جمعہ, جولائی 04, 2014

"آنسو"

میں وقت کی قید میں ٹھہرا آنسو ہوں ۔۔۔
جو بہتا جائے تو دریا۔۔۔ سمٹ جائے تو صحرا۔۔۔ جذب ہو جائے توبارآور۔۔۔ بلند ہو تو چٹان۔۔۔برس جائے تو ساون۔۔۔ پھیل جائے تو سمندر۔۔۔ مستور ہو تو موتی۔۔۔ منجمد ہو تو گلیشئیر۔۔۔ حدت کی انتہا چھو لے تو آتش فشاں۔۔۔ برداشت کی حد پار کر لےتو سونامی اورزلزلے کی صورت بحروبر تہہ وبالا کردے۔۔۔برداشت کا جوہر اپنے اندر سمو لے تو ہیرا۔۔۔ بےغرض ہو کر مہکے تو خوشبو۔۔۔عکس پڑے تو رنگ ہی رنگ ۔۔۔ معراج پائے تو تخلیق۔۔۔سما جائے تو زندگی۔۔۔ جگ کومنور کرے تو نور۔۔۔چمکے تو کہکشاں۔۔۔لیکن!!! وقت کی قید میں محصور ہو تو محض ٹھہرا ہوا آنسو۔
آنسو فطرتِ انسانی کی بُنیادی صفات میں سےہیں ۔ہرچیز کے دو پہلو ہوتے ہیں۔۔۔اس طرح آنسو جب بہتےدکھائی دیتے   ہیں تو انسان کی بےبسی، کم مائیگی اور کمزوری کا مظہر ہوتے ہیں۔۔۔اپنے آپ کو طاقتور ماننے والے،عقلِ کُل سمجھنے والے کبھی آنسو نہیں بہاتے۔آنسو بہا کرانسان وقتی طورشانت ہوجاتا ہے۔وہ دُکھ تکلیف جو برداشت سے باہر ہو رہی ہو آنسو بہانے سے اُس سے عارضی طور پرسہی چُھٹکارا ضرورمِل جاتا ہے۔ لیکن آنسو جب اندر کی طرف بہتے ہیں توگویا زمین کی انتہائی گہرائی کی غاروں میں موجود عظیم الشان کرسٹلز وجود میں آتے ہیں۔۔۔ جو دُنیا کی نظر سےتو پوشیدہ ہی رہتے ہیں لیکن جن کی سرشت میں تلاش اور نئی دُنیا دیکھنے کی آرزوئیں مچلتی ہیں وہ اپنی ہمت ومحنت سےان کی کھوج  میں نکل پڑتے ہیں۔ یہ شاہکاراگرچہ متاثر تو ہرخاص وعام کو کرتے ہیں لیکن اُن کی انفرادیت اورحُسن صرف ماہرِفن ہی پرکھ سکتے ہیں۔۔۔ جو اس راستے کے مسافر ہوں وہی اس کے پیچ وخم کو بخوبی محسوس کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔
آنسوؤں کا وزن ہوتا ہے،آنسو خلا میں نہیں زمین پرموجود ایک شے کا نام ہے۔آنسوجسم کے ساتھ روح بھی رکھتے ہیں۔۔۔ اُنہیں بھی کسی ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے جوان کا وزن سہار سکے نہ کہ وہ جو اپنا وزن بھی ان پرڈال کرخود ایک بوجھ بن جائے۔آنسو کی کوئی زبان،کوئی جنس نہیں ہوتی،یہ سانجھے ہیں جو چاہے اپنا لے۔جس کے دل کو چھو جائیں اس کے نام۔
دنیا کا سب سے خالص سب سے سچّا رشتہ آنسو کا ہے۔ وہ آنسو جو تنہائی میں اپنے رب کے حضورسجدۂ شُکر میں ہو۔سجدۂ شُکر  یہ نہیں کہ سب کُچھ پانے کے بعد باقاعدہ اہتمام سے رب کا شُکریہ ادا کیا جائےبلکہ جہاں جس وقت اپنے رب کی حضوری مل جائے۔۔۔ چاہے وہ احساسِ توبہ ہو یا احساس ندامت۔لامکانی کی گھٹن میں اپنے دوست کی عنایات ونوازشات کی برسات ہو یاعقل وشعورکا ایسا رزق عطا ہو کہ دُنیا بھر کی لعنت وملامت سے سجا دسترخوان ایک نعمتِ مُترقبہ دکھائی دے۔انسان یہ سوچے کہ گڑھے میں گرنے کے بعد ایسی بُلندی ہے توعروج کے بعد کمال کیا ہوگا ؟ یہ تو تصوّر سے بھی بالاتر ہے۔ اپنے مالک۔۔۔ اپنے رب۔۔۔اپنے ولی سے۔۔۔ قُربت کی لذت آنسُو کے ایک قطرے میں پنہاں ہے۔۔۔ وہ آنسو جو وصال کی خواہش کو قریب سے قریب تر کردیتا ہے۔۔۔ہجرکی کسک کو بڑھا دیتا ہے۔لیکن یہ کسک بھی زندگی کے ساتھ ساتھ چلتی رہے تو زندگی کی گاڑی کے لیے گریس کا کام کرتی ہےاگر اس کو بریک کے طور پر استعمال کریں گے تو زندگی کا سفر طے  کرنامحال ہوجائے گا۔
آنسو سے بڑھ کر محبت کا اظہار ممکن ہی نہیں، لیکن جب آنسو خشک ہو جائیں تو کیا محبت نہیں ہوتی یا محبت مر جاتی ہے۔ایسا نہیں ہے۔آنسو کبھی خشک نہیں ہوتے۔اگر بہتے دکھائی نہ دیں تو اندر کی جانب جل تھل کر دیتے ہیں۔کہیں بھی کسی بھی انداز میں اپنی جگہ تلاشتے ہیں۔۔۔اپنا راستہ آپ نکالتےہیں۔ہئیت بدلتے جاتے ہیں،بھیس بدل کر سامنے آتے ہیں تو حیران کر دیتے ہیں۔کبھی خون کی روانی میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔کبھی آنکھوں کی حیرانی انہیں ہمارے جسم میں پتھر کی صورت جنم دیتی ہے۔کبھی ہڈیوں میں اس طور سرایت کر جاتے ہیں کہ ڈھونڈنے والوں کو نام ونشان تک نہیں ملتا۔
آنسو لفظ میں ڈھل جائیں تو کاغذ پر گر کر جذب نہیں ہوتے بلکہ اُبھر اُبھر جاتے ہیں۔۔۔ کبھی لفظ کی صورت دلوں کو مسخر کرتے ہیں تو کبھی لہجے کی تلخی بن کر دوسروں کو ہم سے نفرت پر اُکساتے ہیں تو کبھی ہمارے وجود کو مقناطیس بنا کر اوروں کو طواف پر مجبور کر دیتے ہیں۔کبھی زمانے کی ٹھوکروں پر رکھتے ہیں تو کبھی والئ تخت بنا کر چاند ستاروں سے سجدہ کراتے ہیں۔ کبھی بینائی سلب کرتے ہیں تو کبھی اتنی روشنی اُترتی ہے کہ اندر باہر سب یکساں دکھتا ہے۔جو بھی ہے آنسو اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ محبت چاہے خیرات میں ملے یا دیوی کے قدموں کی خاک کی صورت، نذرانوں کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔
حرفِ آخر
آنکھ میں ٹھہرے یہ منجمد گلیشئیر ان چھوئے رہیں تو ہی زندگی گاڑی چلتی ہے ورنہ برداشت کی حدت سے پگھل جائیں تو سب ختم ہوجاتا ہے۔اِن کے قطرہ قطرہ رسنے میں ہی سلامتی ہے۔ یہ بےآواز رم جھم کسی بھی صلے کی توقع کے بغیراپنے وجود کی پیاسی زمین کو تو خاموشی سے سیراب کر ہی دیتی ہے۔


1 تبصرہ:

  1. وہ آنسو جو وصال کی خواہش کو قریب سے قریب تر کردیتا ہے۔۔۔ہجرکی کسک کو بڑھا دیتا ہے۔ لیکن یہ کسک بھی زندگی کے ساتھ ساتھ چلتی رہے تو زندگی کی گاڑی کے لیے گریس کا کام کرتی ہے۔ اگر اس کو بریک کے طور پر استعمال کریں گے تو زندگی کا سفر طے کرنا محال ہوجائے گا۔

    جواب دیںحذف کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...