اتوار, مارچ 01, 2015

" مستنصر حسین تارڑ کی کتابیں "


نکلے تِری تلاش میں "۔۔۔۔۔پہلی کتاب۔۔۔۔۔پہلا صفحہ۔۔ پہلے لفظ۔۔ "
 تمہیں معلوم ہے کہ ایک ایسی جگہ ہے جس کے دونوں طرف اونچے اونچے درخت ہیں اور درمیان میں ایک راستہ سا بن گیا ہے میں اس راستے کے آخر تک جانا چاہتا ہوں۔اور تمہیں معلوم ہے کہ ایک ایسا جزیرہ ہے۔۔۔دودھیا رنگ کا جس میں سُنہری گھاس کے تکونے میدان ہیں اور وہاں ایسی مورتیاں کھڑی ہیں جن کی بناوٹ اور دائرے بےکل ہیں.. میں اُن مورتیوں کو چھونا چاہتا ہوں۔۔۔۔
کیونکہ
وہ راستہ اور وہ جزیرہ میرے ہیں ۔
پہلا سرورق۔۔۔ عبدالرحمٰن چغتائی
دوسرا سرورق۔۔۔ صادقین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی پہلی کتاب کے صفحہ اول پر جناب مستنصرحسین تارڑ کے وہ پہلے الفاظ۔۔پہلی خودکلامی۔۔۔۔ جو چند جملوں میں آغازِسفرِ سے آج تک کی سوچ کہانی کہتی ہے ۔۔۔ان کی روح کے بھید کھولتی ہے۔ وہ روح جو جسم کی خواہشات اور ضروریات کے سامنے کہیں چھپ جاتی ۔ جسم کی جبلتوں کو مانتے مناتے اگر تھکنے بھی لگتی تو اپنی پیاس اپنی طلب سے کبھی غافل نہ رہی۔۔۔ وہ طلب جو دیکھنے والے آنکھ کے لیے محض دیوانے کی بڑ یا سستی شہرت کے لیے قلم کی روانی ٹھہری ۔ استہزاء اور عقیدت کے ان پرپیچ راستوں میں سے بچ بچا کر نکلتے ہوئے سفر آج بھی جاری ہے...اپنی اسی پہلی سوچ پر یقین کے ساتھ کہ...."وہ راستہ اور وہ جزیرہ میرے ہیں"۔
۔۔۔۔۔
بےشک کسی کو  اپنانے پر یقین کی یہ کیفیت انسان پر اس کے رب کا عظیم فضل ہےکہ یہی کیفیتِ مجازی کیفیتِ حقیقی کی راہ کا پہلا قدم بھی ہے اور جب بات فطرت اورقدرت سے قربت کی ہو تو تلاش کا سفر ہزار صعوبتوں کے باوجود تھکن کا احساس مٹا دیتا ہے۔ اللہ جناب تارڑ کو ذہنی اور جسمانی صحت والی زندگی کے ساتھ اس سفر پر رواں رکھے ۔آمین۔(نورین تبسم)۔
شائع ہونے والی تمام کتابوں کا تعارف۔۔۔۔
٭1)نکلے تِری تلاش میں۔۔۔۔ 
(سفرنامہ ۔۔افغانستان ،ترکی ،ایران، یورپ، فرانس )
سفر جون، جولائی 1969
اشاعت۔۔۔1971
٭2)اُندلس میں اجنبی
(سفر۔سپین )
سفر 1969
اشاعت  ستمبر1976(التحریر پبلشر لاہور)۔
٭ 3)خانہ بدوش 
(سفر۔سپین، لبنان ،یورپ )
سفر1975
اشاعت اگست 1983
٭4)ہنزہ داستان
سفر 1984
1985اشاعت
٭5)نانگا پربت۔۔۔(بلتستان داستان)۔
سفر 1986۔۔1989
اشاعت 1991
٭ 6)سفر شمال کے
سفر1988۔۔1989
اشاعت 1991
٭7)کےٹو کہانی
سفر 1993
اشاعت 1994
٭8) یاک سرائے
سفر 1987۔۔1995
اشاعت 1997
َ٭9)سنولیک ( بیافو ہسپر دنیا کے طویل ترین برفانی راستے پر سفر کی داستان )۔
سفر1996
اشاعت 2000
.٭10)چترال داستان(گلگت،وادی گوپس،وادی بھنڈر،درۂ شندور،چترال،کافرستان)۔
سفر1994
اشاعت 2004
٭11) نیپال نگری
سفر مارچ۔۔ 1998
اشاعت 1999
٭12)برفیلی بلندیاں 
۔( تلتر جھیل،پگوڈا ٹریک(سفر 2000)، درۂ گندگورو،لیلیٰ پیک ٹریک (2001)۔
اشاعت2001
٭13)شمشال بےمثال(سوات وخنجراب)۔
سفر1998
اشاعت2002 
٭14)دیوسائی 
سفر1997
اشاعت 2003
٭15)پتلی پیکنگ کی
2003سفر
اشاعت 2009
٭16)سنہری الو کا شہر
( ہندوستان )
سفر 1965. 2004
2005اشاعت
٭17) رتی گلی
سفر۔۔1963،1956 ،2003
اشاعت 2005
٭18) کالاش (وادی کافرستان کا ڈرامائی سفرنامہ)۔
اشاعت 2005
٭19)منہ ول کعبہ شریف
سفر فروری  2003
اشاعت 2006
٭20)غارِحرا میں ایک رات
سفر ستمبر 2004
اشاعت 2006
٭ 21)نیویارک کے سو رنگ
سفر 2005
اشاعت2013
٭22)الاسکا ہائی وے
سفر ستمبر 2006
اشاعت 2011
٭23)ماسکو کی سفید راتیں 
سفر 1957، مئی 2007
اشاعت2009
٭24) ہیلو ہالینڈ 
ہالینڈ کی سفرِداستان۔۔۔نومبر،1956،1969،2010
اشاعت2011
٭25)لاہور سے یارقند تک
سفر2013
اشاعت 2014
٭26)امریکہ کے سو رنگ
سفر 2012 
آخری صفحہ ،آخری لفظ ۔۔25 نومبر
اشاعت اگست 2015 
٭27)راکاپوشی نگر
سفر 2013
اشاعت اگست 2015
٭28)آسٹریلیا آوارگی 
سفر۔۔روانگی اپریل 2014 
۔اشاعت اگست 2015
٭29)اور سندھ بہتا رہا
سفر 2015
اشاعت جولائی 2016 
٭30)لاہور آوارگی
اشاعت جنوری 2017
٭31)پیار کا پہلا پنجاب(نودن پنجاب کے)۔
اشاعت جنوری 2017
٭32) حراموش ناقابلِ فراموش
سفر جولائی 2016
اشاعت 2017
٭33)صنم کدہ کمبوڈیا 
سفر  2018
اشاعت مارچ 2020
٭34)ویت نام تیرےنام
سفر جون2018 
اشاعت مارچ 2020
٭35)جوکالیاں  (جوکالیاں ۔ ٹلہ جوگیاں۔ سٹوپوں کا شہر سوات، پنجاب کا واٹرلُو چیلیانوالہ اور جوکالیاں)۔
اشاعت دسمبر 2020
 ٭36) کیوبا کہانی(دبئی،امریکہ،میکسیکو اور کیوبا کے سفر)
سفر2019
اشاعت اگست 2021
٭ 37) لاہور دیوانگی( گوجرانوالہ۔دانا باد۔ہڑپہ۔کرتار پور،۔کنگا پور اور بھگت سنگھ کا گاؤں)۔
 اشاعت نومبر2021
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناول ۔۔۔۔
٭1)پیار کا پہلا شہر۔۔۔
آخری صفحے کے آخری لفظ۔۔۔یکم مارچ 1972
قسط وار اشاعت 1973(دھنک میگزین)۔
پہلی اشاعت 1975
اگلی اشاعت1983
۔۔۔
٭2) فاختہ ناولٹ(1974)۔
 ادبی جریدہ ’’اوراق میں’’جشن کی رات‘‘ کے عنوان سے اشاعت  اور پھر  اس  افسانے کو ایک ناولٹ ’’فاختہ‘‘ کی شکل دی۔
٭3) پکھیرو(پنجابی ناول)1976۔
٭4)پرندے 1984۔۔۔دو ناولٹ کا مجموعہ۔1)پکھیرو۔(بنجابی ناول کا اردو ترجمہ)۔2) فاختہ۔ 
٭5)جپسی(سفری ناول)۔ 1987۔
٭6)بہاؤ (1990)۔
٭7)دیس ہوئے پردیس(1994)۔
٭8)راکھ ( 1997)۔ (وزیرِاعظم ادبی ایوارڈ 1999)۔۔
٭9)قربت مرگ میں محبت(2001)۔ 
٭10)قلعہ جنگی( 2002)۔
٭11)ڈاکیا اور جولاہا (2005)۔
٭12)خس وخاشاک زمانے(2010)۔
٭13)اےغزال شب ( ناول)  ۔آخری صفحہ آخری لفظ۔20مارچ 2010 ۔
اشاعت 2013
٭14) منطِق الطیر،جدید(اکتوبر 2018)۔
 ٭15)شہر خالی،کوچہ خالی (کورونا وبا کے شب وروز ....ایک ناول)۔
اشاعت(دسمبر 2020)۔
٭16) روپ بہروپ۔مجموعہ دو ناولٹ ۔1) پھوپھی نوربی بی کا زرد گلاب،2) روپ بہروپ)۔
  قبل ازیں محمد سلیم الرحمان کی ادارت میں شائع ہونے والے ادبی پرچے سویرا میں شائع ہو چکا ہے۔
اشاعت(دسمبر2020)۔
۔۔۔۔
طنز ومزاح۔۔۔۔ کالم
٭1)گزارا نہیں ہوتا (روزنامہ مشرق میں شائع ہونے والے فکاہیہ کالمز کا مجموعہ۔۔ 1987)۔
٭2)کارواں سرائے (1998)۔
٭3)ہزاروں ہیں شکوے (1998)۔
٭4)چِک چُک(2003)۔
٭5)الو ہمارے بھائی ہیں(2007)۔
٭6)شترمرغ ریاست (2007)۔
٭7)تارڑ نامہ۔۔۔۔2009
٭8)تارڑ نامہ(1)َ۔۔۔2010
٭9)تارڑ نامہ (2)۔۔۔2012
٭10)تارڑ نامہ(3)۔۔۔2012
٭11)تارڑ نامہ(4)۔۔۔۔2014
٭12)تارڑ نامہ(5)۔۔۔2014
٭13) تارڑ نامہ(6)۔۔۔2018
٭14)گدھے ہمارے بھائی ہیں۔
٭15)بےعزتی خراب (2014)۔
٭16)خطوط( شفیق الرحمٰن،کرنل محمد خان،محمد خالداختر)۔2012 ۔ 
٭17)تارڑ نامہ (7)۔۔ اگست۔2020
۔۔۔۔۔۔
افسانے ۔۔۔ ڈرامے ۔۔۔۔۔ٹیلی کہانیاں۔۔۔
٭1)سیاہ   آنکھ میں تصویر (افسانوی مجموعہ  ۔16 افسانے)۔1985۔
٭2)شہپر(ٹیلی کہانی)۔
٭3)کالاش ۔(  ڈرامہ)۔
٭4)مورت (ڈرامہ)۔
٭5)ہزاروں راستے (ٹی وی ڈرامہ سیریل)
٭6)سورج کے ساتھ ساتھ( ٹی وی ڈرامہ سیریل)۔
٭7)فریب( ٹی وی ڈرامہ)۔
٭8)صاحب سرکار(  ٹی وی ڈرامہ)۔
٭9)پرواز(  ڈرامہ)۔
٭10)پندرہ کہانیاں ( مختصر کہانیاں ۔۔۔اپریل 2015 )۔
تعداد کُل کُتب۔۔۔80۔۔۔۔۔
جناب مستنصرحسین تارڑ  کے ایک کالم کا عنوان  اور حرفِ آخر میری طرف سے  ۔۔۔۔۔
اپنے محسنوں کو یاد کرتے رہنا چاہیے۔۔۔۔(کالم۔ مستنصرحسین تارڑ۔۔۔ یکم فروری 2015 )۔
 حرفِ آخر۔ 
 جو اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں وہی نہ صرف دلوں میں بلکہ تاریخ کے اوراق میں بھی یاد رہتے ہیں"۔"
۔۔۔۔

4 تبصرے:

  1. آج کے اس کالم میں جناب تارڑ نے ناولٹ فاختہ کے سال میں بارے میں خود بتایا ہے۔۔۔۔۔
    فاختہ سال اشاعت 1974
    بادلوںِ تتلیوں کے درمیان رقص کرتے اور پہاڑوں کی تازہ ہوا برسوں سے اپنے اندر جذب کرتے 80 کے ہندسے کو چھوتے "خرگوش" کے نوکِ قلم سے نکلا ایسا دل گداز نشتر جو عہدِحاضر کے ناسوروں کی حقیقت اجاگر کرتا ہے۔
    22 اکتوبر 2017 کے کالم کا لنک
    http://www.roznama92news.com/popup.php?newssrc=issues/2017-10-22/10859/p12-009.jpg

    جواب دیںحذف کریں
  2. مستنصر حسین تارڑ
    تاریخ پیدائش. یکم مارچ 1939ء لاہور.
    پہلی تحریر." لنڈن سے ماسکو تک " ہفت روزہ " قندیل " 1959ء
    پہلی کتاب. " نکلے تیری تلاش میں " سفر نامہ
    پہلا ٹیلیویژن ڈرامہ بطور اداکار. "پرانی باتیں " 1967ء
    پہلا ٹیلیویژن ڈرامہ بطور مصنف. "آدھی رات کا سورج " 1974ء
    بحوالہ . " کے ٹو کہانی " ایڈیشن 1994ء بیک ٹائٹل

    جواب دیںحذف کریں

"بچپن سےپچپن تک"

"بچپن سے پچپن تک" پچیس جنوری ۔۔۔1967۔ پچیس جنوری۔۔۔2022۔ "جانا توبس یہ جانا کہ کچھ نہیں جانا" بچپن اور پچپن کے بیچ لفظی...