پیر, ستمبر 13, 2021

"مستنصرحسین تارڑ ۔۔۔اپنی کُتب کے آئینے میں "

٭1)"غار حرا میں ایک رات "۔
سفر ستمبر 2004
اشاعت 2006
٭کئی لوگ پوچھتے ہیں,جاننا چاہتے ہیں کہ کیا میں سفر محض اس لئے اختیار کرتا ہوں کہ واپسی پر سفر نامہ لکھ سکوں......ایسا ہر گز نہیں ہے...... میں نے زندگی کے بیشتر سفر ان زمانوں میں اختیار کئے جب واپسی پر کچھ بھی نہ لکھتا تھا----میں ایک ادیب نہ بھی ہوتا تو بھی اتنے ہی سفر کرتا جتنے کہ میں نے کئے کہ میرے لئے آوارگی جذبہ اول ہے اور اس کی روئیداد قلم بند کرتا ہوں تو لوگوں کو اپنے سفر میں شریک کرنے کے لیے اور......... اس سفر کو پھر سے زندہ کرنے کے لیے......گویا میں ایک اور سفر پر نکل جاتا ہوں اور یہاں ایک سفرنامہ نگار دوسرے مسافروں سے کہیں زیادہ بخت والا ہو جاتا ہے کہ وہ دوبارہ انہی کیفیتوں,مسرتوں,اذیتوں اور مشقتوں اور خوبصورتیوں میں سے گزرتا ہے......کچھ اسی طور میں نے غار حرا میں تو صرف ایک شب بسر کی لیکن اسے بیان کرتے ہوئے سینکڑوں راتیں اس غار میں بسر کیں........جو سرسری دیکھا تھا اس کی تفصیل میں گیا...جو اَن دیکھا تھا وہ بھی سٹڈی کی تنہائی میں نظر آنے لگا......ایک شب کا ہیجان اور کیفیت سینکڑوں شبوں پر محیط ہو گیا.....تو گویا اب بھی اس لمحے....جب کہ اس شب کو گزرے ہوئے ایک برس ہو چکاہے.....میں ہنوز غار حرا کی رات میں ہوں۔
۔۔۔۔
٭2) ’’خانہ بدوش‘‘
(سفر۔سپین، لبنان ،یورپ )
سفر1975
اشاعت اگست 1983
کسی من چاہے کا پرتو کب تک یوں سامنے آتا رہتا ہے کہ جیسے وہ سامنے ہو؟ ۔۔۔۔ صرف چند برسوں کے لئے۔ پہلے بدن کا لمس ساتھ چھوڑتا ہے، پھر آواز معدوم ہوتی چلی جاتی ہے اور کچھ عرصے بعد آنکھیں بھولتی ہیں، مگر مسکراہٹ بہت دیر تک ساتھ دیتی ہے لیکن ایک روز وہ بھی بجھتی ہوئی لو کی طرح تھرتھراتی ہوئی تاریک ہوجاتی ہے۔
۔۔۔۔
٭3)"برفیلی بلندیاں"
۔( تلتر جھیل،پگوڈا ٹریک(سفر 2000)، درۂ گندگورو،لیلیٰ پیک ٹریک (2001)۔
اشاعت2001
٭"کوئی چہرہ یا منظر تبھی باوقار ہوتا ہے جب اسے دیکھنے والے ہوں۔۔۔۔ دیکھنے والے ہی نہ رہیں تو وہ چہرے اور منظر کسی کام کے نہیں رہتے بیکار اور تنہا ہوجاتے ہیں"۔
۔۔۔۔
٭4)"دیوسائی "
سفر1997
اشاعت 2003

٭بوجھ میں اگر محبت نہ ہو تو وہ بےشک ایک تنکےکا ہو۔برداشت نہیں ہوتا۔
‏ہر رشتے کے لئے اور ہر محبت کے لئے ایک خاص وقت مقرر ہوتا ہے وہ وقت گزر جائے تو رشتہ اور محبت ہولے ہولے مٹی ہونے لگتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
٭5)"خس و خاشاک زمانے"
اشاعت 2010
کسی بھی حیات کا کچھ اعتبار نہیں ہوتا، اس کا عمر کی طوالت سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا،،
""موت بےشک اکثر سال خوردہ اور اُن دروازوں پر جنہیں عمر کی گھُن چاٹ چُکی ہوتی ہے دستک دیتی ہے،، اگرچہ یہ کوئی حتمی اصول نہیں ہے،، بعض اوقات وہ ایسے نوجوان وجود پر بھی ہاتھ رکھ دیتی ہے جسے تخلیق کے شجر سے تراشے ہوئے کچھ زیادہ مدت
نہیں گزری ہوتی""
۔۔۔۔
٭6)"اے غزال شب "۔
آخری صفحہ آخری لفظ۔20مارچ 2010 ۔
اشاعت 2013
٭ایک انسان جس کے موجودگی سے اس کی بیوی اور اولاد بےخبر اور بے پروا ہوجائے اس کی قدر نہ کرے وہ ایک ہی چھت تلے حیات کریں اور کوئی اس انسان پر ایک نظر نہ کرے تو وہ بھی دیوار پر آویزاں ایک تصویر ہو جاتا ہے جسے کوئی نہیں دیکھتا۔لیکن جب وہی انسان یکدم منظر سے ہٹ جائے گم ہو جائے تو اس کی تصویر کے چوکھٹے کا نشان دیوار پر نمایاں ہو جاتا ہے وہ بھی اپنے گھر، بیڈروم، واڈروب، اپنی پسندیدہ کرسی پر بلکہ واشروم کے آئینے میں بھی اپنے بدن کے ہیولے کا ایک نشان چھوڑ جاتا ہے۔۔۔ تب وہ سب جو اس کی موجودگی سے غافل ہوا کرتے تھے گھر،بیڈ روم، واڈروب،کرسی اور آئینے کے خا لی پن کو دیکھتے ہیں تو ان کے اندر بھی ایک ہول اٹھتا ہے کہ وہ انسان کیا ہوا ۔
۔۔۔۔۔
٭7)"نیو یارک کے سو رنگ"
سفر 2005
اشاعت2013
تین علوم ایسے ہیں جہاں سے میں جان بوجھ کر سرسری گزرا ہوں' میری محدود سوجھ بوجھ نے محض ان کے
دروازے پر دستک دی ہے... اگر دروازہ کھل گیا ہے تو صرف جھانکا ہے اندر جانے کا حوصلہ نہیں ہوا.. اجتناب کیا ہے کہ ان کی انتہا کوئی نہیں.. آخر حد کا کچھ پتہ نہیں.. ان میں سے ایک علم کائنات اور اس کی لامحدودیت کا ہے.. دوسرا مذہب اور تیسرا موسیقی ہے' خصوصی طور پر مشرقی کلاسیکی موسیقی.. ان تینوں کا کوئی انت نہیں اور میں ایک انتہائی محدود ذہن رکھتا ہوں اور میں اس امر سے آگاہ بھی ہوں اس لئے ان سے اجتناب کیا۔
۔۔۔۔۔۔
٭8)"اور سندھ بہتا ر ہا"۔
سفر 2015
اشاعت جولائی 2016 
ویسے موت سے مجھے شکایت بہت ہے۔۔۔
یونہی بغیر کسی وارننگ کے کسی بھی لمحے آپ خوابیدہ ہیں دوستوں کی محفل میں ہیں، بچّوں سے لاڈ کر رہے ہیں ٹیلی ویژن دیکھ رہے ہیں بلکہ ہو سکتا ہے آپ کموڈ پر بیٹھے ہیں تو وہ کچھ اطلاع نہیں کرتی تو شکایت یہی ہے کہ وہ ذرا دھیرے دھیرے آئے۔۔ اُس کے قدموں کی چاپ تو سُنائی دے۔۔۔ اُس کی آہٹ تو ہو اور وہ کہے کہ میں آگئی ہوں اور تمہیں تیاری کے لیے کچھ مہلت دیتی ہوں تو آپ اُسے تھینک یو کہہ کر اپنے بچّوں کے چہرے دیکھ لیتے ہیں، اپنی بیوی کے خزاں رسیدہ چہرے پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔۔ آپ جو ناول یا سفر نامہ لکھ رہے ہیں اُس کا مسّودہ رائٹنگ ٹیبل پر رکھ دیتے ہیں کہ یہ بعد میں دریافت ہو کر شائع ہو جائے۔۔۔ کچھ تصویریں اور خطوط تلف کر دیتے ہیں غارِ حرا کے ایک پتھر پر اپنے ہونٹ رکھ دیتے ہیں، اور وہ سفید ٹِشو پیپر جس پر کبھی رسول اللہ کی قبر پر بچھی چادر کی مٹی کے کچھ ذرے ہوا کرتے تھے جو اب معدوم ہو گئے ہیں اُس ٹشو پیپر کو ذرا آنکھوں سے تو لگالوں۔۔۔ اور تب۔۔۔ ہاں...اب آجاؤ۔۔۔ مجھے لے جاؤ۔۔
موت سے یہی تو شکایت ہے کہ اتنی سے بھی مُہلت نہیں دیتی۔۔۔!!!
۔۔۔۔

بدھ, مئی 19, 2021

اولاد

۔" اولاد ہمیشہ  ماں باپ کی ترجیحِ اول ہوتی ہے لیکن ماں باپ  زندگی میں  کسی بھی  مقام پر اولاد کی ترجیح کبھی بھی نہیں ہوتے"۔

۔ سورہ الاحقاف(46)۔۔آیت 15۔۔"اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کی تاکید کی، کہ اسے اس کی ماں نے تکلیف سے اٹھائے رکھا اور اسے تکلیف سے جنا، اور اس کا حمل اور دودھ کا چھڑانا تیس مہینے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا، تو اس نے کہا اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر انعام کی اور میرے والدین پر اور میں نیک عمل کروں جسے تو پسند کرے اور میرے لیے میری اولاد میں اصلاح کر، بے شک میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور بے شک میں فرمانبرداروں میں ہوں"۔

عورت اور مرد جب ماں اور باپ کے رشتے سے آشنا ہوتے ہیں تو اُن کی ہر خوشی ، ہر غم کا محور اُن کی اولاد ہوتی ہے۔اولاد کے  بچپن سے جوانی تک کے سفر میں اُن کی ساری خواہشات اور اُمیدیں  اپنے بچوں سے شروع ہو کر اُنہی پر ختم ہوتی ہیں۔ کاروبارِزندگی کی  محنت ومشقت  کا  ماحاصل اولاد  ٹھہرتی ہے تو ہر دعا کا آٖغاز اور اختتام بھی بچوں کی صحت وسلامتی سے ہوتا ہے۔یہ اولاد ہی ہے جس کی  اندھی محبت   میں حلال وحرام کا فرق مٹا   کر ہمیشہ کے خسارے کا سودا  کرتا ہے۔اور یہی اولاد جب بڑی ہو جاتی ہے تو اُس کی اپنی زندگی کا چکر بھی اِسی طرح جاری و ساری رہتا ہے۔یہ سلسلہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا کہ یہ  فطرتِ انسان ہے۔لیکن ماں باپ کے جوانی سے بُڑھاپے تک کے سفر میں  اولاد کی خوشی اور غم کا مرکز کبھی بھی  کہیں بھی ماں باپ ہرگز نہیں ہوتے۔اولاد کی فطرت میں یہ بات ڈالی ہی نہیں گئی۔کیا کسی چیز کا فطرت میں نہ ہونا انسان کی خامی کہی جا سکتی ہے ؟۔ نہیں ! ایسا ہرگز نہیں کبھی بھی نہیں۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوق کا درجہ عطا کیااور سب سے بڑھ کر اُسے سوچنے،سمجھنے کی صلاحیت عطا کی۔ہم جتنا بھی سوچیں،غور کریں تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ یہ دستورِ زمانہ ہے،یہی زندگی کا چکر بھی ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ بچے کی پرورش اور دیکھ بھال      ماں باپ کی ذمہ داری کے سوا کچھ بھی نہیں اور اسے   ذمہ داری سے بڑھ کر"امانت" کہا جائے تو بےجا نہ ہو گا۔ایسی امانت جو اللہ کی طرف سے عطا کی گئی ۔اپنے جیسے انسان سے  کسی صلے کی امید رکھنا  خام خیالی کے سِوا کچھ بھی نہیں  ۔ انسان سدا سے انسانوں  کا اور انسانوں کے وسیلے سےبنے رشتوں کا محتاج رہتا ہے۔ دنیا میں  آنکھ کھولنے کے بعد  "زندہ رہنے "کے لیے  اُسے  کسی  تعلق کسی  رشتے سے بےنیاز سہاروں کی ضرورت  پڑتی ہے۔وقت گزرتا ہے یہاں تک     کہ   وہ خود کسی کو سہارا              دینے،کسی کاسہارا بننےکے قابل ہو جاتا ہے۔ ۔پھر ایک ایسا وقت آتا ہے کہ کسی رشتے کسی تعلق سے  ہٹ کر  اُسے "زندگی گزارنے "کے لیے سہاروں       کی ضرورت پڑتی ہے۔ اب یہ سہارے اُسے خود تلاش کرنا پڑتے ہیں۔اس کے اپنے خونی رشتے کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں اور اپنی دنیا میں مگن ہوجاتے ہیں۔جذباتی  اور معاشرتی سہاروں کے بنیادی  عوامل  سے بڑھ کر مالی وسائل    بہت اہمیت اختیار کر  جاتے ہیں۔اپنی  جسمانی و ذہنی صحت  کا خیال رکھنے اور اس کے مسائل سے باخبر رہنے کے باوجود  زندگی کے سفر میں  عمر کے ہندسے بڑھنے کے ساتھ ہی جسمانی مشینری میں کمزوریاں  نمایاں   ہونے لگتی ہیں۔  انسان خواہ کتنا ہی صحت مند ،مال دار او ر سمجھ دار  کیوں نہ ہو ،  اُسے    عمر میں پچاس   سال  کا    سنگِ میل چھونے  کے   بعد جسم میں کہیں نہ کہیں  دردوں،ساٹھ   برس کے بعدبیماری کی علامات ، ستر   برس  کے بعد بیماری اور اُس کے اثرات اور اسی  برس  کے بعد کبھی بھی کسی بھی حادثے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔حرفِ آخر

٭اولاد آزمائش ہے۔۔۔ ایسی آزمائش جو موجود ہو تو آزمائش اور نہ ہو تو بھی آزمائش ۔

٭ ماں باپ  توبہتے چشمے کی طرح ہوتے ہیں جبکہ بچے اپنے اپنے ظرف کے برتنوں میں غرض کی ٹونٹیاں لگائے اس آبِ حیات کو سمیٹنے کی لاحاصل سعی  ہی کرتے رہ جاتے ہیں۔
٭یہ صرف ماں باپ ہی ہیں جو اگر دنیا میں  ہماری پہلی سانس  کا وسیلہ  ہیں  تو دنیا میں اپنی آخری سانس تک ہمارے منتظر رہتے ہیں۔ ماں باپ  کے جانے کے بعد ایک وقت  ایسا بھی آتا ہے کہ جب کوئی بھی آپ کی واپسی کا  منتظر نہیں ہوتا۔۔۔ گھر  میں اور نہ دنیا میں۔

جمعہ, مارچ 05, 2021

یادوں کی تتلیاں،لمحے نے کہا اور منیرہ قریشی

عزیز دوست محترمہ منیرہ قریشی صاحبہ سے تین دہائیوں کا ساتھ ہے ۔کتاب شناسی سے سوچ آشنائی تک دوستی کے اس سلسلے میں کئی خوبصورت پڑاؤ آئے ۔ دریا کو کوزے میں بند کرتے ہوئے برملا کہتی ہوں کہ میری سوچ کو "سنوارنے" میں اگر میری پیاری دوست کا اہم کردار رہا جنہوں نے میری خودکلامی کو اپنے قیمتی وقت کی سوغات دی تو اپنی ذات کی تنہائی میں خود سے سوال جواب کرتی منیرہ قریشی کو دنیائے گوگل کے بتی والے چوک میں پہنچا کر "بگاڑنے" میں سراسر میرا ہی حصہ ہے۔ ستم تو یہ ہے کہ لیپ ٹاپ پر اردو کا پہلا لفظ لکھنے سے بلاگ سپاٹ پر اپنا بلاگ بنانے کی" سہولت کاری" اور پھر "قلم "سے اردو " کی بورڈ "کے "نشے" میں گرفتار کرنے کے جرم میں مجھے ندامت بھی تو نہیں۔ جانتی ہوں تو بس اتنا کہ قلم اور کاغذ سےاُن کا ناطہ اتنا ہی پرانا تھا جتنا کہ کتاب اور لفظ سےجُڑا تھا۔لیکن اپنے محسوسات کو لفظوں میں سمونے کے بعد خود سے بھی چھپاتے ہوئے کسی بوسیدہ ہوتی ڈائری کے سوا کوئی جگہ نہ تھی۔اس بات کا اعتراف محترمہ منیرہ قریشی نے کچھ اس طرح کیا۔۔۔
میرے بلاگ "وظیفہ" سے اقتباس " تم بہت خوش قسمت ہو کہ اپنے احساسات کو صفحے پر الفاظ کی صورت لکھ دیتی ہو،میں نے اس عمر تک یہ کوشش بارہا کی لیکن الفاظ ساتھ دے بھی دیتے ہیں مگر احساس ِجرات ساتھ نہیں دے پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ گول مول طریقوں سے،ڈھکےچھپے الفاظ سے دل ودماغ ہلکا کرلیتی تھی یا ۔۔۔۔۔ ہوں"۔     بارہ جنوری2003۔
 مجھے خوشی ہے کہ آج  اس لمحے تقریباًً اٹھارہ برس بعد  "لمحے نے کہا" کی صورت  اس "احساسِ جئرات"   نے ساتھ دیا۔
 
تعارف مصنف

 منیرہ قریشی   درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ   سماجی اور رفاعی اداروں کے قیام کے حوالے سے  واہ کینٹ کا ایک معتبر نام  ہیں۔علمی اور ادبی ماحول نے ذوقِ مطالعہ کو مہمیز کیا۔کتابوں سے محبت اور لفظ سے  دوستی کے سفر میں اپنے احساسات کو خاموشی   سے سپردِقلم کرتی رہیں۔وقت نے مہلت دی اور بخت نے اجازت دی تو   احباب کے اصرار پر  کتاب کی صورت اپنے خیالات وتجرباتِ زندگی مجتمع کر کے  سامنے لائیں۔ شاعری کی کتاب "لمحے نے کہا" احساس کی   بارش کا پہلاقطرہ ہے۔

 منیرہ قریشی کی آنے والی کتابوں پر ایک نظر 

٭یادوں کی تتلیاں۔۔۔۔ خودنوشت

٭سلسلہ ہائے سفر۔۔۔ سفرِ حج اور  بیرونِ ملک سفر(ملائیشیا،دوبئی ،تھائی لینڈ ،انگلستان  اور ترکی)   کا احوال

٭اِک پرِخیال۔۔۔انشائیے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نظموں کی کتاب" لمحے نے کہا"کےلیے دیباچہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خاص دوست کے خوبصورت آغازِ سفر کے نام ۔۔
"دنیا محض ایک میلہ ہے اور میلہ خانہ بدوشوں کے قبیلے کی طرح ہوتا ہے جو کسی بھی وقت کوچ کر سکتا ہے۔اللہ کے کرم،اس کی نوازشات اوراُس کے"شکر" کا ادراک جس لمحے ہو جائے،اُس لمحے کو اپنا لیں،مٹھی میں قید کر لیں تو بہت سی گرہیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ "لمحے تو تتلی کی طرح ہوتے ہیں یا تو گرفت میں آتے نہیں اور آجائیں توبےجان وجود کی صورت مٹھی سے پھسل پھسل جاتے ہیں"۔
۔ "لمحے نے کہا"  محض نظمیں نہیں بلکہ  خودکلامی کی کیفیت ہے۔ڈھلتی عمر کی بےآواز بارشیں اپنے ساتھ بیت چکے موسموں کے کچے جذبوں اور جگنو خوابوں کوبڑی آہستگی سے بہا لے جاتی ہیں۔لیکن محترمہ منیرہ قریشی نے کاروبارِحیات میں صبح شام کرتے تلاش کے اس سوچ سفر میں اپنے خیال کی تازگی برقرار رکھی۔ خالق کی عظمت سے مہکتے گلاب لفظ اور بارگاہِ رسالت میں محبت وعقیدت چُنتے نادرموتی ہیں تو کہیں  گوشۂ گریہ میں  جانے والوں  کو  پکارتی ایسی دل گداز نظمیں ہیں جو  قلم کی سیاہی سے نہیں یاد کے آنسو سے لکھی  گئی ہیں۔کبھی  معاشرتی مسائل کو محسوس کرتی کیفیت ِاظہار ۔۔ لفظ کے نشتر سے روح کو زخمی کرتی اور قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے تو دوسری طرف بےرحم مرہم کا کام بھی کرتی ہے۔  اور کہیں   دریا کو کوزے میں بند کرتی"ہائیکو"   ہیں جو نظر کے لمس کو چھو کر دل پر دستک دیتی  ہیں تو اپنی محبت میں گرفتارکر لیتی ہیں۔ ہم اُن منظروں کےساتھی بن جاتے ہیں جو سوچ سفر کے موسم میں لفظ کی صورت کاغذ پر بکھرتے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ منظر یہ لہجہ اجنبی نہیں ہمارے دل کی آواز بھی ہے۔ ان کہی کی   گہرائی اور کہنے کی  سلاست چونکا دیتی ہے۔روح و  جسم کی کشمکش اور فنا وبقا  کے "استغراق" میں  اِک "رقصِ درویش"  پڑھنے   والوں  کو دور نہیں جانے دیتا۔
ہر محبت،ہر خدمت اور ہر جذبہ بےکار ہے جب تک وہ کسی مربوط لڑی میں پرویا نہ جائے یا احساس کے گلہائے رنگ رنگ کو اپنی استطاعت کے مطابق کسی گلدستے کی شکل نہ دی جائے اور"لمحے نے کہا" آپ کی بکھری سوچ کے نکھرے رنگوں کو ایک تصویر میں سمیٹنے کی جانب پہلا قدم ہے۔
جناب مجروح سلطان پوری کا شعر خاص آپ کے لیے۔۔۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا    
نورین تبسم
اردو بلاگر "کائناتِ تخیل"
اسلام آباد
یکم نومبر 2020
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"یادوں کی تتلیاں" کے لیے دیباچہ۔۔۔
"یادوں کی تتلیاں" جو یاد کے جھروکوں میں ٹھہری اور سوچ کے پردوں میں سمٹی سمٹائی برسوں سے فقط"کن" کی منتظر ہی تو تھیں۔اذنِ ربی سے " فیکون"کے بعد لفظ کے لباس میں یوں اپنی چھب دکھلاتی اٹھلاتی محوِرقص ہوئیں کہ جہاں فاضل لکھاری ایک جذب کے عالم میں لکھتی چلی گئیں وہیں شخصیات و واقعات کی ہمہ ہمی اور روانیِ خیال قاری کوبھی اپنی گرفت سے نکلنے نہیں دیتا۔قیام ِ پاکستان کی اولین دہائی کے اواخر سے شروع ہوتی عزیز دوست منیرہ قریشی کی زندگی کہانی کے نشیب وفراز کی کتھا جو نئی صدی کے دوعشروں تک محیط ہے صرف ذاتی احساسات وتجربات کی ترجمانی ہی نہیں کرتی بلکہ نصف صدی سے زیادہ کا یہ قصہ اس دور میں ہونے والے اہم قومی واقعات کا ایک مستند رپورتاژ بھی ہے۔
یادوں کی تتلیاں جو برسوں سے مٹھی میں قید تھیں، گرچہ پوری قوت سے سانس تو لیتی تھیں لیکن گذرتے وقت میں اُن کے رنگ مدہم پڑتے جارہے تھے۔آپ نے لفظ کے پیکر میں ڈھال کر انہیں آزاد کر دیا۔اِنہی قیمتی یادوں میں "ڈرائنگ روم" کے عنوان کے تحت اُن ملاقاتوں کا احوال بہت منفرد ہے جو دُنیائے اردو ادب کے چمکتے ستاروں سے اُن کے گھر میں ہوتی رہیں اور منیرہ قریشی کے چشمِ تخیل میں ہمیشہ کے لیے ٹھہر گئیں۔جناب افضل پرویز(پوٹھوہاری زبان کے نامور شاعر) سے شروع ہونے والے اس سلسلے میں جناب  ممتازمفتی،  قدرت اللہ شہاب،اشفاق  احمد،بانو قدسیہ،اے حمید   جیسی نابغۂ روزگار  شخصیات کے ساتھ ساتھ عصرِحاضر  کے   معتبر   صوفی دانشور جناب پرو فیسراحمدرفیق اختر  بطورِ خاص شامل ہیں۔بحیثیتِ مجموعی محبت بھری یادوں کا یہ نادر تحفہ ایسی گلاب تتلیاں ہیں جو سوچ کے لمس کو اقدار اور کردار کی مہک دے جاتی ہیں۔
گرچہ کوئی بھی اپنے والدین کی محبتوں کا قرض کبھی نہیں اُتار سکتا لیکن اللہ جس طور توفیق دے۔ اپنے ماں باپ کی شفقتوں اور یادوں کو بہت خوبی سے لفظ میں پرو کرمحفوظ کرنا گویا اپنی اہلیت کا حق ادا کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔اللہ اس کو قبول فرمائے ۔آمین۔
دعاگو ہوں کہ یادوں کی تتلیوں کا سفر اسی تازگی اور روانی کے ساتھ جاری رہےکہ "قدم رکے تو نہیں زندگی تھمی تو نہیں"
نورین تبسم
اردو بلاگر "کائناتِ تخیل"
اسلام آباد
یکم نومبر 2020
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعرات, دسمبر 03, 2020

"اچھائی،برائی "

سورہ الانعام (6)۔پارہ 7۔ آیت 54۔
تمہارے رب نے اپنے ذمہ رحمت لازم کی ہے، جو تم میں سے ناواقفیت سے برائی کرے پھر اس کے بعد توبہ کرے اور نیک ہو جائے تو بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔
برائی کر کے بھولو نہیں اور اچھائی کر کے بھول جاؤ۔
برائی ہو یا اچھائی دونوں کے بدلےضرور ملتے ہیں اور اسی دنیا میں اپنی آنکھ کے سامنے۔لیکن آنکھ بھی وہ جو محض بصارت ہی نہ ہو بلکہ بصیرت کے نور سے بھی روشن ہو۔آنکھ بصارت سے بڑھ کر بصیرت ہے۔
ہر برائی کی سزا نہیں اور ہر اچھائی کی جزا نہیں ۔کہتے ہیں انسان خطا کا پُتلا ہے۔سوبرائی ہو یا گناہ اگر جان بوجھ کر کسی زیارتی کا مرتکب ہوا ہے یا نادانی میں،اگرتو انسان انسانوں کا مجرم ہے یا اللہ کا گناہگار ۔ ہر دو صورتوں میں برائی کرنے کے بعد انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے۔ اہم یہ ہے کہ انسا ن سے معافی مانگنے کی ہمت نہیں یا مہلت نہیں تو پھر بھی کوئی بات نہیں۔اللہ تو ہر وقت پاس ہے،ساتھ ہے۔اُس سےبات کرے ،اُس سے معافی مانگے۔ہم جب اللہ سے کچھ مانگنے کے لیے اپنے جیسےانسان کو وسیلہ بنا سکتے ہیں تو بندوں سے ندامت کے اظہار کے لیے اللہ کو کیوں نہیں وسیلہ بناتے۔ ہم کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ ہمارے دل کی ندامت اُس انسان کے دل تک پہنچا سکتا ہے۔اور ایسا ضرور ہوتا ہے۔سو عمل اور قول کو تو جانے دیں۔اگر ہمارے دل کے کسی گوشے میں خفیف سا بھی احساسِ ندامت پیدا نہیں ہوتا تو جان لیں کہ ایک ایسا وقت ضرور آتا ہے کہ جب یہ احساس ہمارے دماغ میں پوری شدت سے بیدار ہو گا۔اللہ اُس وقت سے بچائے کہ وہ وقت مکافاتِ عمل کے سوا کچھ بھی نہیں۔

رہی بات اچھائی کی تو اچھائی کی جزا کا تو سنتے آئے ہیں یہ اچھائی کی سزا کے کیا معنی۔ برائی اور اچھائی دو دنیاؤں کی کہانی نہیں بلکہ اِن میں بال برابر فرق ہے۔کسی مجبور پر ہاتھ اُٹھانا ایک لمحۓ کا کام ہے اور وہی ہاتھ اُس کے سر پر رکھ دینا دوسرے لمحۓ کا۔ دیکھا جائے تو پہلا لمحہ سراسر زیارتی ہے اور دوسرا نیکی۔ لیکن اِس نیکی میں اگر بڑائی یا احسان کی رتی برابر بھی ملاوٹ ہو گئی تو یہ اُس زیارتی سے بڑھ کر ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ نیکی اُس شخص کے ساتھ نہیں بلکہ ہم اپنے ساتھ کر رہے ہوتے ہیں۔کیا پتہ وقت کا پہیہ کب ہمیں اس مجبور کی جگہ پر گھڑا کر دے ۔آخر میں انتہائی لرزا دینے والی حقیت یہ ہے کہ برائی کے بعد توبہ کر کے انسان پاک ہو سکتا ہے اور اللہ معاف کر کے اپنے نیک بندوں میں شامل کر دیتا ہے۔لیکن اچھائی کرنے کے بعد برے لوگوں میں شامل ہوجانا ہمیشہ کا خسارا ہے۔

      


 

جمعہ, ستمبر 18, 2020

"اب عمر کی نقدی ختم ہوئی"

پانچ برس اُدھار کے۔۔شرافت ناز

پیر, اگست 31, 2020

"ہنزہ داستان"

ہنزہ داستان۔۔۔مستنصرحسین تارڑ
سفر ۔۔۔1984
1985اشاعت۔۔۔
انتساب۔۔۔امی جان کے لیے











    صفحہ 114۔۔۔گُم وہی چیزیں ہوتی ہیں جو چاہے عارضی طور پر ہی سہی اِنسان  کی گرفت میں ایک مرتبہ تو آتی ہیں- بےشمار لوگ ہوں گے  جِن کے پاس  توگُم کرنے کے لیے بھی کچھ نہیں ہوتا۔
 صفحہ 119۔۔۔ طویل مسافتوں کی تھکاوٹ چند روز میں زائل ہو جاتی ہے ۔لیکن مہہ وسال کے گزرنے سے جو مسافت وجود میں آتی ہے اُس کی تھکاوٹ صرف مٹی میں  پنہاں ہو کر ہی ختم ہوتی ہے۔
 صفحہ 270۔۔۔ انسان فطرت کو مسخر تو کر سکتا ہے لیکن اُس کا دائمی رفیق نہیں  بن سکتا۔وہ سب کچھ رہتا ہے لیکن وہ خود نہیں رہتا۔البتہ اُس کی جگہ رہتی ہے۔

جمعہ, اگست 28, 2020

"اُداسی اور خوشی"

"میری ڈائری سے  میرا انتخاب"
تقریباً چار دہائیاں  پہلے  کے لفظ ۔۔۔نہیں جانتی کہ کس کے لکھے ہیں۔ لیکن  اداسی اور خوشی کی تمثیل  آج بھی  دل کو چھوتی ہے اور آنکھ نم کرتی ہے۔
"اُداسی" 
جیسے۔۔۔ ساون کی گھٹا  ذرا    دیر کے لیے برسے اور پھر دھوپ نکل آئے۔
 جیسے۔۔۔کوئی مہمان چند روز کے لیے آئے اور قہقہے برسا کر واپس چلا جائے۔
جیسے۔۔۔ کوئی میلہ بھر کر خالی ہو جائے۔
جیسے۔۔۔ چُھٹی کا دن آئے اور گُزرجائے۔
جیسے ۔۔۔روزِعید کی شام ہو۔
جیسے۔۔۔ دُلہن کی رُخصتی کے بعد گھر کی حالت۔
جیسے۔۔۔تماشۂ رفتہ کا خالی پنڈال۔
 جیسے۔۔۔ کسی پردیسی کی الوداعی مسکراہٹ۔
جیسے۔۔۔بھولے بسرے خطوط۔
جیسے۔۔۔ مرنے والے کے تہہ در تہہ کپڑے۔
جیسے۔۔۔ گرمیوں کی طویل دوپہر میں باغ کا منظر۔
جیسے۔۔۔  کسی  ویران مسجد میں شام کا چھٹپٹا۔
جیسے۔۔۔ کسی کھنڈر میں چھٹکی چاندنی۔
جیسے۔۔۔ کسی سُنسان پہاڑ پر خزآں کی آمد۔
جیسے۔۔۔جاڑے کی چاندنی۔۔
۔" اےاُداسی۔اے اُداسی تیرا جواب نہیں ،تخلیق کاروں کی اُمنگ،اے شاعروں کی محبوبہ،اے اداسی تو میرے جذبوں کی گھٹا ہےاور تو میرے قلم کی وہ سیاہی بھی جس کے سامنے صفحۂ ہستی کی تمام تر وُسعت بھی ناکافی ہے۔۔۔مگراداس موسم میں اداس ہو جانا ایک عام سی بات ہے کیونکہ اس وقت بھی تو سال  بھر کا اداس اور سوگوار موسمَِ خزاں عروج پر ہے۔لیکن اگر  میں اس اداس موسم میں اداس ہوں تو کئی لوگ ہوں گے جو اس موسم سے لُطف اندوز ہو رہے ہوں گےاور یوں اُن کے چہروں سے شفق پھوٹ رہی ہو گی۔ان کے کھنکتے قہقہے ہر سمت پھیل رہے ہوں گے،اُن کے چہروں سے خوشی و شادمانی ٹپک رہی ہو گی مگر دوسری طرف ایسے بھی لوگ ہوں گے جن کے چہروں پر غم کی گھٹا چھائی ہو گی،آنکھوں  میں افسُردگی کے سائے  ہوں گے اور چہرہ دھواں دھواں ہو گا۔اور ہاں وہ لوگ بھی تو ہوں گے جو اندر سے تو افسردہ ہوں گے مگر ہنستا چہرہ لیے زمانے کے سامنے ہوں گےمگراُن کے چہرے کا کوئی حصہ اس جھوٹ کی چغلی کھا رہا ہو گا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
" خوشی"
 جیسے۔۔۔ ساون کی گھنگھور گھٹا سے پانی کا پہلا قطرہ۔
جیسے۔۔۔ کسی میلے میں ڈھول پر پڑنے والی پہلی تھاپ۔
جیسے۔۔ کسی سُونے آنگن میں بچے کی پہلی چہکار۔
جیسے۔۔۔کسی دور کے نگر میں کسی شناسا چہرے کا دیدار۔
جیسے۔۔۔کسی اُجڑے آنگن میں بہار کی واپسی کا احساس۔
جیسے۔۔۔ کسی خوشخبری سنانے والے کے ہونٹوں کی مخصوص جنبش۔
جیسے۔۔۔کسی  مسکرانے والے کی آنکھ کا نرالا آنسو۔
جیسے۔۔۔کسی لوٹ کر آنے والے کے قدموں کی خوش کن صدا۔
۔"اے خوشی تو  دل کے سمندر کا  سب سے انمول موتی ہے۔تو زندگی کی لہر ہے۔تو کائنات کی روح ہے۔ تو نے شاذ ہی مجھے اپنی زندگی کی  جھلک دکھائی ہے ۔لیکن مجھے تجھ سے کوئی شکوہ نہیں کیونکہ تیری کمیابی ہی توتیرا حُسن ہے"۔




"مستنصرحسین تارڑ ۔۔۔اپنی کُتب کے آئینے میں "

٭1)"غار حرا میں ایک رات "۔ سفر ستمبر  2004 اشاعت 2006 ٭کئی لوگ پوچھتے ہیں,جاننا چاہتے ہیں کہ کیا میں سفر محض اس لئے اختیار کرتا...