جمعرات, جولائی 18, 2013

"ستون"

ستون وہ عظیم حقیقت ہے جس کے بارے میں سوچنے لگیں تو سوچ  کی طاقت ِپرواز کبھی حرم ِکعبہ تک جاتی ہے تو کبھی روضۂ رسول ﷺ کے سائے میں ٹھہرنے کو مچلتی ہے۔حرم کعبہ میں وہ خاص ستون آج بھی سانس لیتا ہے۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ اُس میں سےاب بھی اُس  مبارک رات کی مہک آتی ہے جب پروردگار نے اپنے محبوبﷺ کو معراج عطا کی،خواہ  یہ محبت،عقیدت  یا رفعت ِنظر  سے ہی کیوں نہ کہا جارہا ہو۔بہرحال یہ امر یقینی  ہے کہ  حرم کعبہ کے درودیوار کے بیچ  ایستادہ ستون ہی ہیں جن سے نکلتی ٹھنڈک کی لہریں متوالوں کو خوش آمدید کہتی ہیں اور وہ اُن سے ٹیک لگا کر ذرا دیر کو ٹھہر جاتے ہیں۔ ایک سفر ہے جو جاری ہے۔
 روضہ رسولﷺ میں  چند خاص الخاص ستون زمانے کی قید سے آزاد اب بھی جاوداں ہیں۔بنانے والوں نے بےستون کی چھتیں تو بنا دیں جن پر سرکتے گنبد انسانی ترقی اور انسان کی محنت وعظمت کو سلام کرتے ہیں ۔حرم ِنبیﷺ کے صحن میں جدید ٹیکنالوجی کے حامل ستون دل کولبھاتے ہیں جن پر بوقت ِضرورت چھت سایہ فگن ہو کر مہمانوں کی تکریم کرتی ہے لیکن مسجد ِنبوی کی اصل پہچان وہ ستون ہیں جو نبویﷺدور کی پوری تاریخ بیان کرتے ہیں اور چاہنے والوں کے لیے ان  کے  لمس کارِثواب ہیں ۔ ہرستون کی الگ کہانی ہے اور ہرکہانی ہماری زندگی کہانی پر منطبق ہوتی ہے۔ کسی ستون سے اگرتوبہ کا در کھلتا ہے ( اسطوانہ التوبہ) تو کسی ستون سے جھلکتی آنسوؤں کی فریاد آج بھی سنائی دیتی ہے ( اُسطوانہ حنانہ ) ۔
بےشک اپنی زندگی کے ہر پہلو ہر جذبے میں رہنمائی رب کا فضل  ہے ۔ مالک آنکھ کو وہ منظر عطا کرتا ہے جو ہماری زندگی کے الجھے سوالوں کو عیاں کر دیتا ہے۔ اللہ کا قرب اُس کے نبیﷺ کی محبت وہ نادیدہ ستون ہے جو زندگی کی خوبصورت سرکتے گنبدوں والی چھت میں بھی اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہے اور ٹوٹنے کے بعد بکھرنے سے پہلے جُڑنے کا حوصلہ بخشتی ہے۔

4 تبصرے:

"آدم ،اولادِ آدم اورجنت کہانی"

یکم محرم الحرام بمطابق 1444 ہجری 31 جولائی 2022 بروز اتوار " جنت سے نکلنے میں یا تو غلطی ہوتی ہے یا پھر جنت نہیں" ۔ جن...