بدھ, مئی 19, 2021

اولاد

۔" اولاد ہمیشہ  ماں باپ کی ترجیحِ اول ہوتی ہے لیکن ماں باپ  زندگی میں  کسی بھی  مقام پر اولاد کی ترجیح کبھی بھی نہیں ہوتے"۔

۔ سورہ الاحقاف(46)۔۔آیت 15۔۔"اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کی تاکید کی، کہ اسے اس کی ماں نے تکلیف سے اٹھائے رکھا اور اسے تکلیف سے جنا، اور اس کا حمل اور دودھ کا چھڑانا تیس مہینے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا، تو اس نے کہا اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر انعام کی اور میرے والدین پر اور میں نیک عمل کروں جسے تو پسند کرے اور میرے لیے میری اولاد میں اصلاح کر، بے شک میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور بے شک میں فرمانبرداروں میں ہوں"۔

عورت اور مرد جب ماں اور باپ کے رشتے سے آشنا ہوتے ہیں تو اُن کی ہر خوشی ، ہر غم کا محور اُن کی اولاد ہوتی ہے۔اولاد کے  بچپن سے جوانی تک کے سفر میں اُن کی ساری خواہشات اور اُمیدیں  اپنے بچوں سے شروع ہو کر اُنہی پر ختم ہوتی ہیں۔ کاروبارِزندگی کی  محنت ومشقت  کا  ماحاصل اولاد  ٹھہرتی ہے تو ہر دعا کا آٖغاز اور اختتام بھی بچوں کی صحت وسلامتی سے ہوتا ہے۔یہ اولاد ہی ہے جس کی  اندھی محبت   میں حلال وحرام کا فرق مٹا   کر ہمیشہ کے خسارے کا سودا  کرتا ہے۔اور یہی اولاد جب بڑی ہو جاتی ہے تو اُس کی اپنی زندگی کا چکر بھی اِسی طرح جاری و ساری رہتا ہے۔یہ سلسلہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا کہ یہ  فطرتِ انسان ہے۔لیکن ماں باپ کے جوانی سے بُڑھاپے تک کے سفر میں  اولاد کی خوشی اور غم کا مرکز کبھی بھی  کہیں بھی ماں باپ ہرگز نہیں ہوتے۔اولاد کی فطرت میں یہ بات ڈالی ہی نہیں گئی۔کیا کسی چیز کا فطرت میں نہ ہونا انسان کی خامی کہی جا سکتی ہے ؟۔ نہیں ! ایسا ہرگز نہیں کبھی بھی نہیں۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوق کا درجہ عطا کیااور سب سے بڑھ کر اُسے سوچنے،سمجھنے کی صلاحیت عطا کی۔ہم جتنا بھی سوچیں،غور کریں تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ یہ دستورِ زمانہ ہے،یہی زندگی کا چکر بھی ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ بچے کی پرورش اور دیکھ بھال      ماں باپ کی ذمہ داری کے سوا کچھ بھی نہیں اور اسے   ذمہ داری سے بڑھ کر"امانت" کہا جائے تو بےجا نہ ہو گا۔ایسی امانت جو اللہ کی طرف سے عطا کی گئی ۔اپنے جیسے انسان سے  کسی صلے کی امید رکھنا  خام خیالی کے سِوا کچھ بھی نہیں  ۔ انسان سدا سے انسانوں  کا اور انسانوں کے وسیلے سےبنے رشتوں کا محتاج رہتا ہے۔ دنیا میں  آنکھ کھولنے کے بعد  "زندہ رہنے "کے لیے  اُسے  کسی  تعلق کسی  رشتے سے بےنیاز سہاروں کی ضرورت  پڑتی ہے۔وقت گزرتا ہے یہاں تک     کہ   وہ خود کسی کو سہارا              دینے،کسی کاسہارا بننےکے قابل ہو جاتا ہے۔ ۔پھر ایک ایسا وقت آتا ہے کہ کسی رشتے کسی تعلق سے  ہٹ کر  اُسے "زندگی گزارنے "کے لیے سہاروں       کی ضرورت پڑتی ہے۔ اب یہ سہارے اُسے خود تلاش کرنا پڑتے ہیں۔اس کے اپنے خونی رشتے کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں اور اپنی دنیا میں مگن ہوجاتے ہیں۔جذباتی  اور معاشرتی سہاروں کے بنیادی  عوامل  سے بڑھ کر مالی وسائل    بہت اہمیت اختیار کر  جاتے ہیں۔اپنی  جسمانی و ذہنی صحت  کا خیال رکھنے اور اس کے مسائل سے باخبر رہنے کے باوجود  زندگی کے سفر میں  عمر کے ہندسے بڑھنے کے ساتھ ہی جسمانی مشینری میں کمزوریاں  نمایاں   ہونے لگتی ہیں۔  انسان خواہ کتنا ہی صحت مند ،مال دار او ر سمجھ دار  کیوں نہ ہو ،  اُسے    عمر میں پچاس   سال  کا    سنگِ میل چھونے  کے   بعد جسم میں کہیں نہ کہیں  دردوں،ساٹھ   برس کے بعدبیماری کی علامات ، ستر   برس  کے بعد بیماری اور اُس کے اثرات اور اسی  برس  کے بعد کبھی بھی کسی بھی حادثے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔حرفِ آخر

٭اولاد آزمائش ہے۔۔۔ ایسی آزمائش جو موجود ہو تو آزمائش اور نہ ہو تو بھی آزمائش ۔

٭ ماں باپ  توبہتے چشمے کی طرح ہوتے ہیں جبکہ بچے اپنے اپنے ظرف کے برتنوں میں غرض کی ٹونٹیاں لگائے اس آبِ حیات کو سمیٹنے کی لاحاصل سعی  ہی کرتے رہ جاتے ہیں۔
٭یہ صرف ماں باپ ہی ہیں جو اگر دنیا میں  ہماری پہلی سانس  کا وسیلہ  ہیں  تو دنیا میں اپنی آخری سانس تک ہمارے منتظر رہتے ہیں۔ ماں باپ  کے جانے کے بعد ایک وقت  ایسا بھی آتا ہے کہ جب کوئی بھی آپ کی واپسی کا  منتظر نہیں ہوتا۔۔۔ گھر  میں اور نہ دنیا میں۔

"مستنصرحسین تارڑ ۔۔۔اپنی کُتب کے آئینے میں "

٭1)"غار حرا میں ایک رات "۔ سفر ستمبر  2004 اشاعت 2006 ٭کئی لوگ پوچھتے ہیں,جاننا چاہتے ہیں کہ کیا میں سفر محض اس لئے اختیار کرتا...