اتوار, جولائی 31, 2022

"آدم ،اولادِ آدم اورجنت کہانی"

یکم محرم الحرام بمطابق 1444 ہجری
31 جولائی 2022 بروز اتوار
" جنت سے نکلنے میں یا تو غلطی ہوتی ہے یا پھر جنت نہیں" ۔
جنت کیا ہے ؟ ایک ایسی جگہ جہاں انسان کی تمام جسمانی ضروریات کی تکمیل بحسن وخوبی میسر ہو۔ ایک ایسا گوشہ جو مکمل ذہنی اور جسمانی سکون کا باعث ہو۔ بات گر حضرت آدم علیہ السلام کی سماوی جنت اور اُن کے نکالے جانےسے شروع ہوتی ہے تو آج کے دور میں انسان کی ارضی جنت کی تلاش تک جا پہنچتی ہے۔ یہ کہا جائے تو بےجا نہ ہو گا کہ جنت کی خواہش انسان کی جبلت اور فطرت میں ہمیشہ سے ہی ہے۔ مکمل تسکین کی یہ آرزو انسان کو بےقرار رکھتی ہے تو ہر لمحہ آگے سے آگے بڑھنےپر بھی اُکساتی ہے یہاں تک کہ وہ اپنی منزل مراد کے سنگِ میل چھو لیتا ہے لیکن انجام وہی جنت سے نکالے جانا۔ اپنی محنت سے حاصل کردہ جنت سے نکلنے یا نکالے جانے میں مرضی، اختیار یا ارادے کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ۔ یہ زندگی کے تپتے صحرا میں سرابِِ نظر ثابت ہوتی ہے تو کبھی پل بھر کی لغزش سب خاک کر دیتی ہے۔
حرفِ آخر
اگر ہمیں اس دُنیا میں جنت نہیں ملی تو آخرت میں بھی نہیں ملے گی۔سب سے بڑی جنت "سکون" ہے ۔۔۔دل کا سکون اور دل کا سکون اللہ کے قرب کے احساس میں ہے۔



پیر, جنوری 24, 2022

"بچپن سےپچپن تک"

"بچپن سے پچپن تک"

پچیس جنوری ۔۔۔1967۔
پچیس جنوری۔۔۔2022۔

"جانا توبس یہ جانا کہ کچھ نہیں جانا"

بچپن اور پچپن کے بیچ لفظی طور پر دو "نقطوں" کا یہ فرق بچپن کی نادانی اور پچپن کی دانائی کا اُلٹ پھیر ہے یا پھر ہماری زندگی کے ادوار کو تین لفظوں میں سموتی ۔۔۔ بچہ،بڑا اور بوڑھا کی مثلث۔

بچپن کی نادانی سُنی سنائی بات ہی کہی جا سکتی ہے لیکن پچپن تک آتے آتے اور زندگی کے بےشمار اسباق ملتے ملتے یہ بات پتھر پر لکیر کی طرح ذہن پر ثبت ہو جاتی ہے کہ بچپن کی نادانی بڑوں کی محبتوں اور شفقتوں کے سائے تلے بادِصبا کے جھونکے کی طرح چھو کر گزر گئی لیکن پچپن کی دانائی صرف اور صرف اپنی ذات کے حوالے سے ہی سمجھی جائے تو بہتر ہے کہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کے بعد دنیاوی رشتوں کی نظر میں عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑوں میں عقل کی کمی ہونے لگتی ہے۔

بچپن میں بڑے ہاتھ تھام کر چلنا سکھاتے ہیں ۔زندگی کے ابتدائی اسباق ذہن کی کوری سلیٹ پرنقش کرتے ہیں تو پچپن میں چھوٹے ہاتھ جھٹک کر ہمارا اپنے آپ پر یقین بھی ختم کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔اس سمے طویل سفرِزندگی کے ان منٹ اسباق ریت پر لکھی تحریر دِکھتے ہیں۔ عمرِرائیگاں کے احساس کی اذیت کو کم کرنے میں اصل کردار ذہنی برداشت کا ہے جو زندگی کے سکون اور بےسکونی کا تعین کرتی ہے۔ ذہنی برداشت ،اپنے آپ پر یقین ہی وہ اصل دانائی ہے جو انسان کو مایوسی سے بچاتی ہے۔

انسان سدا سے انسانوں کا اور انسانوں کے وسیلے سےبنے رشتوں کا محتاج رہا ہے۔ دنیا میں آنکھ کھولنے کے بعد "زندہ رہنے "کے لیے اُسے کسی تعلق کسی رشتے سے بےنیاز سہاروں کی ضرورت پڑتی ہے۔وقت گزرتا ہے یہاں تک کہ وہ خود کسی کو سہارا دینے،کسی کاسہارا بننےکے قابل ہو جاتا ہے۔ ۔پھر ایک وقت ایساآتا ہے کہ کسی رشتے کسی تعلق سے ہٹ کر اُسے زندگی گزارنے کے لیے سہاروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اب یہ سہارے اُسے خود تلاش کرنا پڑتے ہیں۔اس کے اپنے خونی رشتے کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں اور اپنی دنیا میں مگن ہوجاتے ہیں۔جذباتی اور معاشرتی سہاروں کے بنیادی عوامل سے بڑھ کر مالی وسائل بہت اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔اپنی جسمانی و ذہنی صحت کا خیال رکھنے اور اس کے مسائل سے باخبر رہنے کے باوجود زندگی کے سفر میں عمر کے ہندسے بڑھنے کے ساتھ ہی جسمانی مشینری میں کمزوریاں نمایاں ہونے لگتی ہیں۔ انسان خواہ کتنا ہی صحت مند ،مال دار او ر سمجھ دار کیوں نہ ہو ، اُسے عمر میں پچاس سال کا سنگِ میل چھونے کے بعد جسم میں کہیں نہ کہیں دردوں،ساٹھ برس کے بعدبیماری کی علامات ، ستر برس کے بعد بیماری اور اُس کے اثرات اور اسی برس کے بعد کبھی بھی کسی بھی حادثے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے ۔

بات بچپن سے شروع ہو یا پچپن تک آ کر ختم کی جائے،یہ اہم نہیں ۔اہم یہ ہے کہ بچپن ہو یا پچپن ہم نے ذاتی طور پر زندگی سے کیا سیکھا۔ یہاں یہ بھی اہم نہیں کہ زندگی نے کیا سبق دیئےکہ زندگی تو ہر گھڑی ہر آن ہماری آخری سانس تک ایک نیا سبق سامنے رکھتی چلی جاتی ہے۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اس میں سے کتنا ذہن نشیں کرتے ہیں ؟ کتنا ازبر ہوتا ہے ؟ اور اس پر کس حد تک عمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟۔



اتوار, جنوری 23, 2022

" لاہور آوارگی"

"لاہور آوارگی"
اشاعت جنوری 2017

کسان اینڈ کمپنی پر بیٹھ کر میں نے کاروبار تو کیا کرنا تھا آوارگی کتابیں فلمیں خواب اور سراب میرا عشق تھے۔۔۔۔میں لکھنے میں مگن ہو گیا میں نے اپنے مقبول ترین کتابیں اسی دکان کے کاؤنٹر پر بیٹھ کر لکھیں۔۔۔گوالمنڈی کے شور خوانچہ فروشوں کی پکاروں اور شدید گرمیوں برستی برسات اور موسم سرما کی ٹھٹھرتی شاموں میں ۔۔۔"نکلے تیری تلاش میں" " اندلس میں اجنبی " "خانہ بدوش" "فاختہ" "پکھیرو " "پیار کا پہلا شہر " کے ابتدائی باب۔؎

۔۔۔۔

صفحہ 188۔189

لاہور میں ہمارا پہلا گھر ریلوے سٹیشن اور گڑھی شاہو کی قربت میں ،،بوڑھ والا چوک ،،یعنی برگد والے چوک کے پہلو میں تھا۔وہ ایک محلہ تھا جس میں داخل ہونے کا ایک بوسیدہ دروازہ تھا جو سر شام بند ہو جاتا تھا،دو کولونیل طرز کے پرانے کمرے اور ایک صحن۔۔۔۔۔اس گھر کی یادیں کہاں ہو گی کہ میں ایک رینگتا ہوا گول مٹول سیاہ رنگت کا موٹی موٹی آنکھوں والا ایک فضول اور بدھو سا بچہ تھا۔

جو کچھ میری یاداشت میں ہے ،وہ ابا جی اور امی جان کی کہاوتیں ہیں۔
میری امی جان جو ان دنوں ایک ٹین ایجر بالڑی سی لڑکی تھیں۔ صحن میں آٹا گوندھ رہی ہیں اور میں ان کے آس پاس،،غاں غاں،،کرتا گھٹنوں کے بل رینگتا صحن کی سیاحت کرتا ہوں اور پھر ان کی بے خبری میں ایک کمرے میں چلا جاتا ہوں ۔
سرخ اینٹوں کے فرش پر کچھ سرخ رنگ کی گولیاں پڑی ہیں جنہیں اٹھا کر میں نہایت رغبت سے نگل لیتا ہوں۔
یہ چوہے مار گولیاں ہیں جو ان دنوں چوہوں کو تلف کرنے کے لیے استعمال ہوا کرتی تھیں۔ گولیاں نگل کر میں فورا اوندھا ہو جاتا ہوں۔
میری امی جب آٹا گوندھتی اس پاس نظر کرتی ہیں تو میں صحن میں نہیں ہوں ۔ ،وہ باؤلی ہو کر مجھے تلاش کرتی ہیں اور میں فرش پر ایک مردہ لال بیگ کی مانند اوندھا پڑا ہوں اور میری باچھوں میں سے جھاگ کے بلبلے پھوٹ رہے ہیں۔ گڑھی شاہو کے ڈاکٹر معائنہ کر کے کہتے ہیں کہ یہ بچہ تو گیا۔ چوہوں کا زہر اثر کر گیا ۔۔۔۔۔تب مجھے ایک قے ہوتی ہے اور میں یکدم ہوش میں آکر ،،باں باں، کرتا رینگنے لگتا ہوں اور یہ معجزہ اس لیے رونما ہوا کہ امی نے آٹا گوندھنے سے بیشتر مجھے گرائپ واٹر کے دو چمچے پلائے تھے۔ جن کی وجہ سے مجھے قے ہوئی اور میں ،،باں باں،، کرنے لگا۔۔مجھے بہرطور اتنا یاد ہے کہ گرائپ واٹر کی بوتل پر چسپاں لیبل پر ایک موٹو سا بچہ ایک سانپ کو گرفت میں لیے بیٹھا ہے اور اس میں سونف کی مہک تھی۔
۔۔۔۔۔
صفحہ 190۔۔۔
چیمبر لین روڈ کے اس گھر میں میری منجھلی ہمشیرہ شاہدہ،ایک چار برس کی موٹی بچی ،گھنٹی بجنے پر ڈوڑتی ہوئی لکڑی کی گیلری کی جانب لپکی کہ نیچے کون ہے تو گیلری پر امڈتی ہوئی نیچے بازار میں واقع سبزی کی دوکان میں گاجروں اور گوبھی کے پھولوں پر جا گری۔
اس کی ناک بہت ستواں تھی،اس کریش لیڈنگ کی وجہ سے وہ ہمیشہ کے لیے ،،پھینی ،،ہو گئ سب مذاق کرتے کہ گاجریں کھانے کے لیے اس نے گیلری سے بازار میں چھلانگ لگا دی تھی۔بہرطور وہ مرتے مرتے بچی۔
ہم چھ بہن بھائی تھے تین بھائی تین بہنیں اور ہم سب کو مرنے کا بہت شوق تھا۔
میں اپنا قصہ بیان کر چکا ہوں کہ میں نے چوہوں کا زہر کھا لیا اور اوندھا ہو گیا ،مجھ سے چھوٹا بھائی زبیر کھڑکی میں سے لٹک کر گڈی اڑا رہا تھا کہ نیچے گلی میں جا گرا ،لوگوں نے سمجھا کہ مر گیا۔ہسپتال لے گئے تو وہ ہوش میں آگیا ،البتہ ایک ٹانگ ٹوٹ گئ ۔سب سے چھوٹا بھائی مبشر صرف چھ ماہ کا تھا اور پروین کی گود میں تھا کہ ایک اور بچی نے طیش میں آکر اسے پروین سے چھینا اور زمین پر پٹخ دیا، موصوف بھی لگتا تھا رحلت فرما گئے ہیں لیکن بچ گئے البتہ ہسپتال میں ٹانگے رہے کہ ان کی بھی ایک ٹانگ ٹوٹ گئ ۔۔۔۔۔
پروین اپنی سہیلیوں کے ساتھ چھت پر آنکھوں پر پٹی باندھ کر چھپن چھپائی کھیل رہی تھی۔ چھت کی منڈیر مختصر تھی۔ چلتی ہوئی آئی اور دھڑام سے نیچے صحن میں آ گری ۔۔۔۔۔ کپڑے جھاڑ کر اٹھ بیٹھی اور خوفزدہ سہیلیوں سے کہنے لگی ،،میری امی کو نہ بتانا کہ میں گر گئی تھی،،
اب رہ گئی سب سے چھوٹی ہمشیرہ شائستہ۔۔۔۔وہ شاید دو برس کی تھی جب اسے تیز بخار ہوا ۔۔۔۔مجھے یاد ہے اسے ایک پیڑھی پر لٹایا ہوا تھا وہ اتنی چھوٹی سی تھی ،ابھی وہ بھلی چنگی کلکاریاں مار رہی تھی کہ یکدم ساکت ہو گئی اور آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔۔۔۔۔امی جان نے بین کرنے شروع کر دئیے کہ ہائے میری پیاری دھی رانی اور میں بھی اپنی ہمشیرہ کی موت کے غم میں رونے لگا ۔ خالو عزیز احمد میری امی کی ڈھارس بندھانے لگے کہ چپ کر نواب بیگم ،اللہ کی مرضی ۔۔۔۔۔صبر کر۔۔۔ اور اس دوران وہ شائستہ کی کھلی آنکھیں بند کرنے لگے ۔۔۔پر وہ بند نہ ہوتی تھیں،کھلی رہتی تھیں۔
ڈاکٹر خان فورا ًآئے اور اسے دو چار جھانپڑ رسید کیے ایک ٹیکہ لگایا تو وہ زندہ ہوگئی
میں بھی اسی خاندانی خصلت کے تابع پچھلے دنوں دو تین بار پار چلا گیا اور پھر لوٹ آیا۔۔۔
چنانچہ ہم سب بہن بھائیوں کو مرنے کا بہت شوق تھا ،
اور یہ زبیر تھا جو سچ مچ جگر کے سرطان کا شکار ہو کر چلا گیا ۔۔۔۔۔۔ لوٹ کر نہ آیا ،چلا ہی گیا
۔۔۔۔۔۔۔




"مستنصرحسین تارڑ۔۔۔۔ میرے بلاگز کے آئینے میں"

مستنصر حسین تارڑ

تاریخ پیدائش. یکم مارچ 1939ء لاہور.
پہلی تحریر." لنڈن سے ماسکو تک " ہفت روزہ " قندیل " 1959ء
پہلی کتاب. " نکلے تیری تلاش میں " سفر نامہ
پہلا ٹیلیویژن ڈرامہ بطور اداکار. "پرانی باتیں " 1967ء
پہلا ٹیلیویژن ڈرامہ بطور مصنف. "آدھی رات کا سورج " 1974ء     
۔۔بحوالہ بیک ٹائٹل" کے ٹو کہانی " ایڈیشن 1994ء ۔ 

۔۔۔۔۔۔ 

جناب مستنصرحسین تارڑ کے حوالے سے میرے تمام تر بلاگز کے نام بمعہ اُن کے لنک درج ذیل ہیں ۔جن میں میری ذاتی تحاریر ،اُن پر لکھی گئی تحاریر،اُن کی تحاریر،اور اُن کی کُتب پڑھتے ہوئےمیرا احساس اور اُن میں سے اقتباسات شامل ہیں۔


جمعرات,  30اکتوبر, 2014
۔۔۔۔۔

 ہفتہ 22 نومبر 2014
۔۔۔۔۔
جمعرات 25 دسمبر 2014
۔۔۔
جمعہ 26 دسمبر 2014
۔۔۔۔۔
جمعہ 26 دسمبر 2014
۔۔۔۔۔
جمعہ 27 فروری 2015
۔۔۔۔
اتوار یکم  مارچ 2015
۔۔۔۔
پیر 30 مارچ 2015
۔۔۔۔
منگل 31 مارچ 2015
۔۔۔۔
منگل 21  اپریل  2015
۔۔۔۔

 منگل 21 اپریل 2015
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بشکریہ ایکسپریس اردو
اتوار 2 اگست 2015
نامورادیبوں کی کتاب سے جڑی ان مٹ یادوں کا بیان ۔
۔۔۔۔
۔ جمعہ 28 اگست 2015
۔۔۔۔۔

جمعرات 17ستمبر 2015
۔۔۔۔۔
بدھ 4 نومبر 2015
۔۔۔۔
بدھ 9 دسمبر 2015
۔۔۔۔
 جمعہ یکم جنوری 2016
۔۔۔۔
پیر 24 اکتوبر 2016
۔۔۔۔۔
 منگل 25 اکتوبر 2016
۔۔۔۔
ہفتہ 24 دسمبر 2016
سفرِِحراموش  جولائی2016 از مستنصرحسین تارڑ

( روزنامہ نئی بات میں چھپنے والے کالم)
۔۔۔۔
 ہفتہ 7 جنوری 2017 
۔۔۔۔
منگل 7 فروری 2017
۔۔۔۔

بدھ 15 فروری 2017
۔۔۔۔۔
یکم مارچ 2018
۔۔۔۔
جمعرات 5 اپریل 2018
۔۔۔۔۔
پیر 31 اگست 2020
۔۔۔۔
پیر 13ستمبر 2021
۔۔۔۔۔
اتوار 23 جنوری 2022
اتوار 23 جنوری 2022
۔۔۔۔۔



 

جمعرات, جنوری 20, 2022

" بُنت "


"بچے کچے خوابوں سے نئے رنگوں کے تحفے بُننا مجھے اچھا لگتا ہے۔"

لفظ اور رنگ میرے ہاتھوں کے لمس سے
جب پگھلتے ہیں
میں ان کو تصویر کرتی ہوں
نئی اِک تحریر لکھتی ہوں
جو کائنات میں صرف میری ہوتی ہے

اپنے وجود پر میرا      یقین ہوتی ہے 

منگل, اکتوبر 19, 2021

برکہ۔ ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔ از قلم شاہین کمال

برکہ۔
ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔
جب مکہ میں یہ خبر عام ہوئی تو اس شام شہر میں کہرام بپا تھا کہ مکہ کا وجہیہ و دانا ، صاحب فہم و فراست اور رحم دل سپوت اب نہیں رہا ۔ بطحاء کی آغوش نے ہاشم کے صاحب زادے کو سمیٹ لیا۔ وہ جوان رعنا نوشہ عبداللہ لحد میں آسودہ خواب ہوگیا۔ عبداللہ بن عبد المطلب کا کل ترکہ تھا، پانچ اونٹ، بکریوں کا ایک ریوڑ اور ایک حبشی کنیز جن کا نام برکہ تھا ۔جب عبداللہ نے اپنی عروس آمنہ کے ساتھ اپنی جنت بسائی تو اس خوب صورت گھرانے کی خدمت پر مامور برکہ تھی۔
برکہ جن کا آبائی وطن حبشہ تھا۔ نام برکہ بنت ثعلبہ بن عمرو بن حصن بن مالک بن سلمہ بن عمرو بن نعمان اور کنیت ام ایمن۔ انہیں کم عمری میں مکہ کی غلام منڈی عبداللہ نے مول لیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عبد المطلب اور آمنہ بنت وہب کی شادی کے بعد یہ اس گھرانے کی خدمت پر مامور تھیں۔ حضرت عبداللہ شادی کے فوراً بعد ہی شام کے تجارتی سفر پر روانہ ہو گئے تھے پر آپ کی زندگی نے وفا نہ اور واپسی کے سفر میں یثرب میں بیمار ہوگئے یوں دیار غیر میں آسودہ خاک ہوئے۔ اس دل دوز گھڑی میں برکہ ہی تھیں جنہوں بی بی آمنہ کی دل داری اور دیکھ بھال کی۔ یہ برکہ کی بلند بختی تھی کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مہد سے لحد تک ان کے ساتھ رہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا میں جلوہ افروز ہوئے تو برکہ وہ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی گود میں لیا۔ اس وقت برکہ کی عمر تیرہ سال تھی اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرورش و پرداخت پر معمور تھیں۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم، بی بی حلیمہ سعدیہ کے پاس مستقلاً مکہ واپس آ گئے تو آپ کی دیکھ ریکھ کی پوری زمہ داری برکہ کے سپرد تھی۔ وہی کھلاتی، پلاتی، نہلاتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھیلتیں۔ جب بی بی آمنہ بنت وہب نے مدینہ سے واپسی کے سفر میں ابواء کے مقام پر داعی اجل کو لبیک کہا تو اس لق و دق بیابان میں اس چھ سالہ یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ دھرے گم سم دادا اور ممتا بھرا دل رکھنے والی انا کے کہ علاؤہ تیسرا اور کوئی نہ تھا۔ بی بی آمنہ کے وصال کے بعد ام ایمن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ بن گئیں۔ یہ فضیلت صرف ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حاصل ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش باسعادت سے لے کر وصال پر ملال تک ان کے ساتھ رہیں۔ آپ حضور اکرم کی دیکھ بھال میں اس شدت سے مصروف تھیں کہ اس فریضے کو پوری جاں فشانی سے نبھانے کی خاطر آپ نے شادی بھی نہیں کی۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نکاح حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوا تو آپ نے برکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آزاد کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش تھی کہ اب برکہ بھی شادی کر لیں اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اصرار پر آپ کی شادی حارث بن خزرج کے خاندان میں عبید بن زید سے ہوئی پر ان کی عمر نے وفا نہ کی۔ ان سے ایک اولاد حضرت ایمن ہوئے، انہی کے سبب برکہ کی کنیت ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا پڑی۔ میاں کے انتقال کے بعد وہ اپنے بیٹے کے ساتھ دوبارا مکہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر تشریف لے آئیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبوت کے منصب پر فائز ہوئے تو برکہ اسلام قبول کرنے والی دوسری عورت تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلی خواہش تھی کہ ام ایمن کی دوبارہ شادی ہو، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےکہا کہ جس کو یہ بات خوش کرے کہ وہ ایک جنتی بی بی سے شادی کرے ،اسے چاہیے کہ وہ ام ایمن سے نکاح کرے اور اس ترغیب و محبت کی بنا پر حضرت زید بن حارثہ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام اور چہیتے صحابی تھے انہوں نے اپنا نام پیش کر دیا جبکہ دونوں کی عمروں میں بہت فرق تھا۔ حضرت زید بن حارثہ سے ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی دوسری اولاد اسامہ بن زید جو نامور صحابی رسول اور جری اور کم عمر سپہ سالار تھے پیدا ہوئے۔ حضرت اسامہ بن زید کو محبوب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی کہا جاتا ہے۔ ام ایمن اور حضرت زید بن حارثہ کا بیس برس کا ساتھ رہا، اس دوران حضرت زید نے مزید نکاح بھی کئے مگر باقی بیویوں کو طلاق دے دی اور پھر جنگ موتہ میں حضرت زید بن حارثہ کی شہادت تک ام ایمن ہی ان کی واحد بیوی تھیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بہت اکرام کرتے تھے اور لوگوں سے آپ کا تعارف بحثیت میری ماں کے بعد ماں کے طور پر کراتے اور ان کے گھر کو اپنا گھرانہ شمار کرتے۔ ام ایمن نے جب مدینہ منورہ ہجرت کی تو اسی سفر دشوار میں ان کے ساتھ ایک معجزہ پیش آیا۔ ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا روزے سے تھیں اور گرمی اور پانی کی عدم دستیابی کے سبب جب جاں بلب ہوئی تو آسمان سے ایک ڈول نازل ہوا جس کی رسی کا دوسرا سرا نظر نہ آتا تھا۔ اس ڈول میں دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا پانی تھا۔ آپ نے اسی پانی روزہ افطار کیا اور دل بھر کر پانی پیا اور بچے ہوئے پانی کو اپنے جسم پر بہا دیا۔ ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ اس کے بعد انہیں گرمی اور پیاس نے کبھی نہیں ستایا اور وہ گرم ترین دنوں میں بھی آرام سے روزہ رکھا کرتی اور کعبہ کا طواف کرتیں۔
مدینہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزآنہ ان کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے اور احوال کے استفسار پر کہ" اے میری ماں آپ کیسی ہیں؟"
ام ایمن کا جواب ہوتا کہ" جب تک اسلام کے حالات اچھے ہیں میں اچھی ہوں۔"
اللہ اللہ !! کیا زہد و تقویٰ اور کیا استقامت کہ ضیعفی کا عالم مگر زبان شکوہ شکایت سے
نا آشنا۔ طبقات ابن سعد کے مطابق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو دو بار جنت کی بشارت دی۔
ام ایمن ہر غزوہء میں حصہ لیتی رہیں۔ وہ غزوات میں پانی پلانے اور زخمیوں کی تیمارداری کی خدمت انجام دیتی۔ غزوہء احد میں جب بھگدڑ مچی تو وہ تلوار سونت کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب رہیں اور بھاگتے ہوئے مجاہدین کو عار دلا کر واپس میدان جنگ کی طرف پلٹایا۔ غزوہء حنین میں آپ نے اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ شرکت کی اور اس غزوہء میں حضرت ایمن شہید ہوئے۔
ام ایمن نے اپنے تمام پیاروں، میاں، دونوں بیٹے یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی تک کا صدمہ سہا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد وہ بالکل خاموش رہنے لگیں تھیں۔ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی مزاج پرستی و دل داری کے لیے برابر آپ کے گھر جایا کرتے تھے۔ ایک ملاقات پر جب وہ گریاں کناں تھیں تو حضرت ابو بکر صدیق نے انہیں تسلی دی اور کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اللہ تعالٰی کے پاس بہترین چیز موجود ہے۔ ام ایمن نے کہا میں اس حقیقت سے آگاہ ہوں مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کی وجہ سے اب وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے اور یہ غم بہت بڑا صدمہ ہے۔ یہ سن کر دونوں صحابہ کرام بھی رونے لگے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت پر بہت دلگیر تھیں،کسی نے سبب پوچھا تو کہا کہ عمر کے جانے سے اسلام کمزور ہو گیا ہے۔
آپ نے طویل عمر پائی تقریباً سو برس اور آپ کا انتقال حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ابتدائی دور میں ہوا، حضرت عمر فاروق کی شہادت کے فقط بیس دن کے بعد ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال ہوا اور آپ جنت البقیع میں مدفون ہیں۔
حوالہ جات۔
سیرا الصحابیات، مولوف، مولانا سعید انصاری۔
الاستیعاب، کتاب کنی النساء، ام ایمن خادمہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
سنین ابن ماجہ، کتاب الاطعمتہ
مسلم (2/341)
ارحیق المختوم۔ مولانا صفی الرحمن مبارک پوری
شیخ عمر سلیمان کا لیکچر۔

از قلم شاہین کمال۔ 

پیر, ستمبر 13, 2021

"مستنصرحسین تارڑ ۔۔۔اپنی کُتب کے آئینے میں "

٭1)"غار حرا میں ایک رات "۔
سفر ستمبر 2004
اشاعت 2006
٭کئی لوگ پوچھتے ہیں,جاننا چاہتے ہیں کہ کیا میں سفر محض اس لئے اختیار کرتا ہوں کہ واپسی پر سفر نامہ لکھ سکوں......ایسا ہر گز نہیں ہے...... میں نے زندگی کے بیشتر سفر ان زمانوں میں اختیار کئے جب واپسی پر کچھ بھی نہ لکھتا تھا----میں ایک ادیب نہ بھی ہوتا تو بھی اتنے ہی سفر کرتا جتنے کہ میں نے کئے کہ میرے لئے آوارگی جذبہ اول ہے اور اس کی روئیداد قلم بند کرتا ہوں تو لوگوں کو اپنے سفر میں شریک کرنے کے لیے اور......... اس سفر کو پھر سے زندہ کرنے کے لیے......گویا میں ایک اور سفر پر نکل جاتا ہوں اور یہاں ایک سفرنامہ نگار دوسرے مسافروں سے کہیں زیادہ بخت والا ہو جاتا ہے کہ وہ دوبارہ انہی کیفیتوں,مسرتوں,اذیتوں اور مشقتوں اور خوبصورتیوں میں سے گزرتا ہے......کچھ اسی طور میں نے غار حرا میں تو صرف ایک شب بسر کی لیکن اسے بیان کرتے ہوئے سینکڑوں راتیں اس غار میں بسر کیں........جو سرسری دیکھا تھا اس کی تفصیل میں گیا...جو اَن دیکھا تھا وہ بھی سٹڈی کی تنہائی میں نظر آنے لگا......ایک شب کا ہیجان اور کیفیت سینکڑوں شبوں پر محیط ہو گیا.....تو گویا اب بھی اس لمحے....جب کہ اس شب کو گزرے ہوئے ایک برس ہو چکاہے.....میں ہنوز غار حرا کی رات میں ہوں۔
۔۔۔۔
٭2) ’’خانہ بدوش‘‘
(سفر۔سپین، لبنان ،یورپ )
سفر1975
اشاعت اگست 1983
کسی من چاہے کا پرتو کب تک یوں سامنے آتا رہتا ہے کہ جیسے وہ سامنے ہو؟ ۔۔۔۔ صرف چند برسوں کے لئے۔ پہلے بدن کا لمس ساتھ چھوڑتا ہے، پھر آواز معدوم ہوتی چلی جاتی ہے اور کچھ عرصے بعد آنکھیں بھولتی ہیں، مگر مسکراہٹ بہت دیر تک ساتھ دیتی ہے لیکن ایک روز وہ بھی بجھتی ہوئی لو کی طرح تھرتھراتی ہوئی تاریک ہوجاتی ہے۔
۔۔۔۔
٭3)"برفیلی بلندیاں"
۔( تلتر جھیل،پگوڈا ٹریک(سفر 2000)، درۂ گندگورو،لیلیٰ پیک ٹریک (2001)۔
اشاعت2001
٭"کوئی چہرہ یا منظر تبھی باوقار ہوتا ہے جب اسے دیکھنے والے ہوں۔۔۔۔ دیکھنے والے ہی نہ رہیں تو وہ چہرے اور منظر کسی کام کے نہیں رہتے بیکار اور تنہا ہوجاتے ہیں"۔
۔۔۔۔
٭4)"دیوسائی "
سفر1997
اشاعت 2003

٭بوجھ میں اگر محبت نہ ہو تو وہ بےشک ایک تنکےکا ہو۔برداشت نہیں ہوتا۔
‏ہر رشتے کے لئے اور ہر محبت کے لئے ایک خاص وقت مقرر ہوتا ہے وہ وقت گزر جائے تو رشتہ اور محبت ہولے ہولے مٹی ہونے لگتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
٭5)"خس و خاشاک زمانے"
اشاعت 2010
کسی بھی حیات کا کچھ اعتبار نہیں ہوتا، اس کا عمر کی طوالت سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا،،
""موت بےشک اکثر سال خوردہ اور اُن دروازوں پر جنہیں عمر کی گھُن چاٹ چُکی ہوتی ہے دستک دیتی ہے،، اگرچہ یہ کوئی حتمی اصول نہیں ہے،، بعض اوقات وہ ایسے نوجوان وجود پر بھی ہاتھ رکھ دیتی ہے جسے تخلیق کے شجر سے تراشے ہوئے کچھ زیادہ مدت
نہیں گزری ہوتی""
۔۔۔۔
٭6)"اے غزال شب "۔
آخری صفحہ آخری لفظ۔20مارچ 2010 ۔
اشاعت 2013
٭ایک انسان جس کے موجودگی سے اس کی بیوی اور اولاد بےخبر اور بے پروا ہوجائے اس کی قدر نہ کرے وہ ایک ہی چھت تلے حیات کریں اور کوئی اس انسان پر ایک نظر نہ کرے تو وہ بھی دیوار پر آویزاں ایک تصویر ہو جاتا ہے جسے کوئی نہیں دیکھتا۔لیکن جب وہی انسان یکدم منظر سے ہٹ جائے گم ہو جائے تو اس کی تصویر کے چوکھٹے کا نشان دیوار پر نمایاں ہو جاتا ہے وہ بھی اپنے گھر، بیڈروم، واڈروب، اپنی پسندیدہ کرسی پر بلکہ واشروم کے آئینے میں بھی اپنے بدن کے ہیولے کا ایک نشان چھوڑ جاتا ہے۔۔۔ تب وہ سب جو اس کی موجودگی سے غافل ہوا کرتے تھے گھر،بیڈ روم، واڈروب،کرسی اور آئینے کے خا لی پن کو دیکھتے ہیں تو ان کے اندر بھی ایک ہول اٹھتا ہے کہ وہ انسان کیا ہوا ۔
۔۔۔۔۔
٭7)"نیو یارک کے سو رنگ"
سفر 2005
اشاعت2013
تین علوم ایسے ہیں جہاں سے میں جان بوجھ کر سرسری گزرا ہوں' میری محدود سوجھ بوجھ نے محض ان کے
دروازے پر دستک دی ہے... اگر دروازہ کھل گیا ہے تو صرف جھانکا ہے اندر جانے کا حوصلہ نہیں ہوا.. اجتناب کیا ہے کہ ان کی انتہا کوئی نہیں.. آخر حد کا کچھ پتہ نہیں.. ان میں سے ایک علم کائنات اور اس کی لامحدودیت کا ہے.. دوسرا مذہب اور تیسرا موسیقی ہے' خصوصی طور پر مشرقی کلاسیکی موسیقی.. ان تینوں کا کوئی انت نہیں اور میں ایک انتہائی محدود ذہن رکھتا ہوں اور میں اس امر سے آگاہ بھی ہوں اس لئے ان سے اجتناب کیا۔
۔۔۔۔۔۔
٭8)"اور سندھ بہتا ر ہا"۔
سفر 2015
اشاعت جولائی 2016 
ویسے موت سے مجھے شکایت بہت ہے۔۔۔
یونہی بغیر کسی وارننگ کے کسی بھی لمحے آپ خوابیدہ ہیں دوستوں کی محفل میں ہیں، بچّوں سے لاڈ کر رہے ہیں ٹیلی ویژن دیکھ رہے ہیں بلکہ ہو سکتا ہے آپ کموڈ پر بیٹھے ہیں تو وہ کچھ اطلاع نہیں کرتی تو شکایت یہی ہے کہ وہ ذرا دھیرے دھیرے آئے۔۔ اُس کے قدموں کی چاپ تو سُنائی دے۔۔۔ اُس کی آہٹ تو ہو اور وہ کہے کہ میں آگئی ہوں اور تمہیں تیاری کے لیے کچھ مہلت دیتی ہوں تو آپ اُسے تھینک یو کہہ کر اپنے بچّوں کے چہرے دیکھ لیتے ہیں، اپنی بیوی کے خزاں رسیدہ چہرے پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔۔ آپ جو ناول یا سفر نامہ لکھ رہے ہیں اُس کا مسّودہ رائٹنگ ٹیبل پر رکھ دیتے ہیں کہ یہ بعد میں دریافت ہو کر شائع ہو جائے۔۔۔ کچھ تصویریں اور خطوط تلف کر دیتے ہیں غارِ حرا کے ایک پتھر پر اپنے ہونٹ رکھ دیتے ہیں، اور وہ سفید ٹِشو پیپر جس پر کبھی رسول اللہ کی قبر پر بچھی چادر کی مٹی کے کچھ ذرے ہوا کرتے تھے جو اب معدوم ہو گئے ہیں اُس ٹشو پیپر کو ذرا آنکھوں سے تو لگالوں۔۔۔ اور تب۔۔۔ ہاں...اب آجاؤ۔۔۔ مجھے لے جاؤ۔۔
موت سے یہی تو شکایت ہے کہ اتنی سے بھی مُہلت نہیں دیتی۔۔۔!!!
۔۔۔۔

"آدم ،اولادِ آدم اورجنت کہانی"

یکم محرم الحرام بمطابق 1444 ہجری 31 جولائی 2022 بروز اتوار " جنت سے نکلنے میں یا تو غلطی ہوتی ہے یا پھر جنت نہیں" ۔ جن...