عزت وآبرو کی دھجیاں سالوں سے اُڑائی جارہی تھیں اور وہ سب بھلا کر پھر بھی اپنے بچوں کی سیوا میں لگی ہوئی تھی۔ جس کے کرم کا دستر خوان بہت وسیع ہے۔'اُس ماں' کی عظمت کا حق ادا کرنے کے لیے پہلا قدم تو اُٹھایا گیا ہے یہی بہت ہے۔ ہمارا کیا ہے۔۔۔ ہم تو چیونٹی کی طرح نسلوں سے محنت کیے جارہے ہیں۔۔۔ سو کرتے رہیں گے۔ بس ماں سلامت رہے وہ باقی تو ہمارا حوصلہ جوان۔

۔" ماں کے بغیر گھر قبرستان بن جاتا ہے اور دھرتی ماں کے بغیر گھر بن تو جاتے ہیں لیکن جیسے پانی پر بنے ڈانواں ڈول یا پھر فلک بوس ( سکائی سکریپرز) مٹی کے لمس سے ناآشنا"۔
آخری بات
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے یا شاید فیصلہ کرنے کی خوش فہمی ۔جو بھی ہے ایک پل کوٹھہر کر اپنا فرض ضرور ادا کریں صرف وطن کی خاطر۔

"۔پہلا بچہ"

 اپنے اپنے ماحول میں،اپنے اپنے انداز سے  عمر کے ابتدائی سال طے کرنے والے مرد اور عورت معاہدۂ نکاح کے ذریعے  شادی کی شاہراہ پر قدم رکھتے ہی...