پیر, ستمبر 21, 2026

"کشکول"

 زندگی کا کشکول خالی ہے یہ تو نظر آتا ہے لیکن  اس کاسے میں کیا      پایا   یہ دکھائی نہیں دیا۔ وہی مثال کہ کسی کو گلاس آدھا خالی دِکھتا ہے تو کسی کو آدھا بھرا ہوا۔  بےشک یہ نصیب کے فیصلے ہیں لیکن  کسی کے نہ ہونے (خواه وہ  رشتہ ہو یا  کوئی چیز ہو) کاکرب تو سب جانتے ہیں لیکن ایک  دکھ 'ہونے' کا بھی ہوتا ہے۔ رشتوں کےبظاہر مضبوط حصار گلے کا وہ  ریشمی پھندا بن جاتے ہیں کہ جودیکھنے میں  کتنا ہی خوش رنگ کیوں نہ لگے اس کی پل پل تنگ ہوتی گرفت سانس روکتی جاتی ہے۔اس سمے انسان کسی اور سے مد د مانگنا تو دور کی بات اپنے آپ سے بھی کہنے کی ہمت نہیں کر پاتا اور رب  کو پکارنا تو سراسر ناشکری کے زمرے میں آتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو  زندگی میں ناکام یا ادھورے فرد کو  تو  ترس اور ہمدردی کے نام پر کاندھے بھی مل جاتے ہیں لیکن   ستارے جیسی جگمگ  اورتتلی مانند پرواز کرتی رنگین مسکراہٹ اسے خود سے بھی نظریں چُرانے پر مجبور کر دیتی ہے۔کامیاب زندگی  خلا کی اس بےکراں خاموشی کی طرح ہے جس میں اپنی سوچ بھی چیخ کی مانند  سنائی  دیتی ہے کسی کے ساتھ شیئر کرنا تو اپنی پردہ پوشی کا بھرم  خودہی ختم کرنا ہے۔. بس دعا  ہے  سب کے لیے کہ اللہ آخری سانس تک ذہنی اور جسمانی  برداشت قائم رکھے۔رشتوں کے رانگ نمبر اذیت تو بہت  دیتے ہیں محض برداشت کی نہیں بلکہ لب سینے والی خاموشی کی ، ان "رائٹ نمبرز" کے سامنے جو ان کہی بھی جان لینے کا ہنر جانتے ہیں. یہ رانگ نمبرَ  برسوں  سے لگتے چلے جاتے ہیں تو کبھی نئے ملنے والے بھی رانگ نمبر سے زیادہ کچھ نہیں ہوتے۔  لہجوں کی تلخی، رویوں کی سرد مہری مسافر  کو دوگھڑی سستانے کی مہلت بھی نہیں دیتی۔

  زندگی کا نچوڑ

ہمیں صرف اور صرف اپنے اوپر کام کرنا ہے،اپنے آپ کو بدلنا ہے، اپنے آپ کو وقت اور حالات کی الجھی ہوئی پزل میں ایڈجسٹ کرنا ہے۔سوائے اپنے سب کو چھوڑ  دو.۔مسئلہ یہ  ہے کہ ہمارے سارے مسائل دوسروں سے شروع ہوتے ہیں اور ہمارے یقین کی حد تک خیال میں  دوسرے پر ہی ختم ہوتے ہیں۔ہوش سنبھالنے اورزندگی کے  نشیب وفراز سے نبرد آزما ہوتے ہوئے ہر لمحے اس پر مہر لگتی چلی جاتی ہے۔ ہم کتنے ہی روشن خیال،عقلیت پسند اور مثبت طرزفکر کے حامل ہی کیوں نہ ہوں، ہمارے دکھ دوسروں کے رویوں سے جنم لیتے ہیں اورہماری خودترسی کی اندھی قبر میں دفن ہو جاتے ہیں۔.زندگی   دیہاڑی دار مزدور کی طرح گزاری جائے،  روز کی محنت روز کی روٹی۔زندگی بس جہاں ہے جیسا ہے کی بنیاد پر جی جائے تو کچھ سہولت سے گزر ہی جاتی ہے ورنہ گزرنا تو اُس نے ویسے بھی ہے  ہم سے پوچھے  بغیر، ہماری مرضی کے بنا۔

 

"قسمت"

  زندگی کے بہت سے سوالوں    میں اُلجھتے ہوئے "قسمت" نام کا سوال  ہر ہر موڑ پر سامنے آ جاتا ہے۔  "قسمت" نامی یہ سوالیہ لفظ ہمیشہ  دو میں سے کسی ایک سابقے کے ساتھ      ہماری زندگیوں میں داخل ہوتا ہے۔ خوش قسمت ؟   یا بدقسمت؟۔ 

خوش قسمتی کی  قوسِ قزح کب تک ہمارے آس پاس      جلوے بکھیرتی رہے  یا کب بدقسمتی کی کالی گھٹا ہمیں اپنے حصارمیں لے لے ،ہم کبھی نہیں جان سکتے ۔  انسانوں کے ہجوم میں کون خوش قسمت ہے اور کون بدقسمت،اس بات  کا تعیّن   بھی کسی کی ظاہری حالت یا حالاتِ زندگی سے نہیں کیا جا سکتا۔  غرض  یہ  کہ زندگی کے آخری سانس تک کسی  ایک شخص   کی بھی خوش قسمتی یا بدقسمتی  ماپی نہیں  جاسکتی۔

خوش قسمتی کو اگر مجسم دیکھنا چاہیں تو وہ ایک ایسی درازقد زرق برق دُلہن ہےجو نظر مبہوت کر دیتی ہے۔انسان اس کو پانے کےخمار میں گرد وپیش سے بےخبر ہو جاتا ہے۔کاش انسان ایک پل کو ہی سہی ذرا اس کافر اداحسینہ کی نگاہِ ناز سےفرصت پائے تو دیکھے کہ اُس کے جہیز میں پلُو سے بندھی ایک کوتاہ قامت،مدھم نقوش اور پکی رنگت کی خادمہ بھی چلی آ رہی  ہے۔جس کے کام سے تو دور کی بات اس کےنام سے بھی کسی کو کوئی غرض ہے اور نہ ہی فرصت۔ تماش بینوں کو تو  رہنے دیں،وہ جس کا تمام عمر کا نصیب لکھ دیا گیا وہ بھی اس پیکیج سے ان جان ہی رہتا ہے۔

 گزری دہائیوں  کی شادیوں میں  ہونے والے  فوٹوسیشن   میں نظرآنے والے اُس ان جان  بچے کی طرح جو ہر تصویر میں خاص لوگوں کے بیچ دانت نکال کر عجیب وغریب پوز بناتا  تھا  اور بعد میں تصاویر   دیکھنے والےاس کو لعن  طعن  کرنے  سے  بڑھ کر اپنے آپ کو ہی کوستے رہ جاتے  کہ اس طرف  کیوں نہیں دھیان گیا۔ بدقسمتی نام کی یہ خادمہ  گرچہ دُھوم دھڑکےاس جشن میں سائے کی طرح ساتھ تو  رہتی ہے لیکن   آنکھیں خیرہ  کر نے والی روشنیوں اور         کان پڑی آواز سُنائی نہ دینے والے شور میں کس  کا اس طرف دھیان جاتا ہے یا کس کو ایک لمحہ ٹھہر کر دیکھنے کی مہلت ملتی ہے۔اور یہ حق بھی ہے کہ خوشی کے موقع پر خوشی کا ہی شگون  ہونا چاہیے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ  خوش قسمتی کی دُلہن  بدقسمتی کی خادمہ   کے بغیر ایک   قدم بھی نہیں اُٹھا سکتی۔رقصِ مسرت جاری رہتا ہے  یہاں تک کہ رُخصتی کا وقت آن پہنچتا ہے۔ بےشک  کتنا ہی نیک تمناؤں  اورپُرخلوص دٗعاؤں کے ساتھ   الوداع  کیا جائے لیکن  ان ہونی کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔اطمینان کے یخ بستہ   نگارخانے سے قدم باہر رکھتے ہی  کب مقدر کی لُو  خادمہ کو دُلہن کی جگہ پر بٹھا دے یا کب  رخِ یار  کا دیدار      چاروں طبق روشن کر دے یہ کوئی نہیں جان سکتا۔ بسا اوقات سالوں اسی شش وپنج  میں گزر جاتے ہیں۔

 حرفِ آخر

  اپنے بارے میں ہم  سے بہتر کوئی نہیں جانتا  کہ ہم خوش قسمت ہیں یا  بدقسمت۔ حساب کتاب   نہیں لگانا کہ  کاروبارِزندگی میں کیا کھویا کیا پایا۔ جو گزر گیا سو گزر گیا۔نفع کا جشن  تمام ہوا تو خسارے  کا روگ  بھی قصۂ پارینہ ٹھہرا۔ انسان یا تو خوش قسمت ہوتا ہے اور یا بدقسمت۔اِن کے درمیان کچھ نہیں ۔  لیکن ایک خوش قسمت  شخص اپنی عمر کے ہر لمحے خوش قسمت کبھی  بھی  نہیں رہ سکتا،اِسی طرح ایک بدقسمت  انسان کے پاس بھی  خوش قسمتی کسی نہ کسی پل دستک ضرور دیتی ہے۔

"پرانے دوست"

  پرانے دوست ان  قیمتی  کپڑوں کی طرح ہوتے ہیں جو موجودہ فیشن سے مطابقت نہ رکھیں تو ہم انہیں کبھی نہیں پہنتے  اور نہ کسی کو دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ وہ  چپ چاپ ہمارے لاشعور  کے  غلاف  میں رہتے ہوئے   یاد کے کسی بھاری صندوق کی سب سےنچلی تہہ میں  اتر جاتے ہیں۔لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔ جیسے کہ فیشن  پلٹ کر آتا ہےاور ہم ان پرانے کپڑوں کو نئے انداز سے  فخریہ زیب تن کرتے ہیں۔ اِسی طرح ایک لمبے عرصے  کے بعد ملنے والے وہی بےغرض  دوست جن سے کبھی چھوٹی چھوٹی خوشیاں بانٹی جاتی تھیں تو کبھی معمولی باتوں پر ناراضگی بھی ہو جاتی تھی اور پھر  روٹھنے اور منانے  کے مرحلے بھی پیش آتے تھے۔اب پہلی ملاقات میں بظاہر اگر پرانی یادوں کو شدت سے محسوس  بھی کیا جائے لیکن وقت کا دھارا ہر ایک کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے۔ یہ محض سالوں کی دوری نہیں ہوتی. بلکہ وقت کے اس لمحے  وہی دو دوست  زندگی کے الگ الگ محاذ پر  گرم سرد جھیل کر اپنےحصے کی زندگی جی رہے ہوتے ہیں۔ان کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔ ان کے مسائل جدا ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر  ان کی ذہنی سطح بھی یکساں نہیں ہوتی۔ سو  اس طور ملے دوست  کسی انتظارگاہ میں اپنی سواری کے منتظر ان اجنبیوں کی طرح  ہوتے ہیں جو لمحوں میں دوست تو بن جاتے ہیں، دُکھ سُکھ پرولتے ہیں، فون نمبر کے تبادلے بھی ہوتے ہیں لیکن پھر اپنے اپنے سفر پر روانہ ہوجاتے ہیں اور شاید کبھی دوبارہ نہیں ملتے۔

  لیکن کچھ پرانے دوست ایسے بھی ملتے ہیں جو  ہماری آج کی ذہنی سطح کو چھو جاتے ہیں. زندگی کی مسائل کو سلجھاتے سمے ان کا مہربان ساتھ تپتی دھوپ میں شجر سایہ دار کی مانند دکھتا ہے. ہماری آنکھ کی نمی ان کے دل پر اثر کرتی ہے۔ ہاں! پرانے دوست سے ملنا  پل کی خوشی ضرور دیتا ہے  لیکن صرف اُس لمحے جب بخت آپ پر اور اُس پر یکساں مہربان دِکھائی دے ورنہ ناآسودگی اور  دُکھوں  کی پوٹلیاں پرولتے سمے  ایک نامعلوم سا بوجھ بھی روح میں اُتر جاتا ہے۔۔

منسلک بلاگ۔۔ بیالیس  برس  بعد۔ 

منگل, جولائی 28, 2026

"منیرہ قریشی اور اُن کی کُتب"

تعارف مصنف

 منیرہ قریشی   درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ   سماجی اور رفاعی اداروں کے قیام کے حوالے سے  واہ کینٹ کا ایک معتبر نام  ہیں۔علمی اور ادبی ماحول نے ذوقِ مطالعہ کو مہمیز کیا۔کتابوں سے محبت اور لفظ سے  دوستی کے سفر میں اپنے احساسات     خاموشی   سے سپردِقلم کرتی رہیں۔وقت نے مہلت دی اور بخت نے اجازت دی تو   احباب کے اصرار پر   اپنے خیالات وتجرباتِ زندگی           کتاب  کی صورت مجتمع کر کے      سامنے لائیں۔

  منیرہ قریشی کی   شائع ہونے والی کتابوں پر ایک نظر 

٭  لمحے نے کہا۔۔۔ شاعری 

٭یادوں کی تتلیاں۔۔۔۔ خودنوشت

٭سلسلہ ہائے سفر۔۔۔ سفرِ حج اور  بیرونِ ملک سفر(ملائیشیا،دوبئی ،تھائی لینڈ ،انگلستان  اور ترکی)   کا احوال

٭اِک پرِخیال۔۔۔انشائیے

٭ جنگل کچھ کہتے ہیں۔۔۔ رپور تاژ

 



اتوار, مارچ 23, 2025

"ایک زرداری سب پہ بھاری"

گو ہاتھ کو جُنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے

رہنے دو ابھی ساغرومینا مِرے آگے

آنکھوں دیکھی حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔8ستمبر 2013 کو  جس سفر کا  تزک و احتشام  کے ساتھ اختتام ہوا تھا،عین  دس برس بعد اسی طور آغاز ہوا اور تاحال(23 مارچ2025) پورے زوروشور سے جاری ہے۔اب کوئی  سوشل میڈیا کا ڈھول پیٹے یا کسی بھی صاحب اقتدارکی بینڈ بجا دے،جو "بینڈ باجا بارات" کا سماں وقت کے بہترین اور اعلیٰ ترین نیلام گھر میں دیکھتی آنکھوں نے دیکھا اور سنتے کانوں نے  سماعت  کیا،بےشک وہ سورہ آلِ عمران (3)کی 26 ویں آیت کی مکمل تفسیر تھا۔

آیت 26 ،ترجمہ

تو کہہ اے اللہ، بادشاہی کے مالک! جسے تو چاہتا ہے سلطنت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے سلطنت چھین لیتا ہے، جسے تو چاہتا ہے عزت دیتا ہے جسے تو چاہے ذلیل کرتا ہے، سب خوبی تیرے ہاتھ میں ہے، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

پھر ہم کون ہوتے ہیں صحیح غلط کے فتوے دینے والے۔ ہم اپنی محدود عقلی صلاحیت سے رب کے کام اور اُس کی حکمت کبھی سمجھ ہی نہیں سکتے۔

لوگوں کے دلوں سے لے کر ان کی قسمتو ں کا فیصلہ کرتے اقتدار کی زندگی گزارنے کا ڈھنگ صرف اور  صرف دماغ کا کھیل ہے۔ ویسے تو  دنیا کی زندگی میں ہر ہر مقام  اور  ہر ہر  محاذ پر  کامیابی بہترین منصوبہ بندی کے بغير ممکن نہیں لیکن کچھ لوگ قسمت کے دھنی ہوتے ہیں کہ  مٹی میں ہاتھ ڈالیں سونا بن جائے   تو کچھ  جہاں سونے کا نوَالہ لے کر پیدا ہوتے ہیں وہیں اس کی لذت اُن کے جینز میں  ایسی منتقل  ہوتی ہے کہ  اس  خمار آلود کیفیت میں  نسلیں گزرتی چلی جاتی ہیں۔ کچھ  ایسے بھی، مقناطیسی شخصیت کے مالک کہ  کیا جنس کا لوہ چون ،ہوا میں موجود دوسرے مادوں سے بنے ذرات بھی ایک عالم بےخودی میں کھنچے چلے آئیں۔جگ میں نام مقام حاصل کرتے ہیں۔سورج کی روشنی کی طرح بلا تخصیص ،کیا اپنا کیا پرایا، کیا دوست کیا دشمن  سب کو اپنےحصار میں لے کر دم بخود کرنے کی صلاحیت کے حامل۔بجا کہ یہ  خوش قسمت ترین ہونے کے زمرے میں تو آتے ہیں لیکن ان کی اپنی ذاتی محنت اور خداداد صلاحیت سے بھی انکار نہیں۔ کیا کہا جائے کہ قسمت کے اُلٹ پھیر یا زندگی کے اُتار چڑھاؤ میں یہ چڑھتا سورج ہی ثابت ہوتے ہیں۔ جس طرح کائناتِ دنیا  میں یکتا  سورج کتنا ہی ضروری  کتنا ہی روشن کیوں نہ  ہو اس کی قسمت میں ڈھلنا اٹل ہے۔ اسی طور وقت کا بےرحم پہیا جب گردش میں آتا ہے تو جانے ان جانے کےبےضرر ذاتی طور طریقوں، احبابِ اور لباس کے چناؤ میں لمحوں کی معمولی غلطیاں بسا اوقات خلقت کے سامنے یوں برہنہ کر دیتی ہیں کہ اپنے گریبان میں جھانکنے کاحوصلہ بھی نہیں رہتا، خواہ ساری دنیا ساتھ ہو، ساتھ رہنے کے نعرے اور  وعدے ہی کیوں نہ کر رہی ہولیکن  تخت سے تختہ  تک کے سفر میں سورج سمان وہ تنہا شخص  آگے کنواں پیچھے کھائی کے مصداق وقت کے رحم و کرم کا منتظر ہی رہتا ہے۔

منسلک بلاگ۔۔

"٭1)"بےنظیر، واہ زرداری، آہ زرداری

اشاعت ۔پیر, 8ستمبر , 2013

٭2) "نظر لگ گئی"۔

اشاعت۔۔بدھ 8 مئی۔2013

حرف آخر

   حاکمیت کا یہ  میوزیکل کھیل  برسوں سے جاری ہے. ہم بےنام عام عوام اس تماشائے اقتدار کا ایندھن  ہی کیوں نہ ہوں لیکن تماشائی  ہونے کا شرف  ہم سے  کوئی بھی نہیں چھین  سکتا۔کس کی ہار اور  کس کی جیت  سب تاریخ کے اوراق  میں ثبت ہے۔ہم بحیثیت قوم اگر ہارتے بھی جا رہے ہیں تو جیتے وہ بھی نہیں۔

سقوط پاکستان (1971)کے پس منظر میں جناب احمدفراز کی لکھی نظم آج تقریباً 55 برس بعد بھی ہمارے حسبِ حال ہے۔

"اب کس کا جشن مناتے ہو از احمد فراز" اب کس کا جشن مناتے ہو، اس دیس کا جو تقسیم ہوا اب کس کے گیت سناتے ہو، اس تن من کا جو دونیم ہوا اس خواب کا جو ریزہ ریزہ ان آنکھوں کی تقدیر ہوا اس نام کا جو ٹکڑا ٹکڑا گلیوں میں بے توقیر ہوا اس پرچم کا جس کی حرمت بازاروں میں نیلام ہوئی اس مٹی کا جس کی حرمت منسوب عدو کے نام ہوئی اس جنگ کو جو تم ہار چکے، اس رسم کا جو جاری بھی نہیں اس زخم کا جو سینے پہ نہ تھا، اس جان کا جو واری بھی نہیں اس خون کا جو بدقسمت تھا راہوں میں بہا یا تن میں رہا اس پھول کا جو بے قیمت تھا، آنگن میں کھلا یا بن میں رہا اس مشرق کا جس کو تم نے نیزے کی انی، مرہم سمجھا اس مغرب کا جس کو تم نے جتنا بھی لوٹا، کم سمجھا ان معصوموں کا جن کے لہو سے تم نے فروزاں راتیں کیں یا ان مظلوموں کا جس سے خنجر کی زباں میں باتیں کیں اس مریم کا جس کی عفت لٹتی ہے بھرے بازاروں میں اس عیسیٰ کا جو قاتل ہے اور شامل ہے غم خواروں میں ان نوحہ گروں کا جس نے ہمیں خود قتل کیا خود روتے ہیں ایسے بھی کہیں دم ساز ہوئے، ایسے جلاد بھی ہوتے ہیں ان بھوکے ننگے ڈھانچوں کا جو رقص سر بازار کریں یا ان ظالم قزاقوں کا جو بھیس بدل کر وار کریں یا ان جھوٹے اقراروں کا جو آج تلک ایفا نہ ہوئے یا ان بے بس لاچاروں کا جو اور بھی دکھ کا نشانہ ہوئے اس شاہی کا جو دست بدست آئی ہے تمہارے حصے میں کیوں ننگ وطن کی بات کرو، کیا رکھا ہے اس قصے میں آنکھوں میں چھپائے اشکوں کو، ہونٹوں میں وفا کے بول لیے اس جشن میں میں بھی شامل ہوں نوحوں سے بھرا کشکول لیے

اتوار, اکتوبر 06, 2024

"کتبہ"

"کتبہ"
جس طورانسانوں کی دنیا اور انسانوں کے ہجوم میں ہر آن اضافہ ہو رہا ہے تو اس طرح قبرستان بھی تیزی سے آبادہو رہے ہیں۔ گھر پر لگی تختی اگر مالکِ مکان کی شناخت ہے تو کتبہ یا لوح صاحبِ ِ قبر کی نشاندہی کرتے ہیں۔یہ سادہ سی بات اتنی سادہ ہرگز نہیں۔ گھرپر لگی تحتی مالکِ مکان کی حیثیت ( اسٹیٹس) کی ترجمان ہوتی ہے اور بعض اوقات تو کیا اکثراوقات اسے غیرمحسوس طور پر انسان کی زندگی کمائی کا حاصل اور فخر بھی کہا جا سکتا ہے ۔
لیکن دنیا کے منظر سے ہمیشہ کے لیے غائب ہونے کے بعد ملکیت کی علم بردار اس تختی اور قبر کے سرہانے لگے کتبے میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔غور کیا جائے تو روشنیوں سے آباد پکے گھر کی بیرونی دیوار پر لگی اس تختی کے بین روح جھنجھوڑ دیتے ہیں کہ "ہاں یہ وہی"معدوم" ہے جو کسی قبرستان کے دوردراز ویرانے میں مٹی کے مدفن میں "موجود" ہے۔ہم سانس لیتے انسان اپنی موت تو یاد رکھتے ہیں،قبر کے بارے میں بھی سوچتے ہیں لیکن کبھی اپنے اس کتبے کے بارے میں خواب تو خیال میں بھی نہیں سوچتے ۔ وہ کتبہ جس پر فقط ہمارا نام یا ہمارے لواحقین کی محبت وعقیدت اور اُن کا فہم ہی کنندہ ہو گا۔
کتبہ خواہ کسی ویران کھنڈر ہوتی قبر پر لگا ہو یا سجی سجائی قبر کا تاج، نامور شخصیات کی "آخری آرام گاہ" کا ثبوت دے یا گمنام انسان کو "نام" کی تکریم دے۔ہمیشہ باعثِ عبرت ،حسرت اور روح میں اُترنے والے سناٹے کو جنم دیتا ہے۔قصہ مختصر کتبہ انسان کی دنیا کہانی کی کتاب کا وہ آخری صفحہ ہے جس کے متن سے وہ خود لاعلم رہتا ہے۔

بلاگ مراقبۂ موت " سے اقتباس۔۔"

٭دور دور تک پھیلی قطاردرقطار قبروں میں رہنے والے زبانِ حال سے داستانِ زندگی کہتے تھے تو اُن کے سرہانے لگی تختیاں اپنوں کی محبت یا ان کی بےحسی کا نوحہ سناتی تھیں۔

٭ قبرستان میں قدم رکھتے ہی جہاں  وسعتِ نگاہ تک  قبور  کی دُنیا دِکھائی دیتی ہے  وہیں ان کے سرہانے لگے کتبے  اہلِ قبر کی زندگی کہانی سناتے  اور سوچ کے در کھولتے ہیں۔ کتبے کوکسی قبر کا  ایک روایتی تعارف  کہا جا سکتا ہے۔لیکن   نام ہی کی طرح  یہ وہ شناخت ہے جوہمارے   قرابت دار اپنے فہم اور  احساس کے  تحت ہی  طے کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں   ہمارا نام اگر  دنیا میں آمد کی  نوید  ہے تو ہمارا کتبہ ہمارے جانے  پر مہر ثبت کرتا ہے اور ہر دو کے رکھنے اور متن سے ہمارا دور کا بھی واسطہ نہیں۔ جب ہم زندگی کتاب کے استعارے سے بات کریں  تو کتبے کو اس کے آخری باب "موت" کا انتساب کہا جا سکتا ہے ایسا انتساب جس  کے   رکھنے  کا صاحبِ کتاب سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ۔ 
٭ میں اہم تھا یہی وہم تھا۔
٭ آج زمین کے اوپر کل زمین کے نیچے۔
٭ کہانی ختم زندگی شروع۔
٭ عمر  کٹ ہی گئی۔
٭ زندگی خاک ہی تو تھی  سو خاک اُڑاتے گذری۔
 ٭بس یہی تو منزل تھی۔
٭ آج ہماری کل تمہاری
٭آج یہاں کل وہاں
 ٭اگر اور یقیناً کے بیچ کی کہانی
٭ اپنی اپنی قبر اپنا اپنا حساب
حرف آخر
صفحہ 275۔۔۔مرنے والوں کو کچھ فرق نہیں پڑتا کہ اُن کی قبر پر ایک تاج محل تعمیر ہوتا ہے۔۔۔یا وہ بارشوں میں دھنس کر ایک گڑھا بن جاتی ہےاور اُس میں کیڑے مکوڑے رینگتے ہیں اور یا اُس سے ٹیک لگا کر سائیں لوگ چرس کے سُوٹے لگاتے ہیں۔ بس یہ ہے کہ ییچھے رہ جانے والوں کو فرق پڑتا ہے۔ 

منسلک بلاگ۔انتساب سے کتبے تک

منسلک بلاگ ۔ منہ دِکھائی سے منہ دیکھنے تک


 

منگل, اکتوبر 01, 2024

" پیش لفظ ۔۔ جنگل کچھ کہتے ہیں "

"   پیش لفظ" ۔۔۔"جنگل کچھ کہتے  ہیں "

    منیرہ قریشی اور واہ کینٹ لازم وملزوم ہیں۔پینتیس برس پہلے ایک تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی جو اب ایک شجرِسایہ دار کی صورت نونہالانِ  وطن کی آبیاری میں سرگرم ِعمل ہے۔تعلیم کے فروغ کی کامیاب عملی کوشش کے بعد محترمہ منیرہ قریشی اب ایک لکھاری کے طور پر سامنے آئی ہیں۔اپنے تجربات،مشاہدات اور احساسات کو لفظوں  میں پرو کر کتابوں کی رنگارنگ مالا  ترتیب دی ہے۔

خودنوشت "یادوں کی تتلیاں" اگر جسم وجاں پر بیتے  حالات و واقعات کے موسموں کی کتھا ہے  تو "سلسلہ ہائے سفر" دیارِغیرکی فضاؤں میں حیرت وانبساط کے در کھولتے  تاثرات   کی   سرگوشیاں ہیں ۔

انشائیے "اِک پرِخیال"  اگر کھلی آنکھ سے دیکھے گئے معاشرتی مسائل پر خودکلامی ہے تو  "لمحے نے کہا" شاعری کی زبان میں اپنے جذبات کا اظہار ہے۔

نئی آنے والی کتاب" جنگل کچھ کہتے ہیں"لفظوں کے اس رنگارنگ گلدستے میں  ایک خوب صورت اضافہ ہے۔یہ اپنی نوعیت کا  ایک طویل مکالمہ ہے، شناسائی کا سلسلہ ہے جو نصف صدی    سے زائد کئی عشروں پر محيط ہے۔جیسا کہ       نام سے ظاہر ہے  یہ دوبدو بات چیت کی ایسی انوکھی داستان ہے کہ  قاری  خودبخود  اس   گفتگو میں شامل ہو جاتا ہے۔

اہم بات یہ  "جنگل کچھ کہتے ہیں "تخیل  کی انتہا پر جا کر دیوانہ وار رقص کرنے کا نام نہیں بلکہ اس میں  درختوں ، جنگلوں کےحوالے سے  نہ صرف  مادرِوطن بلکہ  بیرونی ممالک  کے  بہت سے ایسے دل سوز تاریخی واقعات  و سانحات  کا ذکر ہے جن کو  پڑھ کر قاری لمحے بھر کو دکھ اور تاسف کےجنگل میں بھٹک جاتا ہے تو  اگلے پل امید کی کرن اسے نئے  راستوں کی چھب دکھلا دیتی  ہے۔

جنگل کچھ کہتے ہیں بطور خاص رپورتاژ نہیں بلکہ فاضل  مصنفہ کےذہنی اور جسمانی سفر کا اپنی طرز کا ایک  منفرد سفرنامہ   ہے.  جس میں بچپن کی معصومیت دِکھتی ہے تو کبھی  لڑکپن کی حیرانی دم بخود کر دیتی ہے۔نوجوانی کی جذباتیت قدم روکتی ہے تو  ادھیڑ عمر کی تنقیدی نگاہ کہانیاں کہتی ہے۔کہیں کہیں گزرتی عمر کی چاپ سنتے ماضی اور حال کے تضادات اُداس بھی  کرتے ہیں۔تخيل  اور حقائق کے خوب صورت امتزاج سے گندھے لفظوں کی یہ مہک قاری کو   آخر تک اپنی گرفت میں لیے رکھتی ہے۔

 منیرہ قریشی  کی تمام تحاریر اُن کے بلاگ " خانہ بدوش" پر پڑھی جا سکتی ہیں۔

munirazafer.blogspot.com

  محترمہ پروین شاکر کا شعر آپ کے ادبی سفر  کے نام

خوشبو بتا رہی ہے کہ وہ راستے میں ہے 

موج ہوا کے ہاتھ میں اس کا سراغ  ہے

      نورین تبسم

اُردو بلاگر "کائناتِ تخیل"

noureennoor.blogspot.com 

یکم اکتوبر  2024

اسلام آباد

"کشکول"

 زندگی کا کشکول خالی ہے یہ تو نظر آتا ہے لیکن  اس کاسے میں کیا      پایا   یہ دکھائی نہیں دیا۔ وہی مثال کہ کسی کو گلاس آدھا خالی دِکھتا ہے ت...