جمعہ, اگست 09, 2024

" توقع"

۔"  توقع کے بطن سے ہمیشہ  دُکھ جنم لیتے ہیں۔ بےغرضی ہر تعلق کی  مضبوطی کا تعین کرتی ہے   چاہے وہ انسان سے ہو یا رب سے"۔

تعلق ہو یا رشتہ  اپنے رب سے ہو یا انسان سے،پائیداری کی بنیادی اکائی احساس ہے۔وہ احسا س جو دل کی تنہائی میں جنم لیتا ہے اور دل کو چھو لیتا ہے۔سچے دل سے اپنے  خالق کا احساس ہر رشتے کی اصلیت عیاں  کرتا چلا جاتا ہے۔

انسان کے انسان سے رشتے  صرف اور صرف ذمہ داری ہوتے ہیں جو لین دین کے محتاج ہوتے ہیں اور نا ہی رابطوں اور اظہار کے۔ ہمارا سئلہ یہ ہے  کہ ہم مقدر کے بنے رشتوں کو بوجھ سمجھتے ہیں اور خود سے بنائے تعلقات کو اہم  جانتے ہیں ۔ تعلق فقط رب سے ہے اور ہونا بھی چاہیے۔انسانوں سے صرف مراسم ہوسکتے ہیں ،اچھے رکھو گے تو اچھا پاؤ گے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

"منیرہ قریشی اور اُن کی کُتب"

تعارف مصنف   منیرہ قریشی    درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ    سماجی اور رفاعی اداروں کے قیام کے حوالے سے  واہ کینٹ کا ایک ...