جمعہ, جنوری 02, 2015

" پرندے"

جب ہم کسی کے قریب آتے ہیں۔۔۔بہت قریب،تو توقع کے بنجرے میں قید ہوجاتے ہیں۔۔۔رفتہ رفتہ محبت کا سنہری قفل ہماری قوت گویائی سلب کر لیتا ہے۔۔۔مصلحتوں کی بےرحم تلواریں پر کُتر دیتی ہیں۔ محبتوں کے ثمر دیکھنے والی نظروں کو تو سیراب کرتے ہیں لیکن قوت پرواز کا بانجھ پن اپنی ذات کے اندر پیاس کے صحرا اُتار دیتا ہے۔
کھلی فضاؤں میں کسی اُونچی شاخ پر پل دوپل کے ساتھی اگرچہ مہربان موسموں میں ملتے ہیں۔۔۔ جبلی خواہشات کی تسکین کرتے ہیں اوراپنے اپنے آسمانوں کے سفر پر نکل جاتے ہیں۔ اُن کی محبت کے امین گھونسلے زمانے کی تند ہواؤں۔۔۔ وقت کی بےمہر اورغیر محفوظ شاخوں پر بنتے ہیں اورکم ہی پنپتے ہیں۔ لیکن ! یہ قدرت کے فیصلے ہیں کہ آزاد فضاؤں کے باسیوں کی نسلیں ہی پھلتی پھولتی ہیں اور بنجرے کے قیدی اپنے جیسے 'کلون' پیدا کرکے فنا ہو جاتے ہیں۔گرچہآسمانوں کی جستجو سے ہی طاقت پرواز کا اندازہ ہوتا ہےپھر بھی پرندے جتنا جلد گھر لوٹ آئیں اچھا ہے ورنہ ڈار سے بچھڑ کر کہیں کے نہیں رہتے۔
کائنات کے ذرے ذرے میں انسان کے لیے اسباقِ زندگی لکھ دئیے گئے ہیں۔ انسان کی فلاح اسی میں ہے کہ اُس کا جسم قوانین انسانیت کے تابع رہے اور  اُس کی روح آزاد فضاؤں کی ہمسفر رہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...