صفحہِ اول

منگل, نومبر 01, 2016

"ابنِ انشا کچھ یادیں "


کچھ یادیں انشا جی کی
(ناجی عرف نجمہ خان صاحبہ کی ڈائری سے۔۔۔۔8ستمبر ،2016)
انشا جی کو دنیا تو بہت عرصے سے جانتی ہے۔
میں انہیں اس وقت سے جانتی ہوں جب کراچی میں ہم لڑکیوں کا ایک گروپ پیدل پاپوش نگر کے علاقے سے ہوتا ہوا اپنے اسکول جاتا تھا۔ وہ ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر رہا کرتے تھے۔ میں انشا جی سے روزانہ صبح اسکول جاتے وقت ملتی تھی اور انہیں سلام کیا کرتی۔ ان سے بات کرنے کے شوق میں، میں اپنے گروپ سے الگ ہوجاتی۔ اسکول بھی دیر سے آتی۔ روزانہ مجھے انشا جی کی وجہ سے ڈانٹ پڑتی۔
ابنِ انشا  ہر روز جب صبح پاپوش نگر کے بازار سے انڈا خرید رہے ہوتے۔ انڈے کو سورج کی روشنی میں، اپنی ہلکے نیلے رنگ کےچشمے سے غور سے دیکھتے اور میں اسکول میں سوچتی کہ آج انشا جی ضرور انڈے پر کچھ لکھیں گے۔
ایک دن میں نے ان سے کہا کہ انشا جی آپ روزانہ ڈبل روٹی، انڈا خریدتے ہیں اور ایک، ایک انڈے کو روشنی میں ایسے غور سے دیکھتے ہو  اور میں ہر روز انتظار کرتی ہوں کہ آج آپ ضرور انڈے پر کچھ لکھو گے۔
انشا جی بہت ہنسے  بولے، "لمبو تو مجھے اتنا چیک کرتی ہے،.وہ بھوک لگی تھی دیکھ رہا تھا کہ اندر سے گندا نہ ہو۔ فرائی پین میں جا کر چوزہ نہ نکل جائے"۔
وہ مجھے لمبو کہا کرتے تھے اور کہتے کہ تم کو لکھنے کا شوق ہے، تم لکھا کرو بس۔
ابنِ انشا زیادہ تر سادہ سے سفید پاجامہ اور سفید کرتے میں ملبوس ہوتے اور آنکھوں پر ہلکے نیلے رنگ کا چشمہ پہنتے۔ ایک دن انشا جی نے پینٹ اور شرٹ پہنی تھی، کہیں سے واپس آئے تھے۔ میں نے کہا کہ انشا جی سچ آپ پیارے لگ رہے ہو۔ ہنستے ہوئے کہنے لگے تو مجھے مار بھی پڑوائے گی۔
مجھے یاد آرہا ہےکہ کبھی کبھار ان کے ساتھ کراچی ریڈیو کی ایک پُربہار شخصیت جناب ایس ۔ایم ۔سلیم بھی نظر آتے تھے ۔ ایس ۔ایم ۔سلیم کی بیوی ثریا سلیم اب ریڈیو ہیوسٹن سے کام کرتی ہیں ان کی وہی شان  ہے، آج بھی چنا ہوا دوپٹہ اور غرارہ پہنتی ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ میں روزانہ گھر آ کر ابا جی سے کہتی کہ مجھے ابنِ انشا سے بہت سی باتیں کرنی ہیں میرا دل چاہتا کہ اسکول نہ جاؤں اور انکی باتیں سنوں، ان سے باتیں کیا کروں۔
ابا کہتے "تو لڑکی ذات ہے اس طرح بازار میں کھڑے ہو کر بات کرے گی شرم نہ آئے گی۔ لوگ کیا کہیں گے کہ قریشی صاحب کی بیٹی اسکول کے بہانے انشا جی سے باتیں کرتی ہے"۔
بھائی کی شادی کے بعد اس نے اقبال ٹاؤن کراچی میں جہاں گھر لیا وہ انشا جی کے محلے ہی میں تھا۔جب امی نے بھابی سے زردہ بنوایا تو میں ایک پلیٹ میں لے کر انکے پاس گئی۔ میرے ہاتھ میں زردے کی پلیٹ دیکھ کر وہ ایک دم بول اٹھے، "بھئ زردہ ہم کو بہت پسند ہے، مگر یہ ہمارے  ہی لیے لائی ہو نا ؟"
پھر پوچھا، "تم نے بنایا ہے"۔
میں نے کہا کہ نہیں ماں نے بھابی سے شگن بنوایا ہے۔پھر وہ گھر کے اندر گئے، ایک چمچ لے کر آئے اور اپنے ہاتھ سے ایک نوالہ پہلے مجھے دیا اور کہنے لگے اب تم مجھے دو، اس طرح ہماری دوستی پکی ہو جائےگی۔
میں بھائی کے گھر ابنِ انشا سے ملنے کے بہانے آتی۔ جب انشا جی نظر آتے میں ان سے جلدی جلدی ایک ہی سانس میں کہتی کہ انشا جی میں نے آج جنگ اخبار میں آپ کی یہ نظم پڑھی ہے اور اپنی طرف سے بھی بہت سی باتیں کرکے انکی تعریف کرتی مگر وہ کچھ نہ بولتے۔
اک دن ابنِ انشا نے کہا کہ تم رات کو ہمارے گھر آنا جوش آ رہے ہیں۔میں جوش سے ملی۔ اس روز ان کا سانس کافی خراب تھا ۔
انشاء جی اپنے پڑوسیوں کا بھی بہت خیال رکھا کرتے تھے۔
ایک بار یہ ہوا کہ پڑوس کے گھر میں ایک فیملی نے موروں کی جوڑی پال رکھی تھی۔ اتفاق سے اس میں سے مورنی گم ہوگئی۔
انشا جی اپنے پڑوسی سے زیادہ پریشان دِکھ رہے تھے۔ انشا جی نے ہر گھر کے دروازے پر جا کر مورنی کے حوالے سے پوچھا اور یقین کریں کہ جتنا مور اداس تھا انشا جی اس سے بھی زیادہ اداس تھے۔
پھر چار دن کے بعد وہ مورنی ملی۔
مورنی کا مالک بولا، "اس نے چار دن سے کچھ کھایا نہیں"۔
انشا جی بولے، "چار دن سے میں نے بھی نہ ٹھیک سے کھانا کھایا اور نہ کچھ لکھ پایا"۔
مشرقی معاشروں میں جیسا رواج ہوتا ہے کہ جس گھر میں لڑکیاں ہوں وہاں محلے کی کوئی رشتے کروانے والی اس حوالے سے اپنی خدمات پیش کرتی ہیں۔میری بڑی بہن پروین، جنہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا ہوا تھا، کے لیے ہماری محلے کی ایک خاتون جاویدہ  ایک رشتہ لے کر آئیں۔
اماں ابا کا حکم تھا کہ رشتہ دیکھنے لڑکے والے آرہے ہیں اس لیے کوئی اور بہن انکے سامنے نہ آئے۔ میں نے جو چور دروازے سے ان صاحب کو دیکھا تو میری حیرت اور خوشی کی انتہا نہ رہی کہ وہ صاحب کوئی اور نہیں بلکہ ابنِ انشا تھے۔ میں خوشی سے پاگل ہو گئی اور کچھ پرواہ نہ کرتے ہوئے چھلانگ لگا کر ایک دم ڈرائنگ روم میں آگئی اور انشا جی کو کہا کہ پروین میری بڑی بہن ہیں جن کی وجہ سے آج آپ ہمارے گھر آئے ہیں۔
انشا جی بھی ایک دو منٹ مجھے دیکھ کر گھبرا گئے اور بولے ۔۔لمبو یہ تمہارا گھر ہے۔
میرے گھر والے اور سب مجھے حیرت اور غصے سے دیکھ رہے تھے کہ یہ ابنِ انشاء سے ایسے فری ہو کر بات کر رہی ہے اور وہ بھی لڑکی ہوکر، ستم یہ کہ سب کے سامنے۔
میں اپنی زندگی کی وہ رات کبھی نہیں بھول سکتی۔ رات بھر سو ہی نہ پائی کہ صبح اسکول جا کر سب کو بتاؤں گی کہ ابنِ انشا ہمارے گھر آئے تھے۔
انشا جی کو میری بہن بہت پسند آئیں مگر انشا جی کے ساتھ تفاوت عمر اور اس زمانے میں ان کی معمولی نوکری کی وجہ سے یہ رشتہ نہ ہو سکا۔
افسوس ایک فنکار کی قیمت نہ لگ سکی۔
جس رات ابا نے ان کی بہن اور بھائی کو رشتے سے انکار کیا، اس رات میں بہت روئی۔ مجھے بھی بہت ڈانٹ پڑی کہ تم آئندہ کسی شاعر سے نہیں ملوگی۔ میں خود بھی اس انکار پر شرمندہ تھی کہ کس منہ سے ان کے سامنے جاؤں؟ سچ جانو اس دن مجھے احساس ہوا تھا کہ سب مایا ہے سب مایا ہے۔۔۔یہ امیری اور غریبی کے کھیل
اس انکار کے کچھ روز کے بعد ان کی یہ  نظم اخبار میں چھپی
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشاء جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
ہیں لاکھوں روگ زمانے میں ، کیوں عشق ہے رسوا بیچارا
ہیں اور بھی وجہیں وحشت کی ، انسان کو رکھتیں دکھیارا
ہاں بےکل بےکل رہتا ہے ، ہو پیت میں جس نے جی ہارا
پر شام سے لے کر صبح تلک یوں کون پھرے گا آوارہ
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
یہ بات عجیب سناتے ہو ، وہ دنیا سے بےآس ہوئے
اک نام سنا اور غش کھایا ، اک ذکر پہ آپ اداس ہوئے
وہ علم میں افلاطون سنے، وہ شعر میں تلسی داس ہوئے
وہ تیس برس کے ہوتے ہیں ، وہ بی-اے،ایم-اے پاس ہوئے
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
گر عشق کیا ہے تب کیا ہے، کیوں شاد نہیں آباد نہیں
جو جان لیے بن ٹل نہ سکے ، یہ ایسی بھی افتاد نہیں
یہ بات تو تم بھی مانو گے، وہ قیس نہیں فرہاد نہیں
کیا ہجر کا دارو مشکل ہے؟ کیا وصل کے نسخے یاد نہیں؟
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
وہ لڑکی اچھی لڑکی ہے، تم نام نہ لو ہم جان گئے
وہ جس کے لانبے گیسو ہیں، پہچان گئے پہچان گئے
ہاں ساتھ ہمارے انشا بھی اس گھر میں تھے مہمان گئے
پر اس سے تو کچھ بات نہ کی، انجان رہے، انجان گئے
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
جو ہم سے کہو ہم کرتے ہیں، کیا انشا کو سمجھانا ہے؟
اس لڑکی سے بھی کہہ لیں گے ، گو اب کچھ اور زمانہ ہے
یا چھوڑیں یا تکمیل کریں ، یہ عشق ہے یا افسانہ ہے؟
یہ کیسا گورکھ دھندا ہے، یہ کیسا تانا بانا ہے ؟
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
کاش میں آزادی سے ابنِ انشا سے ملتی اور وقت کو فوٹو میں قید کرتی۔
پھر ہم لوگ لندن آگئے۔ ان دنوں خبروں کے اتنے ذرائع تو تھے نہیں اور نہ ہی لندن میں اردو اخبارات کا سلسلہ ایسا تھا کہ ہر خبر آسانی سے پتہ چل جائے۔ بس یہ علم تھا کہ انشاء جی کی طبیعت اچھی نہیں۔
پھر جب میں لندن سے امریکہ آرہی تھی تو لندن کے ہیتھرو ائیر پورٹ پر بہت سے پاکستانیوں کو دیکھا۔ میری عادت ہے کہ جہاں کوئی اپنے دیس کا نظر آجائے تو میں سلام دعا ضرور ہی کرتی ہوں۔ جا کر پوچھا کہ خیر تو ہے آپ سب لوگ اس جگہ اکٹھے کیوں ہیں۔ کسی صاحب نے جواب دیا کہ ابن انشا کا لندن میں انتقال ہو گیا ہے اور ہم ان کا جسدِخاکی ملک لے کر جارہے ہیں۔
ادھر ابن انشا کا جنازہ ملک گیا اور ادھر میں اپنے دوست کو، اپنے انشاء کو روتی امریکہ آئی۔
!!!وہ انشاء جو واقعی سودائی تھا
بشکریہ جناب خرم بقا۔۔۔بزمِ یارانِ اُردو  ادب
 حرفِ آخر
یادوں کے رنگ میں گندھی محترمہ نجمہ خان صاحبہ کی  یہ تحریر  ابنِ انشاءکے چاہنے والوں  کے لیے تحفہ تو ہے ہی لیکن اصل میں یہ جناب ابن انشاء کی محبت کا برسوں پہلے کا قرض تھا جسے  لفظ کے پیرہن میں ڈال کر انہوں نے اپنے محبوب لکھاری کی خواہش کی کتنی خوبصورت تکمیل کی ۔۔۔"وہ مجھے لمبو کہا کرتے تھے اور کہتے کہ تم کو لکھنے کا شوق ھے، تم لکھا کرو بس"۔
ایک بڑے  لکھاری کے اس جملے پر اہلِ علم غور فرمائیں۔۔۔ ابنِ انشاء نے اس اسکول کی طالبہ کو ادب پڑھنے کی نہیں لکھنے کی تلقین کی ۔
مطالعہ بےشک علم حاصل کرنے کا راستہ ہے لیکن لکھنا ایک الگ صلاحیت ہے جو آمد کی مرہونِ منت ہے آورد کی نہیں"۔" 

1 تبصرہ :

  1. ابن انشاء کا خاکہ ۔۔۔اُن کے اپنے قلم سے۔۔۔
    ابن انشاؔ کے ہمدم دیرینہ ممتاز مفتی نے ایک دفعہ ایک منصوبہ بنایا تھا کہ مشہور ادیبوں کی خود نوشت آپ بیتیاں پیش کی جائیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے ابنِ انشاؔ کو لکھا کہ اپنی آپ بیتی لکھیں۔ جو اب میں انھوں نے ممتاز مفتی کو جو مکتوب لکھا، اس میں انھوں نے کہا:
    ''تم نے جو سکیچ مانگا ہے اس کی نوعیت معلوم نہیں ہوئی۔ اگر تھرڈ پرسن میں چاہیے تو میں کیوں لکھوں۔ تم خود کیوں نہ لکھو لیکن نہیں میاں، تمہارا کچھ اعتبار نہیں۔ جانے کیا لکھ دو۔ لہٰذا اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہے، چند سطریں لکھتا ہوں، انھیں گھٹا بڑھا لو''۔
    ''مشرقی پنجاب کے دو آبے کا دہقانی کہیں بھی پہنچ جائے۔ لاہور کہ دہلی، لندن کہ کیلیفورنیا۔ اپنی ادا سے فوراً پہچانا جاتا ہے۔ یہ لوگ لکھتے بھی ہیں تو وارث شاہ کے استاد کے بقول مونج کی رسی میں موتی پروتے ہیں لیکن ابنِ انشاؔ کو موتی چنداں نہیں بھاتے۔ اپنی مونج کی رسی میں وہ کاٹھ کے منکے پروتاہے۔ اس کا محاورہ اور لہجہ دہلی، لکھنؤ ہر جگہ کی سکہ بندی سے دور ہے اور سچ پوچھو تو یہی ایک سلیقے کی بات اس نے کی ہے ورنہ ادب کے بازار میں جس کی تعریف پوچھو… اپنے کو فلاں ابن فلاں اور موتیوں کا خاندانی سوداگر بتاتا ہے۔ ابن انشاؔ کو بار ہا اللہ کا شکر ادا کرتے دیکھا گیا ہے کہ اس کے خاندان میں کوئی صاحبِ دیوان یا بے دیوان شاعر نہیں ہوا۔ ورنہ یا تو اسے اس کے نام کا سہارا لینا پڑتا یا اس کی وجہ سے شرمندہ ہونا پڑتا۔ سید انشاء اللہ خاں انشاؔ سے بھی اس کی کوئی نسبت نہیں ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہے اور خطوں میں اسے سید ابنِ انشاؔ تک لکھتے ہیں اور یہ چاہتا تو اس نسبت سے سید بن سکتا تھا لیکن یہ عزت سادات بھی اسے کبھی مرغوب نہیں ہوئی۔ اپنی دہقانیت میں خوش ہے اور اللہ اسے اسی میں خوش رکھے''۔
    ''پڑھائی کو دیکھیے تو اس نے اعلیٰ تعلیم پائی ہے۔ تجربے کو دیکھیے تو اس نے بہت پاپڑ بیلے ہیں اور ایران تو ران بلکہ فرنگستان تک گھوما ہے۔ مطالعے میں اردو، انگریزی اور پنجابی سے باہر فارسی اور ہندی سے بھی شغف ہے۔ نظم نثر سبھی میں قلم آزمائی کی ہے لیکن اپنے لیے باعثِ عزت صرف شاعری کو سمجھتا ہے۔ شاعری جس میں جوگی کا فقر ، طنطنہ، وارفتگی اور آزادگی ہے۔ بات چیت کیجیے تو بعض اوقات بقراطیت بھی چھانٹے گا، لیکن اصل میں بقراطوں سے نفور ہے۔ فقط انشاؔ جی ہے''۔
    ''…بچوں کے لیے بھی شاعری کی ہے، لیکن ایسی نظمیں تو بچے بھی لکھ سکتے ہیں یا شاید، بچے ہی لکھ سکتے ہیں۔ نثر لکھنے کا انداز شگفتہ ہے۔ جسے مزاح لطیف بھی کہتے ہیں لیکن اس ذیل میں کم لکھتا ہے حالانکہ اس کا میدان یہی ہوتا تو خوب ہوتا''۔
    ''خاموش ہے، عزلت گزیں ہے، بھلکّڑ ہے …… عشق بھی کرتا ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ میاں قیس کے انتقال کے ساتھ یہ قوم ناپید ہو گئی تھی وہ اس سے ملیں۔ یہ ہماری نہیں اس کی اپنی فرمائش ہے:
    انشاؔ سے ملو اس سے نہ روکیں گے و لیکن
    اس سے یہ ملاقات نکالی ہے کہاں کی!
    مشہور ہے ہربزم میں اس شخص کا سودا
    باتیں ہیں بہت شہر میں بدنام میاں کی

    جواب دیںحذف کریں