منگل, جنوری 27, 2015

" پھر وہی دشت۔۔۔۔۔"

اِک تصویر تھی کیا جانئیے کس کی تصویر"
"نقش موہوم سےاور رنگ اُڑا سا لوگو
 (ابنِ انشاء۔۔۔ اس بستی کے اِک کوچے میں )
 تین برس پہلے کمپیوٹر سے دوستی  کی تو اول روز سے ڈیسک ٹاپ کی یہ تصویر میرے ساتھ تھی جیسے ہی نیٹ آن کرتی میرے سامنے آ جاتی ۔ میری دوست ۔۔۔  میری ہم نشیں ۔۔۔میرے دکھ سکھ کی ساتھی ۔۔۔۔۔جس کا احساس مجھے آج ہوا۔ یہ بےجان تصویر انجانے میں میری ذات کے بھید کھولتی ہے۔دُور اونچے پہاڑوں پر تنہا ہرا بھرا قطعۂ زمین ۔۔۔  کہیں کہیں  تاروں کی مانند جھلملاتے۔۔۔کھلتے ننھےزرد پھول۔۔۔ بےکراں نیلا آسمان۔۔۔مست بےپروا بھٹکتے بادل۔۔۔دور کہیں دوسری کائنات میں چھپی ہوئی آخری منزل۔ سب میرا عکس ہی تو ہے۔ مجھ سے کہتا ہے کہ دنیا میں صرف تم ہی تو نہیں ۔ میں بھی تو تمہارےجیسا ہوں۔  تنہا ہوں تو غم  نہیں ۔ دیکھو میری طرف غور سے یہاں زندگی کی روشنی دکھتی ہےتو زندگی کی دلہن اپنے مخملیں بستر پر آس لگائے انتظار بھی کرتی ہے۔۔۔۔ میں صرف ان کی دسترس میں ہوں  جو مجھے چھونے کا حوصلہ رکھتے ہوئے صعوبتیں برداشت کر کے گھڑی دو گھڑی  میرے پاس ٹھہرتے ہیں ۔۔۔۔میں خوشی سے انہیں اپنے وجود پر قدم رکھنے کی اجازت دیتا ہوں اور یاد کی تازگی دے کر رُخصت کر دیتا ہوں۔ جو میرے بن جاتے ہیں وہ بار بار لوٹ کے آنا چاہتے ہیں اور نہ بھی آ سکیں  تو میری مہک  سدا ان کے ساتھ رہتی ہے۔ اس بےجان تصویر نے شکوہ کیا کہ دیکھو  ہماری محبتیں ہمارے عکس  ہمارے آس پاس  ہمارے اندرہی تو سانس لیتے ہیں لیکن ہم ان سے صرفِ نظر کرتے ہوئے نہ جانے کن دنیاؤں میں اپنی  لاحاصل چاہتیں کھوجتےرہ جاتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔
 یہ سطریں لکھتے ہوئے ابن انشاء  یاد آئے۔۔۔۔اُن کے لفظ یاد آئے جو برسوں پہلے ڈائری پر لکھے اور آج اپنی اسی ڈائری کو سامنے رکھ کر بلاگ پر سجاتی  ہوں۔ نہیں جانتی کہ جب لکھے تو اس وقت  سفرِزندگی کی ترجمانی کرتے تھے؟ یا آج کی کہانی کہتے ہیں؟۔ لیکن خوشگوار حیرت سے زیادہ اپنی ذات۔۔۔ اپنی سوچ  کی پختگی پر یقین برقرار ہے کہ وہ پندرہ سولہ سال کی کچی  شاخ اس وقت بھی اُن آندھیوں طوفانوں سے بےخبر نہیں تھی جو گردش وقت نے اس کے نصیب میں لکھ رکھے تھے۔ بےشک یہ رب کا وہ خاص فضل ہے جو وہ ایک راہ پر چلنے والوں کو عطا کرتا ہے۔ کہتا ہے کہ  قدم جمے رہیں۔۔۔ جڑیں مضبوط ہوں تو صرف وقت ہی فنا کے فیصلے صادر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسان کی زندگی کے راز بھی کھولتا ہے کہ  دنیا سے چلے جانا صرف نظر سے ہٹ جانے کا نام ہے ورنہ  لفظ کی سچائی  انسان کوہر دور میں زندہ رکھتی ہے۔ بس وہ اپنی زندگی میں ناقدری کی خلش کا شکار ہو کر جیتے جی مر جاتا ہے۔ اور آخری اہم بات یہ کہ لفظ کی خوشبو  انسان کی پہلی محبت پر اعتبار بھی  قائم رکھتی ہے کہ وہ آخری سانس تک بھی ساتھ نہیں چھوڑتی۔ ابن انشاء کے لفظ میری لفظ سے پہلی محبت  بلکہ پہلا عشق تھے اور یہ عشق آج بھی روح میں جذب ہو کر اسے تسکین دیتا ہے۔      
 پھر وہی دشت ۔۔۔
ہو نہ دنیا میں کوئی ہم سا بھی پیاسا لوگو 
جی میں آتی ہے کہ پی جائیں یہ دریا لوگو
کتنی اس شہر کے سخیوں کی سُنی تھی باتیں 
ہم جو آئے تو کسی نے بھی نہ پوچھا لوگو
اتفاقاً ہی سہی ، پر کوئی در تو کُھلتا 
جھلملاتا پسِ چلمن کوئی سایا لوگو
سب کے سب مست رہے اپنے نہاں خانوں میں
کوئی کچھ بات مسافر کی بھی سُنتا لوگو

ہونگے اس شہر میں کچھ اس کے بھی پڑھنے والے
یوں تو یہ شخص بھی مشہور تھا خاصا لوگو
کسی دامن ، کسی آنچل کی ہوا تو ملتی 
جب سرِ راہ یہ واماندہ گرا تھا لوگو 

ایک تصویر تھی کیا جانیئے کس کی تصویر
نقش موہوم سے اور رنگ اُڑا سا لوگو
ایک آواز تھی کیا جانیئے کس کی یہ آواز
اس نے آواز کا رشتہ بھی نہ رکھا لوگو


کچھ پتا اس کا ہمیں ہوتو ،تو تمہیں بتلائیں
کون گھر ؟کون نگر؟کون محلہ لوگو
چند حرفوں کا معمہ تھا وہ الجھا سلجھا
اُس نے تو نام بھی پورا نہ بتایا لوگو
ہائے یہ درد کہ مشکل سے تھما تھا دل میں
چاند پونم کا ابھی سے نکل آیا لوگو

پھر وہی دشت ، وہی دشت کی تنہائی ہے
وحشتِ دل نے کہیں کا بھی نہ رکھا کوگو
اُس میں ہمت ہےتو در آئے، اُٹھا دے یہ حصار
اپنے گنبد میں تو در ہے نہ دریچہ لوگو
جی کی جی ہی میں رہیں حسرتیں طوفانوں کی
یہ سفینہ تو کنارے ہی پہ ڈوبا لوگو

 آج کی ڈاک سے کیا کوئی لفافہ آیا
کیسی سرگوشیاں کرتے  ہو ،ارےکیا لوگو
کوئی پیغام زبانی بھی تو نہیں،کچھ بھی نہیں
ہم نے اپنے آپ کو بہت دیر سنبھالا لوگو

بند آنکھیں ہوئی جاتی ہیں ،پساریں پاؤں
نیند سی نیند ! ہمیں اب نہ اٹھانا لوگو
ایک ہی شب ہے طویل، اتنی طویل، اتنی طویل
اپنےایّام میں امروز نہ فردا لوگو

اب کوئی آئے تو کہنا کہ "مسافر تو گیا"
یہ بھی کہنا کہ "بھلا اب بھی نہ جاتا لوگو" 
راہ تکتےہوئے پتھرا سی گئی تھیں آنکھیں
آہ بھرتے ہوئے چھلنی ہوا سینہ لوگو
ہونٹ جلتے تھے جو لیتا تھا کبھی آپ کا نام
اس طرح اور کسی کو نہ ستانا لوگو

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...