اتوار, جنوری 25, 2015

" پاگل سی لڑکی"

یہاں اِک پاگل لڑکی رہتی تھی
اپنی دُھن میں چلتی تھی
اور اپنی باتیں کرتی تھی
چاہت کے سمندر میں 
خوابوں کے جزیرے پر
جل پری سی وہ لگتی تھی
بند مٹھی کی تتلی تھی
ٹوٹی چوڑی جیسی تھی
سوچ سفر کے مندر میں
دیوی بن کر بیٹھی تھی
خوشبو جیسی باتوں کو
چاندی جیسے جذبوں کو
خود کلامی کہتی تھی
اپنے حسن کے سونے کو
بھربھری مٹی کہتی تھی
دکھ سہتی سکھ دیتی تھی 
پھر بھی یہی کہتی تھی  
 یہاں  اِک پاگل لڑکی رہتی تھی 

1 تبصرہ:

"بچپن سےپچپن تک"

"بچپن سے پچپن تک" پچیس جنوری ۔۔۔1967۔ پچیس جنوری۔۔۔2022۔ "جانا توبس یہ جانا کہ کچھ نہیں جانا" بچپن اور پچپن کے بیچ لفظی...