صفحہِ اول

جمعرات, جنوری 01, 2015

"اُمیدَ زندگی"

یکم جنوری 2015۔۔۔۔ بمطابق 9 ربیع الاول 1436 ہجری
پہلی دعا۔۔۔پہلا احساس ۔۔۔
سورہ البقرہ۔۔۔آیت 286
ترجمہ ۔۔۔
اللہ کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا،ہر شخص جو نیک عمل کرتا ہے اس کا فائدہ اسی کو ہے اور جو بدی کرتا ہے اس کا انجا م بھی اسی کو بھگتنا ہے۔پروردگار! ہم سے بھول چوک ہو گئی ہو تو اس کا مواخذہ نہ فرما، پروردگار! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلوں پر ڈال دیا تھا۔ پروردگار! ہم جس بوجھ کے اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے وہ ہمارے سر پر نہ رکھ۔ پروردگار! ہمارے گناہوں سے درگزر فرما اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما، تو ہمارا مالک ہے، کافروں کے مقابلے میں ہماری نصرت فرما۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 کوئی کچھ بھی کہے پر ہرانسان کے اندر کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوتا ہے جو اسے خبردار کرتا رہتا ہے۔۔۔دل کی دھڑکن اگر جسم کی سلامتی کا اعلان کرتی ہے تو دماغ کی لہریں ایسی فریکوئنسی محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جو چمکداردن میں کالے بادلوں کی پیش گوئی کرتی ہے۔ کبھی ہم اسے اپنا واہمہ سمجھتے ہیں کبھی کسی خواب مسلسل کو منفی طرزِفکرکہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی سوچ کہانی سال 2011 سے شروع ہوئی ۔۔۔ جو خدشات میں گزرا اور 2012 کے آغاز(جنوری) میں امی کے برین ہیمریج اور پھر مارچ میں وفات نے سب رشتے ناطوں کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔ زندگی کے اس "نائن الیون" سے  پہلے ہر منظر ماں کی آنکھ سے فلٹر ہو کر میری آنکھ میں تصویر ہوتا تھا۔اُن کے بعد میری بینائی اوراس پر یقین کا اصل امتحان تھا۔ 2012 اگر خود کو سنبھالتے۔۔۔ٹوٹنے سے بچاتے گزرا تو 2013 خودفراموشی اور بےخبری کا سال تھا۔۔۔ قوس قزح کے رنگوں کو گرفت میں لینے کی بےمعنی جستجو اورخواہشوں کی تتلیوں کو چھونے کی لاحاصل لیکن لذت بخش کسک کے نام تھا۔ تخیل کی  طاقتِ پرواز جسم کو خاطر میں نہ لاتی اور جسم  معصوم بچے کی طرح انگلی تھامے بس چلتا چلا جاتا۔ 2014 میں بھی تقدیر کا قلم سب اچھا ہی لکھتا تھا۔ بس کبھی میرے خواب تعبیروں کے ڈریکولا کا روپ دھار کر خون خشک کر دیتے۔ اپنے حد سے بڑھے نامعلوم کے کھوج سے میں خود بھی عاجز تھی۔ سال 2014 اپنے آغاز سے ہی ایسا احساس لیے ہوئے تھا کہ
 ۔"کچھ نہ کچھ ہونے کو ہے 
اور ناگہاں ہونے کو ہے"۔
چینی تقویم کے مطابق سال2014 میرا سال تھا ۔۔۔گھوڑے کا سال۔ جو اس سال میں پیدا ہونے والوں کو راس نہیں آتا۔ کچھ نہ کچھ ہوتا ضرور ہے۔اب یہ کہانیاں کس سے کہتی کون سنتا کہ ایسا سوچنا اگر شرعی طور پر جائز نہ تھا تو نفسیاتی اعتبار سے بھی کمزوری کی علامت تھا۔
۔2014 بھی سوچوں کے انہی مدوجزر میں گزرتا چلا جا رہا تھا تاوقت کہ دسمبر کا آخری ہفتہ بھی ختم ہونےلگا۔
 ستائیس دسمبر کے دن کے بعد  آنے والی رات  واہمے اورحقیقت کے مابین یقین کی رات تھی۔ ابواچانک سینے میں اٹھنے والے درد کے باعث "شفا انٹرنیشنل" کے سی سی یو میں تھے اور میں ان کے سینے پر سر رکھے ورد آیات کی سرگوشیاں سنتی تھی ۔۔۔ عجیب منظر اور اس سے بڑھ کرعجیب سوچ تھی کہ اللہ تعالیٰ اگر انسان کو اتنی مہلت دے دے تو زندگی سے اس سے بڑھ کر آخری تحفہ اور کوئی  بھی نہیں مل سکتا۔ ورنہ ہم میں سے اکثر تو جیسے روتے آتے ہیں اسی طرح حسرت آمیز بےبسی کے ساتھ روتے اور رلاتے ہوئے  چلے جاتے ہیں۔ وہ سکون اور اطمینان کی بےمثال کیفیت میں تھے تو میں کیوں پریشان ہوتی۔ وہ جسم جو زمین پر میری موجودگی کا جواز تھا۔۔۔ میری روح کو جسم کا لباس عطا کرنے کا وسیلہ ٹھہرا تھا۔۔۔ میں اُُن کے یخ ہوتے پاؤں کو اپنے ہاتھوں کی گرمی سے تسکین دینے کی کوشش کرتی۔ وہ جو  ہمیں آرام وسکون دینے کی خاطرزندگی کی تپتی رہگزر پر برہنہ پا چلتے رہے اور کبھی اپنے پاؤں چھونے نہ دئیے۔
کیا ماں کیا باپ ۔۔۔بچے ساری عمر ان دو رشتوں سے دل ہی دل میں خفا رہتے ہیں۔۔۔دُنیا میں سب سے زیادہ یہی دو رشتے ہمارے ہرمسئلے کی جڑ لگتے ہیں۔ بچپن سے جوانی تک ان کا ہماری زندگی کے ہر کام میں دخل دینا۔۔۔اپنی بات منوانے کے لیے زبردستی کرنا۔۔۔تعلیم سے لے کر نئی زندگی  نیا سفر شروع کرنے تک کے فیصلے کرنا اور اپنے کہے کو حرفِ آخر سمجھنا بہت جھنجھلا دیتا ہے۔ اگر مذہب اور اخلاقیات کے پہرے نہ ہوں اور عقل کے قفل نہ لگے ہوں تو ہم کب کے اس قید سے فرار ہو جائیں۔ زندگی میں ایسا وقت بھی آتا ہے کہ جب ہمارے اندر بغاوت سر ابھارنے لگتی ہے۔اگر اللہ کی مدد اور ایمان کی مضبوطی نہ ہو تو ہم گھر کی بنیاد رکھنے والے کو گھر سے نکالنے پر تُل جاتے ہیں۔ ہماری آنکھ اس وقت کھلتی ہے جب ہم خود ماں باپ بنتے ہیں اورزندگی کے چکر کے گول ہونے پر سٹپٹا جاتے ہیں۔
ماں باپ اگر ہمارے لیے دُنیا کی سب سے بہترین نعمت ہیں تو اپنے آپ کو اس کرم کا اہل ثابت کرنا بہت  بڑی آزمائش بھی ہے۔ قصہ مختصر ماں باپ کی زندگی میں ان کی اتنی شدت اور چاہت سے طلب نہیں ہوتی جتنی کہ ان کے ہمیشہ کے لیے چلے جانے کے احساس سے اور جب چلے جائیں تو ان کی جگہ کے خالی پن کو محسوس کر کے۔۔۔ جسے دنیا کا کوئی بھی رشتہ کوئی بھی تعلق پُر نہیں کر سکتا۔ یہی قانون قدرت ہے۔ زندگی کے پلیٹ فارم پر ایک قطار میں  سب اپنی باری کے منتظر ہیں کب کس کا بلاوا آ جائے؟ اور کب کسے  قطار کے درمیان سے اُٹھا کر معلوم منزل کے نامعلوم سفر پر روانہ کر دیا جائے؟ ہم یہ سوچ کر مطمئن رہتے ہیں کہ ابھی قطار میں ہمارا نمبر کافی پیچھے ہے۔
 اس شب شفا کےسی سی یو میں جسم وروح  کے ریشے ریشے میں جذب ہو کر ساری توانائی  ساری روشنی نچوڑ کر سمیٹ  لینے والے عدوئے جاں کے قدموں کی سرسراہٹ  ہم سب نے اپنے بہت قریب محسوس کی۔ لیکن آج کی رات اُس کی رات نہیں تھی۔ ایک نظر انسان کی تھی تو ایک فیصلہ رب کا بھی تھا جو لوح محفوظ پر لکھ دیا گیا تھا۔ مسیحا اپنے علم کی بدولت اپنے فیصلے پر قائم تھے۔۔۔ فوری طور پر دل کی  بائی پاس سرجری ہی ان کے نزدیک واحد  حل تھا سانس کی ڈور جوڑنے کے لیے۔ مکمل ہوش میں آ کر ابو پہلے سے بھی زیادہ سکون  میں تھے جیسے ایک بھیانک خواب دیکھا ہو اور آنکھ کھلنے پر اپنے آپ کو ٹٹول کر اللہ کا شکر ادا کیا ہو۔
 زندگی کی کوانٹٹی سے زیادہ ہم نے زندگی کی کوالٹی کے حق میں فیصلہ کیا اور یوں چوبیس گھنٹے سے پہلے ہی گھر لوٹ آئے۔ اگلی شب ابو اپنے کمرے میں یوں  سو رہے تھے کہ جیسے گزشتہ رات کبھی زندگی میں آئی ہی نہ تھی۔  مجھےتجربہ کار مسیحاؤں کے دوٹوک الفاظ یاد آتے تھے کہ دل کی مرکزی شریان جو آگے تین شریانوں کو خون کی سپلائی دیتی ہے وہ نوے فیصد سے زیادہ  بلاک  ہے۔ اب وہی دل کسی بھی بیرونی مدد سے بےنیاز  چھوٹےبچے کی طرح اپنے نرم وگرم کمبل میں سمٹا اتنا آسودہ تھا جیسے ایک لمبے سفر کے بعد گھر لوٹ آیا ہو۔ ۔میں رات کو بار بار اٹھ کر دیکھتی اور سوچتی کہ گزشتہ رات اور آج کی رات  میں سے کیا حقیقت  ہے؟ اور کیا فسانہ تھا ؟۔  ہمارا ایمان ہے کہ موت کا فرشتہ صرف اور صرف ایک بار آتا ہے اور اپنا کام مکمل کر کے لوٹ  جاتا ہے۔ تو پھر یہ سب کیا تھا؟ کیوں تھا؟ اور کیسے تھا؟ خیال آیا کہ  گزشتہ رات ایک ہمزاد سے ملاقات ہوئی اور اس نے لاشعور کو اس شدت سے جکڑا کہ شعوری طور پرسب اس کی اصل میں موجودگی سے گھبرا گئے  اور تو اور مشینوں پر نمودار ہونے والے ہندسے سانسوں کی ڈوبتی ناؤ اور آس کی بجھتی شمع پر مہر لگاتے چلے گئے۔ سال کے اگلے چند روز گومگو کی کیفیت میں گزر گئے۔ اکتیس دسمبر کی رات آئی اور نئے سال کا سورج طلوع ہوا۔
صبح کے مہربان سورج کی اولین حدت اور بادلوں سے پاک آسمان کی قربت بھی میرے ذہن پر چھائی دھند دور کرنے سے قاصر تھی۔ خالی ذہن کے ساتھ لان میں بیٹھی جمع شدہ پرانے اخباروں کے لفظوں اورخبروں سے زندگی پڑھتی اور زندگی ڈھونڈتی تھی۔ زندگی کے میلے میں گم ہو جانے والے چھوٹے بچے کی طرح ہر چہرے کو تکتی۔۔۔خوف قدم روکتا پھرخاموشی سے آگے بڑھ جاتی۔اپنا آپ کبھی اس کبوتر کی مانند دکھتا جو بلی آتے دیکھ کر آنکھیں موند لیتا ہے۔ابھی کچھ دیر پہلے قائد اعظم کے پچیس دسمبر ایڈیشن کو پڑھتے ہوئے ایک جملے پر ٹھٹھک گئی ۔جب  آخری دنوں میں ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح نےمحبت سے کہا کہ وہ اتنا زیادہ کام نہ کریں تو انہوں نے فوری جواب دیتے ہوئے کہا کہ "کیا تم نے کبھی سنا ہے کہ کوئی جنرل عین اس وقت چھٹٰی پرچلا گیا ہو جب اس کی فوج میدان جنگ میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہو"َ۔ یہ پڑھتے ہوئے ذرا دیر کو یوں لگا کہ جیسے بادلوں سے ڈھکے آسمان پر سورج کی پہلی کرن نے جھلک دکھائی ہو۔ ابو نے بھی تو یہی کہا تھا کہ ابھی وقت نہیں آیا۔۔۔ وہ زندگی کے اس موڑ کو سمجھ کرجان کر بالکل نارمل تھے تو میں کیوں  گھبرا رہی تھی۔ اتنی دیر میں اپنے فون پر دوستوں کے  نئے سال کے حوالے سے پیغامات دیکھے تو ایک دم دھند چھٹ گئی اور رستہ دکھائی دینے لگا۔ زندگی بےشک زندہ رہنے کی خواہش کا نام ہے۔انسان اپنے عزم اور مضبوط قوت ارادی  سے بڑے بڑے  طوفانوں کے رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ موت برحق ہے اس سے فرار کبھی بھی نہیں ۔ اللہ سے دعا کرنا چاہیے کہ ہمیں  زندگی کےاس آخری امتحان میں سرخرو کرے۔
 نوٹ : آخری امتحان کی کہانی " ایمان ِزندگی " میں کہنے کی کوشش کی ہے۔       

     

3 تبصرے :

  1. بہت عمدہ نورین۔
    ایک لمحے کو تو مجھے محسوس ہوا کہ گویا میں بھی اسی آئی سی یو میں موجود، مشینوں کی ہلکی گھرگھراتی آواز میں، زندگی کی گرمائش کو ٹھنڈے ہوتے ہوئے پیروں میں منتقل کر رہا ہوں۔

    خدشات، مایوسی اور ناامیدی سے شروع ہوتا تحریر کا سفر امید اور یقین پر ختم ہوا، ایک طاقت دیتا ہوا۔
    زندگی بےشک زندہ رہنے کی خواہش کا نام ہے۔انسان اپنے عزم اور مضبوط قوت ارادی سے بڑے بڑے طوفانوں کے رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. بی بی ۔ اللہ آپ کے والد محترم کو اچھی صحت اور لمبی زندگی عطا فرمائے ۔ یونہی تو نہیں کہتے اللہ بڑا کارساز ہے ۔ مجھے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے اس مشاہدہ سے متعدد بار گذارہ جب زندہ رہنے کی دنیاوی اُمیدیں ختم کر دی گئی تھیں ۔ ایک بار تو ناظرین کے مطابق میں نے آخری سانسیں لے لیں اور چند لمحے یا چند منٹ بعد آنکھیں کھول دیں ۔ ”اللہ اللہ کیا کرو ۔ خالی دم نہ لیا کرو“۔ یہ وہ لوری ہے جو میری والدہ محترمہ بچوں کو دیا کرتی تھیں اور میرے لئے روازانہ کا ورد بن گئی

    جواب دیںحذف کریں
  3. بہت عمدہ الفاظ احساسات کی ترجمانی کرتے ہوۓ

    جواب دیںحذف کریں